Connect with us

English

قابو کر لیجئے ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔ منزہ فرید

Published

on

زندگی کے سفر میں چلتے پھرتے اگر زبان پر قابو نہ رہے تو خیر ہے۔۔۔ اور اگر کبھی ہاتھوں یا لاتوں پر بھی قابو نہ رہے تو بھی خیر ہے۔۔۔ سچ مانیں تو گاڑی کا اسٹئیرنگ یا گھوڑے کی لگام بے قابو ہو جائے تو۔۔۔تو بھی خیر ہے۔۔۔مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر ہمارا دماغ بے قابو ہوجائے تو۔۔۔ تو وہ آناًفاناً ہماری پوری باڈی کا ریموٹ کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے کر ہم سے وہ وہ کام کرواتا ہے کہ پہلے ہم حیران۔۔۔پھر پریشان اور سب سے آخر میں پشیمان ہو کر رہ جاتے ہیں یقین نہ آئے تو آئیے میرے ساتھ مل کر سترہ سیکنڈ۔۔۔۔۔ جی ہاں سترہ گھنٹے یا سترہ منٹ کا نہیں بلکہ صرف اور صرف سترہ سیکنڈ کا تجربہ کر کے دیکھ لیں۔۔۔

تو چلئیے شروع کرتے ہیں آپ نے کرنا کچھ بھی نہیں بس اپنے دماغ میں چلنے والی سوچ کو سترہ سیکنڈ تک روکنا ہے۔۔۔نہیں روک پائے نا۔۔۔لیکن۔۔۔اگر آپ کو دعویٰ ہے کہ آپ کی سوچ آپ کے قابو میں ہے تو پھر آپ اربوں کھربوں کی آبادی میں ان گنے چنے چند خوش قسمت افراد میں سے ایک ہیں جو دماغ کے قابو میں نہیں بلکہ دماغ ان کے قابو میں ہے۔۔۔عین ممکن ہے کہ۔۔۔آپ سب یہ بھی سوچ رہے ہوں کہ دماغ کا تو کام ہی سوچنا ہے تو پھر کیا فرق پڑتا ہے اگر وہ ہمارے قابو نہ بھی رہے۔۔۔۔ ہم اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور دماغ اپنا کام کرتا رہتا ہے۔۔۔ بھئی تھوڑا نہیں بلکہ بہت زیادہ فرق پڑتا ہے۔۔۔ ذرا یاد کیجئے جب آخری مرتبہ آپ کو غصہ آیا تھا تو سب سے پہلے آپ کے ہاں کہاں آیا تھا۔۔۔۔ کیا براہ راست زبان پہ آیا تھا یا ڈائریکٹ آنکھوں میں اتر آیا تھا جی ہاں یاد آ گیا نا۔۔۔۔کہ سب سے پہلے غصے نے دماغ میں اک سوچ بن کر اپنا سر ابھارا تھا اور جوں جوں آپ نے اپنے دماغ میں بندر کی طرح اچھلتی کودتی سوچوں کو اہمیت دی توں توں وہی سوچیں غصہ بن کر آپ کے پورے جسم میں پھیل گئی تھیں پہلے پہل تو ماتھے کی تیوریاں ہی چڑھیں تھیں پھر پورے جسم کو تاؤ آ گیا،دل کی دھڑکن اتھل پتھل ہو گئی اور پھر۔۔۔۔۔ جی تھوڑی ہی دیر میں سب کچھ دماغ کے کنٹرول میں تھا۔۔۔ وہ جو جو کہتا گیا ہم کہتے گئے اور جو جو وہ کرنے کو کہتا گیا ہم کرتے گئے اور جب ہوش آیا تو۔۔۔۔۔ بہت دیر ہو چکی تھی۔۔۔مانا کہ ہمارا دماغ اتنا پاور فل ہے کہ ایک آقا کی طرح ہم سے اپنی مرضی کا ہر کام کروا سکتا ہے کیونکہ کہ اکثر ہم اسی کے کہنے پہ خوشی سے جھومنے لگتے ہیں۔۔۔ دنیا ایک دم ہی زمینی جنت لگنے لگتی ہے اور زندگی بہت آسان اور حسین لگنے لگتی ہے اور اسی خوشی میں ایسا لگتا ہے کہ دنیا کی ہر خوشی ہمارے قدموں تلے ہے۔۔۔ پھر کسی دن یوں بھی ہوتا ہے کہ ہم بیٹھے بیٹھے اپنے ارد گرد دنیا کی ہر نعمت ہوتے ہوئے بھی یکایک اداس ہو جاتے ہیں دماغ ماضی کے پچھتاؤں اور مستقبل کے خوف کی سوچوں میں جکڑ کر ہم سے ہمارا لمحہء موجود چھین لیتا ہے۔اور ہم جو بظاہر ہر کام اک نارمل انسان کی طرح کرتے نظر آتے ہیں مگر دماغ کے اندر بندر کی طرح اچھل کود مچاتی بے ہنگم سوچوں کے ہاتھوں اندر ہی اندر بے بس ہو جاتے ہیں۔۔۔یقین نہ آئے تو میر ے کہنے پر اک بار پھر ایک اور تجربہ کر لیں۔۔۔۔کا غذ قلم پکڑیں اور ایک دو منٹ پہلے اپنے دماغ میں چلنے والی سوچوں کو ایک کاغذپر نوٹ کر کے غور سے پڑھیں اور دیکھیں کہ ایک منٹ میں کتنی سوچیں بھاگتی دوڑتی رہیں اور کس قدر بے ترتیب اور بے ہنگم تھیں جن کا ہمارے حال سے یعنی کہ موجو دہ لمحے سے کچھ بھی لینا دینا نہیں تھا۔۔۔۔ اور اگر یہی سوچیں آواز بن کر ہماری زبان سے ادا ہو جاتیں تو لوگ ہمیں پاگل پاگل کہہ کر ہم پر ترس کھانے لگتے۔۔۔۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں نا کہ پاگل وہی کہلاتا ہے جو منہ ہی منہ میں کچھ نہ کچھ بولتا رہتا ہے اور ہم بھی وہ ہیں جوہر وقت اندر ہی اندر بڑبڑاتے رہتے ہیں۔۔

چلیں آئیے ہم مل کر اسی وقت غور کرکے دیکھ لیتے ہیں کہ ہمارے دماغ کی سوچیں کس طرح ہم پر قابو پا لیتی ہیں جب چاہیں ہمیں ہنسا سکتی ہیں جب چاہیں رلا سکتی ہیں۔۔۔ جب چاہیں نفرتوں کے پتھر برسا سکتی ہیں اور جب چاہیں ہم سے محبتوں کے پھول نچھاور کروا سکتی ہیں ایک تصدیق شدہ سائنسی ریسرچ کے مطابق ہمیں دن بھر میں پچاس سے ساٹھ ہزار سوچیں آتی ہیں۔۔۔۔توبہ توبہ اتنی زیادہ۔۔۔۔۔۔ لیکن یہی سچ ہے ایک اچھی خبر یہ بھی ہے کہ انسان ہونے کے ناطے یعنی کہ اشرف آلمخلوقات ہو نے کے ناطے ہم بھی اتنے پاور فل ہیں کے دماغ کو اپنے قابو میں کر کے اس کو اپنا غلام بنا سکتے ہیں اور جو چاہیں اس سے اپنے لئے کروا سکتے ہیں کیونکہ در حقیقت قدرت نے دماغ جیسا ٹول ہمیں دے کر ہی تمام مخلوقات سے ہمیں اشرف بنا دیا ہے لیکن جو لوگ اس ٹول کو با ہوش و حواس استعمال کر تے ہیں وہی دنیا میں کمال کر تے ہیں اور جو لوگ اس ٹول سے بے خبر رہتے ہیں وہ اسی کے ہاتھوں حال میں ہوتے ہوئے بھی کبھی ماضی میں گم ہو جاتے ہیں تو کبھی مستقبل میں الجھ کر رہ جاتے ہیں اور زیادہ تر بے حال رہتے ہیں۔۔۔۔۔ جو لوگ دماغ میں چلنے والی سوچوں کو اپنے محسوسات کے ذریعے پہچان کر مثبت رخ پر موڑ دیتے ہیں وہی زندگی میں ہر پل کامیابی پا سکتے ہیں اور ہر پل خوش اور پر سکوں رہ سکتے ہیں کیونکہ یہ بھی تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ آج ہم جس مقام پر بھی ہیں یا جن حالات میں بھی ہیں وہ سب کا سب ہماری سوچوں کا پھل ہے کیونکہ خود قدرت کہتی ہے کہ تم جیسا گمان کرو گے ویسا ہی پاؤ گے۔۔۔ آزما کر دیکھ لیجئے جب ہم اپنے دماغ کو مثبت رخ پر چلنے کا کاشن دیتے ہیں تو رحمٰن سے جڑ جاتے ہیں اور جب اس کی جھوٹی انا میں پھنس کر منفی رویوں کو اپنا لیتے ہیں تو شیطان سے جڑ جاتے ہیں

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ۔۔۔۔۔
"ہم جیسا سوچتے ہیں ویسا ہی عمل کرتے ہیں
ہم جیسا عمل کرتے ہیں ویسا ہی کردار پاتے ہیں
ہم جیسا کردار پاتے ہیں ویسی ہی قسمت بنا لیتے ہیں“

ہمارے پاس ابھی بھی وقت ہے ہم چاہیں تو آج ابھی اسی وقت اپنے انائی دماغ کے چنگل سے آزاد ہو کر خود اس کو اپنے قابو میں کر سکتے ہیں کیونکہ بقول ایکہارٹ ٹولے
دماغ ہمارا بدترین آقا بھی بن سکتا ہے اور یہی دماغ ہمارا بہترین غلام بھی بن سکتا ہے بس چوائس ہماری ہے۔۔۔۔

بہتر ہے کہ ماضی اور مستقبل کی سوچوں سے پیچھا چھڑا کر اور بس حاضر باش رہ کر اپنے مو نکی مائینڈ (Monkey mind) اور اس میں اچھلتی کودتی سوچوں کو قابو میں کیجئے ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ یہ ہمیں قابو کر لیں گی۔

Trending