ناقدینِ تصوف اور اہل تصوف سے شکوہ —– سراج الدین امجد

0

تصوف خاکسار کا ذوقی مضمون ہے۔ لہذا اس حوالے سے کچھ نہ کچھ دیکھنے پڑھنے کی سعادت نصیب ہوتی رہتی ہے۔ کچھ عرصہ سے دیکھ رہا ہوں کہ ناقدین تصوف کی تنقیدات دشنام طرازی اور تعصب آمیزی کا لہجہ لیے ہوئے ہیں۔ مثلاً کوئی سلفیت آشنا “کشف المحجوب” کی کسی عبارت کو مضوع سخن بناتا ہے تو کوئی مُوحِّد “فوائد الفواد” میں کفریہ کلمات ڈھونڈ نکالتا ہے۔ کہیں استیلائے مغرب سے مرعوب تصوف کو “افیون” سمجھنے والوں کی نعرہ زنی ہے تو کہیں استشراقی فسوں کاری سے متاثر ہوکر تصوف کو “متوازی دین” قرار دینا فیشن بن چکا۔ کہیں دین کی انجینئرنگ کے عنوان سے صلحائے امت کو”بابوں کی بے باکی” کہہ کر مسترد کیا جارہا ہے تو کچھ دین کے ڈاکٹر تصوف و سلوک کو”فروغ شرک کی تحریک” قراردیتے رہے ہیں۔ تاہم اس سب کے باوجود تصوف اور خانقاہی طرز کے دفاع پر طبیعت ہے کہ مائل ہی نہیں ہوتی۔ وجہ کیا ہے؟

سچ پوچھیں تو آج کے مروجہ خانقاہی نظام کی ناگفتہ بہ صورت حال سے کون حساس فرد پیری مریدی کے عمومی نظم میں تَدیُّن سے دوری، استخفافِ شریعت اور فساد ِعقائد کے حوالے سے بے خبر ہوگا۔ یہ کج ادائی اور عصیاں شعاری صرف عوام کالانعام کا نصیبہ نہیں بلکہ بے اعتدالی اور بے بصیرتی کا ایک جہان ہے جو نامی گرامی مشائخ اور خانوادوں کا طرزِ حیات بن چکا۔ دور کیوں جائیے۔ ایک مثال عرض کیے دیتا ہوں۔ ماہ رواں یعنی بلحاظِ قمری تقویم ماہ ربیع الثانی کی گیارہ تاریخ کو تصوف کی دنیا کے عظیم سپوت سیدی شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ الله کا یوم وصال ہے۔ اس حوالے سے تقریبات کا ملک بھر میں شوروغوغا ہے۔ لیکن کیا ان محافل میں حضرت قُدس سرہ العزیز کی تعلیمات کی کچھ جھلک ہے؟ شیخ کی ذاتِ بابرکات لاریب “قُرۃ عُیونِ الموحدین” ہے۔ لیکن مجال ہے کہ ان کے نام لیوا اور چمنستانِ قادریت کے خوشہ چیں آپ رحمہ الله کی اصلی تعلیمات عوام الناس کے سامنے پیش کریں۔ “فتوح الغیب” اور”فتح الربانی” ایسی معارف توحید سے لبریز کتابوں کا تعارف و مطالعہ تو شاید ہی کسی خانقاہی نظم کا حصہ ہو۔ لیکن کیا “غنیۃ الطالبین” کے دروس عام ہیں۔ نہیں قطعاً نہیں۔ ایک طرف استغاثہ و توسل کے نام پر “یاشیخ عبد القادر جیلانی شیئاللہ” ایسے اوراد کی جھنکار ہے (جنھیں قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ جیسے بزرگ اور نادر روزگار عالم پڑھنا روا نہیں سمجھتے بلکہ کئی اکابر ایہام شرک کی بنا پر عامۃ الناس کے لیے ایسے الفاظ کو قطعاً ناجائز قرار دیتے ہیں)۔ دوسری طرف” گیارھویں شریف” اور اعراس و محافل کے نام پر ملک کے طول و عرض میں رسومات کی ایک دنیا آباد ہے۔ پچاس سال مسند تدریس پر بیٹھ کر قال اللہ و قال الرسول کی صداؤں کو بلند کرنے اور“درستُ العلمَ حتی صِرتُ قطبًا” کے الہامی کلمات سے حقیقت تصوف کو واشگاف کرنے والے اس بے مثل شیخِ طریقت کی تعلیماتِ توحید اور معارف الہیہ کی جھلک آج بھلا کس خانقاہ میں ہے۔ الا ماشاء اللہ۔

کچھ سال قبل خانوادہ گیلانیہ کے ایک فرزند پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رح نے جب امام الموحدین کی درست تعلیمات منصہ شہود پر لانے کی کوشش کی تو ‘محبان ِاولیاء’ ہاتھ دھو کر ان کے پیچھے پڑ گئے۔ تاہم اس حقیقت سے مفر نہیں کہ شیخ جیلاں رحمہ اللہ کی سچی تعلیمات ہی فساد عقائد واعمال کے لیے تریاق ہیں لہذا ان کی اشاعت سے دست بردار نہیں ہوا جاسکتا۔ شاید اسی سے ہماری قوم احکام خداوندی اور اسوہ محمدی علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ کو اپنانے کے حوالے سے یکسو ہو جائے اور اعمال میں بہتری آئے نیز وقت کے ساتھ ساتھ سلوک و احسان کی صحیح برکات سے بھی آشنا ہوجائے۔ دعا ہے کہ اللہ کریم ہمیں اولیاء اللہ کی درست تعلیمات قوم کے سامنے رکھنے کی توفیق سے نوازے۔ تاکہ آج کی مادیت پرستانہ تہذیب کا نہ صرف جرات مندانہ مقابلہ ہو بلکہ ایمان و اخلاص کی دولت کی کما حقَُہ حفاظت ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں: تصوف کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں —- احمد جاوید

 

(Visited 1 times, 8 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply