Connect with us

تازہ ترین

آپریشن البدر: جنوبی پنجاب کو جرائم سے پاک کرنے کے لیے پولیس کا تاریخی آپریشن

Published

on

گریڈ 21 کے سینیئر پولیس افسر ڈاکٹر احسان صادق کو حال ہی میں جنوبی پنجاب کا ایڈیشنل آئی جی پولیس متعین کیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب کے گیارہ اضلاع کے معاملات نمٹانے کے لیے ملتان میں ایک الگ سیکرٹریٹ قائم کر کے یہ عہدہ وضع کیا تھا۔ چند سال پہلے یہ عہدہ وضع کیے جانے کے بعد ڈاکٹر احسان صادق جنوبی پنجاب پولیس کے تیسرے سربراہ متعین کیے گئے ہیں۔ پولیس سروس آف پاکستان کے انیسویں کامن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر احسان صادق اپنے پچیس سالہ کریئر میں ایک فرض شناس اور دیانت دار پولیس افسر کی شہرت رکھتے ہیں۔ وہ خیبر پختون خوا (کے پی کے)، سندھ، پنجاب اور وفاقی حکومت میں کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں جن میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جینس بیورو، ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (انویسٹی گیشن)، ریجنل پولیس آفیسر بہاول پور، ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر ٹیررازم)، نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی، ڈی آئی جی سکیورٹی ڈویژن، اے آئی جی اسلام آباد پولیس اور ڈی پی او اوکاڑہ شامل ہیں۔

Ehsan Sadiq (@EhsanSadiq2017) / Twitter

ڈاکٹر احسان صادق چیوننگ فیلو ہیں۔ انھوں نے پولیس کلچر میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔ کراچی کے اے ایس پی کی حیثیت سے انھوں نے 1990ء کے عشرے میں ہونے والے مشہور کراچی آپریشن میں حصہ لیا تھا۔ بعد ازاں سپرنٹینڈنٹ پولیس کی حیثیت سے انھوں نے اسلام آباد میں اولین ڈپلومیٹک اینڈ وی وی آئی پی سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ قائم کیا تھا جس کی طرز پر دوسرے شہروں میں بھی ایسے ڈیپارٹمنٹ بنائے گئے تھے۔ اسی طرح انھوں نے اسلام آباد پولیس کے اولین انویسٹی گیشن ایس پی کی حیثیت سے انویسٹی گیشن ونگ قائم کیا، جیسا کہ پولیس آرڈر 2000ء میں اس کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسی طرح کے انویسٹی گیشن ونگ بھی پورے پاکستان میں بنائے گئے۔

صنف کی بنیاد پر تشدد کے لیے پولیس اصلاحات کے راہ نما خطوط کا مینوئل ترتیب دینے میں انھوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے مختاراں مائی کیس کے بعد نیشنل پولیس بیورو میں فیڈرل جینڈر کرائم مانیٹرنگ سیل قائم کرنے کی بھی تجویز دی۔

ڈائریکٹر جنرل نیکٹا کی حیثیت سے انھوں نے سارے متعلقہ فریقوں میں نیکٹا ایکٹ پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ پی سی بی کے ڈائریکٹر سکیورٹی کی حیثیت سے انھوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے تقاضوں کے مطابق پاکستان سپر لیگ کا سکیورٹی پلان بنایا جس سے بعد ازاں ملک بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے قابل ہوا۔

ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈی جی کی حیثیت سے ڈاکٹر احسان صادق نے جعلی اکاؤنٹوں کی منی لانڈرنگ کی سب سے بڑی تفتیش کی سربراہی کی۔ ڈاکٹر احسان صادق کے پورے کریئر کے دوران پولیس اصلاحات کا معاملہ ان کے لیے مستقل اور بہت زیادہ دل چسپی کا معاملہ رہا ہے۔

جنوبی پنجاب پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے درپیش چیلنجوں کے بارے میں جاننے کے لیے اس ہفتے ڈاکٹر احسان صادق سے خصوصی گفت و شنید۔

سوال: جنوبی پنجاب میں جرائم کی صورتِ حال کیسی ہے؟

جواب: جنوبی پنجاب کے گیارہ اضلاع ہیں اور آبادی قریباً چار کروڑ ہے۔ جنوبی پنجاب کے اضلاع میں 200 تھانے ہیں۔ چوں کہ اس علاقے کی سرحدیں سندھ، بلوچستان اور کے پی کے سے ملتی ہیں اس لیے اس علاقے میں ہر طرح کے جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے جس کا سبب پورے علاقے میں لوگوں کی کثیر تعداد میں آمد و رفت ہے۔ ماضی میں اس علاقے میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد بھی ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں دہشت گردی اور دوسرے سنگین جرائم بھی کیے گئے ہیں جن میں منشیات اور بچوں کے ساتھ بد سلوکی جیسے جرائم شامل ہیں۔ جنوبی پنجاب میں ڈکیتیاں اور چوری چکاری عام ہے۔

اس علاقے کے جغرافیہ کی وجہ سے خطرناک مجرم گینگ، جیسا کہ لادی کینگ، بنا کر سرگرم رہتے ہیں، جو اکثر اوقات پہاڑوں اور دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ پھیلے وسیع جنگلوں میں روپوش ہو جاتے ہیں جس سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے محکموں کو ان مجرموں کو گرفتار کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

سوال: جنوبی پنجاب میں پولیس ملازمین کی کل تعداد کتنی ہے؟

جواب: گیارہ اضلاع کے 210 تھانوں کے لیے قریباً 21000 پولیس ملازمین موجود ہیں جو میرے احاطۂ کار میں آنے والے علاقے کے اعتبار سے مطلوبہ تعداد سے بہت تھوڑے ہیں۔

سوال: جنوبی پنجاب کے محکمۂ پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے آپ کے اہم مقاصد کیا ہیں؟

جواب: جنوبی پنجاب کے محکمۂ پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے میری توجہ زیادہ تر امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے اور جرائم پر قابو پانے پر رہی ہے۔ ہم نے پہاڑوں اور دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ پھیلے جنگلوں میں روپوش مجرموں کے خلاف ایک بڑا آپریشن کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس مقصد کے لیے میں دوسرے صوبوں کے سارے سرحدی اضلاع کے دورے کر کے اس معاملے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی بناؤں گا۔

سوال: ان مقاصد کے حصول کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟

جواب: جنوبی پنجاب میں جرائم کی بڑھتی شرح کم کرنے کی غرض سے میں "البدر” کے نام سے تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن شروع کر چکا ہوں۔ اس اپریشن کا ہدف وہ 14700 جرائم پیشہ افراد ہیں جنھیں 2017ء سے 2021ء کے درمیانی عرصے میں ڈکیتی اور لوٹ مار (پی پی سی کی دفعات 392 اور 395) کے جرم میں حراست میں لیا گیا تھا لیکن جو ضمانتوں پر رہا ہو گئے تھے۔ جنوبی پنجاب کی ساری پولیس کو ملتان ریجن کے 5783 جرائم پیشہ افراد، بہاول پور ریجن کے 4079 جرائم پیشہ افراد اور ڈیرہ غازی خان ریجن کے 4898 جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے۔ ہم نے دن رات کام کر کے 14700 جرائم پیشہ افراد (بار بار جرم کرنے والوں) اور قتل، دہشت گردی اور منشیات وغیرہ جیسے منظم جرائم میں ملوث جتھوں کے ارکان کی فہرست بنائی ہے۔

سوال: اس آپریشن میں بار بار جرائم کا ارتکاب کرنے والوں پر توجہ کیوں مرکوز کی گئی ہے؟

جواب: ہمارے پاس معلومات موجود تھیں لیکن پہلے انھیں استعمال نہیں کیا گیا۔ ان معلومات کا جائزہ لینے سے انکشاف ہوا کہ ہزاروں مجرم ایسے ہیں جو بار بار جرائم کا ارتکاب کرنے والے ہیں اور وہ ضمانت کروانے کے بعد من مرضی سے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ اس رجحان کے بارے میں جان لینے کے بعد ہم نے پچھلے پانچ برسوں کے ایسے مجرموں کی فہرست بنائی جو ایک سے زیادہ مرتبہ جیل جا چکے ہیں۔ ہم نے اپنی پولیس ٹیموں کو حکم دیا ہے کہ وہ بار بار جرائم کا ارتکاب کرنے والے افراد کے گھر جا کر ان کے کوائف اکٹھے کریں اور ان پر کڑی نظر رکھیں۔

ہم نے آپریشن البدر کے تحت ان مجرموں کی ضمانتیں دینے والوں کے اور انھیں تحفظ فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس نے بدنامِ زمانہ مجرموں کی فہرست کے علاوہ علاقے میں سرگرم 400 جتھوں کی فہرست بھی بنائی ہے۔ یہ فہرستیں حساس اداروں سے مدد لینے کی غرض سے انھیں بھی مہیا کر دی گئی ہیں۔

سوال: آپریشن البدر میں کتنے محکمے پولیس کی مدد کر ریے ہیں؟

جواب: ہمیں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)، سپیشل برانچ اور سی آئی اے پولیس سٹاف کی مکمل مدد حاصل ہے۔ ہم نے اپنی فہرستیں انٹیلی جینس بیورو کو بھی فراہم کی ہیں جو بار بار جرائم کا ارتکاب کرنے والوں اور سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے بارے میں کوائف پولیس کو مہیا کر رہا ہے۔ جنوبی پنجاب کے سارے اضلاع کی پولیس کے رابطہ کاری اور معلومات کے نظامات بھی فعال کر دیے گئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل، جنوبی پنجاب کے دفتر میں ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے اور سارے تھانوں کو غیر قانونی سرگرمیاں ختم کروانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ میں نے آج رات ہی حکم جاری کیا ہے کہ سندھ، بلوچستان اور کے پی کے پولیس کے تعاون سے بین الصوبائی سرحدوں کی نگرانی بھی سخت کر دی جائے۔

سوال: آپریشن البدر کی کامیاںی کے لیے آپ کتنے پُر امید ہیں؟

جواب: مجھے پختہ یقین ہے کہ اس آپریشن سے مثبت نتائج حاصل ہوں گے کیوں کہ بار بار جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کی گردنوں کے گرد شکنجہ سخت کرنے سے اس علاقے (جنوبی پنجاب) میں جرائم پر قابو پانے میں یقیناً مدد ملے گی۔ میں نے رمضان کے مقدس مہینے اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے غزوۂ بدر کو ذہن میں رکھ کر اس آپریشن کو البدر کا نام دیا ہے۔ اس نام سے پولیس کے جوانوں کا حوصلہ بھی بلند ہو گا۔ 26 اپریل کو آپریشن شروع ہونے کے چند دن بعد ہی ہم 370 مجرموں کو پکڑنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ بار بار جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو گرفتار کر لیا گیا تو جرائم کی شرح کم ہو جائے گی جس سے علاقے کے دوسرے خطرناک مجرموں کی سرکوبی میں مدد ملے گی۔

سوال: اپنے ماتحت پولیس والوں کے لیے آپ کی ہدایات کیا ہیں؟

جواب: پولیس لوگوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ کر کے اور امنِ عامہ برقرار رکھ کر معاشرے میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ فرائض مؤثر انداز سے ادا کرنے کے لیے قانون پولیس افسروں کو صواب دِیدی اختیارات دیتا ہے اور بعض اوقات یہ اختیارات شہریوں کے بنیادی حقوق پامال بھی کر سکتے ہیں۔ اسی باعث میں نے پولیس والوں کو آئین کے مطابق عمل کرنے، قانون کی حکم رانی قائم کرنے، انسانی حقوق کے احترام، کم زور گروپوں کے تحفظ، عوام کی شکایات کے ازالے اور شہریوں سے عزت پانے کے لیے دیانت داری، پیشہ واریت اور نظم و ضبط کے اعلیٰ ترین معیارات پر عمل کرنے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔

بشکریہ بول نیوز

Advertisement

Trending