Connect with us

علمی

’’الرسالہ کے خصوصی شمارہ ‘‘کے مطالعے کے بعد مولانا وحیدالدین خان کی فکر کا جائزہ۔ ۔۔ غازی سہیل خان

Published

on

گذشتہ سا ل ماہ اپریل کی بات ہے کہ حسب معمول راقم فیس بک کی وال پہ نظریں جمایے تھا اور اچانک ایک غم ناک خبر دیکھنے کو ملی کہ ’’ برصغیر کی معروف علمی شخصیت مولانا وحید الدین خان چند دن اسپتال میں کرونا سے متاثر رہنے کے بعد 21؍اپریل 2021ء کو96بر س کی عمر میں انتقال فرما گیے۔  خان صاحب کی پیدائش اعظم گڑھ کے ایک گائوں میں ہوئی تھی۔ مدرسہ اصلاح سرائے میر میں تعلیم حاصل کی۔ مولانا انتہائی قابل ذہن رکھتے تھے، اُردو نثر میں اپنا منفرد اسلوب رکھتے تھے، اپنی تحاریر مختصر اور جامع انداز میں پیش کرنے صلاحیت موجود تھی۔ بیک وقت اُردو، انگریزی، فارسی اور عربی زبانوں پہ مہارت رکھتے تھے۔ اپنی جوانی ہی میں مولانا موصوف برصغیر کی سب سے بڑی سماجی سیاسی ودینی تحریک جماعت اسلامی سے متاثر ہو گئے، اور آزادی ہند کے بعد ہی اسی تحریک جماعت اسلامی سے وابستہ ہو گئے۔ زمینی سطح پر مختلف ذمہ داریاں انجام دینے کے بعد جماعت نے اپنے مرکزی دفتر میں مولانا کو تصنیف و تالیف کے شعبہ کی ذمہ داری تفویض کی۔ تاہم یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل پایا اور جماعت سے اختلاف شروع ہونے کے بعد بڑھتا ہی گیاجس کے نتیجے میں 1962ء میں جماعت اسلامی سے استعفیٰ دے دیا۔ جماعت سے نکلنے کے بعد مولانا نے چند اخبارات میں بھی بحیثیت مدیر اپنے فرائض انجام دینے کے بعد 1976ء میں اپنی ایک ماہنامہ میگزین ’’الرسالہ ‘‘کے نام سے شایع کرنا شروع کی۔ الرسالہ کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں سارے مضامین مولانا کے ہی قلم سے ہوتے تھے اور مضمون ایک صفحے پر ہوتا تھا۔ اس طرزِ تحریر کو لوگوں نے خاصا پسند کیا جس کے سبب ’’الرسالہ‘‘ لوگوں میں زیادہ پڑھا جانے لگا۔ تب سے لے کر آج تک مولانا مسلسل اور بغیر کسی وقفے کے الرسالہ شایع کرتے رہے، مولانا کی خدا بیزار طبقے کو راستے پر لانے کی بڑی خدمات ہیں، بلکہ الحاد پر مولانا کی تین بڑی کتابیں مشہور ہیں جن میں مذہب اور سائنس، مذہب اور جدید چلینج اور اسلام دور جدید کا خالق قابل ذکر ہیں۔ مولانا نے مختلف زبانوں میں دوسو سے زائد کتابیں تصنیف کر کے اپنے پیچھے ایک علمی خزانہ چھوڑا ہے وہیں اپنی ساری زندگی تصنیف و تالیف کے ساتھ ایک داعی کی حیثیت سے گزاری ہے۔

مولانا کے اوصاف کے متعلق ’’خصوصی شمارہ الرسالہ‘‘ میں صفحہ نمبر192؍پر ایک تحریر کچھ یوں درج ہے کہ ’’مولانا وحید الدین خان صاحب مرحوم ہمیشہ اپنے ساتھ ایک ڈائری رکھتے تھے۔ جو نیا خیال اُن کے ذہن میں آتا اس کو فوراً ڈائری میں نوٹ کر لیتے۔ جب موصوف کی کسی سے ملاقات ہوتی تو اُس شخص کی گفتگو بڑی توجہ سے سُنتے۔ خود کم بولتے، مخاطب کو بولنے کا موقع دیتے۔ اس کی گفتگو میں کوئی سبق آموزاور با مقصد بات ہوتی تو اسے ذہن میں رکھتے اور بعد میں ڈائری میں نوٹ کر لیتے۔ اسی طرح جب کوئی کتاب پڑھتے تو اس سے حاصل شدہ معلومات کو نوٹ کرتے۔ موصوف عوام اور خواص سے ملنے جلنے میں تکلیف نہیں کرتے تھے۔ ان سے ملاقات بہت آسان تھی۔ تعلیم یافتہ لوگوں سے جب ملتے تو دو سوال ضرور پوچھتے۔ پہلا سوال :آج کل کون سی کتاب زیر مطالعہ ہے ؟دوسرا سوال :دوران مطالعہ یا دوران غور و فکر آپ کی کوئی دریافت ہو تو بتائیں۔ انہوں نے بہت کچھ لکھا۔ ان کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ انھوں نے اتنا کچھ لکھا ہے کہ ان کے انتقال کے بعد کم سے کم دس سال تک ان کے مضامین ’الرسالہ‘میں شایع ہوتے رہیں گے۔ ‘‘

یہ بات حق ہے کہ مولانا مرحوم نے الرسالہ میں اپنی منفرد تحاریر سے ہزاروں اذہان کو متاثر کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ خان صاحب سادگی کو پسند کرتے تھے کپڑے اور کھانا پینا سادہ ہی پسند کرتے تھے۔ مولانا کا یہ منفرد اسلوب اور سادگی کم ہی شخصیات میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ الغرض مجھے بھی اس شخصیت کو پڑھنے کا موقعہ ملا۔ اور مرحوم کی وفات پہ رنج بھی ہوا کہ ہم ایک علمی شخصیت سے محروم ہو گئے۔ اسی سلسلے کے دوران مجھے مولانا کی وفات پر اُن کی زندگی پر’’ الرسالہ کا خصوصی شمارہ‘‘ پڑھنے کا موقعہ نصیب ہوا۔ یہ شمارہ اگست تا ستمبر2021ء کا شمارہ ہے، 512؍ صفحات پر مشتمل اس شمارے میں انگریزی، اُردو اور ہندی میں مضامین شایع ہوئے ہیں۔ ہند و پاک اور دنیا کے دیگر خطوں سے مولانا کے چاہنے والے افراد نے مولانا کو اپنے مضامین کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا ہے۔ واقعتا مولانا برصغیر کی بہت بڑی علمی شخصیت تھی جس کی فکر و نظریہ کے اثرات نوجوان نسل پر پڑے ہی ہوں گے۔ مذکورہ شمارے میں مضامین سادہ عام فہم اور مختصر پائے گئے چندایک کے سوا۔ تاہم اس سب کے ساتھ ساتھ مجھے چند مضامین میں شخص پرستی بھی پائی گئی۔ اس شمارے کو پڑھنے کے بعد مجھے محسوس ہواکہ موصوف مرحوم کا مقصدِ زندگی جماعت سے استعفے کے بعد مولانا مودودی ؒ کی تنقید بلکہ میں یوں کہوں گا ادبی انداز اپناتے ہوئے تنقیص ہی رہا ہے۔ خان صاحب کی کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ ہی موصوف کی فکر کا ماخذ قرار دیا جا سکتا ہے جو کہ مولانا مودودیؒ کی فکر کے ردعمل میں لکھی گئی ہے۔ دوران مطالعہ مجھے تو ایسا لگا کہ جیسے یہ رسالہ مولانا مودودی ؒ کی فکر کے رد میں لکھا گیا ہے۔ ہر کسی مضمون میں مولانا کی فکر و نظریہ کو خوب نشانہ بنایا گیا ہے سوائے چند ایک مضامین کو چھوڑ کے۔ اس خصوصی رسالے میں آپ کو خان صاحب کی خدمات کو پیش کرنے سے زیادہ اقامت دین کی مخالفت میں مواد ملے گا جس کو پڑھ کے ایک قاری کومایوسی ہوتی ہے۔ مایوسی اس لئے کہ کاش مولانا مودودیؒ کی فکر کے رد میں ٹھوس دلائل سے ہمیں نوازا ہوتا تو اطمنان ہوتا۔ ایسا لگتا ہے کہ خان صاحب نے اپنی ساری زندگی مولانا مودودیؒ کی فکر میں اپنی صلاحیتوں اور قلم کو استعمال کیا ہے تاہم اس کے باوجود وہ مولانا مودودیؒ کی محبت کو عوام کے دلوں سے نکالنے یا کم کرنے میں بُری طرح ناکام لگتے ہیں۔ ڈاکٹر فریدہ خانم اپنے مضمون میں لکھتی ہیں ’’جماعت اسلامی کے لٹریچر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد والد صاحب کو یہ احساس ہوا کہ جماعت اسلامی کا مشن قرآن کی آیتوں سے ثابت نہیں ہوتا۔ یہ احساس مزید مطالعہ کے ساتھ بڑھتا گیا پھر والد صاحب نے 1962ء میں جماعت اسلامی سے استعفیٰ دے دیا‘‘۔ اسی طرح سے جاوید احمد غامدی صاحب اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’’اُن کا بہت بڑا کارنامہ یہ ہے کہ دور حاضر میں دین کی جو سیاسی تعبیر کی گئی انہوں نے خالص علمی سطح پر اس کی غلطی واضح کی، ان کی کتاب ’’تعبیر کی غلطی کو پڑھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہ کیسا اعلیٰ درجے کا محققانہ ذوق رکھتے تھے۔ ‘‘تاہم تعبیر کی غلطی کتاب کے رد میں مولانا عتیق احمد قاسمی نے ’’فکر کی غلطی‘‘ کے نام سے ایک اہم اور قابل مطالعہ کتاب لکھی ہے جس کو پڑھنے سے مولانا وحیدالدین خان صاحب کا فکری انحطاط کو سمجھنے کا وافر سامان موجود ہے۔ مذکورہ کتاب میں قاسمی صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’تعبیر کی غلطی ‘‘ پوری کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ وحید الدین خان صاحب نے اپنی دانست میں مولانا مودودیؒکے تصور دین کی تردید تو بھر پور کی ہے لیکن اس کے مقابل کوئی دوسرا جامع تصور دین پیش نہیں کیا، یعنی اس کتاب میں منفی عنصر غالب ہے۔ تصور دین سے متعلق جو تحریریں وحید الدین خان صاحب نے بعد میں لکھی ہیں اُن میں بھی کوئی واضح اور جامع تصور دین نہیں پایا جاتا ہے، اور جگہ جگہ انتشار ذہنی اور تضاد بیانی کے نمونے جلوہ گر ہیں۔ (فکر کی غلطی صفحہ ۹۳)

مذکورہ خصوصی الرسالہ کے شمارے کو دوران مطالعہ میں اکثر مضمون نگاروں کو بھی خان صاحب ہی کی طرح مولانا مودودی ؒ کی فکر کو باطل قرار دینے کے ساتھ ساتھ فلسطین مسئلہ کے متعلق خان صاحب کہتے ہیں کہ ’فلسطین پر اسرائل کا قبضہ کرنا اُن کا حق ہے اور فلسطین کے مسلمانوں کو مزاحمت ترک کر دینی چاہیے، اسی طرح سے موصوف کا یہ بھی ماننا ہے کہ دنیا میں جہاں بھی مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اُن کو یک طرفہ صبر کرنا چاہیے اب خان صاحب کو کون یہ بتائے کہ عملی میدان میں یہ بات نا قابل قبول و عمل ہے یہاں تو اپنے گھر کے افراد کے درمیان یک طرفہ صبر نہیں ہوتا تو مسلمانوں پر مظالم کے بعد یک طرفہ صبر کہاں اور کون کر پائے گا ؟جہاد، اقامت دین، شاتم رسول کی سزا، دجال کے متعلق اُن کی رائے، مسلمانوں کو ہی ہر معاملے میں گناہ گار ٹہرانا، بابری مسجد کی شہادت، مسلمانوں کو ہی ظالم قرار دینے کی سوچ جو خان صاحب رکھتے تھے کی تائید میں ہی الرسالہ میں اکثر مضامین کو پایا گیا۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہی ہیں کہ مولانا وحید الدین خان صاحب مرحوم نے اپنا علمی کام زیادہ تر اُردو زبان میں ہی انجام دیا ہے، اُردو زبان میں ہی الرسالہ جیسا میگزین شایع کیا جس سے مولانا کو برصغیر میں ایک خاص پہچان ملی اپنے لیکچرس بھی اُردو زبان میں ہی دیتے تھے یعنی خان صاحب کو اُردو زبان کی مدد سے ہی خاصے لوگوں کے اذہان کو متاثر کیا ہے لیکن اس رسالے کے مطالعے میں دیکھا گیا کہ مولانا اُردو زبان سے زیادہ انگریزی زبان کے فروغ و اشاعت کی بات اپنے چاہنے والوںسے کرتے تھے بلکہ محبان اُردو کی حوصلہ شکنی بھی غیر محسوس طریقے سے کی جاتی تھی، خان صاحب کی نظر میں ساری اُردو صحافت زرد صحافت ہے اور اُردو نے ملک کی ترقی کے لئے کوئی کام نہیں کیا ہے وغیرہ۔ اسی حوالے سے سہیل راشد نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ’’چونکہ مولانا وحیدالدین خان نے اپنا علمی سفر اُردو صحافت سے شروع کیا، اس لئے انہوں نے اُردو صحافت کو بہت قریب سے دیکھا ہے، وہ اُردو صحافت کے معیار سے نالاں تھے، انہوں نے کہا کہ اُردو اخبارات مسلمانوں کا جذباتی استحصال کرتے ہیں اور اُن کی سیاسی اور سماجی ترقی میں کوئی تعمیری کردار ادا نہیں کرتے۔ اس طرح اُردو صحافت ’’زرد صحافت‘‘ کے زمرے میں آتی ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ پوری اُردو صحافت ہی’’ زرد صحافت ‘‘ہے۔ ‘‘(صفحہ163)ایک صاحب نے تو مارکس ازم، ڈارون ازم دیگر الحادی نظریات کو اسلام کی سیاسی تعبیر کے ساتھ جوڑ کے انتہائی گمراہ کُن طریقے سے اس کی تشریح کی ہے یہ صاحب مولانا سید اقبال احمد عمری اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’’جہاں اہل دین کا انحراف ہے وہیں غیر اہل دین کا الحاد بھی اپنے پاس مستقل ایک لٹریچر رکھتا ہے گویا ہر ایک نے مبنی بر نظام تشریح کرنے کی کوشش کی ہے۔ معاشی نظام، سیاسی نظام، اخلاقی نظام وغیرہ۔ ہر فکر کے مستقل رہنما شخصیات ہیں۔ اس طرح سے ہر ایک کے پاس رہنمائی کرنے والا لٹریچر بھی موجود ہے۔ بنیادی طور پر بڑی تقسیم کے اعتبار سے چار ازم وجود میں آئے ہیں :مارکس ازم، ڈارونزم، فرائڈ ازم اور اسلام کی سیاسی تعبیر‘‘چند مسلم شخصیات نے حالات سے متاثر ہو کر اسلام کو بھی نظامی یا سیاسی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی کوشش کی جس کو دین کی نظامی تشریح یا سیاسی تشریح کہہ سکتے ہیں۔ پھر یہ صاحب آگے لکھتے ہیں کہ ’’الغرض اان تمام باطل افکار کا مقابلہ کرنا وقت کی اہم ضرورت تھی مولانا نے الرسالہ اور تذکر القرآن کے ذریعے ان تمام غلط افکار کا جواب دیا۔ (صفحہ240)

مجموعی طور اس رسالے کو پڑھ کے مجھے لگا کہ خان صاحب مغرب اوردیگر دین بیزار طاقتوں سے خاصے مرعوب تھے۔ اور ساتھ ہی اُن کی فکر مولانا مودودی ؒ کی فکر کے ردعمل میں پلی بڑھی ہے۔ تاہم خان صاحب کے درجنوں مضامیں ہم ردعمل کی نفسیات وغیرہ کے خلاف ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ اس خصوصی شمارے کے ساتھ ساتھ میں چاہوں گا جو کوئی بھی خان صاحب کو پڑھنا چاہے گا وہ بڑے ہی محتاط انذا میں مطالعہ کرے۔ بلکہ پہلے وہ خان صاحب کی فکر کا اجمالی جائزہ لے تاکہ مرحوم موصوف کو پڑھ کے اُن کی اندھی عقیدت میں پھراپنی زندگی کے قیمتی لمحات ضائع ہونے کا غم نہ ستائے۔

اس سب کے باوجود مذکورہ اخصوصی شمارے کے مضامین مختصر اور جامع انداز میں لکھے گئے ہیں۔ اور مضامین کو پڑھ کے محسوس ہوتا ہے کہ مولانا کے چاہنے والے ساری دنیا میں موجود ہیںخصوصاً برصغیر پاک و ہند میں۔ وہیں مولانا کو دنیاوی چکا چوند اور عیش و آرام سے بھی بے غرض پایا۔ مولانا کے مطالعے اور غور و فکر کے انداز پر آپ رشک کریں گے کہ کس طرح سے خاں صاحب کتاب فطرت کا مطالعہ کر کے اُس مشاہدے کو الفاظ دے کے اپنے لیے راہنمائی تلاشتے تھے۔ مذکورہ شمارے کا ٹائٹل دیدہ زیب جس کے سرورق اور بیک کور پہ خان صاحب مرحوم کی سادہ سی لیکن غور و فکر کے انداز کی تصور دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ وہیں اس رسالہ کے بیچ میں خان صاحب کے بھارت اور دنیا کے دیگر ممالک کے دوروں اور پروگراموں کی تصاویر نے بھی زینت بخشی ہے، یہ رسالہ تین زبانوں میں مرتب کیا گیا ہے سارے مضامین الگ الگ افراد نے لکھے ہیں۔ مجموعی طور پرالرسالہ کا یہ خصوصی شمارہ احتیاط برتتے ہوئے قابل مطالعہ ہے۔

Advertisement

Trending