سماجی

پولیس : وسائل، اصلاحات اور کرپشن کی بحث —- سمیع احمد کلیا

Published

on

پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے کئی ادارے موجود ہیں جن میں خفیہ ادارے اور فوج بھی شامل ہیں مگر پولیس، جو کہ ریاست کی سب سے بڑی نمائندہ ہے سب سے زیادہ ریاستی عدم توجہی کا شکار ہے۔ پولیس کے جوانوں کی جرات مند یا ان کے باہمت ہونے میں کوئی دوسری رائے نہیں مگر، حکمت عملی کے ناقص ہونے، محدود استعداد کار اور وسائل کی کمی کی طرف ضرور ذہن جاتا ہے۔

ہر آنے والی حکومت کا دعویٰ ہوتا ہے کہ پولیس اصلاحات نافذ کرکے پولیس کو درپیش مسائل کا تدارک اور پولیس کو ایک فرض شناس عوام کی خیر خواہ پولیس بنایا جائے گا۔عوامی سطح پر پولیس کے بارے میں کیا تاثر کیا پایا جاتا ہے اور حقیقت میں پولیس کے مسائل کیا ہیں۔ بہت کم لوگ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ پولیں کے وسائل کتنے ہیں اور اس سے توقعات کی فہرست کتنی طویل ہے۔ آبادی کے لحاظ سے پنجاب دنیا کے کئی ممالک سے بڑا صوبہ ہے۔ اٹک سے لیکر صادق آباد اور مشرقی سرحد سے لیکر کچے کے علاقے اور دریائے سندھ کے کنارے تک امن و امان کی صورتحال پنجاب پولیس کی ذمہ داری ہے۔ اس وقت پنجاب پولیس میں ایک اہلکار 602 شہریوں کی حفاظت کا ذمہ دار ہے جبکہ لاہور میں 513 افراد کیلئے ایک پولیس اہلکار دستیاب ہے۔ یہ نفری معیاری پولیسنگ کے اعتبار سے بہت کم ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کا تو ذکر چھوڑیں ہمسایہ ملک بھارت کے دارالحکومت دہلی میں 198 شہریوں جبکہ ممبئی میں294 افراد کیلئے ایک پولیس اہلکار موجود ہے۔ لندن میں یہی تناسب 1:157 ہے۔ لاہورکی آبادی مردم شماری کے مطابق ایک کروڑ 11لاکھ 26ہزار 285 ہے۔ علاوہ ازیں 40 ہزار کے لگ بھگ روزانہ دیگر شہروں سے لوگ یہاں آتے جاتے ہیں۔ اس آبادی کیلئے لاہور پولیس کی نفری 30ہزار ہے (ظاہر ہے کہ اس نفری میں ڈرائیور، کلرک اور دیگر نان کمبیٹ عملہ بھی شامل ہوگا)۔ اسکے برعکس دہلی جو لاہور جتنا ہی شہر ہے وہاں پولیس کی نفری 82 ہزار ہے۔ اب ذرا وسائل کی بات ہو جائے۔ پنجاب میں پولیس پر سالانہ 8.44 ڈالر فی کس اخراجات کئے جاتے ہیں۔ بھارتی پنجاب میں یہ تناسب 15.9 ڈالر، ترکی میں135 ڈالر اور لاہور میں 7.42ڈالر ہے جبکہ لندن پولیس کو فی کس اخراجات 754 ڈالر سالانہ دیے جاتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو ہماری پولیس فورس اپنی استعدادکار سے کہیں زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ لاہور کا شمار ایسے شہر وں میں ہوتا ہے جہاں احتجاج اور مظاہرے بھی معمول کی بات ہیں۔ دہشتگردی یا بڑے حادثات کے واقعات اس کے علاوہ ہیں۔

یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ پولیس میں بعض ایسے عناصر ضرور ہیں جو محکمے کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں لیکن ایسے افسر اور اہلکار بھی ہیں جو بدعنوانی کو اپنے لئے گالی سمجھتے ہیں۔ یہی احساس تحفظ پوری دنیا میں پولیس کے وجود کی بنیادی وجہ ہے۔ عام آدمی کو اندازہ نہیں کہ پولیس کلچر میں کتنی تبدیلی آچکی ہے۔ افسوس منفی پہلو فوراً میڈیا اور سوشل میڈیا میں عام ہوجاتا ہے لیکن مثبت بات کو ’خبر‘ ہی نہیں سمجھا جاتا۔ لوگ علاقے کے تھانیدار کو ہی پولیس سمجھتے ہیں موجودہ انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس سردار علی خان ماڈرن پولیسنگ پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے پولیس نظام میں بہتری کیلئے سائنسی خطوط پر اقدامات کی حوصلہ افزائی کی۔ا۔ اسی طرح پنجاب بھر کے پولیس خدمت مراکز کو آپس میں مربوط کر دیا گیا ہے۔ پولیس فورس کو شہریوں کے ساتھ اچھے اخلاق اور برتائو کا حکم بھی دیا گیا ہے۔۔ سسٹم میں شفافیت اور جدت کی وجہ سے جرائم کی رپورٹنگ اور اندراج میں اضافہ ہوا جس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ جرائم بڑھ گئے ہیں۔ حالانکہ اگر پولیس کے نظام میں کمپیوٹرائز تبدیلی اور ماڈرن پولیسنگ کو مدنظر رکھ کر تجزیہ کیا جائے تو جرائم پر کنٹرول کی شرح میں کئی گنا اضافہ دکھائی دیگا۔

پولیس میں تنخواہ بھی کم ہے جس کی وجہ سے ”رشوت ستانی“ میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک اور مسئلہ جو پولیس کی کارکرگی کو بہتر نہیں ہونے دیتا وہ ہے ڈیوٹی ٹائم۔ دنیا بھر میں کسی ملک میں کسی شعبہ میں ڈیوٹی کا دورانیہ 24 گھنٹے نہیں ہے مگر حیران کن طور پر پاکستان میں پولیس کی ڈیوٹی 24 گھنٹے کی ہے جس کی وجہ سے اس کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ کئی بار شفٹ سسٹم کے نفاذ کا عندیہ دیا گیا ہے مگر تاحال ایسا نہیں ہوا پولیس اپنا اصل کام کرنے کے بجائے اہم شخصیات کی حفاظت کے لئے اور بیرونی ممالک سے آئے VIP اشخاص، سیاستدانوں اور اعلی افسران کے محافظ کے طور پر کام کرنے پر مجبور ہے، اس سے پولیس کے ادارے اور جوانوں پر بہت برا پڑا ہے اور پولیس اپنے اصل مقصد سے ہٹ گئی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کے محکمے کو مزید نمائشی تجربات سے بچایا جائے اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے پولیس کو وسائل، تربیت، ٹیکنالوجی اور جدید اسلحہ فراہم کیا جائے اور اصلاحات کا عمل شروع کیا جائے۔ ڈیوٹی ٹائم 24 گھنٹے کی بجائے شفٹ کے نظام کے ذریعے کم کیا جائے، سیاسی مداخت ختم کی جائے، تحقیق و تفتیش کے شعبہ میں روایتی انداز کی بجائے جدید طریق ہائے کار کو اپنایا جائے، اہلکاران اور افسران کو جسمانی کے ساتھ نفسیاتی تربیت بھی مہیا کی جائے، تنخواہوں میں معقول اضافہ کیاجائے اور سب سے اہم یہ کہ پولیس ایکٹ 2002 کو اس کی اصل حالت میں نافذ کیا جائے۔

مصنف سمیع احمد کلیا پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز اور ایل ایل بی ہیں، پنجاب پولیس میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Trending

Exit mobile version