Connect with us

تازہ ترین

اُس آدمی کی کمی، ہمہ جہت آصف فرخی کی روشن یادیں —– نعیم الرحمٰن

Published

on

آصف اسلم فرخی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ ایم بی بی ایس ڈاکٹر، اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف سے وابستہ رہے اوراپنی دھاک بٹھائی۔ افسانہ نگار، نقاد، مترجم، سفرنامہ نگار، ایک منفرد اوربہترین ادبی جریدے’’دنیازاد‘‘ کے مدیرتھے۔انہوں نے بطور پبلشر ’’شہرزاد‘‘ کے تحت شعر و نثر کی بہترین کتابیں شائع کیں۔ وہ حبیب یونیورسٹی میں طلباکے فیورٹ استادبھی تھے اور بطور استاد اپنی ذمہ داریوں سے بہت خوش تھے۔ وہ ادبی سیمیناز اور لٹریری فیسٹول کے بانی بھی تھے، اردولٹریری فیسٹول کی بنیادآصف فرخی نے ہی امینہ سید کے ساتھ مل کر ڈالی۔ غرض آصف فرخی کی شخصیت کی کوئی ایک جہت نہیں ہے۔ان کے والد ڈاکٹر اسلم فرخی ایک بہترین ماہر تعلیم، نثرنگار اور خاکہ نگار تھے۔ والدہ کی طرف سے ان کا سلسلہ نصب ڈپٹی نذیراحمد سے ملتاتھا۔ اس لیے ادب ان کے خون میں شامل تھا۔

آصف فرخی 16ستمبر1959ء کوکراچی میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ڈاؤ میڈیکل کال سے ایم بی بی ایس کیا تھا اور پھر ہاورڈ یونیورسٹی امریکا سے پبلک ہیلتھ میں ماسٹرز کیا۔ وہ آغا خان یونیورسٹی کراچی اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف سے منسلک رہے۔ آخری دورمیں وہ درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے تھے اور حبیب یونیورسٹی کراچی میں ایسوسی ایٹ پروفیسرکی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ان کے افسانوںپہلا مجموعہ ’’آتش فشاں پر کھلے گلاب‘‘ 1982ء میں شائع ہوا۔ اور اپنے پہلے مجموعے سے ہی انہوں نے ادبی دنیاکو چونکا دیا۔ آصف بے حد وسیع المطالعہ ادیب تھے۔ان کا مطالعہ صرف کتابوں تک محدود نہ تھا بلکہ مشاہدہ بھی اس کاحصہ تھا۔ ان کا تخلیقی اظہار محض افسانوں تک محدود نہ تھا، بلکہ آصف فرخی کی غیر ادبی تحریروں میں بھی نمایاں تھا۔ چاہے وہ ان کے ادبی مضمون ہوں یااخباری کالم۔ان کاقلم یہ سارے مناظرقارئین کو دکھاتا رہا۔ بحیثیت نقاد وہ اپنے بے پناہ علم و آگہی سے ادبی تاریخ رقم کررہے تھے۔انھوں نے کلاسیکی ادب سے لے کرجدید شعروادب اوربین الاقوامی فکشن کے بارے میں بہت تنقیدی مضامین لکھے جوان کے تنقیدی مضامین کے مجموعہ میں شامل ہیں۔ وہ دنیا بھر کاادب پڑھتے تھے اورمقامی زبانوں کے ادب سے بھی گہری شناسائی رکھتے تھے۔ ابتدا میں انہوں نے غزلیں بھی کہیں۔ لیکن بنیادی طور پر وہ نثرکے آدمی تھے اگرچہ انھوں نے شاعری پرنہایت عمدہ تنقید لکھی۔آصف فرخی نے جو بیش بہا سرمایہ قارئین کے لیے چھوڑا ہے۔ اس میں آٹھ افسانوں کے مجموعے، چار تنقیدی مضامین کے مجموعے، نظموں اور ادبی انٹرویوز کا ایک ایک مجموعہ، تین سفرنامے، سولہ سے زائد تراجم، تیرہ کتب مرتب کیں۔دو ڈرامے اوربچوں کی چند کتابوں کے علاوہ ان کی انگریز ی میں نودس کتابیں بھی شائع ہوئیں۔ موقر ادبی جریدے ’’دنیازاد‘‘ کے مدیر بھی تھے۔اس جریدے کا ہرشمارہ دیگرموضوعات کے علاوہ اپنے اندرکسی مخصوص موضو ع کااحاطہ بھی کرتا تھا۔ اپنی وفات کے وقت وہ حالیہ کرونا وبا کے پس منظرمیں لکھی گئی ادبی تحریروں پرمشتمل شمارہ مرتب کررہے تھے۔ انھوں نے ’’دنیازاد‘‘ کے ذریعے دنیا کی مختلف زبانوں کا ادب اردومیں پیش کیا اورکئی نئے لکھنے والوں کوبھی متعارف کرایا۔ ’’شہرزاد‘‘ کے نام سے اشاعتی ادارہ قائم کیا جس نے پاکستان میں سنجیدہ اور معیاری ادب کی اشاعت میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

آصف فرخی نے ہی پاکستان میں ادبی میلوں کی روایت ڈالی۔انھوں نے 2010ء میں آکسفورڈیونیورسٹی پریس کے ساتھ مل کرکراچی لٹریچر فیسٹول کا آغاز کیا، جوآج پاکستان اور بیرون ملک ادبی میلوں میں اپنی جداگانہ شناخت رکھتا ہے۔پھر2019ء میں آکسفورڈپریس سے الگ ہوکرانھوں نے ادبی فیسٹول کے نام سے علیحدہ ادبی میلہ منعقد کرنا شروع کیا۔یہ ادبی میلہ بھی بے حدکامیاب ہوا۔آصف فرخی کی ڈالی ہوئی روایت پر ملک میں میلوں کی بہارآگئی اور آج پاکستان میں ہرسال بے شمار ادبی میلے منعقدہورہے ہیں۔یہی آصف چاہتے تھے کہ ملک میں شعر وادب کی اورکتاب کی زیادہ سے زیادہ بات ہو۔آصف فرخی کی ادبی خدمات کااعتراف2005ء میں تمغہ امتیاز اوراکادمی ادبیات وزیراعظم ایوارڈ کے ذریعے بھی کیاگیا۔

آصف فرخی شوگر کے مریض تھے اورکچھ عرصے سے ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔اسی دوران پیٹ خراب ہونے پروہ شدید نقاہت کاشکارہوگئے۔ شوگرکم ہونے پر انھیں دل کا دورہ  پڑا اور یکم جون کی شام پانچ بجے وہ خالق حقیقی سے جاملے۔آصف فرخی کی وفات سے ہم ایک بے مثال ادیب سے ہی محروم نہیں ہوئے بلکہ ایک کشادہ دل انسان کوبھی کھو دیا جونئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی میں پیش پیش رہتاتھا۔

نامور ادیب اوردانشورمحمدسلیم الرحمٰن لکھتے ہیں۔’’آصف فرخی کی ادبی صلاحیتوں کا کچھ اندازہ اس کے افسانوں کاپہلامجموعہ پڑھ کرہی ہوگیا تھا۔ملاقات ہوئی تو پتہ چلاکہ وہ ادب دوست ہی نہیں، ادب شناس بھی ہیں۔ مستزادیہ کہ اس کا قلم اردو اور انگریزی دونوں میں رواںتھا۔ مطالعہ وسیع تھا۔اس کے خیال میں انسان اور زندگی دونوں کی بوالعجبیوں کو سمجھنے، خوبیوں کو سراہنے اورخامیوںسے درگزرکرنے کا وسیلہ ادب اورفنون لطیفہ کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ اس کے بقول، خیروشر سے انصاف کرنا کوئی ادب سے سیکھے۔ آصف سے کتنی امیدیں تھیں لیکن وہ اچانک ہی چلاگیا۔ اتنی بھی کیا جلدی! مقدور کہاں کہ خاک سے کچھ پرسش کرسکیں۔‘‘

’’اس آدمی کی کمی ‘‘کے مرتب انعام ندیم نے پیش لفظ میں کیا خوب تحریر کیا ہے، انھوں نے ابتدا رئیس فروغ کے شعرسے کی ہے۔
’’لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مرجاتے ہیں

جانے والے چلے جاتے ہیں لیکن ان کی یادیں رہ جاتی ہیں۔جولوگ ہمیںعزیزہوتے ہیں، ان کی یادیں بھی ہمیں عزیزہوتی ہیں اور ہمیں بتا تی ہیںکہ جانے والے سے ہمیں کتنا پیارتھا۔ آصف فرخی بھی ایسے ہی شخص تھے، جوہمیں عزیزتھے، پیارے تھے۔ان کی ناگہانی موت کے بعداردودنیانے جس طرح انھیں یاد کیا اس سے معلوم ہواکہ لوگ ان سے کتنی محبت کرتے تھے۔یہ کتاب اسی محبت کاتحریری اظہارہے۔یہ آصف صاحب کے لیے ادنیٰ ساخراجِ عقیدت ہے کہ انھیں دینے کے لیے ہمارے پاس اورہے بھی کیا۔ادب کی دنیامیںان کامقام کیاتھا اوربطورافسانہ نگار، نقاداورمترجم وہ کس مرتبے کے حامل تھے، یہ کہنے کی بات نہیں۔ہروہ شخص جواردوادب سے شغف رکھتاہے اس حقیقت خوب واقف ہے۔تاہم اس کتاب میںشامل مضامین کاانتخاب کرتے وقت یہ پہلو مدنظر رکھا گیاہے کہ ایسی تحریروں کوجگہ دی جائے جو آصف صاحب کے فن کے بجائے ان کی شخصیت، ان کے مزاج اوران کی خدمات سے متعلق ہوں۔ ممکن ہے بعض تحریروںمیںجذباتی رنگ ابھرآیاہولیکن آصف صاحب کے بچھڑنے کاصدمہ اتناگہراہے کہ اس پرجذباتی ہوئے بغیرشایدکچھ لکھا بھی نہیں جاسکتا۔

’’اس آدمی کی کمی ‘‘جون میں آصف فرخی کی پہلی برسی کے موقع پراشاعت کے لیے تیارکی گئی تھی، آرٹس کونسل کراچی نے اس کی اشاعت میں دلچسپی دکھائی اورچودھویںعالمی اردوکانفرنس کے موقع پراسے شائع کرنے کاارادہ ظاہرکیاجوبوجوہ شرمندہ تعبیرنہ ہوسکا۔اب یہ کتاب عکس پبلی کیشنز، لاہور نے شائع کی ہے۔عکس کے ادارے کوآصف مرحوم کی خصوصی محبت اورتوجہ حاصل تھی۔ادارے کے نوجوان روحِ رواںمحمدفہداورنوفل جیلانی کا بھی آصف صاحب سے گہراتعلق خاطررہاہے۔ان دونوںبھائیوںنے کتاب کی اشاعت کواپنے لیے اعزاز سمجھتے ہوئے اس پرخصوصی توجہ دی ہے اور کتاب بہت عمدہ اور دبیز سفیدکاغذپرخوبصورت کتابت میںشائع کی گئی ہے۔عمدہ جلدبندی اوردلکش گردپوش کے ساتھ تین سوساٹھ صفحات کی کتاب کی بارہ سو روپے قیمت بھی بہت مناسب ہے۔ اس بہترین اشاعت پرفہداورنوفل برادران کوبھرپورمبارک بادپیش ہے۔

آصف فرخی جیسے متحرک اورہمہ جہت ادبی شخصیت کوکبھی فراموش نہیںکیاجاسکے گا۔ اوران کی زندگی کے ہرپہلو پرلکھاجاتارہے گا۔’’اس آدمی کی کمی ‘‘اس سلسلے کی پہلی کتاب ہے۔ جس میں آصف فرخی کی شخصی خوبیو ںکے بارے میںمختلف اخبارات وجرائدمیں شائع ہونے والے اٹھاون مضامین و کالمز کو یکجا کر دیا گیا ہے۔جن کے لکھنے والوں میں پاک وہندکے معروف اورصف اول کے ادیب اوردانشور شامل ہیں۔ان مستندمشاہیرکی تحریروںسے آصف صاحب کی بے پناہ مقبولیت اورپذیرائی کابھی اندازہ کیا جاسکتاہے۔ انگریزی رسائل و جرائد میںچھپنے والے کچھ کالمزکے تراجم بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان تمام کالمزاورمضامین سے قارئین آصف فرخی کی شخصیت کے مختلف پہلووں سے بخوبی آگاہ ہوجاتے ہیں۔

جن مصنفین اوردانشوران کرام کے کالمزاورمضامین کو’’اس آدمی کی کمی‘‘ میں شامل کیاگیاہے۔ان میںبھارت کے مشہورناول وافسانہ نگار، نقاد، شاعر اور چالیس سال تک ’’شب خون‘‘ جیسا ادبی جریدہ شائع کرنے والے شمس الرحمٰن فاروقی، نامورادیب، نقاداورخاکہ نگارشمیم حنفی، شاعرہ زہرانگاہ، ناول و افسانہ نگار حسن منظر، شاعر و دانشور افتخارعارف، شاعرہ کشورناہید، افسانہ وکالم نگارمسعوداشعر، زبیدہ مصطفٰی، افسانہ نگارذکیہ مشہدی، شاعر افضال احمد سید، غازی صلاح الدین، آرٹس کونسل کراچی کے صدرمحمداحمدشاہ، پبلشرامینہ سید، شاعرہ اورافسانہ نگار فاطمہ حسن، اداکارہ نیلوفر عباسی، افسانہ نگار محمد حمید شاہد، دانشور اور مدیر ارتقا سید جعفر احمد، ناول نگارخالد جاوید، شاعرہ تنویرانجم، مصنفہ نور الہدٰی شاہ، نقادوافسانہ نگار ناصرعباس نیئر، ادیب اور استاد نجیبہ عارف، دانشورکامران اصدرعلی، شاعرہ وافسانہ نگار عشرت آفرین، افسانہ نگارشیرشاہ سید، ناول وافسانہ نگار مشرف عالم ذوقی، دانشور کالم نگار وجاہت مسعود، شاعرحارث خلیق، مہرافشاں فاروقی، سبین جویری، مبشر علی زیدی، عذراترمذی سید، پیرزادہ سلمان، سید کاشف رضا، رفاقت حیات، عرفان جاوید، سیف محمود، نقاد، مدیر، ناول نگارقاسم یعقوب، قمر رضاشہزاد، جمیل عباسی، طارق اسلم، شاہ محمدپیرزادہ، حسنین جمال، کاشف حسین غائر، رخسانہ پروین، عاصم کلیار، عثمان قاضی، ذولفقار عادل، عفت نوید، فاروق عادل، فرنودعالم، رضانعیم، مصطفٰی رباب، محمد علی منظر، گوہر تاج، انعام ندیم اورمکالمہ کے مدیر، افسانہ نگار، شاعراور خاکہ نگار مبین مرزاشامل ہیں۔ان تمام ادیب ودانشوران کے ناموں ہی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آصف فرخی کس قدرمقبول اورہردل عزیزشخصیت کے مالک تھے اوران تمام تحریروںسے ان کی شخصیت کے مختلف اورروشن گوشے اجاگر ہوتے ہیں۔

شمس الرحمٰن فاروقی مرحوم نے اپنے مضمون’’ شعلہ ء مستعجل‘‘ میں آصف فرخی کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھاہے۔’’کوئی بھی شخص جوآصف فرخی کو جانتاہے، یا ان کے کام کوجانتاہے وہ اپنی گفتگواسی بات سے شرو ع کرے گا کہ آصف ایک ہمہ جہت شخص تھے۔میں بھی اپنی گفتگو اسی بات سے شروع کرنا چاہت اہوں۔ یوں توبہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بہت سے میدانوں میں فعال ہوتے ہیں، کچھ میں زیادہ، کچھ میں کم، لیکن وہ اپنے ماحول اور معاصرین کو بہت متاثر کرتے ہیں۔لیکن آصف میں جتنی خوبیاں اور جتنی صلاحیتیں جمع تھیں وہ میں نے اورکسی میں نہیں دیکھیں۔آصف نے جو رسالہ نکالا، اس کا تناظر بہت وسیع تھا۔ اس میں ہرملک کے، ہرطرح کے لوگوں کا ذکر ہے۔انھوں نے بہت سے ایسے لوگوں کوہمارے سامنے لا کر رکھا جن کے بارے میں ہم صرف سنتے ہی تھے، اوربہت سے لوگوں نے پڑھاتوکیاسنابھی نہ ہوگا۔وہ ہمیشہ اس بات کاخیال رکھتے تھے کہ ذاتی طور پر کوئی تاثرنہ آنے پائے کہ فلاں سے مجھے اختلاف ہے تومیں اس کا افسانہ یااس کی نظم کیوں چھاپوں۔بلکہ اس کے برعکس وہ ان تمام لوگوں کی تلاش میں رہتے تھے۔ پھریہ کہ رسالہ نکالنا تو ایک پیشن ہے، ایک مشغلہ ہے ہمارے ملک میں بھی اورپاکستان میں بھی۔لیکن باقاعدگی سے اورخاصا ضخیم پرچہ نکالنا اور ہر پرچے میں کوئی ایسی بات ڈالنا جو کہ قابلِ غور، قابلِ ذکرہو، یہ ہرمدیرکاکام نہیں ہے، نہ ہی اس کے بس میں ہوتاہے۔چندمدیرایسے ہیں اردو میں جنھوں نے اپنے پرچے پر اپنی چھا پ چھوڑی ہے ان میں آصف بھی ایک تھے کہ ’دنیازاد‘ کے ہرصفحے پروہ جھلکتے تھے۔کم لوگ ایسے ہوتے ہیں۔‘‘

شمیم حنفی مرحوم کی تیرہویں عالمی اردوکانفرنس میںآصف فرخی کی یا دمیں کی گئی گفتگوکی تلخیص’’کچھ یادیں‘‘کے عنوان سے کی گئی ہے۔ ’’آصف سے پہلی ملاقات ہوئی تووہ کالج کے طالب علم تھے۔ وہ یہاں دلی آئے۔دلی ان کی والدہ کی نسبت سے ان کاننھیالی وطن تھا۔ان کی والدہ کے چچا، شاہد احمد دہلوی کے بھائی مسلم احمدنظامی صاحب کھاری باولی، پرانی دلی میں ڈپٹی نذیراحمد کی بنوائی دوشاندارکوٹھیوں میں سے ایک میں مقیم تھے۔آصف یہاں آئے تو کہا میری والدہ کے چچایہاں رہتے ہیں۔ تووہ گئے ان سے ملنے، میں بھی گیاتھاان کے ساتھ۔آصف سے جب بھی ملاقات ہوئی تومجھے یہ احساس ہوا کہ بہت زیادہ بے تکلف وہ کسی سے نہیں ہوتے تھے۔بات چیت میں بہت احتیاط کرتے تھے۔ہنستے تھے تواپنی ہنسی کوبھی دبانے کی کوشش کرتے تھے۔ان سے میں نے کسی کی برائی نہیں سنی۔یعنی اگرکسی سے اختلاف بھی تھاان کو توکبھی ان کی زبان پراس کے خلاف کوئی بات نہیں آئی۔پچھلے سال مجھے اتفاق ہواکراچی جانے کاتو آصف ملنے پرکہنے لگے میں آپکو اپنی یونیورسٹی لے جاؤں گا، میں چاہتاہوں کہ آپ کچھ گفتگو ہمارے طالب علموں سے کریں ۔میں نے دیکھاکہ طالبِ علم ان پرجان دیتے تھے۔ ایک مثالی استاد کوکس طرح پیش آناچاہیے اپنے طالبِ علموں سے اورطالبِ علموں کا کس طرح تعلق پیدا ہوجاتاہے اپنے استاد سے، یہ صورت حال میں نے وہاں دیکھی۔انھوں نے جورسالہ نکالا’دنیازاد‘ آج کے زمانے کے رسالے کو جیساہونا چاہیے، ایسا رسالہ تھاوہ۔ دنیابھرکے ادب کوایک دائرے میں سمیٹ لینے کی کوشش۔آصف کے انتقال کے بعدان کے بارے میں جوتقریریں میں نے سنیں یا جو کالم پڑھے، وہ بہت جذباتی تھے۔ظاہرہے سب ان کویادکرتے ہیں۔ان میں یادرہ جانے کی غیرمعمولی طاقت تھی۔لیکن دوجملے میرے ذہن میں محفوظ رہ گئے ہمیشہ کے لیے۔ایک جملہ افضال احمد سید صاحب کاتھا، ’’اب ہم سب کی زندگیاں جیسی پہلی تھیں ویسی نہیں رہ جائیں گی‘‘۔دوسراجملہ سیدکاشف رضا نے کہا کہ ’’ منٹو نے تقریباً پینتالیس برس کی عمرپائی، اور ہمیں بارباریہ خیال آتاہے کہ ان کواگر معمول کی جوعمرانسان کی ہوتی ہے وہ ملی ہوتی تووہ کیا کیا کر ڈالتے۔ یہ خیال ہمیں آصف کے بارے میں بھی آتا ہے۔‘‘ بلاشبہ آصف نے ساٹھ برس کی عمرمیں جوکام کرڈالاوہ ہرلحاظ سے بے مثال اورغیرمعمولی ہے۔‘‘

اردو کے دوصف اول کے ادیب اورناقدین کی آراء آصف فرخی کے کام اورشخصیت کوواضح کرنے کے لیے کافی ہے۔مشہورشاعرہ زہرانگاہ نے ’’زرازدست رفتہ‘‘ میں آصف کی فرمابرداری اورادب سے وابستگی کے بارے میں لکھتی ہیں۔’’ آصف کے والدین نے اپنے دونوں بیٹوں کے لیے جوخاکے تیار کیے، وہ ان دونوں کے شاندار مستقبل کی ضمانت تھے۔ایک کوڈاکٹردوسرے کوانجیئر۔دونوں بیٹوں کی ہڈیوں میں تابع داری کوٹ کوٹ کربھری تھی۔اس لیے ایک ڈاکٹر ہوگیا دوسرا انجیئر۔آصف کارحجان شروع سے ادب کی طرف تھا۔ماں باپ نے سمجھایا’’میاں اپنے پروفیشن پرتوجہ دو، ادب توتم کو ورثے میں ملا ہے۔ سووہ بھی مل جائے گا۔‘‘ آصف ڈاکٹرہوگئے۔آغاخان اسپتال سے منسلک ہوگئے۔یونیسیف میں نوکری مل گئی پھرایک دن دل میں چھپا مہذب باغی جاگ اٹھا۔ اماں باواکے ہاتھ جوڑے اورعرض کیاکہ جوآپ نے کہا، وہ میں نے پوراکیا، اب اجازت ہوتومیں اپناکہا پوراکروں۔پھراس کے بعد آصف نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اگروہ ڈاکٹر ہی رہ جاتے آج ان کے سینکڑوں مداح، بے شمارطالب علم، ان کے دوست احباب، ان کے ہم عصر ادیب، ان کی یادمیں اس طرح بے قرارکیسے ہوتے۔ جتنا ادبی کام وہ سولہ برس میں کرگئے۔وہ سوبرس میں بھی لوگ نہیں کرپاتے۔افسانہ نگاری بھی کی تونک سک سے درست، مترجم ہوئے تواصل اورنقل دونوں کوبڑے سلیقے سے سنوارا، مدیرہوئے توکمال کے اوراستادہوئے توشاندار۔پھرادبی میلوں میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔غرض یہ کہ جس میدان میں قدم کیا قلم رکھ دیا، جوہر دکھادیے۔ ابھی ان جوہروں کی چمک دمک سے آنکھیں خیرہ ہورہی تھیں کہ میدان چھوڑ دیا۔ بھلاایسے بھی کوئی جاتاہے۔ ابھی توبہت کام باقی تھا اورایساکام جوصرف آصف ہی کرسکتے تھے۔کیوں کہ قدرت کی طرف انھیں معتبر اور مستعد ذہن عطا ہوا تھا۔ آصف ویسے تولائق فائق تھے ہی مگرجوصفت ان کی شخصیت کاسنگھارتھی، وہ تھی ان کی تہذیب۔اب یہ صفت عنقاہے، آصف کا لہجہ، نشست وبرخاست، صاف ستھری گفتگو۔کہاں ملیں گے ایسے وضع دارلوگ۔‘‘

اردو کی صف اول کے ناول وافسانہ نگارحسن منظر’’اب کیافرداکیادیروز، کیسی آنے والی کل‘‘ میں اظہارخیال کرتے ہیں۔’’ آصف فرخی سے میرے تعلقات پچھلے چالیس سال پرپھیلے ہوئے ہیں۔اس زمانے سے لے کرجب ان کی پہلی کتاب’’آتش فشاں پرکھلے گلاب‘‘ جہان اردو میں نمودارہوئی تھی، اس آخری ملاقات تک جوان کے بے موقع انتقال سے تین چاردن پہلے فون پرہوئی تھی۔آصف ملنسارآدمی تھے لیکن فطرتاً سنجیدہ تھے، یارباش نہیں تھے۔یہ ان کے لیے ضروری بھی تھا کیوں کہ جس آدمی نے اردوادب کے ہررکن کابوجھ ہنسی خوشی اپنے سرپراٹھارکھاہو وہ ہوہوہاہاکی محفلوں کے لیے وقت کیسے نکال سکتاہے۔میں آصف کودوسروں کے ادبی کام کو، اگروہ اس لائق تھا، ہمیشہ سراہتے دیکھا۔ان میں حسدنام کونہیں تھا۔جوادیبوں شاعروں میں عام ہے۔وہ مجھ جیسے کم آمیزاور حد سے زیادہ مصروف آدمی کاہاتھ بٹانے کوہمیشہ تیاررہتے تھے۔آصف کامطالعہ انسائیکلوپیڈک نہیں، آج کل کی زبان میں گوگل تھا، جو چاہے پوچھ لیجے۔‘‘

شاعرہ اور نثرنگار کشور ناہید نے’’کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا۔۔‘‘ میں لکھاہے۔’’ وہ کون تھا۔وہ ڈاکٹرتھا، ترجمے کرتاتھا، افسانے، ناول لکھتاتھا، دنیازاد نکالتا تھا، ہرمرنے والے کے پیچھے رہ جانے والے افسانوں اورتحریروں کومرتب کرتاتھا، اس نے عالمی ادب کے خوداتنے ترجمے کیے اورہم سب سے کروائے کہ اس کاگھربالکل باقرمہسی کے گھرکی طرح کتابوں سے بھر گیا تھا، وہ اس قدرمنظم شخص تھاکہ جب یونیسیف میں تھاتوسندھ کے اندرون سیلاب زدہ علاقوں میں وہیں دیہات میں رہ کرکام کیا، جب حبیب یونیورسٹی میں آیاتھا، لڑکے لڑکیوں کوسوال کرنا، بولنا، نئے موضوعات پرتحقیق کرنا اور ادب شناسی کے لیے ادیبوں سے بہت گہرے سوال کرنااورپھراگلے دن، ادیبوں کاتجزیہ اپنے لفظوں میں کرنا سکھایا، اس کاانتظارصاحب بہت پسند کرتے تھے، جرمنی جاناہو، لندن کہ انڈیا وہ ہمیشہ کہتے تھے آصف میرے ساتھ جائے گا۔مجھے سمجھائے گا، مجھے دوائیاں کھلائے گا۔ان کوفرانس کے سب سے بڑے اعزازکے لیے منتخب کیاگیا، تب بھی انھوں نے آصف کوبلایا، مجھے بلایا، انتظارصاحب اورفہمیدہ ریاض کے مرنے کے بعدان کے گھروں سے ادھورے مسودات چھان پھٹک کرکے، کئی دن کی دیدہ ریزی کے بعداٹھاکرلایا، حسن منظرکوکینسرکامریض ہونے کے باوجود، مستقل نئی تحریروں کی یاددہانی کراتارہا، اس نے مارکیزسے لے کردنیابھر کے ادیبوں کی کتابیں مرتب اورشائع کیں۔‘‘

غرض آصف فرخی کی شخصیت کے ہر پہلو پران مستند ادیب، شاعراوردانشوروں کی بھرپور روشنی ڈالی ہے۔’’اس آدمی کی کمی‘‘ ایک ہمہ جہت ادبی شخصیت پر بہت بھرپورکتاب ہے۔امیدہے، اس کتاب کی ایسی ہی بھرپورپذیرائی ہوگی اورمطالعہ کے شوقین افراداسے پڑھیں گے ہی نہیں، بلکہ اس سے انسپائریشن بھی لیں گے۔ آصف فرخی کے بارے میں ان کے دوست شیرشاہ سید نے پہلی کتاب ’’دلِ ریزہ ریزہ‘‘ شائع کی تھی۔ان کی شخصیت اور فن پرایسی مزیدکتب بھی منظرعام پرآئیں گی۔

Advertisement

Trending