Connect with us

تازہ ترین

عشقِ ناتمام، ادھوری محبتوں کی داستان —– نعیم الرحمٰن

Published

on

چوہدری محمدخان قلندر نے ریٹائرمنٹ کے بعد قلم کی دنیا میں قدم رکھا اور پہلی ہی کتاب سے قارئین کے دل میں گھر کرلیا۔ چوہدری صاحب مختصر اور ٹودی پوائنٹ بات کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی ابتدائی دونوں کتابیں ’’بادبان‘‘ اور ’’داستانِ زیست‘‘ مختصر بیانی کی بہترین مثال ہیں۔ وہ بہت سی ان کہی بھی بین السطور کہنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ جنس اورہمارے معاشرے کی ممنوعہ اشیا کا ذکر بھی اسی روانی اور سادگی سے کر جاتے ہیں کہ تحریرکا حسن بھی متاثرنہ ہو اور بات کہہ بھی دی جائے، یہ ہنربہت کم ادیبوں کو نصیب ہوتا ہے۔ حالیہ چند برسوں میں کئی ادیبوں نے ساٹھ ستر سال کی عمر میں لکھنا شروع کیا اور اپنا سکہ جمانے میں بھی کامیاب رہے۔ ان میں محمد اقبال دیوان اور محمد خان قلندر کا نام سرفہرست ہے۔ محمد خان قلندر کو اردو ادب سے متعارف کرانے کا سہرا ایمل پبلشرز کے شاہداعوان کے سر ہے۔ ایمل نے بہت زیادہ کتب شائع نہیں کیں۔ لیکن جو بھی شائع کیں منفرد اور اپنے موضوع پراختصاص رکھتی ہیں۔ چوہدری محمد خان قلندر کی تیسری کتاب ’’عشقِ ناتمام‘‘ حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ کہانیوں، افسانوں اور افسانچوں کے اس کتاب کا ذیلی عنوان ’’ادھوری محبتوں کی داستان‘‘ ٹائٹل پر ہی دیا گیا ہے۔ مصنف کی اختصار بیانی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ایک سو چوراسی صفحات کی کتاب میں بیالیس کہانیاں، افسانے اور افسانچے شامل ہیں۔ ان میں سب سے طویل کہانی ’’قلندر کی ہیر‘‘ چوبیس اور ’’بقائن‘‘ اٹھارہ صفحات پر محیط ہیں جبکہ دیگرتمام دو سے چار چھ صفحات کی ہیں۔

ایک مضمون میں دانش میں ہی کیوں؟ کے عنوان سے چوہدری محمدخان قلندرلکھتے ہیں۔ ’’دانش گروپ سے دلچسپی کے اسباب بھی دلچسپ ہیں۔ پہلاسبب علاقائی عصبیت، شمالی پنجاب کے تین قدیمی اضلاع اٹک، جہلم اورخوشاب کے باسیوں کی روایت ہے کہ کسی سے پہلی ملاقات میں اس کے گاؤں کانام پوچھتے ہیں، پھرآپس میں ڈاکخانہ ملاتے ہیں، جس سے ان کے بیچ گرائیں کارشتہ بن جاتاہے یہ رشتہ محض دوستی تک نہیں رہتابلکہ نسلوں تک چلتاہے۔ دانش کے منتظم شاہداعوان سے تعارف میں یہی ہوا۔ شاہداعوان کی علمی وادبی شخصیت ان کی عمرسے کہیں بڑھ کرہے۔ میرمحفل کے طور پرجس قدر ذوق وشوق سے دانش کی محفل سجائی گئی وہی اپنی مثال آپ کہی جاسکتی ہے۔ اہم ترین وجہ فتح محمد ملک کی مجلس مشاورت میں تصویرکی موجودگی بنی، دوسری وجہ دانش کے دیگراحباب کی فیس بک پرتحاریر اوردانش ویب پرچھپنے والے مضا مین ہیں جوپڑھتے آرہے ہیں پھرحبیبہ طلعت کی خوبصورت تمہید اورعمدہ انتخاب بھی ہے، دیگراحباب سینئر مدیرمیاں ارشدفاروق اورچوہدری بابرعباس سے بھی مراسم ہیں ٹیم کے دیگراراکین اور لکھاری بھی اپنی سنجیدہ، ادبی، سماجی اورسیاسی وعالمی موضوعات کی تخلیقات سے پختگی اور معیار کا تاثر چھوڑتے ہیں ان سب باتوں کے علاوہ دانش کا ادارتی معیاراہم ترین وجہ ہے۔ ‘‘

سینئرکہانی نویس اوردانشوراحمداقبال نے محمدخان قلندرکی فکروفن کاجائزہ کس خوبصورتی سے لیاہے۔

’’ محمد خان قلندرکی کہانیوں کے مجموعے کا عنوان یوں تو’’عشق ناتمام ‘‘ہے لیکن یہ حقیقت اور مجازسے کچھ الگ ایک تہذیبی عشق ہے جو روایات سے وابستہ ہے چنانچہ ان کی مختصر اور مختصر ترین کہانیاں زندگی کی کسی البم میں لگی تصویریں ہیں۔ ہر کہانی ایک مختلف وقت اورماحول کا نیا منظر پیش کرتی ہے۔ کہیں آپ بیتی تو کہیں جگ بیتی۔ آغازمیں ہی الجبرابھائی سے ذہن میں کوئی نقش ابھرآتاہے۔ ہاں۔ یہ تو بالکل فلاں ہیں۔ ہیرامنڈی سے بلال گنج میں نواب کالاباغ کا وہ دور یاد آتاہے جب لاہورکے تہذیبی مزاج کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کا انجام کہانی کے انجام میں سامنے آتاہے۔ پھرجیسے ڈرون کیمرہ چکوال پر فوکس ہوگیا۔ میں بھی پوٹھوہارکی ڈھوک، گھلوٹے، کسی، لانگڑ، جندروالے کلچرہی کاپروردہ ہوں مگرمیں نے شیزان اور سلور گرل یامال روڈ کے حوالوں والی تہذیب کامزابھی لیا۔ ان تمام چشم دید یا سرگزشتی افسانوں میں اگر سیکس کیموفلاج محسوس ہوتی ہے تووہ بھی مشاہدے کی شدت اور فوکس کاکمال ہے۔ شہوت کی ہلکی آنچ جلتی رہے توٹھنڈے دودھ میں بھی ابال آجاتاہے۔ دوسری جگہ جنسی عضلات کو فعال کرنے کے دوطریقے مقامی ’’لوک طب‘‘ کا انداز تھے۔ غیرمردسے مباشرت یاایک خاص دوائی والاحلوہ۔ میں اس خطے کی کلچرل زندگی سے واقف ضرور ہوں مگرافسانہ نگار کی طرح دیہی فکر کی تہہ تک انہی مختصر کہانیوں کی وساطت سے پہنچا۔ ‘‘

مختصرپیش لفظ میں چوہدری صاحب لکھتے ہیں۔

’’ہم نے حسبِ وعدہ کوہستان نمک کی وادیوں میں نقش ہوئی کہانیاں داستان کی ہیں۔ اہم ترین پہلویہ ہے کہ ان کہانیوں کے اصل کردارزیادہ ترہمارے کالج سے یونیورسٹی تک کے دوست ہیں جن کے ہم ہمرازتھے، کچھ ہاسٹل فیلو ہیں اورکچھ ہم جماعت و ہم نشین۔ ہم نے زیادہ کہانیاں صیغہ واحدمتکلم اور واحد حاضر میں قلمبند کی ہیں۔ بلاشبہ یہ وارداتیں ہم پہ ہرگز وارد نہ ہوئیں، ہم تو وقائع نویس بن گئے کہ ادب وانشامیں جمع متکلم میں لکھنا بیانیہ کی جاذبیت کھو دیتا ہے۔ اس وضاحت کے بعداگر ہمارے قاری یارہمیں ہیرو بناتے ہیںتوزہے نصیب۔ بچپن میں ’’گلابی اردو‘‘ سنتے اور پڑھتے تھے۔ زبان کی جان رسم الخط ہے۔ پنجابی کہتے ہیں گرومکھی میں لکھی جاتی تھی۔ پنجاب تقسیم ہوا، توگرومکھی غیر مسلم ٹھہری۔ جیسے سکھ سارے ہندو بنائے گئے اورمغربی پنجاب اور پاکستان سے نقل مکانی کر گئے۔ اسی طرح پنجابی اردورسم الخط میں مدغم ہوگئی جیسے اردوبولنے والوں اور پنجابی سپیکنگ خاندان باہم رشتے کر نے لگے۔ اب ماضی تو پلٹنے سے رہا، پر پنجابی بولی جاتی ہے، لکھی جاتی ہے، اردولغت میں۔ کوشش اب بس یہ ہے کہ ہمالیہ کے گودنشین کوہستان نمک کی وادیوں کی سچی کہانیاں کسی نہ کسی طرح ست رنگی موجودہ لغت استعمال کرتے محفوظ ہوجائے۔ پنجابی کلچر، روایات بہت سخت جان ہے، پینڈوپن کے طعنے برداشت کیے اور بہت زیادتی بھی بھگت لی، لیکن اتنا خوبصورت علاقہ جو انگریز شعراکی منظرنگاری کو ہیچ رکھتاہے۔ اسے بس تھوڑی سے لکھت کی مدد درکار ہے۔ انشااللہ بہت جلد ایک اور کتاب تالیف کرتے ہیں۔ ‘‘

ایک اورمضمون میں محمدخان قلندرنے لکھاہے۔

’’مالک نے جو ہنرعطا کیا ہے، پچاس بعدبھی اردوکی لغت ذہن میںموجودہے ہرموضوع پر معلومات اور مشاہدات جوچھ عشروں پر محیط ہیں یاد سے دستیاب ہیں اب دوستوں کا ساتھ رہا تو انشااللہ حتی المقدور کاوش ہوگی کہ بامقصداور سشتہ تحریرلکھی جائے اور شائستگی سے پیش کی جائے۔ ‘‘

اس طرح محمدخان قلندرنے مزیدکتب کابھی وعدہ کیاہے۔ ان کااسلوب سادہ اوربے تکلف ہے، وہ قاری کولفظوں کی بھول بھلیوں میں نہیں الجھاتے، بس مقصد کی بات کرتے ہیں، تفصیلات بیان کرنے کے بجائے منظرکچھ اس طرح دکھاتے ہیں کہ وہ واقعہ قاری کی آنکھوں میں پھرجاتاہے۔ نہ مبالغہ نہ جزئیات نگاری، اسی لیے ان کی کتب ضخیم نہیں بلکہ انتہائی دلچسپ اورقابل مطالعہ ہیں۔

حبیبہ طلعت نے ’’عشقِ ناتمام‘‘کے فلیپ پر کتاب کاعمدہ جائزہ لیاہے۔

’’کہانی چاہے طویل ہویامختصر، زر، زن اورزمین کی بنیادی مثلث کے تینوں زاویوں میں سے کسی ایک کاعمل دخل لازمی ہوگا۔ افسانوں کا یہ مجموعہ کسی قوم کی مکمل معاشرت کی عکاسی ہے، علوم وفنون کابیان ہے، پیشے اورپیشے سے جڑی عادات کا جائزہ ہے، دیہی سماج کے ریت رواج، عرس تہوار، میلے ٹھیلے اورفصلوں کابیان بھی ہے ساتھ ہی شہری زندگی کی چکاچوند اور معیار زندگی کے ساتھ جڑے مخصوص کرداروں کی تام جھام بھی ملے گی۔ ادب اورثقافت کا باہمی تال میل ہی ان کے افسانوں کااثاثہ ہے۔ محمدخان صاحب کے اسلوب نگارش کاکمال یہ ہے کہ افسانوں میں کردارکی خوبیاں خامیاں بیان نہیں کرتے بلکہ کردار کے گردکہانی کی بنت ایسی مہارت سے کرتے ہیں کہ ’’جوجہاں ہے جیساہے‘‘ کی بنیاد پر زندہ کردار مجسم ہو کر سامنے آجاتے ہیں۔ بقائن کی شکیلہ ہو یا قلندر کی پیر کی گلاں، سوتیلی بیوی کا فیروز ہو یا چاچی مکھاں کا دینو چاچا، ان سب کرداروں کے ماحول اور چال ڈھال کی عکاسی اس خوبی سے کی ہے کہ افسانہ ختم ہوجاتاہے مگر کردار اپنے قاری کے ذہن میں بسیرا کرلیتا ہے۔ بقائن اور قلندر کی ہیر، چوہدری محمد خان کے قلم سے نکلے وہ افسانے ہیں جن پر مصنف کو بجا طور پر ناز ہے۔ افسا نے کے پیچ و خم، کرداروں کی تراش خراش اور نفسیاتی گرہوں کا بیان ایک جاندار پلاٹ پرعمدگی سے پیش کیا گیاہے۔ ‘‘

سب رنگ کے شکیل عادل زادہ کی طرح محمدخان قلندرنے اکثرکہانیوں پرمختصردلچسپ نوٹ بھی لکھے ہیں۔

’’بخشو ماشکی، کھوتا اور بیگوبھٹیارن ‘‘ کے آغاز پر لکھاہے۔ ’’یہ کہانی نصف صدی قبل تک چکوال کی پرانی سبزی منڈی سے موتی بازارتک روزانہ کوئی نیا موڑ لیتی تھی۔ کب سے یہ ذہن میں بھن بھنارہی ہے۔ اسے قلمبندکرنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی، اب پیش خدمت ہے۔ ‘‘

دوصفحے کہانی کاآغازکچھ یوں ہے۔

’’بڑے کہتے تھے عورت دومنہ والی مادہ سانپ ہے، چاہے توکسی کمزواورنحیف مردکوراس پوتین بنادے اور چاہے توکسی میچومین کو ایسا ڈنک مارے کہ وہ پھن اٹھانے کے قابل ہی نہ رہے۔ پھرہم نے ایسا ہوتا ہوا بھی دیکھا۔ ‘‘

اس مختصرکہانی میں مصنف نے ان کہی کواس خوبصورتی سے بیان کیاہے کہ بقول شاعر ’’کچھ بھی نہ کہااورکہہ بھی گئے۔ ‘‘پڑھنے والابیان کا لطف دیر تک اٹھاتا ہے۔ دوصفحے کے افسانے کاکرداربیگوبھٹیارن ادب کا ایک زندہ جاویدکرداربن جاتاہے۔ بیگو کی زبان سے نکلے جملے ’’اتنی سی بلی اور شور گلی گلی، مجھے کھجلی نہیں ہوتی، کہ اس سے کھجاؤں‘‘ کا قاری افسانہ ختم کرکے بھی دیرتک لطف اٹھاتاہے۔

افسانہ ’’الجبرا بھائی جان‘‘ کے مرکزی کردارجیسے کردارہمیں اردگرد نظرآتے ہیں۔ ہرکسی کے کام آنے والے لیکن پڑھائی میں پھسڈی جوراوی سے اسکول میں بہت آگے تھے، لیکن جب وہ مڈل میں ددسری بارفیل ہوئے توراوی ہائی اسکول پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے وجہ پوچھی توبتایاکہ الجبراان کو آتاہے نہ بھاتا ہے۔ اب اس زمانے میں ایسی بات کہنے والے کی پہچان بن جاتی تھی توجابربھائی الجبرابھائی بن گئے۔

افسانہ ’’بخت بانو‘‘ کا کیپشن ہے۔ ’’ایک لرزہ خیز حکایت: بی بی بخت بانو ایک ہی وقت خوش بخت ترین یابدنصیب ترین خاتون تھی یانہیںاس کافیصلہ آپ اس کی کہانی پڑھ کرکیجیے۔ ‘‘

اس کیپشن کے ساتھ تحریرکہانی قاری کی پوری توجہ حاصل کرلیتی ہے۔ یہ چودھری رنگوکی کہانی ہے جس کی پہلی بیوی سے دس سال اولاد نہیں ہو ئی تو کم حیثیت خاندان میں دوسری شادی کرادی گئی۔ جس سے بیٹابہاول خان اورپانچ سال بعدبیٹی بخت بانوپیدا ہوئی۔ توزچگی میں ماں مر گئی۔ بچی کی رضاعت ایک مزارعے کی بیوی کودی گئی۔ بہاول کے اطوار اچھے نہ تھے۔ میٹرک میں دوبار فیل ہونے تک اس کاگاؤں کے گردونواح کے آوارہ لڑکوں کا گروپ بن چکاتھا۔ بخت بانوکی مذہبی اوربنیادی تعلیم حویلی کے اندرہوئی۔ باقی علم اس نے اپنی ذہانت اور مطالعہ سے حاصل کرلیا۔ جب اس کی عمر اٹھارہ سال ہوئی توچودھری نے خلاف روایت ایک فیصلہ کیاجو زمین اورکنویں رضاعت کے لیے دے چکاتھا، ان کے علاوہ ساری جائیدادکاتیسرا حصہ، پٹواری اور تحصیلدار کو حویلی بلاکے، بخت بانوکے نام ہبہ انتقال کرکے جمع بندی میں ملکیت، خودکاشت کے اندراج بھی کروادیے۔ اس امرکی منادی عام بھی کرادی۔ بہاول کے رشتے کی بات چودھری رنگو کے کزن کے ہاں طے ہوچکی تھی بس شادی کی تاریخ دیناباقی تھی۔ بخت بانوکے نام جائیداد پرسب کی نظر تھی تورشتے بھی آرہے تھے۔ بہاول کا ہونے والے سالے نے بھی بانو کا رشتہ مانگا۔ چودھری کی پہلی بیوی کے بھائی کابیٹا جوایم اے کر کے لیکچرار بن چکا تھا۔ بھی رشتے کا طلبگار ہوا۔ چودھری نے اس شرط پہ حامی بھرلی کہ لڑکاحویلی آئے اوربخت بانو اگراسے پسندکرے تو فیصلہ ہوگا۔ اب بہاول کے سمجھ آئی بخت بانوکی شادی پروفیسرجیسے پڑھے لکھے اوربارسوخ خاندان میں ہوگئی تووہ نہ صرف جائیدادکے حصے سے محروم ہوگا بلکہ شاید شادی بھی نہ کرسکے۔ بہاول کے سسرال والوں کی نظریں توتھیں جائیداد پر۔ اس نے مل کر بخت بانوکواغواکرنے کا منصوبہ بنالیا۔ ایک اغواشدہ لڑکی سے کون شادی پہ تیار ہوگا۔ آخراحسان کرکے بہاول کا سالا جس نے دوران اغوااسے رکھنا بھی تھا۔ وہ ہی شادی کرلے گا۔ بہاول، بخت بانو کو خود بلا کر لے گیا۔ بہن ساتھ چل پڑی۔ بہاول نے اسے بیٹھک کے دروازے کے اندر کھینچا۔ بخت بانوکے سلیپراترگئے یااس نے خوداتارے۔ بیٹھک کے اندرتین بندے موجودتھے۔ جنہوں نے اسے اٹھا کر سڑک پر کھڑی گاڑی میں ڈال دیا۔ صبح بخت بانو کی رضاعی ماں نے سلیپر دیکھے۔ وہ گھبرائی ہوئی چودھری کے کمرے میں داخل ہوئی اور بتایا کہ بخت بانو کمرے میں نہیں ہے۔ چودھری نے پانی منگوا کر منہ ہاتھ دھویا، نوکروں کو مہمانوں کے آنے پرانھیں سیدھا حویلی کے اندرلان اوران کے لیے ناشتہ بنانے کاکہا۔ ڈرائیورسے گاڑی نکلوائی اور پولیس چوکی پہنچا۔ انچارج سے بات کی، واپس حویلی پہنچا تو پولیس بھی پہنچ گئی۔ بیٹھک کھولی گئی، چودھری کے ہاتھ میں پسٹل تھی۔ اس نے بہاول سے کہا مجھے ایک گھنٹے کے اندر بیٹی چاہیے۔ تھانیدار نے بہاول کو پکڑکے جیپ میں بٹھایا تو چودھری کی آوازگونجی: تھانیدار صاحب گڑبڑ ہوتو سب سے پہلے اسے گولی مارنا اور پولیس گاڑی کے ساتھ اپنی کار بھی بھجوادی۔ چودھری لگتا تھا بوڑھا ہوا ہی نہیں۔ اپنے کمرے میں گیا، شیروانی پہنی، کلے والی پگ سرپہ سجائی اور رائفل لوڈ کرکے باہر آرہا تھا کہ گاڑیوں کی آواز آئی۔ بخت بانو کار سے اتری اور باپ کے گلے لگ گئی۔ انتہائی دلچسپ اورتاثراتی کہانی ہے۔ جس کا انجام پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ جس سے فوک وزڈم کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے۔

’’مرزاصاحباں ‘‘ کے روایتی عشق کی داستان کوچوہدری محمدخان قلندر نے ایک نئے اوردلچسپ پیرائے میں بیان کیاہے۔ جس میں روایتی داستان کاحسن بھی ہے اورنئے دورکی دلچسپیاں بھی۔ صاحباں کھیواگاؤں کی مالدارحسینہ تھی۔ مرحومہ ماں کاملکیتی رقبہ بھی صاحباں کے نام منتقل ہواتھا۔ میرزاخود صاحب جائیداد تھا۔ صاحباں کے بے محاباحسن اوردولت کے لیے صاحباں کی سوتیلی ماں کادورپارکارشتہ دار ظاہر خان، اچانک منظرعام پرنمودارہوگیا۔ والد نے سوتیلی ماں کے اصرارپرجاہ وحشمت کے مظہر، ظاہرخان سے طے کردیا۔ صاحباں کے مرزا کے ساتھ حویلی سے باہرجانے پرپاپندی لگ گئی۔ صاحباں کے چارسوتیلے بھائی اوردو دودھ شریک بھائی ڈنڈا کھونڈا سے لیس گشت کر نے لگے۔ یک یکسرنئی اورانوکھی کہانی نے جنم لے لیا۔ بقول سیف الدین سیف
سیف اندازِ بیاں رنگ بدل دیتاہے۔ ۔ ۔ ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

محمدخان قلندرکا سادہ اوردلچسپ اندازِ بیان ہرقصے کومنفردرنگ دے دیتاہے اورقاری پورا قصہ پڑھنے کے بعدبھی کافی دیراس میں گم رہتا ہے اوراس کی کئی پرتیں رفتہ رفتہ اس پر کھلتی ہیں۔ یوں وہ تادیراس کہانی سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہے۔ ’’ادھوری کہانی‘‘ کا ذکر کریں، تویہ راوی اورصوفیہ نورالعین عرف صوفی کے انوکھے پیارکی کہانی ہے۔ صوفی راوی کے دوست کی بیٹی زیب کی سہیلی تھی۔ راوی کی صوفی سے اچھی دوستی ہوگئی، روز کی ملاقاتیں معمول بن گئیں۔ صوفی نے لندن کی خالہ کے بیٹے سے رشتے کی بھی اطلاع اس طرح دی۔ ’’میری خالہ پاگل ہے، مجھے لندن کے خواب دکھا رہی ہے۔ میں نے امی کو بتادیا کہ وہ یہاں کسی ریڑھی والے سے میری شادی آپ کے توسط سے کردے۔ آپ کو ملنے میں مسئلہ نہ ہوتومیں نبھالوں گی۔ لندن میری جوتی بھی نہیں جائے گی۔ ‘‘

یونیورسٹی کے آخری دن صوفی کاوائیواتھا۔ صوفی ایک کارسے اتری اوراس نے ڈرائیونگ سیٹ سے اترنے والے شخص سے تعارف کرایا۔ یہ میرے پروفیسر ہیں۔ راوی کے دل میں جدائی کاجوخوف تھا، شک اوروہم نے اسے بڑھادیا۔ گاڑی سیدھی ہوسٹل پرجاروکی اورصوفی سے کہا’’بہترہے تم خالہ کی بات مان لو۔ ‘‘ پہلی دفعہ صوفی چپ رہی۔ اپناپرس گاڑی میں چھوڑ کر وہ ہاسٹل کے اندرچلی گئی۔ لوٹ کے آئی تواس کے ہاتھ میں وہ تمام تحائف تھے جو راوی نے اسے دیے تھے۔ پھراس نے کانوں سے بندے اتارے، گلے سے لاگت اورانگلی سے انگوٹھی اتارکے دیتے ہوئے کہا۔ ’’میں توآپ کوگبرسنگھ سمجھی تھی، لیکن آپ واقعی گھگو ہیں۔ پروفیسرصاحب میرے ماموں ہیں آپ مجھ سے بڑے ہیں میچورنہیں ہوئے، آپ کی بداعتمادی نے میرے دل کامحل گرا دیا، لیکن یہ سبق اچھی طرح سیکھ لیا کہ مرد دوستی میں بہت تنگ نظر ہوتا ہے میں اب کوئی دوستی نہیں بس شادی کروں گی۔ ‘‘

کس خوبصورتی سے محبت میں اعتماد کی اہمیت کوواضح کیاہے۔ محمدخان قلندرنے مختصر وقت میں تین کتابوں سے ادب میں اپنا مقام بنا لیا ہے اور اب ان کی اگلی کتاب کاانتظارہے۔ شاہداعوان نے قارئین کوایک منفردلکھاری سے متعارف کراکے بہت اہم کام کیاہے۔ اختصار چوھدری صاحب کے فن کی اہم خصوصیت ہے۔ ایک دوصفحے کے افسانے میں وہ کچھ بیان کرنے پرقادرہیں جوکئی مصنفین صفحات کالے کرکے بھی بیان نہیں کرپاتے۔ ’’عشقِ ناتمام‘‘ مختصر افسانوں کابہترین مجموعہ ہے۔ ان مختصرافسانوں میں بھی انہوں نے کئی زندہ جاوید کردار تخلیق کیے ہیں، جنہیں بھلایا نہ جاسکے گا۔ وہ اپنے کرداروں کی تفصیلات میں نہیں جاتے بلکہ ان کے اردگردکہانی کاتاناباناکچھ اس خوبی سے بناتے ہیں کہ کردارقاری کے دل میں اتر جاتا ہے۔ بقائن کی شکیلہ، سوتیلی بیوی کافیروز، ادھوری کہانی کی صوفی، بخشوماشکی اور بیگو بھٹیارن کی بھٹیارن اور بخت بانوکا چودھری رنگو ایسے ہی کردارہیں جو اردو ادب میں ہمیشہ یادگاررہیں گے۔

افسانہ ’’ہیرامنڈی سے بلال گنج‘‘ میں محمدخان قلندرنے جنرل ایوب خان کے دورمیں ہیرامنڈی میں جسم فروشی پرپابندی اورناچ گانے کے اوقات مقرر کرنے کے نتیجے میں جسم کے اس کاروبارکاشہرکی گلی گلی اورمحلے محلے پھیلنے کوبیان کیاہے۔ کس طرح یہ شاہانہ کاروباروسیع ہوا اورسارے شہر میں پھیل گیاخان مکرم جیسے لوگوں کواس بے غیرتی کے کاروبارسے کمانے کاموقع ملاتو وہ اپنی بیوی اوربیٹی کوبھی اس میں لے آیا لیکن اس بے غیرتی کا نتیجہ کیاہوا۔ یہ سوچنے کی بات ہے۔

’’یومِ مزدوراسپیشل‘‘ بھی ایک خوبصورت افسانہ ہے۔ جس میں ایک جسم فروش عورت کاقصہ بیان کیاگیاہے۔ جس کامزدورشوہربلڈنگ سے گر کر مر گیا تو اس نے ساس اوردوبچیوںکوپالنے کے لیے گھرگھرکام کرناشروع کردیا۔ ساتھ ہی ان گھروں کے افرادسے جسمانی تعلق قائم کرکے مزیدآمدنی کاوسیلہ پیدا کرلیا۔ تاہم اس کاکہناہے کہ اس کی بچیاں مولوی صاب سے قرآن پڑھ رہی ہیںاورسرکاری اسکول میں تعلیم بھی حاصل کررہی ہیں۔ ساس ان پرنگرانی رکھتی ہے۔ پروہ ان کوحلال کمائی الگ رکھ کراس کارزق کھلاتی ہے اوراس میں ایک لقمہ بھی میری دوسری کمائی کانہیں ہوتا۔ یہاں یہ سوال پیداہوتاہے کہ کیا یہ عورت مزدورہے؟ اگرہے تواس کی اجرت میں ہاتھوں کی مزدوری جائز ہے توجسم کی مزدوری کیسے ناجائزہوگئی؟

افسانہ ’’اناپرست‘‘ کے آغازمیں کیپشن ہے۔ ’’سماج میں ازدواجی مسائل پرلکھی ہماری تمثیل اسے غورسے سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ آج کل تو کوئی ساس بہو کو یہ بنیادی مشورہ دے ہی نہیں سکتی کہ بہو سننے کوبھی راضی نہیں ہوتی۔ ‘‘ اس تمہید سے ہی کہانی کی دلچسپی بڑھ جاتی ہے۔ ازدواجی زندگی کے مسائل پربہت کچھ لکھا گیاہے اورلکھا جاتا رہے گا۔ لیکن یہ بھی بہت دلچسپ تحریر ہے جسے پڑھ کرہی سمجھا اور لطف لیا جاسکتا ہے کہ ساس نے بہو کو ایسا کیا مشورہ دیا اور کیوں؟ یہی اس افسانے کی کلیدہے۔

’’عطرزیست‘‘ میں محنت کی عظمت اوردعاکی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ ’’ناآسودہ آسودگی‘‘ عورت کی مجبوریوں کی کہانی ہے ایک مجبورعورت سے معاشرہ کس کس طرح خراج وصول کرتاہے۔ مولوی، دوادینے والادکاندار اورحاجی صاحب سب اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں ایسے میں وہ خود کسی کو پسند کرنے لگے توگھروالے اس پرتیارنہیں ہوتے۔ دردناک کہانی ہے۔

’’میراں۔ مٹی سے جڑی کہانی‘‘ لوک دانش کی کہانی ہے۔ دورحاضرکی اعلیٰ تعلیم اورڈگریاں بھی عوامی دانش کامقابلہ نہیں کرسکتیں۔ کہانی کا کردارفضل کریم عرف چاچا پھجا ایک عمدہ اورمنفردکردارہے۔

چوہدری محمدخان قلندرنے پیش لفظ میں لکھاہے۔

’’ہم نے زیادہ کہانیاں صیغہ واحدمتکلم اورواحدحاضرمیں قلمبندکی ہیں۔ بلاشبہ یہ وارداتیں ہم پرہرگزواردنہیں ہوئیں، ہم تومحض وقائع نویس ہیں۔ اس وضاحت کے بعدبھی ہمارے قاری ہمیں ہیروبناتے ہیں توزہے نصیب۔ ‘‘ لیکن افسانہ ’’نانی شہراں‘‘ کاکچھ کم وبیش بیان چوہدری صاحب کی آپ بیتی میں بھی کیا گیا ہے۔ اس طرح انہوں نے خود کوواحدمتکلم کے بجائے ہیروثابت کردیاہے۔

’’عشق ناتمام‘‘ کے تمام قصے کہانیاں نت نئے اورسچے واقعات پرمبنی ہیں اورپھرمحمدخان قلندرکے اندازبیان نے ان کالطف دوآتشہ کردیا ہے، کسی مخصوص افسانے کوبہترین قرارنہیں دیاجاسکتا۔ تاہم دوطویل افسانے’’قلندرکی ہیر‘‘ اور’’بقائن‘‘ بہت دلچسپ اورپراثرہیں۔ محمد خان قلندرکی تیسری کتاب بھی ایک ہی نشست میں پڑھی جائے گی اورقاری ان کی اگلی کتب کے منتظررہیں گے۔ شاہداعوان بہترین کتاب عمدہ پرنٹنگ کے ساتھ پیش کرنے پر مبارک باد کے حقدارہیں۔

Advertisement

Trending