Connect with us

تازہ ترین

یونانی تہذیب کے عروج و زوال کی داستان: تاریخی و عمرانی تجزیہ —– احمد رضا

Published

on

انسانی تاریخ میں تہذیبوں نے تصادم کے علاوہ علم، دانش اور تخلیق کی میراث بھی فراہم کی ہے۔ تہذیبوں کےزوال کی وجوہات کسی دوسری تہذیب سے تصادم میں نہیں بلکہ اسی کے رویے اور اجتماعی شعورمیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ اس سے قبل دانش کے پلیٹ فارم پر ہی مسلمانوں کی آمد سے قبل ہندوستان کی تاریخ، مسلم تہذیب کی تاریخ اور جدید مغربی تہذیب کی تاریخ پر مضامین تحریر کرچکا ہوں۔ یہ تحریر بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ان مضامین کا مقصد سیاسی محرکات اور انسانیت کی اجتماعی ترقی جو کسی تہذیب کے عروج کی بنیاد ہے کا احاطہ کرنا ہے۔ یونانی تہذیب کی بات کی جائے تو تاریخی اعتبار سے مختصر ترین جغرافیے کے ساتھ یہ انسانی تاریخ پر وسیع ترین اثرات رکھتی ہے جو اب بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہ اثرات عسکری و جغرافیائی نہیں بلکہ علم، منطق، فلسفہ، آرٹ، سائینس اور سیاسیات پر مرتب ہوئے جن کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ عمومی طور پر ایتھنز کی تاریخ کو قدیم یونان کی تاریخ اور سقراط، افلاطون وارسطو کو یونانی دانش کی داستاں تصور کر لیا جاتا ہے حالانکہ یہ اس تہذیب کا محض آخری باب ہے۔

یونانی تہذیب کی ابتدائی تاریخ

آج سے تقریبا ایک ہزارقبل مسیح کے قریب یونانیوں نے بحیرہ اسود سے مشرقی بحیرہ روم کے ساحلوں تک بستیاں بسائیں۔ جلد ہی ان آریائیوں نے ایشیاء کوچک میں مضبوط شہروں کی بنیاد رکھی۔ آج یہ تمام شہر موجودہ ترکی میں واقع ہیں۔ قدیم یونانی مورخ ہیروڈوٹس کی بات کریں تو تو ابتدائی طور پر بارہ ایونیائی شہروں جنھیں ڈوڈیکا پولس کے نام سے یاد کیا جاتا تھا کا ذکر ملتا ہے۔ ان کے مابین ایک اتحاد قائم تھا۔ معروف شہروں میں ایفسس، ملتس، ساموس اور کیوس شامل تھے۔ انہوں نے حروف تہجی پہلے سے موجود ہمسائیوں سے سیکھے۔ ٹائر اور سیڈون جو موجودہ لبنان میں واقع ہیں، اس دور کی معروف بندرگاہیں تھیں جو سامی النسل لوگوں نے آباد کی تھیں جن کا سمندری تجارت پر تسلط تھا۔ یونانیوں نے جلد سمندری تجارت کو مسخر کرکے انھیں پیچھے دھکیل دیا۔ ابتدائی دور میں ان یونانی قبائل کے مابین لسانی مماثلتیں تھیں۔ تھیٹر اور دونظمیں ایلیڈ و اوڈیسی انکا مشترکہ اثاثہ تھیں۔ ان دو نظموں کے بغیر یونان کی تاریخ ادھوری ہے۔ ایلیڈ ٹرائے شہر کے محاصرے جبکہ اوڈیسی ٹرائے کی مہم سے واپسی پر مہم جو اوڈیسس کی کہانی ہے۔ یہ تقریبا چھے سے سات صدی قبل مسیح میں لکھی گئیں جنھیں ایک نابینا شاعر ہومر سے منسوب کیا جاتا تاہے جو ایشیاء کوچک کے یونانی شہروں میں بربط پر انھیں گایا کرتا تھا۔ تاہم کیا یہ ادب ہومر اکیلے نے تخلیق کیا؟ یہ آج بھی قابل بحث حقیقت ہے۔ ان نظموں کا مزاج المیہ یعنی ٹریجڈی تھا، یہ آنے والی دنیا کے ادب پر ہمیشہ کیلئے اثرانداز ہوگیا۔ یونانی تھیٹر کے شوقین تھے لہذا ڈرامہ کی صنف بھی المیے کے زیر اثر آگئی۔ قدیم مذاہب کی طرح انہوں نے بھی معبد تعمیر کیے مگر دلچسپ بات یہ تھی کہ پروہتوں کا طبقہ نہیں تھا۔ دوسرا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ تمام شہرچھوٹے اور ایشیاء کوچک کی محض ساحلی پٹی پر بنے تھے جہاں بادشاہوں کو کبھی الوہی درجہ نہیں مل پایا۔ غالبا یہی پہلو آزاد یونانی ذہنوں کو پنپنے میں مدد کرتے رہے.ان شہری ریاستوں میں چند سو خاندانوں کی اشرافیائی نیم جمہوری حکومتیں ہوا کرتی تھیں۔

بحری طاقت نے یونانیوں کو دیگر یورپی ساحلوں تک توسیع دلوادی۔ انہوں نے یونان اور ترکی کے مابین بحیرہ ایجین پر غلبہ پاکر نئے شہروں کو منظم کیا۔ ان میں ایٹیکا جس کا دارالحکومت ایتھنز تھا، سپارٹا، تھیبز، کورنتھ، م، تھریس اولمپیا معروف ہوئے۔ جلد ہی انہوں نے یونان اور اٹلی کے مابین سمندر بحیرہ ایڈریاٹک کو زیرنگیں کر لیا اوراٹلی و سسلی میں بھی یونانی شہری ریاستیں وجود میں ائیں۔ ان میں میگنا گراسیا,کروٹان، میسینیا اور سیراکیوس وغیرہ شامل ہیں۔ یہ شہر باہمی اتحاد و چپقلش میں مبتلا رہتے تھے۔ ٹرائے کے شہر کی تباہی اور ایتھنز کے سنہری دور کے مابین چھے صدیوں کا فاصلہ ہے۔ اس دوران سائیرس فارس میں بابل اور لیڈیا کو فتح کرکے پہلی فارسی سلطنت کی بنیاد رکھ چکا تھا۔ ایشیاء کوچک یعنی موجودہ ترکی کے ساحلوں پر موجود یونانی شہر اسکے باجگزار بن گئے مگر مغربی شہر خودمختار رہے۔

قدیم یونان میں علم ودانش کا اولین دور

How and Why Ancient Greece Fell - World History Edu

قدیم یونان پر فطرت کے مظاہر پر بحث کرنے کیلئے معبدوں کے پروہت نہیں بلکہ متجسس اذہان پیدا ہوئے۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں ہندوستان میں مہاویر اور گوتم جبکہ چین میں کنفیوشس کے خیالات مقبول ہورہے تھے۔ دوسری جانب بخت نصر سے نجات پانے والے بنی اسرائیل خود کو فلسطین میں پھر سے منظم کررہے تھے۔ اس دوران یونان میں دنیا کی ہئیت پر پرتجسس سوچ کے حامل حکمت و منطق کے اولین عاشق فلسفی پیدا ہورہے تھے. تقریبا 600 قبل مسیح میں پہلا بڑا یونانی فلسفی تھیلس ایونیائی ریاست ملتس میں جنم لے چکا تھا۔ اس نے فلسفے، ریاضی اور فلکیات پر اپنا مکتبہ فکر قائم کیا۔ ارسطو نے اسے اولین فلسفی کہا جس نے مادے کی فطرت پربات کی۔ اس نے پانی کو ہر قسم کے مادے کی بنیاد قراردیا۔ جیومیٹری میں اس نے اپنے تھیورم دییے جو اہرام و سمندری فاصلہ ماپنے کا کام کرتے تھے۔ دوسرا بڑا دانشور ہیراکلیٹس(475-535ق م) مشہور ایونیائی شہر ایفیسس میں پیدا ہوا۔ اسکے خیالات نے دیگر یونانی فلسفیوں کو ہی نہیں بلکہ ہیگل، ڈارون اور نطشے کو بھی متاثر کیا۔ وہ کہتا ہے باہم مقابلے کا رجحان ہی دنیا کا حسن اور قدرت کا انصاف ہے۔ باہم مقابلہ آرائی قدرت کی وہ عدالت ہے جہاں نظر ثانی کی گنجائش نہیں۔ اس دور کا معروف ترین فلسفی فیثاغورس(580-495ق م) ایونیائی شہر ساموس میں پیدا ہوا۔ حصول علم کیلئے اس نے مصر و دیگر علاقوں کے سفر کیے اور سسلی کے شہر کروٹان میں اس نے سکونت اختیارکی۔ اس نے ایک مکتب کی بنیاد رکھی اور طلباء کی بڑی تعداد کو اپنے گرد اکٹھا کرلیا۔ اس نے فلسفہ اور ریاضی پرکام کیا اور اپنا مشہور تھیورم دیا۔ موسیقی اور سائینس سے محظوظ ہوا اور گوشت خوری سے پرہیز کرنےلگا۔ اس نے اشیاء کے مابین تناسب کو عددی رشتے دئیے۔ اس نے کہا کائنات میں ہرشے ترتیب میں ہے حتی کے سیارے بھی ترتیب میں گردش کررہے ہیں۔ اس نے دنیا کو کاسموس کا نام دیا جس کے معنی ترتیب کے ہیں۔ اس نے بربط کے تاروں کے سروں کو عددی شکل دی۔

جدید یونان کی تاریخ، آئینی جمہوریت کا ارتقاء اور ایتھنز کے سنہری دور کا آغاز

فارسی غلبے کے ساتھ ہی یونانی شہرموجودہ ترک ساحلوں کے بعد موجودہ یونان اور اٹلی کے ساحلوں پر طاقت بن کر ابھرے۔ جغرافیائی مشکلات کے باعث ان کے درمیان زمینی نہیں بلکہ اکثر سمندری راستے رابطے کا ذریعہ تھے۔ اسی وجہ سے وہ وسیع سلطنت کے بجائے منظم شہری ریاستوں کو ترجیح دینےلگے۔ انکی آبادی زیادہ نہ تھی محض چند لاکھ تاہم غلاموں کی وسیع تعداد موجود رہتی تھی۔ ایتھنز نے کبھی بادشاہت کو ترجیح نہیں دی بلکہ اشرافیائی جمہوریت کو پسند کیا۔ سولون(560-630 ق م) پہلا آئین ساز جمہوری رہنما تھا۔ چھٹی صدی ق م میں ایتھنز میں معاشی حالات اس قدر نا ہموار ہوئے کہ عام شہری قرض کے بوجھ تلے زمینیں رہن رکھوا کر کنگال ہونے لگے۔ حتی کہ قرض کی عدم ادائیگی پر بہت سے یونانی خاندان غلام بننے لگے۔ دوسری جانب اشرافیہ مزید امیر ہوتے گئے۔ انقلاب یا فسادات قریب تھے مگر انہیں قابل ریاستکار سولون میسر آگیا جس نے دونوں طبقوں کے مابین آئینی سمجھوتہ کرادیا۔ 594 ق م وہ مجسٹریٹ منتخب ہوا اور جلد نیا آئین بنانے کی منظوری بھی اس نے حاصل کرلی۔ اس نے ایک حکم نامہ جاری کیا جسے ارسطو نے عظیم حکم نامہ کہا۔ اس نے زمینوں کی دوبارہ سے تقسیم نا کرکے غریب طبقے کو ناراض کیا۔ ازالے کے طور پر اس نے ریاست اور نجی ساہو کاروں کو واجب الادا تمام قرض کالعدم کردیئے۔ یونانیوں کی غلامی کو ممنوع قرار دیکر کسانوں کو آزاد کروایا۔ آمدن کے حوالے سے اس نے سماج کو چار حصوں میں تقسیم کیا۔ پہلے طبقے پر 12٪، دوسرے پر٪10, تیسرے پر ٪5 ٹیکس اور سب سے نچلے طبقے کو اس سے مستثنی قرار دیدیا۔ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرکےاس نے چھے ہزار لوگوں پر مشتمل نئی مجلس قائم کی جس کیلئے ہر شہری کوووٹ کا حق تھا۔ اس نے سیاسی شورشوں میں غیر جانبدار یا لاتعلق لوگوں کی شہریت یہ کہ کر منسوخ کردی کہ عوامی لاتعلقی ہی ریاست کو تباہ کرتی ہے۔ اڑسٹھ برس کی عمر میں اس نے سفر اور مطالعے کے شوق میں سیاسی زندگی سے الگ ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ ایتھنز ریاستکاری کے معاملے میں پر سکون ہو چکا تھا۔ بعد ازاں ایٹیکا یعنی ایتھنز میں تیس ہزار افراد پر مشتمل مجلس بھی قائم ہوئی جبکہ کورم پورا ہونے کیلئے چھے ہزار افراد کی شرکت لازم تھی۔ دنیا نے اس سے پہلے عوامی شرکت کا ایسا نظام حکومت نہیں دیکھا تھا۔ سولون نے اپنے بنائے ہوئے قوانین کو یہ کہہ کر مثالی قرار دینے سے انکار کردیا موجودہ حالات میں متحارب طبقات اس سے زیادہ پر آمادہ نہیں تھے لہذا یہی انکے لیے بہترین تھا۔

فارس سے سیاسی ٹکراؤ

ایشیاء کوچک کے یونانی شہر سائیرس کی عظیم فارسی سلطنت کے زیر اثر آچکے تھے۔ دارا اول کے دور میں ہندوستان تا مصر ان کے زیر نگین آگئے اور یہ سلطنت اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی۔ اب یورپ کے یونانی شہر اور وسطی ایشیاء کی سیتھینز انکے تسلط سے باہر تھے۔ سہتھنز کا پیچھا کرتے ہوئے دارا اول مشرقی یورپ میں جا گھسا مگر چھاپہ مار جنگ نے اسکی نصف افواج تھا کردی۔ واپسی پر اس نے یونانی شہر تھریس اور مقدونیا کو مطیع بنا لیا۔ 490 ق م میں اس نے عظیم بحری بیڑا تیار کر کے ایتھنز پر حملہ کردیا۔ میراتھن کے مقام پر دونوں بحری افواج کا سامنا ہوا۔ ایتھنز نے ایک تیزرفتار پیغامبر اپنے یونانی حریف سپارٹا کی جانب بھیجا۔ ایلچی نے پیدل فاضلہ کم مدت میں طے کیا اب بھی اسے میراتھن ریس کہا جاتا ہے۔ سپارٹا کی کمک آنے سے قبل ہی میراتھن کے مقام پر فارسی بحری بیڑا تباہ ہو چکا تھا۔ انتقاماً دارا اول کے بیٹے زرکس نے بھاری افواج اور بحری بیڑے کے ساتھ 480ق م میں دوبارہ یونان پر حملہ کردیا۔ یونان میں داخل ہوتے ہی تھرموپائیلز پر تعینات سپارٹا کے 1400 جنگجو لیو ٹائیڈس کی قیادت میں ان سے بھڑ گئے۔ ہر یونانی سپاہی جی توڑ کر لڑا اور سبھی مارے گئے۔ فارسیوں کو یہ فتح مل تو گئی مگر بہت مہنگی۔ زرکس کی افواج نے ایتھنز کو گھیر لیا۔ ایک معاہدے کے تحت شہر خالی کرکے لوگ مضافات میں چلے گئے اور فارسیوں نے شہر نذرآتش کردیا۔ تاہم سلامیز کی بحری جنگ میں متحدہ یونانی ریاستوں نے فارسی بیڑے کو شکست دیدی۔ 465 ق م میں زرکس کے قتل کے بعد فارسی سلطنت انتشار کا شکار ہوگئی۔ یاد رہے ان جنگوں میں ایشیاء کوچک کے یونانی فارسیوں کے اتحادی تھے۔ تفصیلات ہیروڈوٹس کی تاریخ میں ملتی ہیں جو 484ق م کے قریب ایشیاء کوچک میں پیدا ہوا۔ اس نے ایتھنز سمیت مختلف یونانی شہروں کا سفر کیا۔

یونانی تہذیب کا عہد عروج اور ایتھنز کا عہدزریں

فارسیوں کے پھیلائی ہوئی تباہی کے بعد ایتھنز کو سولون کی طرح ایک اور رہنماء پیری کلیز مل گیا۔ اس نے شہر کو نئے سرے سے تعمیر کیا اور پھر اسے عقل و دانش کی روشنی بخشی۔ وہ سیاست، ادب اور موسیقی کا دلدادہ، سقراط کا دوست اور شاگرد تھا۔ وہ اسمبلی کا رہنما منتخب ہوا جسے سٹراٹاگوئی کیا جاتا تھا مسلسل 467 تا 428 ق م تک منتخب ہوتا رہا۔ اس نے اساتذہ، دانشوروں، ڈرامہ نگاروں اور شعراء کی ایک مجلس قائم کی۔ دیگر شہروں سے بھی فلسفی و دانشور یہاں اگئے۔ سپارٹا عسکری ریاست تھی لہذا نوجوانوں کو ذہنی ہیجان سے بچانے کیلئے اس نے فلسفے پر ہی پابندی عاید کردی۔ ہیروڈوٹس بھی اسی کے دور میں 438ق م میں ایتھنز آیا۔ اس نے شہر کے گرد فصیل اور بندرگاہ پائیریس تعمیر کروائی۔ ادبی و علمی سرگرمیوں کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ پیریکلیز، انکساغورث اور سقراط نے مل کر یوری پڈیز کا ڈرامہ دیکھا۔ اس کے دور میں ایٹیکا کی آبادی تقریبا 3,15,000 تھی جبکہ 43000 لوگوں کو ووٹ کا حق تھا۔ غلاموں کی تعداد 1٫15٫000 کے قریب تھی۔ معدنیات کی کانوں پر سبھی غلام کام کرتے تھے۔ کانکن اور سبھی کانیں ریاست کی ملکیت تھیں۔ اسکے دور کے تعمیر کردہ کانسی و پتھر کے مجسمے آج بھی موجود ہیں۔ پیریکلیز خوبصورتی کا دلدادہ تھا۔ اسکا کہنا تھا خوبصورتی کو بلا مبالغہ دیکھنا چاہیے۔ چیزوں کی تفصیلات سے زیادہ اہم انکے جوہر یعنی علت و خصوصیات کو گرفت میں لینا ہے۔

فلسفہ و دانش کا سنہری دور

یونانی فلسفیوں اور دانشوروں نے منطق کو بنیاد بنا کر فطرت پر غور کیا۔ فلسفیوں کی ایک طویل فہرست مرتب کی جا سکتی ہے تاہم اختصار کو ملحوظ خاطر رکھ کر چند کا تذکرہ کیا جا سکتاہے۔ انکساغورث(500 تا428 ق۔ م) آیونیائی شہر میں پیدا ہوا مگر ایتھنز منتقل ہوا۔ وہ پیریکلیز کا دوست تھا۔ اس نے مقالہ”فطرت کے بارے میں ” لکھا۔ اس نے کہا تما اجسام مٹی، نمی، حرارت اور پھر ایک دوسرے سے مل کر بنے ہیں۔ فطرت کی وضاحت علتوں کی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔ سورج جو دیوتا کا درجہ رکھتا تھا اسے محض آگ کا گولا قرار دیکر ایتھنز والوں کی ایسی دشمنی مول لی کہ پیریکلیز کی دوستی بھی اسکا دفاع نا کرسکی۔ اسے مجبورا جلاوطن ہونا پڑا۔ پروٹاغورث(490-420 ق۔ م) تھریس سے ایتھنز آیا۔ جب اس نے کہا دیوتاؤں کی موجودگی کی بات کی جائے تو وہ اس بارے کوئی معلومات نہیں رکھتا۔ اسمبلی اس کے خلاف ہوگئی اور اسکے نسخے نذرآتش ہوئے۔ ڈیموکرائیٹس(490-370ق۔ م) بھی تھریس میں پیدا ہوا اور یونانی شیروں میں خوب سیاحت کی۔ اس نے ریاضی، فلسفے اور فلکیات پر کام کیا مگر اسے شہرت دوام ایٹم کے نظریے نے بخشی۔ اس کے مطابق کائنات ناقابل تقسیم مادی ذرات سے مل کر بنی ہے جسے ایٹم کہتے ہیں۔ حکیم بقراط(460-370ق-م) کے بغیر یونانی طب نا مکمل ہے۔ وہ آیونیائی شہر کوس میں پیدا ہوا۔ مختلف یونانی شیروں کا دورہ کیا اور طب کی تعلیم دی۔ اسکے طلباء کو مکتب میں داخلے سے قبل حلف دینا پڑتا تھا کہ تمام بیماریاں مادی ہیں نا کہ آسمانی اور معالج کا کام انکا حل ڈھونڈنا ہے۔ دوسرا ہر مریض ان کے لیے ایک انسان ہے اسکے علاج کے دوران رنگ، نسل یا کوئی بھی تعصب ذہن میں نہیں لایا جائیگا۔ اس نے طب پر وسیع کام کو کتابی صورت میں مرتب کیا۔ ایتھنز میں پیدا ہونے والے فصیح البیان مقررآئیسو کریٹس (436-338 ق م) نے انشاء یا مضمون نگاری کی صنف ایجاد کی اور اسکے اصول بھی وضع کیے۔

یونانی ڈرامہ

یونانی تھیٹر اور ڈرامہ کے رسیا تھے۔ انکے لیے ڈرامہ اور ہر چار سال بعد اولمپیا میں ہونے والی کھیلیں جس میں تمام یونان سے کھلاڑی شریک ہوتے تھے سب سے بڑی تفریح تھے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ ہومر کے بعد المیہ ادب کی جان بن چکا تھا۔ ڈائیلاگ شاعرانہ طرز پر تحریر ہوتے تھے۔ ایتھنز کے تھیٹر میں ڈراموں کے مقابلوں کا انعقاد ہوتا تھا۔ سنہری دور کا پہلا بڑا ڈرامہ نگار اسکائی لس تھا۔ اس نے 460ق۔ م میں اپنا ڈرامہ ” پرامتھیس باؤنڈ” پیش کیا۔ پرامتھیس دیوتا ہے جو انسان کو آگ کی تکنیک سکھا کر دیوتاؤں کے غیض و غضب کا شکار ہوتا ہے۔ زیوس دیوتا سزا کے طور پر اسے چٹان سے باندھ دیتا ہے جہاں روز گدھ اسے نوچتا ہے۔ بالآخر زیوس اسے معاف کر دیتا ہے۔ یہ دیوتاؤں کے خلاف ایک طرح سے احتجاج تھا۔ اسکا دوسرا معروف ترین ڈرامہ "اوریسٹیا” ہے۔ ٹرائے کی فتح سے واپس آنے پرآدگوس کے حکمران اگیمینون کی بیوی کلے منیسترا اس سے بیوفائی کرکے آگستھیس کی محبت میں مبتلا ہوکر اسے قتل کردیتی ہے۔ اسکی بیٹی الیکٹرا کو کسمپرسی کی زندگی گزارنی پڑتی ہے اور وہ بیٹے اوریسٹس کو مروانے کی کوشش بھی کرتی ہے مگر وہ بچ جاتا ہے۔ آخرکار اوریسٹس بہن الیکٹرا کے اکسانے پر آگستھیس اور اپنی ماں کو قتل کر کے انتقام کی آگ بجھاتا ہے۔ اگر شیکسپئر کے ڈرامے ہیملٹ کو دیکھیں تو کافی مماثلت اوریسٹس سے نظر آئیگی۔ ایلیڈ اگر یونانی شاعری کی معراج ہے تو اوریسٹس یونانی ڈرامے کی۔

The Sack of Corinth. discovered by Lucilla on We Heart It

دوسرا بڑا ڈرامہ نگار سوفوکلیز ہے۔ 468ق م میں 57سالہ اسکائی لس محض 25 سالہ سوفوکلیز سے ڈرامے کا مقابلہ ہار جاتا ہے۔ ۔ اس نے اکیانوے برس عمر پائی اور لاتعداد ڈرامے لکھے۔ مشہور ترین ڈرامہ الیکٹرا تھا جو اوریسٹس کے پلاٹ پر مبنی تھا۔ دیگر ڈراموں میں ایجکس، اینٹی گون اور ایڈپس ریکس شامل ہیں۔

یوری پڈیز (480-406ق۔ م) سب سے پراثر ڈرامہ نگار تھا۔ اسکے 75 میں سے محض18 ڈرامے ہم تک پہنچے ہیں۔ اس نے بھی المیہ اور ناانصافی کو موضوع بنایا۔ اسکا شہرہ آفاق ڈرامہ "ٹروجن عورتیں” ہے جو 415 ق م میں پیش کیا گیا۔ یہ بھی ایلیڈ سے متاثر ہے۔ ٹروجن کی جنگ کے بعد ٹرائے کا بادشاہ پریام مرچکا ہے۔ ارکلیز نے اسکے جانشین بہادر بیٹے ہیکٹر کو قتل کردیا ہے۔ ٹرائے کی تمام عورتیں داشتائیں یا غلام بننے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ ملکہ ہاکوبا اپنی بیوہ بہو کو سمجھاتی ہے کہ وہ غلامی قبول کر لے شاید اسکا پوتا استیانا بچ جائے۔ مگر فاتحین اس نومولود بچے کو اس خوف سے کہ وہ کل بدلہ ناں لے سکے، قلعے کی دیوار سے نیچے پھینک دیتے ہیں۔ ملکہ ہاکوبا شاعرانہ انداز میں فاتحین کوبددعا دیتی ہے۔ اس ڈرامے کے مکالموں کا ردعمل اتنا شدید تھا کہ وہ ایتھنز میں زیر عتاب اگیا۔ اسکا محافظ اور دوست پیری کلیز مرچکا تھا۔ یہاں سقراط ہی اسکا واحد دوست بچا تھا۔ لہذا 408 ق م میں وہ مقدونیہ منتقل ہوگیا جہاں دو برس بعد اسکا انتقال ہوگیا۔

مزاح نگاری میں اریسٹوفینز(460-360 ق م) ایتھنز کا سب سے بڑا مزاح نگار تھا۔ اس نے سقراط پر خاکہ لکھ کر اسکا خوب مذاق اڑایا۔ مگر مزاح نگار کا تعلق حالات حاضرہ سے ہوتا ہے لہذا کچھ عرصہ بعد لوگوں کی دلچسپی اس میں کم ہوجاتی ہے۔

ایتھنز کازوال اور سقراط کی موت

ایتھنز اور سپارٹا نے اپنےاتحاد قائم کیے اور دونوں کے مابین 431 ق۔ م میں جنگ ہوئی۔ اسے پیلوپونیشین جنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ دو برس بعد پیریکلیز مر گیا۔ جنگ ستائیس برس جاری رہی۔ 404ق م میں اشرافیہ کی ایک جماعت نے تیس افراد کی مجلس قائم کی اور جمہوریت پسندوں کو جلا وطن کردیا گیا۔ ان تیس افراد کی آمریت کی سربراہی کریٹیاس کررہا تھا۔ اس نے سقراط کے واعظوں پر پابندی عاید کردی۔ جمہوریت پسندوں کو جلاوطن کردیا گیا۔ مگر یہ حکومت اس قدر نااہلی ثابت ہوئی کہ پائیرئیس کی گودیاں تک بیچ کھائیں۔ جمہوریت پسند کامیاب بغاوت کے بعد واپس آگئے اور کریٹیاس مارا گیا۔ ایتھنز میں اساتذہ کا ایک گروہ تھا جو "سوفسطائی” کہلاتا تھا۔ یہ امراء کو تعلیم فراہم کیا کرتے تھے اور دلائل و مباحث کیلئے تعلیم دیتے تھے۔ سقراط ان کے خلاف ڈٹ گیا۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد اسکی حامی بن گئی۔ ۔ 399 ق م میں سقراط پر جمہوریت پسندوں نے نوجوانوں کے اخلاق بگاڑنے اور یونانی دیوتاؤں کی تضحیک کرنے کے الزام میں فردجرم عائد کردی۔ عدالت نے کثرت رائے سے اسے سزائے موت دی۔ اسکے ہمدردوں نے معافی مانگنے یا فرار کا مشورہ دیا مگر بوڑھے سقراط نے یہ کہہ کر انکار کردیا زندگی کے اس موڑ پر اسکی لالچ کرنا فضول ہے اور باوقار انداز میں زہر کا پیالہ پیا۔ سقراط کی موت کے ساتھ ایتھنز کے جسم کے ساتھ روح بھی لاغر ہونے لگی۔

افلاطون 427ق م میں ایتھنز کے امیر گھرانے میں پیدا ہوا۔ وہ سقراط کا شاگرد تھا اور اسکے بارے میں معلومات کا بڑا ذریعہ بھی۔ اس نے درسگاہ "اکیڈیمس” کے نام سے قائم کی۔ لفظ اکیڈمی اسی سے ماخذ ہے۔ ۔ جمہوریت پسندوں کے ہاتھوں استاد کی موت نے اسے جمہوریت سے کافی بددل کیا۔ اسکی نمائندہ تحریروں میں "ریپبلک” یعنی ریاست شامل ہے یہاں وہ اشتراکی طرز کی معاشرت پر بحث کرتے ہوئے تمام شہریوں کیلئے یکساں نظام تعلیم کی بات کرتا ہے۔ رہنماؤں کے پاس کوئی جائیداد نہیں ہونی چاہیے ناں ہی انکی ازدواجی زندگی ہو۔ پرورش و تعلیم ریاست کی بنیادی زمہ داری ہونی چاہیے۔ "یوٹوپیا” یعنی مثالی ریاست کی تصویر کشی کرتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ جب فلسفی بادشاہ بن جائے تو ریاست مکمل ہوجائیگی۔ "قوانین” میں اس نے ریاستی قانون سازی کا نقشہ کھینچا۔ غالبا یہ زوال سے دوچار ایتھنز کا ردعمل تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ پانچ ہزار ووٹروں کو 360نمائیندگان منتخب کرنے چاہییں جو معیشیت و قوانین کی نگرانی کریں۔ قانون سازی کیلئے 26 افراد کی مجلس ہو۔ عورتوں کے حقوق مساوی ہونے چاہییں اور ریاست مذہب کی نگرانی خود کرے کیونکہ مؤثر اطاعت کیلئے اعتقادات کا ہونا ضروری ہے۔ ہئیت کے بارے میں وہ کہتا ہے کہ اصل چیز ظواہر اشیاء نہیں بلکہ جواہر اشیاء ہے۔ اسکے اس خیال نے آنے والی صدیوں میں مسلم فلسفیوں کو بہت متاثر کیا۔

ارسطو(380-322 ق م) ایتھنز کا آخری اور تاریخ کے موثر ترین دانشوروں میں سے ایک تھا۔ وہ شمال میں سٹاگیرا کے علاقے میں پیدا ہوا۔ باپ کی طرح طب کا پیشہ چنا۔ اس نے ایتھنز آکر افلاطون کی اکیڈمی میں داخلہ لے لیا۔ افلاطون کا شاگرد ہرمیاس ایشیاء کوچک کے ایک شہر آسوس کا بادشاہ بنا تو ارسطو اس کے دربار سے منسلک ہوگیا۔ اس نے ہرمیاس کی بیٹی پائیتھیا سے شادی کی۔ ہرمیاس کے قتل پر اسے یہاں سے فرار ہونا پڑا۔ مقدونیہ کے حکمران فلپ نے اسے اپنے بیٹے سکندر کا اتالیق مقرر کیا اور چار برس اس نے یہیں گزارے۔ آخرکار ایتھنز واپس آکر اس نے اپنی درسگاہ قائم کرلی جس کانام اس نے "لائیسیم” رکھا۔ اس نے استاد کی طرح یوٹوپیا تخلیق نہیں کیا بلکہ منطق کو علم منطبق کیا۔ اس نے فرانسس بیکن سے دوہزار برس قبل ہی علم کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کا نظریہ دیا۔ اس طرح فطری علوم "سائینس” کا جنم ہوا۔ وہ اپنی درسگاہ میں چل پھر کر تعلیم دیا کرتاتھا۔ اس نے شاگردوں اور محققین کو مختلف شہروں میں بھیجا اور 158 کے قریب ریاستوں کے آئین جمع کیے۔ اسے علم سیاسیات کا بھی باوا آدم کہا جا سکتا ہے۔ اس نے پہلے سے موجود دانشوروں کے کام کو جمع کیا اور خود بھی وراثت میں وسیع علمی کام چھوڑا۔ اس نے دراصل علم کو پر اسرا ر تخیلات کے بوجھ سے آزاد کرکے اسے حقائق کی زمین پر اتار دیا۔ سکندر کی موت کے بعد جب اہل ایتھنز اسکے خلاف ہوئے تو وہ یہ کہہ کر فرار ہو گیا کہ اہل ایتھنز کو فلسفے کے خلاف (سقراط کی مانند) دوسری بار جرم کے ارتکاب کا موقع نہیں دیگا۔ اس کے بعد علم ودانش کا کام ماند پڑ گیا کیونکہ یونان پر سیاسی عسکری بے چینی کے بادل منڈلاتے رہے۔ پیلو پونیشین جنگوں نے یونانیوں کی توانائیاں ضائع کردیں اور ایتھنز کو سپارٹا کے ہاتھوں شکست ہوگئی۔ 371 ق م میں تھیبس نے سپارٹا کو ہرا کر اسکی بھی بالادستی ختم کردی۔ افلاطون کہتا ہے کہ اب دو ایتھنز بن گئے ہیں۔ ، ایک غریب کا اور ایک امیر کا۔ غرباء قوانین کے ذریعے دولت میں حصہ چاہتے ہیں امراء ان سے بچنے کیلئے منظم اقدامات کر رہے ہیں۔ دانشوروں نے عمومی طور پر غرباء کا ساتھ دیا اور سزا بھی بھگتی۔ ایتھنزاور بالعموم یونان کی بدقسمتی یہ ہوئی کے سیاسی ابتری کے دوران انھیں دوبارہ کوئی سولون یا پیریکلیز جیسا ریاستکار دستیاب ناں تھا۔ اس کے بعد بھی دانشور پیدا ہوئے مگر سماج کا اجتماعی شعور جمود کا شکار ہوا۔ 287 ق م میں سیراکیوس میں پیدا ہونے والے آرشمیدس کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اس نے مشہور کثافت کا اصول آرشمیدس دریافت کیا۔ لیور کی ایجاد بھی اسی سے منسوب ہے۔ اس نے کہا اگر اپنے کھڑے ہونے کیلئے اسے مناسب جگہ دستیاب ہو تو وہ پوری دنیا کو لیور پر اٹھا سکتا ہے۔

یونانی تہذیب میں آرٹ

 مجسمہ سازی اور مصوری کے فن میں قدیم یونانیوں نے بہت دلچسپی دکھائی۔ چوتھی قبل مسیح میں ایپلیز جو ریاست کوس کا باشندہ تھا اپنے وقت کا معروف ترین مصور رہا۔ اسے معلوم ہوا کہ اسکا حریف مصور پروٹوجینز ریاست روڈز میں عسرت کی زندگی گزار رہا ہے تو اس سے ملنے کا ارادہ کیا۔ جب وہ وہاں پہنچا تو پروٹوجینز موجود ناں تھا۔ وہاں موجود ضعیف عورت نے اسکا تعارف جاننا چاہا تو کچھ بتائے بغیر وہ پینل پر باریک لائن کھینچ کر چلا گیا۔ پروٹوجینز واپس آیا تو لائن دیکھ کر سمجھ گیا اور اس کے مقابل اس سے بھی باریک لائن کھینچ کر ضعیف عورت سے کہا کہ وہ شخص دوبارہ آئے تو یہ لائن اسے دکھا دینا۔ ایپلیز دوبارہ آیا تو ان دو لکیروں کے درمیان مزید باریک لکیر کھینچ دی۔ پروٹوجینز نے ایپلیز کا بطور استاد استقبال کیا۔ بعد ازاں اس پینٹنگ کو جولیس سیزر نے حاصل کیا۔ اسکا ذکر ہمیں معروف رومی جرنیل اور مؤرخ پلائینی کی تحریر میں ملتا ہے۔ البتہ آج اس دور کے مصوری کے شاہکار دستیاب نہیں مگر تحریروں میں انکا مفصل ذکر ملتا ہے۔

مجسمہ سازی پہلے بھی موجود تھی یعنی پتھر کے دور میں بھی لوگ دیوی اور دیوتاؤں کے تجسیم کیا کرتے تھے مگر یونانیوں نے اسے جدید اسلوب سے فن کی شکل دی۔ مجسموں میں سر اور چہرے کے نقوش واضح ہوا کرتے تھے۔ پراکسی ٹلیز ایتھنز کا معروف ترین مجسمہ ساز تھا۔ یہ اسکا خاندانی پیشہ تھا۔ 360 ق م میں اس نے یونانی محبت کی دیوی "ایفروڈائیٹ” کو تراشا۔ اس نے پتھر کے ساتھ کانسی کے مجسمے بھی بنائے اور کئی شہروں نے اسکی پیشہ ورانہ خدمات بھی حاصل کیں۔ 1877ء میں ایتھنز میں کھدائی کے دوران بھی اسکا ایک مجسمہ ملا ہے جس میں ہرمس نے ڈائیونی سس کو گود میں اٹھا رکھا ہے۔ ڈائیونی سس دیوتا زیوس کا بیٹا تھا جسے اس نے ہرمس کی نگرانی میں دے رکھا تھا۔

عمارات کی بات کریں تو یونانیوں نے عظیم عمارات تعمیر کیں۔ ابتدائی معروف عمارتوں میں ہیلی کارناسس(موجودہ ترکی) میں ایک مقبرہ ہے۔ 350 ق م کے قریب ریاست کاریا کے بادشاہ موسولوم کی وفات پر اسکی بیوی ارتمیس نے اسے تعمیر کرایا۔ اسکے لئے یونانی ماہر تعمیرات پائیتھیس اور سٹائروس کی خدمات لی گئیں۔ یہ چھتیس ستونوں پر مشتمل مستطیل ڈھانچہ ہے جو درمیان میں اہرام کی شکل لے لیتا ہے۔ یہاں دس فٹ کا مجسمہ بھی تھا جو برٹش میوزیم میں محفوظ ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ یہ بادشاہ موسولوم کا ہے۔ مقبرے کیلئے مستعمل انگریزی لفظ میسولیم اسی سے ماخذ ہے۔ یہ قدیم دنیا کے سات عجائب میں شامل ہے۔ یونانی طرز تعمیر آج بھی درسگاہوں اور سرکاری عمارتوں میں جھلکتا ہے۔

سکندر کا عروج اور یونان کا زوال

شمال میں مقدونیہ کے حاکم فلپ نے جنگوں سے ہلکان ریاستوں کی حالت کو بھانپا تو پورے یونان کو مطیع کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس نے یونانی تعلیم حاصل کی اور بڑا چالاک سفارتکار ثابت ہوا۔ اس نے ہیرو ڈوٹس اور آئیسو کریٹس کی تحریروں سے متاثر ہوکر فارس پر چڑھائی کیلئے متحدہ یونان کا پروپیگنڈہ کیا۔ اس نے بہترین پیادہ فوج اور گھڑسوار دستے تیار کیے۔ جب اس نے دیگر ریاستوں کو اپنے جھنڈے تلے فارس مخالف مہم کیلئے اکٹھے ہونے کا کہا تو ایتھنز نے مخالفت کردی۔ 338 ق م میں اس نے چیرونیا کی جنگ میں ایتھنز اور تھیبس کی متحدہ افواج کو شکست دی۔ اس نے قیدیوں کو رہا کر کے مذاکرات کیلئے اپنے بیٹے سکندر کو ایتھنز بھیجا اور اسے فارس کے خلاف مہم کا سربراہ تسلیم کر لیا۔ دو برس بعد ہی وہ حملے سے قبل سازش کا شکار ہو کر قتل ہوا۔ دو برس میں خود کو مستحکم کرنے کے بعد 334 ق م میں سکندر ایشیاء کوچک میں داخل ہوا اور گرانیکس کی جنگ میں فارسیوں کو شکست دے کر سیڈون اور ٹائر کی بندرگاہوں پر قابض ہو گیا۔ 332 ق م میں اس نے دارا سوم کی بڑی فوج کو آئیسس کے مقام پر شکست دی اور 332ق م میں مصر چھین لیا اور تجارت کیلئے نئے شہر سکندریہ کی بنیاد رکھی۔ اب فارسیوں کا رابطہ بحیرہ روم سے کٹ گیا۔ 331ق م میں اس نے داراسوئم کو قدیم نینوا شہر کے قریب آربیلا کے مقام پر فیصلہ کن شکست دے کر فارس کے عظیم شیروں سوسا اور پرسی پولس پر قبضہ کر لیا۔ نے نوشی کے جوش میں اس نے دارا کے محلات کو جلا کر خاکستر کر دیا۔ شمال میں اس نے نئے شہر ہرات کی بنیاد رکھی اور ہندوستان میں داخل ہو گیا وسطی پنجاب میں راجہ پورس کو ہرانے کے بعد اسکی یونانی افواج نے پیش قدمی سے انکار کردیا۔ ایک تباہ کن واپسی کے سفر کے ساتھ وہ 324 ق م میں وہ سوسا واپس پہنچا اور سلطنت کو مستحکم کرنے میں لگ گیا۔ کثرت مے نوشی کے باعث 323 ق م اس کی موت ہو گئی۔ استحکام سے قبل ہی اسکی سلطنت منتشر ہوگئی۔ ایشیائی حصے پر سلیوکس، مصر پر بطلیموس اور یونان پر اینٹی گوان نے قبضہ کر لیا۔

یونانی تہذیب کا آخری باب سکندریہ

بطلیموس سکندر کا دوست اور ارسطو کا پرستار تھا۔ اس نے مصر میں سلطنت قائم کی اور سکندریہ کو پایہ تخت بنایا۔ اس نے یہاں ایک عجائب گھر اور وسیع مالی امداد سے تحقیقاتی مرکز قائم کیا۔ دربار کی زبان یونانی تھی۔ یہاں 300 ق م کے قریب پیدا ہونے والے عظیم ریاضی دان اقلیدس نے زمین کا قطر معلوم کیا جو محض 50 میل اصلی قطر سے کم ہے۔ ہیرو (70-10ء) نے پہلے دخانی انجن کا ماڈل تیار کیا۔ بطلیموس کے بعد شاہی سرپرستی میں کمی آتی گئی اور یہ سلسلہ ماند پڑ گیا۔ مصری فرعونوں کا رنگ حکمرانوں پر چڑھ گیا۔ قلوپطرہ اس سلسلے کی آخری حکمران تھی۔ سکندر کے بعد یونان ابھرتی ہوئی رومی سلطنت کے زیرنگیں آگیا۔ ایشیائی حصے پر فارسیوں نے نئی ساسانی سلطنت قائم کرلی۔

تنقیدی و عمرانی جائزہ

یونانی تہذیب نے انسانی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے پبلک ایڈمنسٹریشن کا نیا نظام وضع کیا جسکی اساس بادشاہت نہیں بلکہ عوامی نمائندگی تھی۔ جمہوریت کی اولین مثال یہاں نظر آئی۔ عوامی رائے دہی کی بدولت بادشاہتوں کے برعکس وہ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کر سکتے تھے۔ نظام میں لچک موجود تھی۔ عوامی شرکت نے ریاست سے وفادار شہری پیدا کیے۔ معیشیت میں انھیں سمندری تجارت پر برتری حاصل تھی۔ سمندری سفر میں تجارتی جہازوں کے حادثات کے بعد انہوں نے انشورنس یا بیمہ کا تصور دیا تاکہ متاثرہ تاجر سرمایہ کاروں کا مقروض ہو کر غلام ناں بن جائے۔ ادب، سائینس، منطق اور فلسفے کو آزادذہن کے ساتھ انہوں نےجلا بخشی اور آنیوالی تہذیبوں کے حوالے کیا۔ آزاد ذہنی فضا اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع جب تک ملتے رہے یہ شہری ریاستیں محدود جغرافیے کے باوجود غالب رہیں۔ جب سکندر نے انھیں وسیع سلطنت میں تبدیل کیا تو یہ سیاسی غلبہ کھونے لگی۔ نتیجتا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ریاستکاری، آزاد انسانی ذہنوں کی نشونما، تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار اور جدید معیشیت نے انھیں تاریخ کی متاثر کن تہذیب بنایا۔ انسان کی مجموعی ترقی میں انکا سب سے بڑا کردار یہی تھا کہ وہ علم کو پراسراریت کے سایوں سے نکال کر منطق کی روشنی میں لے آئے۔ بعد ازاں مسلم تہذیب نے ان علوم دانش کو اپنی آغوش میں سمیٹ کر ترقی دی اور کسی امانت کی طرح اسے مسلم سپین کے راستے مغربی یورپ کو لوٹا دیا۔

Advertisement

Trending