محمد اسد کے ترجمہ قرآن اور تفسیر پر ایک نظر —– میر امتیاز آفریں

0

بلاشبہ عبداللہ یوسف علی کے بعد اگر کسی نے انگریزی زبان میں قرآن کے پیغام کو عصری تقاضوں کے مطابق مغربی اقوام کے سامنے کھول کر بیان کردیا ہے تو وہ علامہ محمد اسد کی ذات ہے۔ اگرچہ ان سے پہلے قرآن مجید کے کئی ترجمے انگریزی زبان میں ہوئے مگر جو ادبی چاشنی، فکری گہرائی اور منتقی جاذبیت ان کی ترجمانی میں پائی جاتی ہے وہ کہیں اور اس طرح دیکھی نہیں جاتی۔ چونکہ خود انہوں نے مغرب کے تشکیک زدہ اور مادہ پرست ماحول میں شعور کی آنکھ کھولی اور ایک لمبی زہنی کشمکش سے گزر کر آخر کار انہوں نے اپنے آبائی مذہب یعنی یہودیت کو خیرباد کہہ کر دین اسلام کو قبول کیا اور ذاتی تحقیق سے ان پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ صرف ایک دین ہے جو ہر دور کے تقاضوں کے مطابق انسان کی رہنمائی کا سامان لئے ہوئے ہے اور وہ دینِ اسلام ہے۔ عجب اتفاق ہے کہ ان کے قبولِ اسلام کی فوری وجہ بھی قرآن مجید بنا جس کی خدمت کا کام بعد میں اللّٰہ نے ان سے لیا۔ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ جب وہ مغربی تمدن کی چمک دمک اور ریل پیل سے تنگ آچکے تھے تو کس طرح سورۃ التکاثر نے انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ انہیں اپنے درد و کرب اور زہنی بےچینی کا مداوا حاصل ہوا۔ انہیں محسوس ہوا جیسے قرآن کی یہ آیات اس کی ہی ہدایت کے لئے نازل ہوئی ہیں اور انہوں نے آغوشِ ایمان میں پناہ لی۔

اس دن سے ہی علامہ محمد اسد کے دل میں قرآن مجید کی محبت نے گھر کرلیا اور انہوں نے قرآن فہمی میں غیر معمولی دلچسپی لینی شروع کی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے سب سے قیمتی لمحات، ایک طالبِ علم بن کر قرآن مجید کے پیغام کو سمجھنے میں لگادئے۔ قرآن کی تفہیم میں انکے لئے سب سے بڑی رکاوٹ عربی زبان و ادب سے ناآشنائی تھی۔ کئی سال تک وہ قرآن کے ایک ایک لفظ کو سمجھنے کے لئے تحقیق کرتے رہے، لغت کی کتابیں پڑھتے رہے، علماء سے پوچھتے رہے، حتیٰ کہ قرآن مجید کی زبان کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے لئے انہوں نے سعودی عرب کا سفر بھی کیا، وہاں مختلف عرب قبائل کے ساتھ قرآنی الفاظ و آیات پر تبادلہ خیال کیا اور مشکلات القرآن کو حل کرنے کے لئے اپنے دور کے جیّد علماء سے رجوع کیا۔ جب انہوں نے انگریزی زبان میں دستیاب تراجمِ قرآن پر نظر ڈالی تو انہیں محسوس ہوا کہ یہ تراجم اقوامِ مغرب کی فکری و نفسیاتی خمیر کو مدِ نظر رکھ کر نہیں لکھے گئے ہیں اور ان کا اسلوب دعوتی نقطئہ نظر سے زیادہ مفید نہیں ہے تو انہوں نے اس کام کا بیڑہ خود اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ 17 سال کی کاوشوں کے بعد 80 برس کی عمر میں انہوں نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے خواب، قرآن پاک کے انگریزی ترجمہ و تفسیر کو تکمیل تک پہنچایا۔ انہوں نے پہلے قرآن مجید کا انگریزی زبان میں دلکش اور لطیف ترجمہ کیا اور اس کے بعد اس پر جا بجا تفسیری حواشی کا اضافہ کیا اور تقریباً ایک ہزار صفحات پر مشتمل The Message of the Quran پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ پوری تفسیر میں انہوں نے زیادہ تر جدید ذہن کو مخاطب کرنے کی کوشش کی ہے اور فہم قرآن کے نئے دریچے کھول کر رکھ دیے ہیں۔

دیکھا جائے تو کئی خوبیاں انہیں دیگر تمام محققین و مفسرین سے الگ کرتی ہیں جیسے مغربی تہذیب اور یہود و عیسائی روایت کے بارے میں ان کا واضح اور مبنی بر حق تبصرہ و تجزیہ۔ مغرب کی قابل قدر چیزوں کے کھلے دل سے اعتراف کے ساتھ مغربی تہذیب اور عیسائی تہذیبی روایت کی جو بنیادی خامی اور کمزوری ہے اس کا نہایت واضح ادراک اور دوٹوک اظہار ان کا بڑا علمی کارنامہ ہے۔ مغرب کے تصور کائنات، انسان، تاریخ اور معاشرے پر ان کی گہری نظر تھی اور اسلام سے اس کے تصادم کا انہیں پورا پورا شعور اور ادراک تھا۔

جہاں تک انگریزی زبان میں قرآن مجید کے تراجم کا تعلق ہے، پکتھال(1930) اور عبداللہ یوسف علی (1934)کے بعد علامہ محمد اسد(1980) تیسرے مسلمان مترجم ہیں جنہوں نے انگریزی زبان کے ذریعے قرآن مجید کے پیغام کو اقوام عالم تک پہنچانے کی کوشش کی۔ ان سے پہلے الیگزینڈر راس اور جارج سیل نے اپنے اپنے تراجم کے ذریعے تعصب اور جانبداری سے کام لے کر قرآنی احکامات و تعلیمات کو توڑمروڑ کر پیش کرنے کی مذموم کاوشیں کیں۔ علامہ محمد اسد نے اپنے ترجمے اور تفسیر کے ذریعے عقلی و نقلی دلائل کی روشنی میں ان مقامات کا ازسرنو جائزہ لیا اور حقائق کو لوگوں تک پہنچایا۔

علامہ محمد اسد کے ترجمے میں غیر معمولی ادبی مٹھاس اور فکری گہرائی دیکھنے کو ملتی ہے۔ تفسیر کے سرورق پر ہی وہ قرآن کی اک آیت کا یہ جز لکھتے ہیں: لِقومٍ یَتَفَکَرُون اور اس کا ترجمہ لکھتے ہیں:

For people who think

یعنی وہ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ قرآن مجید کا پیغام ہے ہی ان لوگوں کے لئے جو سوچتے ہیں اور ہمیشہ عقل سے کام لیتے ہیں، گویا قرآن مجید کے مطابق ایمان کی منزل عقل کے رستے سے ہی گزر کر ملا کرتی ہے۔

اپنی تفسیر کے مقدمہ میں علامہ محمد اسد لکھتے ہیں کہ دو چیزیں قرآن مجید کو دیگر تمام مقدس مذہبی کتابوں سے ممتاز کرتی ہیں:

1۔ قرآن عقل پر زیادہ زور دیتا ہے اور انسان کو ایمان لانے کےلئے سوچنے اور غور وفکر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

2۔ قرآن کے مطابق انسان کی جسمانی اور روحانی زندگی مربوط و منسلک ہے لہذا ایک انسان کی سماجی اور مذہبی

زندگی میں کوئی تضاد نہیں۔ اسلام دینِ فطرت ہے جو بیک وقت انسان کی سماجی، فکری، روحانی اور دیگر ضروریات کو مدنظر رکھتا ہے۔ (The inseparability of physical and spiritual)

چونکہ دور حاضر کے انسان کا فکری رجحان زیادہ تر عقل اور مادیت کی طرف ہے، علامہ محمد اسد نے قرآن کے پیغام کو سمجھنے اور سمجھانے میں فکری رکاوٹوں کو دور کرنے کی اچھی کوشش کی ہے لہذا جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لئے یہ تفسیر بہت مفید ہے.

قرآن مجید کے آفاقی پیغام کو اپنے ترجمے اور حواشی کے ذریعے جس خوبی سے انہوں نے انگریزی زبان میں پہنچایا ہے شائد ہی کوئی ان کی برابری کرسکے۔

اپنی تفسیر میں وہ زیادہ تر رشید رضا مصری زمخشری، رازی، راغب اصفہانی، ابن کثیر، ابن منظور افریقی اور دیگر مفسرین سے استفادہ کرتے ہیں۔ اکثر معنیٰ تک پہنچنے کے لئے وہ الفاظِ قرآنی پر کافی غور و خوض کرتے ہیں اور اصل پیغام تک رسائی کے لئے مستند ائمہ لغت سے استفادہ کرتے ہیں۔

ان کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ قرآن کی کچھ اصطلاحات کا بڑا خوبصورت اور جامع ترجمہ کرتے ہیں.مثلاً تقویٰ کاGod consciousness، الکتاب کا The Divine Writ، کفر کا those who are bent on denying the truth، جزیہ کا the exemption tax.

ترجمہ کرکے انہوں نے افہام و تفہیم کے ذریعے شبہات کا ازالہ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

مطالعہ قرآن کے دوران اکثر جدید ذہنوں کے اندر جن مقامات پر شکوک وشبہات پیدا ہو جاتے ہیں، علامہ محمد اسد وہاں عقلی دلائل اور سائنسی طرزِ استدلال سے شکوک کو زائل کرنے کی دلآویز کوشش کرتے ہیں۔ وہ اس بات کا بار بار اعادہ کرتے ہیں کہ اکثر کچھ مابعد طبعیاتی حقائق کے اظہار کے لئے قرآن تمثیلات کا استعمال کرتا ہے اور انہیں علامات و تمثیلات کے رنگ میں پیش کرکے انسانی ذہن کو متوجہ کرتا ہے۔ مثلاً مسئلہ استوی علی العرش اور جنت و جہنم کے مناظر کے بیان میں قرآن تمثیلات کا استعمال کرتا ہے اور علامہ محمد اسد کے نزدیک ایسی چیزوں کو ہی قرآن متشابہات کا نام دیتا ہے۔ جن کی تہ تک پہنچنا عام انسان کے بس کی بات نہیں۔

اورچونکہ قرآنی مطالب کو سمجھنے میں مفتی محمد عبدہ اور رشید رضا کی طرح (جن سے وہ کافی متاثر بھی تھے)وہ عقلی تفہیم پر زیادہ زور دیتے ہیں لہذا اپنی تفسیر میں علامہ محمد اسد کا رجحان بہت سے مقامات پر تجدد کی طرف جھکتا ہوا نظر آتا ہے۔ وہ قرآن مجید میں مذکور کئی غیر معمولی واقعات جو بظاہر عقل کے خلاف نظر آتے ہیں، ان کی عقلی تاویل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے کئی مقامات پر ان کے نظریات جمہور کے برعکس نظر آتے ہیں۔ وہ واقعہٓ معراج کو جسمانی و روحانی کے بجائے صرف ایک روحانی تجربہ بیان کرنے پر زور دیتے ہیں، وہ حضرت ابرہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کو ایک تمثیل قرار دیتے ہیں، ان کی نظر میں آگ سے مراد the fire of persecution ہے نہ کہ اصل آگ جسمیں انہیں ڈالا گیا۔ سورہ فاطر کی پہلی ہی آیت میں فرشتوں کے دو، تین یا چار چار پر ہونے کا تذکرہ ہے، وہ ان پروں کو رفتار اور طاقت کا استعارہ سمجھتے ہیں۔ بے انتہائی خوبیوں کے ساتھ ساتھ ان کی تفسیر میں کئی مقامات پر ان کے تفردات بھی پائے جاتے ہیں۔ ایسے مقامات پر غلط فہمیوں سے بچنے کے لئے قارئین کو جمہور علماء و مفسرین کی تحقیقات کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے اور قرآن و سنت کو بنیاد بنا کر صحیح موقف تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

ایک جرمن نومسلم ولفریڈ ہوٹمین نے علامہ محمد اسد کو بجا طور پر “اسلام کے لئے یورپ کا تحفہ” قرار دیا تھا لیکن دیکھا جائے تو محمد اسد کی طرف سے جو سب سے خوبصورت اورگراں قدر تحفہ عالم اسلام کو ملا وہ ان کا ‘دی میسیج آف دی قرآن’ ہے۔

(Visited 1 times, 46 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply