Connect with us

آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ

فروٹ مارکیٹ کا چھوٹا منشی -13 —- عطا محمد تبسم

Published

on

ایک قصہ تو درمیان میں رہ ہی گیا۔ وہ ہمارے منشی بننے کا ہے۔ گورنمٹ کالج کالی موری میں انٹر کے بعد میں فارغ بیٹھا تھا اور اس تلاش میں تھا کہ کوئی ملازمت مل جائے، محمکہ آب پاشی میں ایک ملازمت ملی تھی۔ لیکن یہ ملازمت چونکہ عارضی تھی، اس لیے جلد ختم ہوگئی، اب مجھے دوسری ایسی ملازمت چاہیئے تھی، جس میں پڑھائی بھی جاری رہے۔ ان دنوں حیدرآباد کی سبزی منڈی اور فروٹ منڈی گھنٹہ گھر مارکیٹ پر قائم تھی۔ یہاں ایک آڑھتی کمیشن ایجنٹ ایس ایم مقبول، ایس ایم بعقوب بھی تھے۔ مجھے ان کے یہاں چھوٹے منشی کے طور پر بھٹایا گیا۔ پہلے تو میں نے یہاں عربی گنتی لکھنا سیکھی۔ کیونکہ چھٹہ(رجسٹر) میں اندراج عربی ہندسوں میں کیا جاتا ہے۔ اب شائد یہ نہ ہو، لیکن اس وقت یہی رائج تھا۔ دوسرا میرے گلے میں ایک تھیلی ڈال دی گئی، جس میں جمع ہونے والی رقم ڈالی جاتی تھی۔ منڈی میں کام آدھی رات سے شروع ہوجاتا ہے، مال کے ٹرک بیوپاری رات کو لاکر دکان کے آگے یا آس پاس کھڑے کردیتے ہیں۔ مجھے بھی فجر کے اذان سے پہلے منڈی کا رخ کرنا ہوتا، جہاں مزدور ٹرک کے گرد کھڑے ہوتے، دھڑا (ترازو) نصب کیا جاتا۔ پھر ہمارا سیٹھ آجاتا، اور ٹرک کے مال کی بولی لگاتا، عام طور پر یہ مال کینو، موسمبی، فروٹو، نارنگی، خربوزے، تربوز ہوتا، چھوٹے دکاندار ٹھیلے والے یہ مال خریدتے، اکثر نقد رقم لی جاتی کچھ کا ادھار ہوتا تو رجسٹر میں لکھ لیا جاتا۔ یہ مال عموما نو دس بجے تک ختم ہوجاتا۔ پھر ہم اپنے دفتر آکر حساب کتاب کرتے، نقدی گن کر حساب جوڑ کر ان کے حوالے کی جاتی۔ شام کو بھی منڈی جانا پڑتا۔ ایک ایک دکان پر جاکر ادھار کی رقم وصول کی جاتی رجسٹر میں اندراج ہوتا، یہ ایک مشکل کام تھا، جو میں نے ایک سال تک کیا۔ اس دوران انٹر کا رزلٹ آگیا۔ میں سیکنڈ ڈویژن میں انٹر سائنس میں پاس ہوگیا۔ اب گھر کی صورت حال ایسی تھی کہ میں با قاعدہ دن کی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتا تھا۔ مجھے ملازمت کی سخت ضرورت تھی۔ میں نے سائنس کی تعلیم ترک کرکے، شام کو آرٹس کی کلاسوں میں داخلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے سٹی کالج میرے گھر کے پاس موجود تھا، میں نے بی اے میں داخلہ لے لیا، لیکن یہاں میں نے اکنامکس کے مضامین کو پیش نظر رکھا، اور شماریات کا مضمون بھی لیا۔ حساب کا مضمون لینے کی خاص وجہ یہ تھی کہ انٹر میں میتھ میں میرے 97 نمبر آئے تھے۔ سٹی کالج میں برسوں بعد کسی نے شماریات کا مضمون لیا تھا۔ یہاں اس کا کوئی استاد نہیں

تھا۔ سٹی کالج میں شہر کےشرفاء طلبہ کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے بھی تھے۔ جن سے لوگ ڈرتے تھے۔ ان گروہوں میں اکثر مار دھاڑ اور لڑائی جھگڑا بھی ہوجاتا تھا۔ لیکن یہاں طاقت کا ایک توازن قائم تھا۔ سب کو ایک دوسرے کی طاقت اور حیثیت اکا اندازہ تھا۔ اس لیے لڑائی کے فورا بعد مصالحت کے مذاکرات ہوتے۔ باہر کے بدمعاش گروپ بھی اس مصالحت میں سرگرم ہوجاتے۔ اور یوں جلد ہی یہ تعلقات معمول پر آجاتے۔

حیدرآباد کی شام بہت خوشگوار ہوتی ہیں۔ اس زمانے میں شام کی محفلیں ہوٹلوں میں جمتی، یہ ہوٹل ان طلبہ کی بدولت کامیاب ہوتے اور ان ہی کی وجہ سے ویران بھی ہوجاتے۔ ان ہوٹلوں میں ایک چائے سے دو تین چائے بھی بن جاتی، اور ہر آنے جانے والے کو چائے بھی ملتی، چائے کو بل کوئی نہ کوئی ادا کردیتا، اور اگر کڑکی کی زمانہ ہوتا تو ایک دوسرے سے پیسے مانگنے یا بل ادا کرنے کا کہنا بھی کوئی عار نہیں سمجھتا تھا۔ شام کی ان محفلوں میں شاعری، افسانے، گانے، فلموں، شہر کی سیاست سب کچھ ہوتی، اور ان سب کے الگ الگ ٹھیئے تھے۔ صحافی اور سیاست والے فردوس ہوٹل میں ڈیرا ڈالے بیٹھتے، اور گانا سننے والے المشرق ہوتل کے نیم تاریک کونوں میں بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لیتے تھے۔ سٹی کالج میں اس سال صدارت کے لیے سردار قریشی ایڈوکیٹ نے انتخاب لڑا۔ یہاں سیاسی پارٹیوں یا طلبہ تنظیموں کے بجائے گروپ بہت مضبوط تھے۔ جعفری گروپ، ٹنڈوجام گروپ، امین جالندھری، حمید فاروقی کا گروپ، صلاح الدین قریشی کا گروپ، حاذق شیخ کا گروپ، یہ گروپ الیکشن میں ایک دوسرے سے معاہدے کرتے، جیسے "پیکٹ” کہا جاتا تھا۔ یہ پیکٹ اندھیری گلیوں، خفیہ مقامات، اور دور دارز مقامات پر انتخاب سے ایک دو دن پہلے ہوتے، جس میں مقدس کتاب کو بھی درمیان میں رکھا جاتا یا اس پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھائی جاتی کہ وہ اپنے گروپ کے تمام ووٹ ایک دوسرے کی حمایت میں استعمال کریں گے۔ بعض جہاندہ گرکے مقدس کتاب کی جگہ جلدان میں ڈکشنری بھی رکھ کر لے جاتے، تاکہ جھوٹا حلف اٹھانے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے، ایسے میں کون جلدان کھول کر یہ چیک کرتا کہ اس میں مقدس کتاب ہے یا کوئی اور کتاب۔ جمعیت انتخاب کے لیے امیدوار منتخب کرانے کے لیے اپنے طلبہ لیڈر کو ادھر ادھر بھی کرتی رہتی تھی۔ مجھے بھی اس سال سٹی کالج سے گورنمنٹ کالج لطیف آباد ٹرانسفر کرکے داخلہ دلایا گیا۔ میں نے گورنمنٹ کالج لطیف میں بی اے سال اول میں داخلہ لیا، گورنمنٹ کالج لطیف آباد میں یوں تو جمعیت کی اکثریت تھی۔ لیکن یہاں چند با اثر طلبہ جنہیں پیپلز پارٹی کی پست پناہی حاصل تھی۔ کالج میں غنڈہ گردی کرتے اور جمیعت کے لڑکوں کو مارتے پیٹتے تھے۔ سٹی کالج سے مجھے یہاں منتقل کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سٹی کالج کا ایک با اثر گروپ نسیم السحر کی دوستی کی وجہ سے مجھے ان کی حمایت حاصل تھی۔ اس انتخاب میں اسلامی جمعیت طلبہ بھاری اکثریت سے جیت گئی۔

اس سلسلہ کی اگلی تحریر اس لنک پہ پڑھیئے

اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ پڑھیئے

Advertisement

Trending