Connect with us

تازہ ترین

آئن سٹائن کا کون کون سا تیر نشانے پر نہ لگا؟ —- ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

Published

on

البرٹ آئن سٹائن کا شمار بلاشبہ عظیم ترین سائنس دانوں میں ہوتا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز ہی میں اس نے اپنے انقلاب آفریں نظریات سے سائنس کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ خصوصی اور عمومی نظریاتِ اضافیت کسی عبقری ذہن کے فکر فلک رس ہی کا حاصل ہو سکتے ہیں۔ شاعر مشرق علامہ محمداقبال نے اس عظیم ترین سائنس دان کو یوں خراج تحسین پیش کیا ہے:

من چہ گویم از مقام آں حکیم نکتہ سنج
کردہ زردشتے ز نسل موسیٰ و ہارون ظہور

مگر یہ ضروری تو نہیں کہ کسی ماہر تیر انداز کا ہر تیر ہی نشانے پہ لگے۔ آئن سٹائن بھی ایک ایسا ہی تیر انداز تھا جس کے زیادہ تر تیر نشانے ہی پہ لگے ہیں مگر کچھ تیر ایسے بھی تھے جو ہدف سے اِدھر اُدھر ہوگئے مگراس سے اس کی عظمت پہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کون کون سے تیر ہیں جو خطاہوگئے۔

آج کل بلیک ہولز کا بڑا چرچا ہے۔ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت ہی نے ان کی دریافت کا رستہ ہموار کیاتھا البتہ آئن سٹائن کو یہ ماننے میں تامل تھا کہ آیا یہ حقیقی طور پہ بھی موجود ہو سکتے ہیں۔ 1939 ءمیں اس نے ایک مجلے اینلز آف میتھمیٹکس میں ایک تحقیقی مقالہ جس میں اس نے ماہر فلکیات شوارز چائلڈ کی طرف سے پیش کردہ تصور کی نفی کی تھی۔ آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کی رُو سے زمان و مکاں ایک دوسرے میں پیوست ایک تانا بانا تشکیل دیتے ہیں جسے سپیس ٹائم فیبرک یا زمان و مکاں کا پارچہ کہا جا سکتا ہے۔ آئن سٹائن کا یہ کہنا تھا کہ بھاری کمیت کا کوئی جسم اس پارچے میں خم پیدا کردیتا ہے یعنی زمان و مکاں خمیدہ ہو جاتے ہیں اور کشش ثقل بھی اسی خمیدگی کا حاصل ہے۔ سوال یہ تھا کہ لا متناہی کثافت کا کوئی جسم زمان و مکاں کے اس پارچے کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ 1916ء میں ایک ماہر فلکیات شوارز چائلڈ نے یہ ادراک کیا کہ ایسے مقامات بھی ہیں جہاں زمان و مکاں کے بارے میں سارے نظریات دم توڑ دیتے ہیں جنھیں ہم کشش ثقل کی سنگولیرٹی (gravitational singularity) کَہ سکتے  ہیں۔  لا متناہی کثافت کا حامل جسم زمان و مکاں کے پارچے میں خم پیدا کرنے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس میں ایسا شگاف پیدا کردیتا ہے جس سے روشنی بھی لامتناہی کثافت اور کشش ثقل کی گرفت سے آزاد نہیں ہو پاتی۔ سنگولیرٹی پہ نہ زماں زماں رہتا ہے اور نہ مکاں مکاں۔ اس تصور کو کسی خاص توجہ کے لائق نہ سمجھا گیا حتیٰ کہ 1935ء میں ہندوستانی نژاد امریکی سائنس دان سبرامنین چندر شیکھر نے ایک بے حد کثافت کے حامل مرگ پذیر ستارے کا تصور پیش کیا جو اپنے طور پر اپنے اندر ہی دم توڑ دیتا ہے۔ اس نے یہ اندازہ لگایا کہ ستاروں کی کمیت اگرایک خاص حدسے زیادہ ہو جائے تو electron degeneracy کی قوت طاقت ور کشش ثقل کا مقابلہ نہیں کرسکے گی اور ستارہ پچکتا چلا جائے گااور سفید بونے ستاروں کا مادہ انتہائی کثیف ہو سکتا ہے۔ اس عظیم سائنس دان کو اس کی دریافتوں پر نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ آج یہی بلیک ہول کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ آئن سٹائن نے اپنے 1939ء میں لکھے گئے تحقیقی مقالے میں لکھا کہ:

“Schwazchild singularities do not exist in physical reality.”

آئن سٹائن سمجھتا تھا کہ بڑے بڑے ستاروں سے لے کر چھوٹے چھوٹے ذرات تک ایک ہی طرح کے قوانین رُو بہ عمل ہیں اور کائنات انھی قوانین کے وسیلے سے بے حد تنظیم و انضباط کی حامل ہے۔ جب کہ کوانٹم میکانکس خورد بینی سطح پر اس تنظیم کے برعکس نتائج سامنے لانا شروع ہوگئی تھی۔ کوانٹم میکانکس پہ کام کرنے والے سائنس دانوں کا یہ خیال تھا کہ ایٹموں کی دنیاایک یقینی نہیں بلکہ امکانی دنیا ہے۔ مشہور ہے کہ آئن سٹائن نے سائنس دان میکس بورن کے نام 1926 ء میں لکھے گئے اپنے ایک خط میں کہا کہ خدا پانسے نہیں کھیلتا۔ اگرچہ آئن سٹائن نے لفظ خدا کا استعمال نہیں کیا۔ اس کے اصل الفاظ یہ ہیں :

“Quantum theory yields much, but it hardly brings us to the Old One’s secrets. I in any case, am convinced He does not play dice with the universe.”

یاد رہے کہ آئن سٹائن مذاہب کے شخصی خدا (Personal God) کے تصور پہ یقین نہیں رکھتا تھا۔ یہاں Old Oneسے اس کی مراد کائنات کا نظام اور اس کے قوانین ہو سکتے ہیں جو روز ازل سے اس میں کار فرما ہیں اور جن میں کوئی تغیر و تبدل نہیں۔ آئن سٹائن ہائزن برگ کے اُصول لاتعین سے موافقت پیدا نہ کر سکا۔ وہ کائنات میں لا تعین، آزاد ارادے اور خود رویت کو بھی پسندیدہ نظروں سے نہیں دیکھتا تھا۔

کوانٹم الجھاؤ (Quantum entanglement) کوانٹم فزکس کا ایک اہم تصور ہے۔ اس تصور کی رُو سے دو ذرات بہت زیادہ فاصلے پر بھی ایک دوسرے کو الجھا سکتے ہیں اور ان کے درمیان انفارمیشن کا تبادلہ ہو سکتا ہے۔ آئن سٹائن نے اس کے بارے میں بھی شکوک کا اظہار کیا اور اسے spooky action at a distance قرار دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے نظریہ اضافیت کے مطابق کسی شے یاانفارمیشن کے لیے روشنی کی رفتار سے زیادہ سفر کرنا ممکن نہیں۔ جب کہ کوانٹم الجھاؤ کے تصور کے مطابق کسی انفارمیشن کے لیے ایسا ممکن ہے۔ مثلاًآئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کے مطابق اگر کوئی ستارہ ہم سے دس نوری سال کے فاصلے پہ ہے تو اس تک کوئی سگنل یا پیغام پہنچانےمیں دس سال کا عرصہ درکار ہوگا لیکن تصور کی سطح پرکوانٹم الجھاؤ کی صورت میں یہ بغیر کسی وقت کے پہنچ جائے گا۔ لیکن کوانٹم الجھاؤ اور آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت میں تصور کی سطح پہ تو تصادم نظر آتا ہے عملی سطح پہ نہیں۔

 آئن سٹائن کے نظریات ِ اضافیت جتنے اچھے طریقے سے میکرو کائنات(macro universe) کی توضیح کرتے ہیں اتنے اچھے طریقے سے مائیکرو کائنات (micro universe)کی وضاحت نہیں کرتے جیسا کہ کوانٹم میکانیکس کرتی ہے۔

آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کا ایک نتیجہ کشش ثقل کی لہریں (gravitational waves)بھی ہیں۔ 2015ء میں یہ لہریں انتہائی حساس آلات کی گرفت میں آگئیں اور یوں ان کا وجود ثابت ہو گیا۔ ان لہروں کی پیش گوئی آئن سٹائن نے 1916ء میں کر دی تھی مگر اس کے بیس سال بعد خود اسی نے کشش ثقل کی لہروں کے بارے میں شکوک کا اظہار کر دیا کیوں کہ اس کے خیال میں بلیک ہولز کی طرح یہ لہریں بھی سنگولیرٹی پہ منتج ہو سکتی ہیں اور آئن سٹائن جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہےسنگولیرٹی کے تصور کے خلاف تھا۔ 1936ء میں اس نے اپنے ایک دوست کو یہ لکھاکہ :

“ I arrived at the interesting result that gravitational waves do not exist, though they had been assumed a certainty to the first approximation. “

خوش قسمتی سے آئن سٹائن نے کشش ثقل کی لہروں کے وجود کے خلاف جو مضمون لکھا وہ ایڈیٹر نے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ اس میں کچھ ریاستی اغلاط ہیں جنھیں درست کر کے بھیجا جائے۔ آئن سٹائن اس پہ سیخ پا ہوگیا اور اس نے یہ مضمون دوبارہ بھیجنے سے انکار کر دیا۔

آج کل یہ تصور عام ہے کہ کائنات نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ اسراع پذیر ہے۔ جب کہ آئن سٹائن کا مفروضہ یہ تھا کہ کائنات پھیل نہیں رہی۔ آئن سٹائن نے اپنی مساواتوں کے لیے ایک مستقلہ (constant) متعارف کرایا جسے اس نے کاسمولوجیکل مستقلہ (cosmological constant) کا نام دیا۔ مساواتوں میں اس مستقلے کا کام یہ تھا کہ یہ کائنات کے عدم پھیلاؤ کے حامل ہونے اور غیر متغیر ہونے کی وضاحت کرے۔

انیس سو ستائیس میں جیورجس لے مائترے (Georges Lemaitre) نے آئن سٹائن کی فیلڈ مساواتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی سعی کی کہ کائنات کا آغاز ایک نقطے سے ہوا تھا۔ آئن سٹائن نے لے مائترے کے کام کی ریاضیاتی منہج کو تو سراہا مگر اس کے نتائج کو ماننے سے پس وپیش کرتا رہا۔ اس سے قبل فریڈمین بھی ان مساواتوں کے ایسے حل پیش کر چکا تھا جن سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ کائنات وسعت پذیر ہے مگر آئن سٹائن اس سے بھی اتفاق نہ کرسکا۔ اگرچہ بعد ازاں آئن سٹائن لے مائترے کے آغاز کائنات کے نظریے کو سراہنے پہ مجبور ہوگیا۔ فریڈمین کے پیش کئے گئے نظریہ کے مطابق کہکشائیں محض ایک دوسرے سے پرے نہیں ہٹتی جارہیں بلکہ انکے درمیان پایا جانے والا مکان بھی پھیل رہا ہے۔ لے مائترے اور فریڈ مین کی تحقیقات کی صداقت کو محسوس کرتے ہوئے ہی آئن سٹائن کواپنے کائناتی مستقلے کو اپنی ایک غلطی قرار دینا پڑا۔ ایڈون ہبل اور بعض دوسرے ماہرین فلکیات نے کیلیفورنیا میں ٹیلی سکوپ کی مدد سے ایک پھیلتی ہوئی کائنات کا مشاہدہ کیا تو آئن سٹائن کو اپنی غلطی کا احساس ہوااور اس نے ہبل سے کہا:

“Then away with the cosmological constant.”

اپنی زندگی کے آخری ایام میں تمام کائناتی قوتوں کو ایک ہی قوت میں متحد کرنا تھا۔ کائنات میں جو قوتیں کام کرتی ہیں وہ ہیں کشش ثقل، برق مقناطیسی قوت، مضبوط نیوکلیائی قوت اور کمزور نیوکلیائی قوت۔ آئن سٹائن نے یہ خواب دیکھا تھا کہ ان تمام قوتوں کو ایک متحدالاصل نظریے (unified theory) میں گرفت کرے۔ یا کم از کم کشش ثقل اور برق مقناطیسی قوتوں کو ایک ہی قوت میں ڈھال دینے کی کوئی مساوات پیش کرے مگر آئن سٹائن کا یہ خواب پورا نہ ہوسکا۔ تاہم یہ خواب ہنوز تشنہ تعبیر ہی چلا آرہا ہے۔ 1970ء کی دھائی میں سٹینڈرڈ ماڈل متعارف کرایا گیا جس میں برق مقناطیسی اور نیوکلیائی قوتوں کو یکجا کیا گیا تھا مگر کشش ثقل اس میں اپنی جگہ نہ بنا سکی۔

Advertisement

Trending