Connect with us

آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ

گوپی چند نارنگ: اردوتنقید کا ایک عہد تمام ہوا —– قاسم یعقوب

Published

on

نارنگ صاحب چلے گئے۔ ارودتنقید میں نئے تنقیدی رجحانات متعارف کروانے میں ان کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔وہ متحرک شخصیت کے مالک تھے۔ بہت سے سیمیناروں میں نئی بحثوں کوجنم دینے میں انھوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔

گوپی چند نارنگ اُردو میں تھیوری کے حوالے سے سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والے نقاد ہیں۔ اُردو میں تھیوری پہ لکھنے والوں میں وہ بنیاد گزارکی حیثیت رکھتے ہیں۔اسّی کی دہائی میں انھوں نے تنقیدی تھیوری پہ باقاعدہ لکھنا شروع کیا۔ البتہ ان کے تنقیدی سفر کا آغاز ۷۵۹۱ میں ہوا جب انھوں نے اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ بہ عنوان ’اُردو شاعری میں ہندوستانی عناصر‘ لکھا۔ نارنگ نے تھیوری کی طرف بہت بعد میں توجہ کی۔ ان کا ابتدائی رجحان لسانیات اور تحقیق کی طرف تھا۔لسانیاتی مطالعات پہ ان کی کتابیں ساٹھ، ستر اور اسّی کی دہائیوں میں شائع ہوتی رہیں:
۱۔ کرخنداری اُردو کا لسانیاتی مطالعہ (۰۶۹۱)
۲۔ اُردو کی تعلیم کے لسانیاتی پہلو (۱۶۹۱)
۳۔ کربل کتھا کا لسانی مطالعہ (۰۷۹۱)
۴۔ اِملانامہ (مرتبہ) (۴۷۹۱)
۵۔ لغت نویسی کے مسائل(مرتبہ) (۴۸۹۱)
اسی طرح ان کے تنقیدی تھیوری پر سامنے آنے والے کام سے پہلے ان کے کلاسیکی اور تحقیقی رجحانات کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جو لسانیات کی طرح ہی ساٹھ کی دہائی سے نوے کی دہائی تک جاری رہتا ہے:
۱۔ ہندوستانی قصوں سے ماخوذ مثنویاں (۰۶۹۱)
۲۔ پرانوں کی کہانیاں (۶۷۹۱)
۳۔ امیر خسرو کا ہندوی کلام مع نسخہئ برلن (۷۸۹۱)

گوپی چند نارنگ نے اُردو ناقدین اور محققین پہ بھی مقالات کو مرتب کیا اور ان کے کام پہ مباحث کا آغاز کیا۔ ان محققین میں مالک رام، آثار محروم اور زور صاحب پہ مقالات جمع کیے گئے، کیفی کی منشوراتِ کیفی کی تدوین کی گئی۔اس کے علاوہ اسی عرصے میں انھوں نے علامہ اقبال پر دو کتابیں بھی مرتب کیں۔ گو ان تمام کاموں کی نوعیت مرتبہ اور تدوینی نوعیت کی ہے مگر ان کے رجحانات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ تدوین اور تحقیق کی طرف بھی مائل تھے اور ساتھ لسانیات کو بھی اپنی توجہ کا مرکز بنائے ہوئے تھے۔ ان کے مطالعات میں، اقبال، امیر خسرو، کیفی، محروم، مالک رام، زور شامل تھے جب کہ موضوعاتی سطح پر وہ ’ہندوستانیت‘ کی کھوج میں مصروف تھے۔ یہ بھی اہم بات ہے کہ وہ اپنے تنقیدی و تحقیقی کام کا آغازاُردو شاعری میں ”ہندوستانیت“ کی تلاش سے کرتے ہیں اور اپنے آخری سب سے بڑے کام ’غالب: معنی آفرینی، جدلیاتی وضع، شونیتااور شعریات‘میں بھی ہندوستانی تہذیب کے سب سے بڑے کردارغالب کی عظمت کا اعتراف کرتے ملتے ہیں۔
نارنگ صاحب کے کام کی مختلف جہتوں کا ایک خاکہ بنایا جائے تو ان کا کام تین حصوں میں تقسیم نظر آئے گا جن تین میدانوں میں نارنگ صاحب نے نمایاں کام پیش کیا اور کچھ اہم اضافے کیے، وہ مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ فکشن کی تنقید
۲۔ ادبی اسلوبیات
۳۔ تنقیدی تھیوری
ان تینوں سطحوں پر نارنگ صاحب نے بہت اہم بحثوں کا آغاز کیا ہے۔ اُردو فکشن پر ان کی کتابیں اُردو افسانہ: روایت ومسائل(مرتبہ) ۱۸۹۱ اورانتظار حسین اور ان کے افسانے (مرتبہ) ۶۸۹۱ میں ہی شائع ہو چکی تھیں۔ تنقیدی تھیوری پر باقاعدہ لکھنے سے پہلے ان کے متعدد اہم مضامین فکشن کی ذیل میں شائع ہو چکے تھے۔ انھوں نے پریم چند، بیدی، منٹو، کرشن چندر، انتظار حسین، سریندر پرکاش، بلراج مین را، منشا یاد، سلام رزاق جیسے اہم کہانی کاروں کے فن کا تجزیہ کیا۔ ان کی تنقید میں کہانی کاروں سے زیادہ کہانی کے لاشعوری عناصر تک پہنچنے کا مواد ملتا ہے۔ انسانی لاشعوری تحرکات کس طرح واقعات کی ظاہری و خارجی ذرائع کا ستعمال کرتے ہوئے انسانی معاملات کو گرہ گرہ کھول کے دکھاتے ہیں، نارنگ کی تنقید کا بنیادی محور ہے۔ فضیل جعفری جیسے تنقیدی تھیوری کے سخت ’دشمن‘ نقاد نے بھی ان کے فکشن کے کام کو سراہتے ہوئے لکھا تھا:

”بعض نقاد فکشن کی تنقید کرتے ہوئے معاشرتی اور سماجی ارتباط کے بہانے ایسے ایسے سیاق تک گھسیٹتے ہیں کہ آخر میں فکشن اور عمرانیات یا فکشن اور سیاست میں کوئی خاص فرق نہیں رہ جاتا۔ اس رویے کے برخلاف نارنگ کے نزدیک تحسین آمیز معنی آفرینی اسی وقت ممکن ہے جب انسانی عصری صداقتوں پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ Verbal Analysisپر بھی نظر رکھی جائے۔“ (فضیل جعفری: مضمون ’گوپی چند نارنگ اہم نقاد‘، الفاظ(نارنگ نمبر)، علی گڑھ، ۷۸۹۱، ص ۵۲)
فضیل جعفری کا یہ اعتراف ۷۸۹۱ کا ہے جب نارنگ صاحب ابھی تھیوری کی طرف پوری طرح مائل نہیں تھے۔بعد میں جب وہ ’قاری اساس تنقید‘ اور’ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات‘ جیسی کتابیں بالترتیب لاتے ہیں تو فضیل جعفری اپنا نقطہئ نظر اور رائے بھی بدل لیتے ہیں۔

ادبی اسلوبیات میں بھی ان کا نمایاں کام تنقیدی تھیوری سے پہلے شائع ہو چکا تھا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ اُردو میں ’جدید اسلوبیات‘ پر سب سے اچھا کام نارنگ صاحب نے پیش کیا ہے۔ ان کے مضامین تو اسّی کی دہائی ہی میں شائع ہو رہے تھے البتہ ان کی کتاب ’ادبی تنقید اور اسلوبیات‘ ۹۸۹۱ میں پہلی بار شائع ہوئی تو ادبی حلقوں میں بھرپور خیر مقدم کیا گیا۔اسّی کی دہائی تک اسلوبیات بہت نیا موضوع تھا۔ اسلوبیات زبان کے راستے مصنف کے فن کو پہچاننے کا نام ہے۔ زبان اورلسانیاتی ضابطے ہی کسی فن پارے میں ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتے ہیں۔ نارنگ صاحب نے درست کہا تھا کہ جس طرح ہاتھ کی لکیریں منفرد ہوتی ہیں بالکل اسی طرح اسلوبیات کی مدد سے کسی بھی فن کار کی انفردایت کو جانا جا سکتا ہے۔ مگر نارنگ صاحب اسلوبیات کو کُل تنقید نہیں سمجھتے تھے وہ اس سے مدد لینے کا تو کہتے تھے مگر کسی بڑے نتائج کی توقع نہیں رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اسلوبیاتی تنقید میں ایک اہم بنیاد گزار کا کام کرنے کے باوجود اس پر اتنا نہیں لکھا جتنا وہ تنقیدی تھیوری کو اپنا تنقیدی محور بنائے رہے۔طاہر : مسعود کو ایک انٹرویومیں اسلوبیاتی تنقید کی حدود پر اپنی رائے دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں:

”اسلوبیاتی تنقید، جمالیاتی تنقید یا اقداری تنقید کا بدل ہرگز نہیں ہے۔ جس طرح تنقید میں نفسیات سے عمرانیات سے تاریخ سے (جس میں ثقافت، تمدن اور تمام روایتیں آجاتی ہیں) مدد لے سکتے ہیں تو زبان کے علم کی شاخ جو لسانیات کہلاتی ہے اگر اس سے ادب میں مدد لی جائے تو اس کے بارے میں کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے لیکن پریشانی یوں پیدا ہوتی ہے کہ لسانیات ایک سائنسی علم ہے اور ادب فنونِ لطیفہ کی جان ہے۔ سائنس کی مدد سے آپ آرٹ کو سمجھ یا پرکھ نہیں سکتے۔ بے شک لسانیات سائنس ضرور ہے لیکن زبان کے تفاعل کے بارے میں جیسی مدد اور جیسی روشنی لسانیات سے حاصل ہو سکتی ہے، اُتنی مدد نہ ہمیں نفسیات سے مل سکتی ہے نہ عمرانیات سے اور نہ تاریخ سے۔“(طاہر مسعود:یہ صورت گرکچھ خوابوں کے، ’انٹرویو گوپی چند نارنگ‘، مکتبہئ تخلیقِ ادب کراچی، جنوری ۵۸۹۱، ص۲۷۳)
یہاں وہ اسلوبیات کی حدود بھی متعین کر رہے ہیں اور ساتھ اسلوبیاتی مطالعات کی وسعت بھی بتا رہے ہیں۔اسلوبیاتی تنقید پر وہ ایک یادگاری خطبہ(اسلوبیاتِ میر) انجمنِ ترقی اُردو کراچی میں بھی دے چکے تھے۔ اسلوبیاتی تنقید پر لکھتے ہوئے ان کی توجہ تنقیدی تھیوری کی طرف بھی گئی۔ ان کا پہلا مضمون ’ساختیات اور ادبی تنقید‘ ماہ نو لاہور(۹۸۹۱) اور شعرو حکمت حیدرآباد(۰۹۹۱) دونوں جگہوں شائع ہوا۔یہی وہ زمانہ تھا جب وہ اسلوبیاتی تنقید سے ساختیاتی تنقید کی طرف متوجہ ہوئے۔ وہ اسلوبیات اور ساختیات کی حدود جان رہے تھے:

”تنقید کے دو نئے ضابطے جو اسلوبیات اور ساختیات کے نام سے جانے جاتے ہیں اور جن کے حوالے سے ادب کی دنیا میں نئے فلسفیانہ مباحث پیدا ہوئے ہیں، وہ انھیں اثرات کا نتیجہ ہیں۔ تاریخی اعتبار سے اسلوبیات کے مباحث مقدم ہیں اور نظریہ ساختیات یا اس سے متعلقہ نظریات جو پس ساختیات کے نام سے جانے جاتے ہیں بعد میں منظرِ عام پر آئے لیکن اسلوبیات کو سمجھے بغیر لسانیات کے بنیادی اصولوں و ضوابط کو جانے بغیر نظریہ ساختیات کو نیز اُن تمام فلسفیانہ مباحث کو جو ’پس ساختیات‘ کے تحت آتے ہیں، سمجھنا ممکن نہیں ہے۔“(گوپی چند نارنگ، ڈاکٹر:ادبی تنقید اور اسلوبیات، سنگِ میل پبلشرز لاہور، ۱۹۹۱، ص ۳۱)

وہ اسلوبیاتی تنقید کو سمجھے بغیر ساختیاتی مباحث کو سمجھنا ناممکن قرار دیتے ہیں۔ گویا اسلوبیات سے ساختیات تک کا سارا سفر انھوں نے تدریجی اعتبار سے طے کیا۔ادبی تنقید اور اسلوبیات(۹۸۹۱) سے”ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات(۴۹۹۱)“ تک، اگر ان کے ادبی تنقیدی سفر کاجائزہ لیا جائے تو ان کے بیشتر مقالات ساختیات فہمی اور پس ساختیات بنیاد گزاروں کے تنقیدی کام پر شائع ہوئے ہیں جن کی ایک مختصر سی تفصیل حسب ذیل ہے:
۱۔ ساختیات اور ادبی تنقید
۲۔ ساختیات
۳۔ کچھ ساختیات کے بارے میں
۴۔ ژاک دریدا
۵۔ مارکسیت، ساختیات اور پس ساختیات
۶۔ ساختیات اور بوئے گل کا سراغ
۷۔ روسی ہئیت پسندی
۸۔ رولاں بارتھ پس ساختیات کا پیش رو
۹۔ ساختیات اور فکشن کی شعریات
۰۱۔ ساختیات اور شعریات: رومن جیکب سن اور جونتھن کلر
۱۱۔ بارتھ نے کہا تھا
۲۱۔ فیض کو کیسے نہ پڑھیں: ایک پس ساختیاتی پڑھت
۳۱۔ قاری اساس تنقید
۴۱۔ ٹیری ایگلٹن
۵۱۔ دریدا اور مارکسیت
۶۱۔ مشرقی شعریات اور لانگ کا تصور
۷۱۔ سنسکرت شعریات اور ساختیاتی فکر
۸۱۔ عربی فارسی شعریات اور ساختیاتی فکر
۹۱۔ لاکاں، فوکو اور کرسٹیوا

ان میں ”فیض کو کیسے نہ پڑھیں“ سوغات کے شمارہ ۲ میں شائع ہوا تو کافی ہنگامہ مچا۔ مذکورہ بالا مضامین کے عنوانات کو دیکھ کے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نارنگ صاحب ادبی اسلوبیات سے تھیوری کی طرف راغب ہونے کے بعد مسلسل اسی کتاب پر کام کرتے رہے جو ۴۹۹۱ میں ’ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات‘ کے نام سے سامنے آئی۔ تھیوری کے ضمن میں یہ بنیادی کتاب تھی۔ اس کتاب کی اہمیت آج بھی بنیادی تعارفیے کی ہے جس میں پہلی دفعہ تھیوری کو اُردو اصطلاحات کے ساتھ پیش کیا گیا۔ یہ تمام اصطلاحات آج بھی اُردو کا حصہ ہیں۔ گویا تھیوری پر اصطلاحات کا ایک بڑا ذخیرہ نارنگ صاحب کی دین ہے۔اس کتاب میں نارنگ صاحب نے مغربی ناقدین کے لسانی ثقافتی تھیوریوں کا ایک مفصل تعارف پیش کر دیا ہے اگرچہ اس کتاب پر سرقے کا الزام بھی لگا مگر نارنگ صاحب کے بقول اس کتاب کے ہر باب کے آخر پر جن کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے ان کے نام بھی دے دیے گئے ہیں۔اس کتاب کی اصل اہمیت جو آج بھی قائم ہے وہ مشرقی شعریات کی دریافت ہے۔ نارنگ صاحب نے مشرقی تھیوری کو مغربی تھیوری کے متبادل لا کھڑا کیا۔ انھوں نے ثابت کیا کہ مشرق خصوصاً برصغیر میں تھیوری کے ابتدائی مباحث وہی ہیں جو اب جدید تنقیدی تھیوری کے ضمن میں مغرب میں ہو رہے ہیں۔ نارنگ صاحب چوں کہ کلاسیکی شعریات سے سفر کرکے جدید تنقیدی تھیوری کی طرف آئے تھے اس لیے ان کی مشرقی ادبیات پر بھی گہری نظر تھی اسی لیے انھوں نے اس کتاب میں بالالتزام مشرقی شعریات کو پیش کیا۔اس کتاب میں مشرقی شعریات میں ساختیاتی عناصر کی دریافت میں دو حصے بنائے گئے ہیں:
۰ سنسکرت شعریات اور ساختیاتی فکر
۰ عربی فارسی شعریات اور ساختیاتی فکر
سنسکرت شعریات میں ’شبد اور ارتھ کی ذیل میں نظریہ ابھدھا کو زیرِ بحث لایا گیا ہے جب کہ بودھی نظریہ اپوہ، شونیہ، نظریہ سپھوٹ، نظریہ دھونی اور نظریہ رس پر سیر حاصل مباحث کیے گئے ہیں۔ سنسکرت شعریات کی نسبت عربی اور فارسی روایت میں ساختیاتی عناصر پر کم گفتگو ہے۔

نارنگ صاحب نے جب تنقیدی تھیوری میں اپنا رجحان ظاہر کیا تو انھوں نے روایتی تنقید پر ایک دم خطِ تنسیخ پھیر دیا۔ حالاں کہ وہ خود ایک عرصہ تک جدید فکری رویوں سے ادب پر بحثوں میں شامل رہے۔ (ان کی کتاب ’کاغذِ آتش زدہ‘ میں آغاز سے ۱۱۰۲ تک کے مضامین کا انتخاب شامل ہے جس میں روایتی تنقید کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں) یہ رویہ وزیر آغا اور دوسرے ناقدین کی طرف سے سامنے نہیں آیا۔ ڈاکٹر وزیر آغا ایک عرصے تک نئی تنقید کے تحت اپنے رسالے”اوراق“ میں مرکوز مطالعات(Close reading) پیش کرتے رہے مگر انھوں نے تنقیدی تھیوری کو قبول کرتے ہوئے اس سے پہلے روایتی تنقید کو مکمل طور پر رد نہیں کیا بلکہ قاری اساس تنقید کو سب کچھ دینے سے انکار بھی کیا۔ انھوں نے مصنف کی اہمیت کو ایک نئے زاویے سے دکھایا وہ ایک جگہ لکھتے ہیں:”یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اب مصنف کے سوانحی وجود کے بجائے اس کے تخلیقی وجود کو دریافت کرنے کی سعی ہو رہی ہے جو ایک اہم پیش رفت ہے۔“ (وزیر آغا، ڈاکٹر:معنی اور تناظر، مجلسِ ترقی ادب لاہور ۶۱۰۲، ص۱۶)جب کہ نارنگ صاحب نے جدیدیوں اور ترقی پسندوں کو نشانے پر رکھے رکھا، جس سے ایک قسم کی سخت گیری در آئی۔ نارنگ صاحب کے اکثر انٹرویوز میں ترقی پسندوں اور جدیدیوں کے خلاف کھلم کھلا آرا پڑھنے کو ملتی رہی ہیں۔ طاہر مسعود کو ایک انٹریو دیتے ہوئے کہتے ہیں:

”سوال:ترقی پسندوں سے جو آپ کا جھگڑا ہے اس کا بڑا چرچا ہے، وہ آپ سے اور آپ ان سے خفا رہتے ہیں، اس کے اسباب خالصتاً ادبی نوعیت کے ہیں یا اس کا تعلق کسی اور چیز سے بھی ہے؟
جواب:۔۔۔۔۔۔ترقی پسندوں کے بارے میں بہت کچھ لکھ چکا ہوں کیا عرض کروں، ترقی پسندوں نے ادب کی جو تعبیر کرنی شروع کر دی تھی اور جس کے نتیجے میں ایک خاص طرح کا ادب سامنے آنے لگا تھا۔ حقیقت کی ترجمانی کی صرف ایک تعبیر جسے وہ آج بھی جائز سمجھتے ہیں اور سب کو ایک لکیر پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں میں اس کا مخالف ہوں۔۔۔۔ادب کی دنیا میں فن پارے پر جس طرح اصرار میں کرتا ہوں، اس سے بعض لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے، تکلیف بھی اس نوعیت کی کہ جیسے ان کی اجارہ داری کو ٹھیس پہنچتی ہو اگر کہیں کسی کی اجارہ داری کو میرے ادبی موقف کی و جہ سے ٹھیس پہنچتی ہے تو وہ ٹھیس بر بنائے غیر ادبی مفادات پہنچے گی، ا س کی میں پروا نہیں کرتا۔۔۔بعض لوگ گروہ بناتے ہیں، سازشیں کرتے ہیں۔۔۔۔“ (صورت گر کچھ خوابوں کے، ص ۷۷۳، ۸۷۳)

اسی طرز پر ان کا جھگڑا جدیدیوں سے بھی رہا۔انھوں نے جدیدیوں کے ادب پر مکمل خطِ تنسیخ پھیر دی اور جدیدیت کی چار شقوں کا رد کر دیا جس کے تحت جدیدادب لکھا جا رہا تھا۔ ہوا یہ کہ جدیدیت کا سب سے اہم نمائندہ رسالہ’شب خون‘ نارنگ صاحب اور مابعدجدیدیت کے خلاف رائے رکھنے لگا۔ نارنگ صاحب نے ’انڈیا انٹرینیشنل سنٹر نئی دہلی‘ میں مارچ ۷۹۹۱ میں ایک سمینار منعقد کروایا جس کا موضوع تھا ’ادب کا کا بدلتا منظر نامہ: مابعد جدیدیت اُردو کے تناظر میں‘۔اس سیمینار میں ہندوستان کے اہم نقاد شامل ہوئے جس میں اُردو غزل، آزادنظم، نثری نظم، ناول، افسانہ، تنقید پر تنقیدی تھیوری کے تناظر میں مقالات پیش ہوئے۔اس کے علاوہ تخلیق کاروں سے مابعدجدیدیت کے تناظر میں رونما ہونے والے تخلیقی محرکات کا راز جاننے کے لیے مضامین بھی لکھوا ئے گئے۔اس سمینار نے ہندوستان کے علاوہ پاکستان کے تنقیدی و تخلیقی ادب پر بھی گہرے اثرات ڈالے اور مابعدجدیدیت بطور ادبی مضمون کے چرچے ہونے لگے۔اس میں وہاب اشرفی، حامدی کاشمیری، دیوندراسر، فہیم اعظمی، قمر جمیل، نظام صدیقی، شہپر رسول، ابوالکلام قاسمی، شافع قدوائی وغیرہ شامل ہوئے۔ تخلیق کاروں میں سید محمد اشرف، طارق چھتاری، نعمان شوق، ساجد رشید، صلاح الدین پرویز، فرحت احساس، خورشید اکبر شامل ہوئے۔اس سمینار سے ایک قسم کی تنقیدی فضا میں یک رخی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جس سے جدیدیت اور ترقی پسند فکر سے وابستہ اذہان میں بے چینی پھیل گئی۔ تھیوری کی مخالفت میں ایک درجہ اضافہ ہو گیا۔

ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے تنقیدی تھیوری میں سب سے وقیع کام غالب کی(مشرقی شعریات کے تناظر میں) نئی تنقیدی قرات میں پیش کیا ہے۔ تنقیدی تھیوری کے ضمن میں کہا جاتا رہا ہے کہ یہ مغربی تنقیدی فکریات پر مبنی اصول ہیں جنھیں مشرقی فکریات پر لاگو کرنا ممکن نہیں۔ فاروقی صاحب اور دیگر ناقدین کا یہ گلہ ہمیشہ موجود رہا کہ جب تک ہماری تنقید پر تھیوری کا اطلاق نہیں دکھایا جاتا اُس وقت تک تھیوری ہمارے لیے اجنبی ہی رہے گی۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے بھی ایک جگہ اسی اعتراض کی تصدیق کی ہے:
”شمس الرحمن فاروقی کی اس بات سے میں متفق ہوں کہ ساختیات اورپس ساختیات کے مباحث اُس وقت تک مکمل ہوں گے جب ان پر عملی تنقید کے نمونے سامنے آئیں گے۔“ (معنی اور تناظر، ۹۴۱)
نارنگ صاحب نے غالب کو معنی آفرینی کے تناظر میں ہندوستانی دانش میں تلاش کیا ہے۔ اس کے لیے وہ غالب پر بنیادی کتابوں محاسن ِ کلام غالب(بجنوری) اور یادگارِ غالب(حالی) پر ایک نئے زاویے سے روشنی ڈالتے ہیں۔ غالب کے تخلیقی عمل کے حوالے سے لکھتے ہیں:

”تخلیقی عمل یوں بھی بھید بھرا بستہ ہے۔ تنقید اس کی تھاہ لانے کا دعویٰ نہیں کر سکتی، فقط قرات کی بنا پر رائے قائم کر سکتی ہے۔ یعنی غالب کے یہاں کچھ نہ کچھ افتادِ ذہنی یا فکری نہاد ایسی ہے جو غالب کے تخلیقی عمل کے خلقی خصوصیت کا لازمہ ہے جس کو غالب اکثر و بیشتر اضطراری یا اختیاری طور پر کام میں لاتے ہیں اور جس کا گہرا تعلق اس جدلیاتی وضع یا حرکیاتِ نفی سے ہے جس کے سوتے ان کے ذہن کی لاشعوری گہرائیوں میں پیوست ہیں۔“ (گوپی چند نارنگ، ڈاکٹر: ’غالب: معنی آفرینی، جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات‘، سنگِ میل پبلشرز لاہور، ۳۱۰۲، ص ۶۱)

نارنگ غالب کے کلام میں دیدائی ٹریس کو بہت اہمیت دیتے ہیں ان کے نزدیک دریدا جس طرح موجودگی میں عدم موجودگی کو لازمی سمجھتا ہے، اسی طرح غالب کے کلام میں معنی کے غیاب پر زور ملتا ہے جو ہر شعر کی تخلیقی حسیت میں شامل نظر آتا ہے۔غالب کی ذہنی ساخت ہی جدلیاتی ہے۔ نارنگ کے بقول کوئی بھی تخلیق کار اپنی تئیں وہ نفیئ تعبیر یا تعبیرِ نفی نہیں رکھتا جب تک وہ کسی تخلیق کار کے تخلیقی نظام میں لاشعوری افتاد ونہاد کا لازمہ نہیں بن جاتا۔ بودھی فلسفہ ’شونیتا‘پر نارنگ صاحب نے بہت توجہ دی ہے۔ شونیتا وہ تناقضانہ حقیقت کا ادراک ہے جو جدلیاتی طریقہ کار سے حقیقت کو آشکار کر تی ہے۔غالب کے ہاں فکری سطح پر ’شونیا‘فلسفے کے گہرے اثرات موجود ہیں۔

تقریباً ۰۰۷ صفحات پر مشتمل اس کتاب میں نارنگ نے اپنے اُسی سفر کو ایک دفعہ پھر دہرایا ہے جو انھوں نے ۷۵۹۱ میں اُردو شاعری میں ہندوستانی عناصر کی تلاش کرتے ہوئے کیا تھا۔ گویا وہ جدیدیت، مابعدجدیدیت کے راستے سے ہندوستانی اور مشرقی شعریات کی انتہا تک پہنچے ہیں۔۷۵۹۱ میں یقیناً وہ تھیوری جیسی تنقیدی بصیرتوں سے آگاہ نہیں تھے ۳۱۰۲ میں غالب پر کام پیش کرتے ہوئے وہ ہندوستانی دانش کے احیا کے وقت تنقیدی تھیوری کا ایک ڈسکورس متعارف کروا چکے تھے۔ یوں ان کا سفر اسی مقام کی بازیافت قرار دیا جا سکتا ہے جہاں سے انھوں نے سفر کا آغاز کیا تھا۔

نارنگ صاحب کی وفات سے اردو تنقید کاایک باب بند ہو گیا۔ وہ اپنے معاصرین وزیر آغا اور شمس الرحمن فاروقی کے ساتھ ابدی رستوں پر چل نکلے۔ان کا خلا کوئی پُر کرے گا یا نہیں، البتہ ان کے دیے گئے سوالوں پر بحث و مباحثہ ہوتا رہے گا۔

Advertisement

Trending