Connect with us

تازہ ترین

کشور ناہید ایک بری عورت کیوں ہیں؟ —– بی بی امینہ

Published

on

’’بری عورت کی دوسری کتھا‘‘ جب میرے ہاتھ میں آئی، تو میں بہت حیران ہوئی کہ ایک عورت ایک متنازع نوعیت کا لفظ ’’بری عورت‘‘ خود اپنی ذات کے لیے مسلسل استعمال کرنے پر کیوں مصر ہے؟ جب کہ جس صنفِ ادب میں وہ لکھ رہی ہے اس میں تو اپنی شان بڑھانے کے لیے زمین و آسمان کے وہ قلابے ملا ئے جاتے ہیں اور ایسے ایسے عنوان لائے جاتے ہیں کہ الامان۔ تو ان کے یہاں ایسا کیوں؟؟؟

بس اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے کتاب کھولی تودو جملے نظر نواز ہوئے، جو ان کے احباب کے عطا کردہ تھے:

اوّل:اس کی بیوی کبھی زور سے بولتی تو کہتا، ’’تم کشور ناہید بننے کی کوشش مت کرو۔ ‘‘

دوم:اب جب بھی مجھے دیکھتے، کہتے’’اس۔ ۔ ۔ ۔ نے میری بیوی کو بھی ورغلا لیا ہے۔ ‘‘

تو کیا اسی سبب سے انھوں نے اپنے لیے یہ مرکب تجویز کر لیا؟

خیر۔ ۔ ۔ اس کے بعد میں اور سطور تلاش کرنے لگی، جو اس عنوان کی تائید کرتی ہوں۔ ایک اور بار پڑھی، بار بار پڑھی۔ بری عورت تو کہیں دکھائی نہ دی البتہ جس عورت کی تصویر بنی وہ ’بری‘ تو نہیں ’بڑی‘ضرورتھی۔ ان معنوں میں کہ

May be an image of text’عورت عورت کا ساتھ نہیں دیتی۔ ‘

’عورت ہی عورت کی سب سے بڑی دشمن ہوتی ہے۔ ‘

’عورت اپنی ہم جنسوں کو آگے بڑھتے دیکھ کر خوش نہیں ہوتی۔ ‘

’دو عورتیں کبھی اچھی سہیلیاں نہیں بن سکتیں۔ ‘

جیسے پدر سری معاشرے کے تشکیل دیے گئے معروف اقوال اور خواتین کے خلاف زہریلی اور منفی سوچ کی مکمل نفی کرتی ہوئی ایک بہادر، یکتا، منفرد اور اپنی ذات پر مکمل انحصار کرنے والی عورت۔

یہ تو وہ عورت ہے، کہ دنیا میں اس کے ہم عصروں پر یا اس سے پہلے کی عورتوں پر جب بھی کوئی آفت یا مصیبت آئی اس نے ان کے درد کو محسوس کیا اور ہر اس امر کے خلاف احتجاج کیا جہاں اسے اس حوالے سے دوغلا پن نظر آیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب انقلاب کو صرف اپنے لیے روا سمجھنے والے شاعر نے خود اپنے گھر میں انقلاب کے داخلے پر پابندی لگا دی ؛ دنیا کے مختلف کونوں میں مذہب، سیاست، بد فعلی، زیادتی، غیرت کے نام پر خواتین کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا؛ کسی بے گناہ کے خوب صورت چہرے کو تیزاب سے داغ دار کر دیا گیا؛کوئی چترالی لڑکی ڈگری لینے کے لیے آتے ہوئے راستے میں حادثے کا شکار ہو گئی ؛ کوئی گل زریں نفسیاتی مریضہ بن کر خود کو دریا کے حوالے کر گئی؛لڑکیوں کی پیدائش کے دن کو برا دن قرار دیا گیا؛ شہزادی ڈیانا اپنی محرومیوں پر زار و قطار رو دیں اور نور مقدم کے جسم کے ساتھ اس کی روح تک زخمی ہوئی تو وہ تڑپ اٹھی کہ وہ تو سینکڑوں جنموں کو اپنی ذات کےنہاں خانے چھپائے ہوئے تھی۔ پھر اِس عورت نے اسی پر بس نہ کی بلکہ سراپا احتجاج بن گئئ ؛ ان کے لیے حقوق کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنی بساط کے مطابق ان کے دکھوں کا ازالہ بھی کیا کہ کبھی تو ڈیانا کے غم اور دکھ پر آنسو بہائے کہ اس کے لیے اس سے زیادہ کر نہیں سکتی تھی تو کبھی نور کے سر بریدہ لاشے کو منصفوں کے سامنے لا کھڑا کیا۔ کبھی خواتین کی صحت، تعلیم، کرافٹ، بلاک پرنٹنگ اور ٹائی اینڈ ڈائی کے سنٹر بنا ئے تو کبھی ان کے لیے دال چاول اور اناج کے ساتھ ساتھ توے اور چولھے کا انتظام کرنے میں مصروف ہوگئی۔ یہاں تک کہ جب اسے تواریخِ ادب تک عورتوں کے ذکر سے دانستاً خالی نظر آئیں تو سہ نہ سکی اور باب چہارم اور پنجم لکھ کر میں دنیا بھر کی نام ور خواتین اور ان کی خدمات کی فہرست مرتب کر دی۔ لیکن کمال ہے کہ پھر بھی ’اچھی‘ نہ ہو سکی، ’بری ‘ ہی رہی۔

میری ان باتوں سے یہ ہر گز نہ سمجھا جائے کہ کشور ناہید صرف عورتوں کی ہم نوا رہی ہیں بلکہ اس کتاب کے صفحات کو کسی بھی قسم کے تعصب کی عینک کے بغیر پڑھا جائے تو عیاں ہوگا کہ وہ انسانیت کی ہم نوا ہیں کہ وہ جہاں اپنی بھانجی اور نور مقدم کی موت پر افسردہ ہیں وہیں ان کے ہاں آصف فرخی اور زاہد ڈار کو کھونے کا دکھ بھی نمایاں ہے۔ عطا شاد، ثروت حسین اور شکیب جلالی کے اس دنیا سے جانے کا غم بھی وہ ایسے ہی محسوس کرتی ہیں، جس طرح سارہ شگفتہ کا۔ اقبال ساجد، احمد راہی، احمد فراز، واصف علی واصف، منیر نیازی، جون ایلیا، منو بھائی، عابد علی عابد، ساغر صدیقی، رضا رومی، اصغر ندیم سید غرض کتنی ہی شخصیتیں ہیں جو ان کے دل میں اتنے ہی مقام کی حامل ہیں جتنی کہ ان کی اپنی ہم جنس۔ پھر انھیں وہ بچے بھی عزیز ہیں جو سمندر پار کرتے مر جاتے ہیں یا افلاس کے ہاتھوں مزدوری کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اسی طرح وہ جھیل کے آلودہ پانی کے کنارے بیٹھے اور جنگل کی آگ میں اپنے مسکن اور زندگیاں کھونے والے پرندوں کے دکھ کی بھی سانجھی ہیں۔ وہ تو ملک و قوم کی حالت زار پر رنجیدہ رہتی ہیں؛ منصفوں کے غلط فیصلوں پر شرمندہ ہوتی ہیں؛ امیر ممالک سے بھیک مانگنے پر فخر کرنے والوں کی مذمت کرتی ہیں اور ملک و قوم کو نقصان پہنچانے والے قزاقوں پر افسوس کا اظہار کرتی ہیں۔ اور یہ سب کرنے کے بعد وہ صرف عورت کی ہم نوا نہیں رہ جاتیں بلکہ انسانیت اور زندگی کی ہم نوا نظر آتی ہیں کہ جہاں کچھ بھی ان دو نوں سے متصادم نظر آتا ہے ان کے عتاب کا نشانہ بنتا ہے۔

اس کتاب کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ اپنے آپ میں ایک مختصر تاریخ یا ڈائریکٹری ہے۔ سیاست، ادب، میڈیا، تاریخ، سر سنگیت و دیگر فنون ِلطیفہ، غرض کوئی بھی شعبہ اٹھا لیں اس سے وابستہ افراد و واقعات کی ایک طویل کہکشاں نظر آتی ہے، جو کشور ناہیدکے دل، دماغ اورماضی کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے عہد کو بھی روشن کرتی چلی جاتی ہے۔

لیکن میں آخر میں میں پھر اپنی پہلی بات کی طرف واپس آتے ہوئے کہنا چاہوں گی کہ اس کتاب کی سب سے نمایاں خوبی یہی ہے کہ کشور ناہید نے اس کے توسط سےاپنی صنف کو اعتبار بخشا ہے اور عورت کا ایک مثبت چہرہ پیش کیا ہے۔ اسے پڑھ کر ایک قول بھی یاد آتا ہے:

When women support each other, incredible things happen.

میں سمجھتی ہوں یہ کتاب اس قول کا بہترین اظہار ہے۔ اگرعورت دشمن کلچر کو ختم کرنے والا ایسا سچا اور بے باک اظہاریہ لکھ کر وہ ’بری‘ بنتی ہیں تو پھر ہم سب کو بھی برا ہی بن جانا چاہیے۔

Advertisement

Trending