Connect with us

تازہ ترین

مردہ جسموں کا قبروں میں سلامت رہنے کا مغالطہ —- قاسم یعقوب

Published

on

’مغالطہ‘ غلطی سے ہے۔ یعنی ایسا فکری شبہ جس میں انسان حقیقت کی بجائے کسی سراب کو حقیقت سمجھ لے یا کسی سماجی عمل کے اردگرد توہمات کا تانا بانا بننے لگے۔ ایسا عمل عموماً ثقافتی اجتماع مل کر انجام دیتا ہے۔ اجتماع سے کٹ کے الگ سے کوئی چیز سوچنا یا اپنے شب و روز کا حصہ بنا لینا کسی فرد کے لیے اتنا آسان نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ انفرادی مغالطے کم پیدا ہوتے ہیں اگر ہو بھی جائیں تو ان کو ثقافتی اجتماع درست کر دیتا ہے مگر سماجی، مذہبی یا تاریخی مغالطے کوئی ایک فرد درست نہیں کر پاتا۔ یوں وہ صدیوں پرورش پاتے پاتے اجتماعی لاشعور کا حصہ بن جاتے ہیں۔

ہمارا اجتماعی ثقافتی عمل ہمیں بہت سے مغالطوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ہم نہ چاہتے ہوئے بھی اس مغالطوں کونہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ ان پر عمل کرنے ہی سے زندگی کی حدود کا تعین کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ پاکستانی معاشرہ ایسے فکری مغالطوں کی آماج گاہ ہے جو اپنی اصل میں بے بنیاد اور منحرف روایات سے تشکیل پاتے ہیں۔ ایساہی ایک مغالطہ ’’مردوں کا قبر میں زندہ ہونے‘‘ کا ہے۔

ہمارے ہاں (خصوصاً برصغیر کے مسلمانوں میں) یہ تصور عام ہے کہ اگر مردے کو دفنانے کے بہت دیر بعد بھی جسم قبر میں اپنی اصلی حالت میں موجود ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس پر رب العالمین کی خاص عنایت ہے، وہ گنہ گار نہیں۔ وہ عذاب سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ اسی تصور میں ہم سینکڑوں سال پرانی قبروں سے نکلنے والے مردوں کے اجسام کو اگر سہی سلامت پائیں تو اسے معجزہ اور مردے پر خدا کا خاص کرم گردانتے ہیں۔
کچھ دن پہلے میں نے ایک ایسے ہی مردے کا دیدار کیا، جسے کچھ دن پہلے قبر کے حوالے کیا تھا۔ قبر میں کچھ شکستگی کی وجہ سے اسے دوبارہ تعمیر کیا جانے لگا تو انکشاف ہوا کہ اس میں مردے کا جسم بالکل گل سڑگیا تھا اور اس پر کیڑوں نے اس بری طرح حملہ کر رکھا تھا کہ اب چند ہڈیاں ہی رہ گئی تھیں۔ لواحقین پر ایک خوف طاری ہوگیا۔ وہ اپنے بزرگ کو ایک انجانی تکلیف میں مبتلا تصور کرنے لگے۔ کچھ کے اذہان میں تو عذاب کا پورا منظر گھومنے لگا۔ میں خوداس خوف میں مبتلا رہا۔ پھر مجھے اپنے باپ کی قبر یاد آنے لگی کہ کیا واقعی اس کا جسم بھی گل سڑ گیا ہوگا اور خوفناک حشرات نے اس کے بدن کو کاٹ کھایا ہوگا؟ میں کئی دن اس کیفیت میں رہا۔ اس کے کچھ عرصے بعد ایک گفتگو میں مجھے ایسے جسموں کی کہانی سننے کو ملی جس میں مردوں کے جسموں کو سہی سلامت دیکھنے کے واقعات دہرائے جا رہے تھے۔ حتیٰ کہ کسی صحابی کی قبر کی نشان دہی بھی کی گئی کہ ان کی قبر کو جب کھولا گیا تو چود سو سال بعد بھی ان کے جسم سے خوشبو آرہی تھی اور بالکل اسی حالت میں تھی جس طرح اسے دفنایا گیا ہوگا۔
کچھ سوچ بچار کے بعد میں نے اس بارے جاننے کی ٹھانی، آخر معاملہ کیا ہے؟ میرے ذہن میں بہت سے سوالات گردش کرتے رہے:

۱۔ کیا ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں موجود سب قبروں کے اندر (کم از کم مسلمان) اپنے درست یا اسی حالت میں ہوں گے، جس طرح وہ دفنائے گئے تھے؟ اگر ایسا ممکن نہیں تو کیا یہ سب انسان گنہ گار اور خدا کے عذاب میں مبتلا تصور کیے جائیں؟
۲۔ ہمارا عمومی عقیدہ ہے کہ شہید زندہ ہوتے ہیں۔ کیا یہ علامتی ہے یا واقعی شہید اسی حالت میں اپنی قبروں میں ہوتے ہیں جس طرح وہ زندہ اپنی جسمانی حالت میں تھے؟ اگر ایسا ممکن نہیں تو کیا سارے مسمار ابدان شہید وں کو یہ تصور کیا جائے کہ وہ شہید ہی نہیں ہوئے یا حق پر شہید نہیں ہوئے اور اب عذاب میں مبتلا ہیں؟

یقین مانیں میں بہت پریشان ہوا۔ مجھے تو قوی یقین ہے کہ میں گنہ گار شخص ہوں اور اپنے رب کے حضور حاضری کے وقت شرمسار ہوں گا۔ میرا بدن تو پلک جھپکتے ہی قبر میں خوف ناک کیڑوں کا حصہ بن جائے گا۔ اگر کسی نے قبر کشائی کی یا کسی حادثے کے نتیجے میں میرا جسم دیکھ لیا تو مجھے زندوں کی دنیا میں کیسا تصور کیا جائے گا؟ پھر مجھے اختر رضا سلیمی کا ناول’’ جندر‘‘ یاد آیا جس میں جندر کا مالک اپنے مرنے سے کچھ دیر پہلے اپنی موت کا تصور کرتا ہے۔ اقتباس ذرا طویل ہے مگر برمحل، پورا پڑھیے:

’’اس لیے یہ بھی ممکنات میں سے ہے کہ مطلوبہ شخص اگلے دس بل کہ پندرہ دنوں میں بھی یہاں سے نہ گزرے۔ ایسی صورت میں میری لاش یقیناگل سڑ چکی ہوگی اور کیڑے مکوڑے اور چونٹیاں، جن کا رزق کی تلاش میں آنا جانا ویسے بھی یہاں لگا رہتا تھا، میری ہڈیوں پر موجود ماس، جو گزشتہ پینتالیس دنوں میں، خالی گھومتے جندر کی کوک کی شدت نے، ان کی آسانی کے لیے، میری ہڈیوں سے علاحدہ کر دیا ہے، اپنا رزق بنا چکی ہوں گی۔
میں اگرچہ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا مگر زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ وہ اس کام کا آغاز میرے چہرے سے کریں گی کہ سردی کی وجہ سے مرتے ہوئے بھی میراباقی جسم اسی طرح رضائی میں لپٹا ہوگا اور یہ نقاہت؛ جس کا آغاز تو کئی دن پہلے ہی ہو چکا تھا مگر گزشتہ شام سے اس میں کچھ زیادہ ہی تیزی آگئی ہے، مجھے اس قابل نہیں چھوڑے گی کہ آخری وقت میں، مَیں ٹانگوں یا جسم کے کسی دوسرے حصے پرسے رضائی کھسکا سکوں۔ زیادہ قرین قیاس بات تو یہ ہے کہ وہ مجھے نوچ کر لے جانے کا آغاز میری آنکھوں کی سفید پتلیوں سے کریں گی____ جو اس وقت تک مزید سفید ہو چکی ہوں گی___ اورجن سے میں انھیں ٹولیوں کی شکل میں یہاں آتے اور اپنا رزق لے جاتے دیکھا کرتا تھا۔ پہلے مرحلے میں آنے والی چیونٹیوں کی ٹولی، رضائی میں لپٹے میرے دھڑ پرسے سفر کرتی ہوئی جب زرد ہو چکے میرے چہرے تک پہنچے گی تواسے میری سفید پتلیاں، آٹے کے مانند لگیں گی۔ ٹولی میں موجود چیونٹیاں پہلے تو اپنے اپنے چھ پیروں میں سے دو درمیانے پیروں کومضبوطی سے جماکر کھڑی ہو جائیں گی پھر اگلے دو پیروں کو حرکت میں لاکر میری پتلیوں کا ماس کھودنے اور پچھلے دو پیرکے ذریعے اسے ایک طرف ہٹانے کی کوشش کریں گی، لیکن تھوڑی ہی دیر کی محنت مشقت کے بعد انھیں اندازہ ہو جائے گا کہ اسے کھودنے کی کوششیں بے کار ہیں۔ پھر وہ اپنے پیروں کے بجائے اپنے سر پر لگی ’’زندہ قینچی‘‘ کو عمل میں لا کر انھیں کترنا شروع کردیں گی۔ اسی دوران میں وہ، ایک نامعلوم مواصلاتی رابطے کے ذریعے زیرِزمین، اپنے تاریک گھروں میں موجود، باقی ساتھیوں کو بھی فوراً آگاہ کردیں گی اور اطلاع پاتے ہی وہاں موجود بے شمار چیونٹیاں، گھروں کے برآمدوں میں بے حس و حرکت لٹکی اپنی اپنی ٹوکریوں کی طرف دوڑ پڑیں گی اور اس وقت تک اپنی نوکیلی مونچھوں کے ذریعے، انھیں بار بار چھوتی رہیں گی جب تک وہ زندہ ہو کر حرکت نہ کرنے لگیں۔ جوں ہی ٹوکریاں حرکت کریں گی ان کے جبڑے کھل جائیں گے اور ان کے لبوں سے رس کے قطرے ٹپکنا شروع ہو جائیں گے ہر چیونٹی اپنی اپنی ٹوکری کا رس چاٹتے ہی تازہ دم ہو کر مزدوری کرنے میری چل کی طرف چل پڑے گی اور ان کا یہاں آنا جانا اس وقت تک لگا رہے گا جب تک میرے چہرے پر ماس کا ایک بھی ریشہ باقی ہے۔

سانپ، چھپکلیاں، لال بیگ اور دوسرے کیڑے مکوڑے بھی اس سلسلے میں ان کا ہاتھ بٹائیںگے، لیکن ان میں سے بیشتر ایسے ہوں گے جنھیں میرے باسی گوشت سے زیادہ ان زندہ چیونٹیوں سے دلچسپی ہوگی۔ ہاں جب کوئی کیڑا مکوڑا کسی اجنبی جنس کے کیڑے مکوڑے کو جا دبوچے گا تو چیونٹیوںکے ہاتھ بھی کچھ تازہ گوشت لگ ہی جائے گا اور وہ میرے جسم کو چھوڑ کر اس کی لاش پر پل پڑیں گی۔ ان میں سے کچھ چیونٹیاں میرے کھلے ہوئے منہ کے رستے پیٹ کی طرف اورکچھ نتھنوں کے ذریعے دماغ کی طرف سفر کریں گی اور میرے دماغ کے پیچیدہ تانے بانے کو، جنھیں بابا جمال دین کی سنائی ہوئی لوک داستانوں اور کتابوں میں پڑھی ہوئی کہانیوں نے اور بھی پیچیدہ بنادیا ہے، یوں ادھیڑ کر رکھ دیں گی جیسے ہاتھوں سے بُنی سویٹر کو ایک دھاگا کھینچ کر آسانی سے ادھیڑ لیا جاتا ہے۔ میری یادداشت کو محفوظ رکھنے والے خلیے تویقینا ان کا رزق بن جائیں گے لیکن میں ان ہزاروں کرداروں کے انجام کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، جنھوں نے کہانیوں سے نکل کر میری یادداشت میں پناہ لی تھی؛ اور نہ ان خوابوں کے بارے میں جنھیں اس کائنات میں صرف میں نے دیکھا۔

چہرے کو چھوڑ کر جسم کا نچلا حصہ، جو رضائی میں لپٹا ہوگا، اس کے ان چیونٹیوں اورکیڑے مکوڑوں کا رزق بننے کی نوبت ہی نہیں آئے گی کہ روئی کی گرمائش سے، اس میں آہستہ آہستہ خود بخود کیڑے پیدا ہونا شروع ہو جائیں گے جو اس وقت تک کلبلاتے رہیں گے جب تک انھیں، میرے تن کا گل سڑ چکا ماس، دستیاب رہے گا، جوں ہی یہ ماس ختم ہو گا ان کی زندگی کا بھی اختتام شروع ہو جائے گا اور پھر ان کی گرتی لاشیں بھی باہر سے آئے ہوئے، کیڑوں مکوڑوں اور چیونٹیوں کے کام آئیں گی۔ ‘‘
(جندر [ناول]، اختر رضا سلیمی)

ناول کا یہ طویل اقتباس یہاں سنانا اس لیے بھی ضروری تھا کہ یہ ہم اس عمومی تصور کو پہچان سکیں کہ جو ہر مرنے والا خود بھی تصور کر رہا ہوتا ہے۔ یہ مغالطہ اب اس قدر مضبوط ہو گیا ہے کہ ہم خودہی دنیا میں کسی کے بخشنے اور عذاب میں مبتلا ہونے کے فیصلے کرنے لگے ہیں۔ اس تصور کو دینیات میں ’بدعت‘ کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں مذہبی سکالرز ’بدعیات‘ کی توجیح و توضیح کرتے نہیں تھکتے مگر ایسی درجنوں بدعیات پر کبھی توجہ نہیں دلاتے جو ہمارے ثقافتی اقدار سے جنم لے کر ہماری فکری جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہیں۔

میں اس سلسلے میں سب سے پہلے مذہبی تحقیق کی کہ کیاقرآن و حدیث میں ایسا کوئی تصور موجود ہے کہ قبر میں جسم کے سلامت ہونے سے گنہ و ثواب کا کوئی فلسفہ جوڑا جا سکے؟ اسلام میں ایسی کوئی روایت موجود نہیں کہ اسے دینیات کا جزو قرار دیا جا سکے۔ بلکہ مٹی میں دفنانے کا عمل ہی اس بات کی علامت ہے کہ اسے زمین کے حوالے کر دیا گیا ہے یعنی زمین کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ وہ جسم جو مٹی کے سپرد کر دیا گیا ہو، اس کا اسی طرح زندہ و سلامت رہنے کا کیا جواز؟یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ انسان اپنی بقا کی کیسی کیسی بھونڈی شکلوں کو بھی قبول کر لیتا ہے جو خواہ دھوکہ ہی کیوں نہ ہو۔ انسان مرنا کیوں نہیں چاہتا؟ وہ کیوں چاہتا ہے کہ وہ بے جان ہوکے بھی اسی طرح زندہ رہے جس طرح جان دار ہوتے ہوئے تھا۔ کیا یہ خودفریبی نہیں؟

میرے ذہن میں دوسرا سوال یہ آیا کہ پھر کیا وجوہات ہیں جس کی بنا پر انسان کا جسم قبر میں مٹی میں دفنانے کے باوجود مٹی کا حصہ نہیں بنتا؟ اگر یہ گنہ و ثواب کا مسئلہ نہیں تو پھر یہ ’’سلامت‘‘ کیسے رہ گیا؟ میرے ان سوالوں کا جواب میرے عزیز دوست فیاض ندیم نے دیا۔ فیاض حیاتیات پڑھاتے ہیں اورآج کل امریکہ میں اپنی ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ لکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ بدن اپنی جسمانی حالت میں اس قدر خشک ہو چکے ہوتے ہیں کہ ان کی Decompositionکا عمل بہت دیر میں ہوتا ہے۔ ایسے جسموں کے علاوہ بہت کچھ قبر کی مٹی، زمین کی کیمیائی حالت وغیرہ پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ عمومی طور پر جسم میں پانی اور نمکیات کی وجہ سے بدن جلدی گلنا شروع کر دیتا ہے مگر کچھ جسم ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں ان کی کمی گلنے سڑنے کے عمل کو سست کر دیتی ہے یا مکمل طور پر روک دیتی ہے۔

بعض قبریں درجہ حرارت کی بدولت یا کیمیائی عملوں کے نتیجے میں مردوں کی mummification کر دیتی ہیں، جس طرح فریج کا یک بستہ ماحول گوشت کی Decomposition روک دیتا ہے۔ یوں مردہ قبر کے ’جار‘ میں mummify ہو کے رہ جاتا ہے۔ انسان جب مرتا ہے تو سب سے پہلے اس کا دل حرکت کرنا بند کردیتا ہے۔ جس سے بدن کو خون ملنا بند ہو جاتا ہے۔ مرنے والے کا چہرہ زردی مائل ہو جاتا ہے۔ ایک اہم بات کہ انسانی جسم کا درجہ حرارت جو کہ عمومی طور پر98.6°F ہوتا ہے کم ہوتے ہوتے ماحول کے درجہ حرارت جو عمومی طور پر 70°F تک ہوتا ہے، کے قریب چلا جاتا ہے۔ اس حالت میں بیکٹیریا جسم میں داخل ہونے لگتے ہیں جو بدن میں مقعد، اندامِ نہانی، ناک، منہ اورآنکھوں دیگر سوراخوں سے داخل ہونے لگتے ہیں۔ کچھ جسموں میں یہ گلنے سڑنے کا عمل نہیں ہوتا، بلکہ جسم حنوط ہو جاتے ہیں۔ قبر میں جسم کے ممی بن جانے کا عمل بہت کم درجہ حرارت کے علاوہ کم نمی (Humidity) کے ہونے یا ہوا کے بالکل نہ ہونے سے بھی انجام پذیر ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات جسم کی Decomposition جو اینٹی بیکٹیریا کے حملہ آور ہونے سے شروع ہو جاتی ہے، کچھ ٹیشوز کے سکڑنے یا خشک ہو جانے سے بھی رُک جاتی ہے۔ یوں جسم جس حالت میں ہوتا ہے وہیں رُک جاتا ہے، اس میں مزید تخریب ہونا بند ہو جاتی ہے۔ Mummification کا یہ عمل ایک جسم کو ہزاروں سال بھی ’’سلامت‘‘ رکھ سکتا ہے۔

لہٰذا مذہبی حوالے سے یہ بہت بڑا مغالطہ ہے (جسے مذہبی ’بدعت‘ بھی کہا جا سکتا ہے) کہ انسان کا جسم اگر قبر میں سلامت رہتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مردہ بہت نیک یا خدا کا خاص محبوب ہے۔ آپ اس مغالطے کا اندازہ ان سوالوں سے بھی لگائیں جو اکثراوقات مذہبی علما سے پوچھا جاتا ہے اوروہ اسے کسی مذہبی روایت کے نہ ہونے کے باوجود ایک حقیقت بتاتے ہیں۔ ادارہ ’’دارالاافتا‘‘ سے جب سوال کیا گیا کہ کیا مردے کا جسم محفوظ رہتا ہے تو انھوں نے اپنی طرف سے جواب دیا کہ کچھ خاص بندوں کے جسموں کو خدا محفوظ کر دیتا ہے، جب کہ ان کے پاس، ان ہی کے بقول ایسی کوئی آیت یا حدیث موجود نہیں جس سے تائید لی جائے۔ ملاحظہ ہو:

https://darulifta-deoband.com/home/ur/islamic-beliefs/37601
لہٰذا س تصور کی ایک مغالطہ سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں، جسے درست کیا جانا ضروری ہے۔

Advertisement

Trending