Connect with us

تازہ ترین

غربت میں اضافے کا کارخانہ ———–  نعیم صادق

Published

on

غربت نہ تو انسان کا مقدر ہے اور نہ ہی فطرت کا تقاضا۔ یہ ایک مصنوعی اور ظالمانہ طور پرخود ساختہ لعنت ہے۔ جو امیروں کو لا محدود فوائد حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے۔ آج لاکھوں پاکستانی انتہائی غربت، عدم مساوات اور بدحالی کی زندگی گزار رہے ہیں، یہ حادثاتی طور پر یا طے شدہ طور پر نہیں ہے۔ بلکہ دانستہ طورپر غیر اخلاقی اور ظالمانہ اقدامات کے ذریعے تیار کردہ نظام کا شاخسانہ ہے۔ اس مضمون کا مقصد اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ پاکستان اتنے بڑے پیمانے پر غربت پیدا کرنے میں کیسے کامیاب ہوا۔

غربت کا یہ پھیلاؤ بڑھتی ہوئی آبادی سے شروع ہوتا ہے۔ ایک ایسا ملک جو اپنی آبادی کی تین اعشاریہ چھ ٹی ایف آر پرکوئی توجہ نہ دے۔ وہ خودکشی کی جانب گامزن ہے۔ ہم نے چین، بنگلہ دیش، بھارت یا دیگر ممالک سے کچھ نہیں سیکھا جنہوں نے اپنےشرح افزائش دو فیصد سے کم کرلی۔

پاکستان میں غربت میں کمی کے لیے حکومت کا پہلا کام یہ ہونا چاہیے کہ اس کی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے پربھرپورتوجہ دے۔ یہ غربت دانستہ طور پر ایک غیر معمولی کم از کم اجرت کے ذریعہ بھی پیدا کی جارہی ہے، جس سے ایک خاندان کا گزارہ مشکل سے ہوتا ہے، اور اس کے سبب ایک خاندان قبرستان کی چاردیواری سےزیادہ قریب تر ہوجاتا ہے۔

ریاست اس بات کو یقینی بنا کر آگ پرمزید تیل ڈالتی ہے کہ نصف سے زیادہ افرادی قوت کواس کم از کم تنخواہ سے بھی محروم کردیا جاتا ہے۔

اگلے مرحلے میں اس غربت میں ایک غیر فعال ادارہ "ای او بی آئی” بھی اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ یہ ادارہ ایک سفید ہاتھی ہے جو ہر سال اپنی دیکھ بھال پر 1.2 بلین روپے سے زیادہ خرچ کرتا ہے لیکن اس ادارے میں پاکستان کے کل 9 کروڑ رسمی اور غیر رسمی کارکنوں میں سے بمشکل 90 لاکھ کارکن رجسٹرڈ ہوپاتےہیں۔ اس طرح ہم ان لاکھوں کارکنوں کو بھکاری بنا دیتے ہیں جو بغیر کسی پنشن کے ریٹائر ہو جاتے ہیں۔

غربت کی تخلیق اکثر ریاست خود ہی کرتی ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب وہ اپنی ہی میونسپلٹیوں، کنٹونمنٹ بورڈز، سرکاری ہسپتالوں، پانی اور سیوریج ایجنسیوں اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈز میں کام کرنے والے اپنے کنٹریکٹ عملے کو کم از کم اجرت ادا نہیں کرتی۔ ریاست اس بات پر آنکھیں بند رکھنے کی بھی مجرم ہے کہ جب اس کی لوٹ مارکرنے والی اشرافیہ مجرمانہ طور پر کم اجرت والے لاکھوں کارکنوں کا استحصال کرتی ہے۔ پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز اور پٹرول پمپوں پر عملہ ظلم کی ایسی ہی دو قابل مذمت مثالیں ہیں

عدم مساوات کا فرق اس وقت مزید وسیع ہو جاتا ہے جب ریاست بے شرمی کے ساتھ اپنے امیر طفیلی طبقے کو مراعات، سبسڈیز اور ٹیکسوں میں چھوٹ دے کر اس کی ناز برداری کرتی ہے۔ یہ خود پسند طبقہ، نفس پرستی اور عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتا ہے، شاندار گاڑیوں میں سفر کرتا ہے، آسٹریلوی ویٹا بکس استعمال کرتا ہے اور اپنی پرتعیش شادیوں کے لیے امپورٹڈ پھول استعمال کرتا ہے۔ یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ پچھلے تین سالوں میں 35 بلین ڈالر کے قرضے میں سے 8 بلین ڈالر کاروں، اسپورٹس گاڑیوں، موبائل فونز اور لگژری سامان کی درآمد پر خرچ کیے گئے۔ یہ وہی غریب طبقہ ہے جس کے لیے پچھلے 35 برسوں میں 280 ارب روپے کے قرضے معاف کیے جا چکے ہیں۔

غربت ایک پیچیدہ اور زوال پذیر ٹیکس نظام سے بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ جو صرف 2 فیصد آبادی کو ٹیکس ادا کرنے کے قابل بناتا ہے، اس طرح پاکستان قرضوں کے چکر میں پھنسا رہتا ہے۔ ایف بی آر نے ایک صفحے پر مشتمل سادہ ٹیکس ریٹرن بنانے سے انکار کر دیا ہے۔ جس سے 100 فیصد شہریوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے۔ اس کے برعکس اس نے نان فائلرز کو ٹوکن سرچارج ادا کرکے تمام سہولیات حاصل کرنے یا خریدنے کے قابل بنانے کے لیے فرار کے متعدد راستے وضع کیے ہیں۔ ویلتھ ٹیکس اس لیے عائد نہیں کیا جاتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ امیروں کو ناراض کردے یا عدم مساوات کو کم کردے۔ پاکستان کوایک خاندان کے لیے کم از کم اجرت کو بڑھا کر 52771 روپے کرنا چاہیے، جس میں اس کا گذارا ہوسکتا ہے۔ جس کا ذکر اینکر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی 2021 کی رپورٹ برائے پاکستان میں کیا ہے۔ پاکستان اس وقت ترقی کرے گا جب اس کے 95 فیصد لوگوں کے پاس روزمرہ کی زندگی گزارنےکے لیے گھریلو ضرورت کی اشیاء خریدنے کے لیےاضافی’آمدنی ہو گی۔ پاکستان اس وقت ترقی کرے گا جب یہ مصنوعات بلا سوچے سمجھے درآمد کرنے کی بجائے مقامی طور پر تیار کی جائیں گی۔ پاکستان اس وقت ترقی کرے گا جب ہر کارکن، رسمی یا غیر رسمی، کام یا ملازمت کی نوعیت سے قطع نظر، ای او بی آئی کے تحت رجسٹرڈ ہو گا اور اسے ہیلتھ کارڈ جاری کیا جائے گا۔ پاکستان اس وقت ترقی کرے گا جب ای او بی آئی اور لیبر ڈپارٹمنٹ جیسےاداروں کو نادرا سے منسلک ڈیجیٹل ڈیٹا بیس سے بدل دیا جائے گا تاکہ قومی شناختی کارڈ رکھنے والے ہر شہری کی اجرت اور ای او بی آئی کی نگرانی کی جا سکے۔ غربت کا خاتمہ نیچے سے شروع ہونا چاہیے – ان لوگوں سے شروع ہو کر جو اپنے ننگے ہاتھوں سے فضلے کو صاف کرنے کے لیے بدبو دار گٹروں میں داخل ہوتے ہیں۔

Advertisement

Trending