سیاست کی درس گاہ: سٹی کالج حیدرآباد  -12 —- عطا محمد تبسم

0

سٹی کالج میں پڑھائی کم اور سیاست زیادہ ہوتی تھی۔ یہ سیاست کی بہترین درسگاہ تھی۔ جس نے حیدرآباد کو بہت اچھے نوجوان سیاست دان دیئے۔ شہر کے وسط میں سندھی، مہاجر طلبہ کے لیے یہی ایک شام کا کالج تھا، نور محمد ہائی اسکول میں مسلم کالج اور تلک چاڑی پر سچل سرمست کالج بھی تھے۔ لیکن شہر کے طلبہ کی اکثریت سٹی کالج میں جاتی، یہاں بڑی تعداد کو فیس کو رعایت بھی مل جاتی، عبدالرحیم ڈیتھو کالج کے پرنسپل تھے، بہت خلیق، محبت کرنے والے، وہ برسہا برس کالج کے پرنسپل رہے، طلبہ بھی ان کا بہت احترام کرتے۔ مجھے سٹی کالج یونٹ کا ناظم بنادیا گیا۔ جس میں لاء کالج اور کامرس کالج بھی شامل تھے، ہم ایک دیوار گیر پوسٹر پر ہاتھ سے لکھ کر ایک اخبار نکالا کرتے تھے، جس کا نام نوائے طلبہ تھا۔ بعد میں یہ سائیکلو اسٹال پر بھی نکالا گیا۔ ہمارے مقابلے پر الیاس شاکر بھی ایک دیواری اخبار نکالا کرتے تھے، اس میں وہ چٹکلے اور فقرے بھی کستے۔ ” بچوں کی فوج۔ ناظم کی موج” اور ایسے ہی جملے جس میں کھالوں کا حساب مانگا جاتا تھا۔ اور ہم جوابا لکھتے” کھال دو- حساب لو”۔ الیاس شاکر، اسماعیل کامریڈ، صلاح الدین قریشی، حاذق شیخ، لیق احمد، محمد علی عادل، نسیم السحر، ایوب باقر، ملا رونق، اقبال کے کے، ظہیر حسنین، شاہد پرویز، سردار قریشی، اس وقت طلبہ سیاست میں فعال تھے۔ اس کالج میں ہمارا تعارف انوار احمد زئی صاحب سے ہوا۔ وہ سٹی کالج میں لیکچرار تھے، اور طلبہ میں بہت مقبول تھے، بعد میں ان سے بہت اچھی دعا سلام اور تعلقات رہے۔ انوار زئی صاحب طلبہ میں پڑھائی کا شوق بڑھاتے، اور اپنی خوبصورت گفتگو سے طلبہ کو مسحور کردیتے۔

مجھے یہاں نئے دوست ملے، کتاب سے تعلق جڑا، تقریر کرنا سیکھی، سیاست کو قریب سے سیکھنے کا موقع ملا۔ یہاں میری زندگی میں انقلاب لانے والی شخصیت نسیم السحر کی تھی۔ شیروانی میں ملبوس خلوص و محبت کا پیکر، جن سے مل کر زندگی سے پیار ہوجائے۔ وہ سٹی کالج یونین کے جنرل سیکریٹری تھے۔ شعلہ بیانی ان کی تقاریرکا خاصہ ہوتی اور ان کی تقریر کے دوران جوش و جذبے سے دل دھڑکتے تھے۔ نسیم السحر راجپوت ہیں، ٹنڈوجام میں ان کا آبائی گھر تھا۔ انھوں نے میرے ذوق مطالعہ کو سنوارا، اور ہر اہم موقع پر میری رہنمائی کی۔ ان کی محبت رہنمائی قربانی اور ایثار کی داستان آگے آئے گی۔ اسلامی جمعیت طلبہ حیدرآباد میں طلبہ کی منظم اور مقبول جماعت تھی، شہر کے اہم کالجوں میں اس کی منتخب یونین تھے۔ اس لیے جمعیت نے اسٹوڈینس کونسل بنائی تھی، جس میں تمام کالجوں کے منتخب نمائندوں کی نمائندگی تھی۔ بھٹو صاحب جب حیدرآباد سرکٹ ہاؤس میں آئے تو انھوں نے طلبہ کے وفد سے ملاقات کی۔ جس میں بھٹو ناراض بھی ہوئے۔

اس زمانے میں پیپلز پارٹی نے طلبہ میں کام کرنے کے لیے ایک تنظیم “نوپس” بنائی تھی۔ جس کو غلام مصطفے جتوئی براہ راست احکامات و ہدایات دیا کرتے تھے۔ نوپس میں الیاس شاکر بھی تھے اور انھوں نے اس کا ایک دفتر گول بلڈنگ میں قائم کیا تھا۔ جہاں 23 سرکلر بلڈنگ میں جمعیت کا دفتر پہلے سے قائم تھا۔ یہاں نیشنل لیبر فیڈریشن کا دفتر بھی تھا۔ جہاں رانا محمود علی خان روزانہ بیٹھا کرتے تھے، بعد میں یہاں جسارت کا دفتر بھی قائم ہوا۔ ظہیر احمد حیدرآباد میں جسارت کے نمائندے تھے۔ جمعیت نے مجھے سیکریٹری اطلاعات کی ذمہ داری بھی دے دی، میرے پیش رو اس وقت سید وجاہت علی تھے۔ جو بعد میں طویل عرصے گورنر سندھ کے پی آر او کے منصب پر فائز ہوئے۔ میں جمعیت کی خبر کا پریس ریلز ہاتھ سے لکھتا۔ اس کی مزید کاپیاں بنانے کے لیے کاربن پیپر رکھ کر کاپیاں بنائی جاتی۔ فوٹو اسٹیٹ کی سہولت اس زمانے میں ناپید تھی۔ اقابل حامد جنگ کے نمائندے تھے، عبدالرحمن امرتسری مشرق کے نمائندے تھے۔ مبین صاحب حریت، عثمان اجمیری نوائے وقت، کے نمائندے تھے۔

سٹی کالج میں پڑھائی کم اور سیاست زیادہ ہوتی تھی۔ شہر کے وسط میں سندھی، مہاجر طلبہ کے لیے یہی ایک شام کا کالج تھا، نور محمد ہائی اسکول میں مسلم کالج اور تلک چاڑی پر سچل سرمست کالج بھی تھے۔ لیکن شہر کے طلبہ کی اکثریت سٹی کالج میں جاتی، یہاں بڑی تعداد کو فیس کو رعایت بھی مل جاتی، عبدالرحیم ڈیتھو کالج کے پرنسپل تھے، بہت خلیق، محبت کرنے والے، وہ برسہا برس کالج کے پرنسپل رہے، طلبہ بھی ان کا بہت احترام کرتے۔ مجھے سٹی کالج یونٹ کا ناظم بنادیا گیا۔ جس میں لاء کالج اور کامرس کالج بھی شامل تھے، ہم ایک دیوار گیر پوسٹر پر ہاتھ سے لکھ کر ایک اخبار نکالا کرتے تھے، جس کا نام نوائے طلبہ تھا۔ بعد میں یہ سائیکلو اسٹال پر بھی نکالا گیا۔ ہمارے مقابلے پر الیاس شاکر بھی ایک دیواری اخبار نکالا کرتے تھے، اس میں وہ چٹکلے اور فقرے بھی کستے۔ ” بچوں کی فوج۔ ناظم کی موج” اور ایسے ہی جملے جس میں کھالوں کا حساب مانگا جاتا تھا۔ اور ہم جوابا لکھتے” کھال دو- حساب لو”۔ الیاس شاکر، اسماعیل کامریڈ، صلاح الدین قریشی، حاذق شیخ، لیق احمد، محمد علی عادل، نسیم السحر، ایوب باقر، ملا رونق، اقبال کے کے، ظہیر حسنین، شاہد پرویز، سردار قریشی، اس زمانے میں طلبہ سیاست میں فعال تھے۔ اس زمانے میں ہمارا تعارف انوار احمد زئی صاحب سے ہوا۔ وہ سٹی کالج میں لیکچرار تھے، اور طلبہ میں بہت مقبول تھے، بعد میں ان سے بہت اچھی دعا سلام اور تعلقات رہے۔ انوار زئی صاحب طلبہ میں پڑھائی کا شوق بڑھاتے، اور اپنی

۔ سٹی کالج 1951ء کے دوران ایک تنظیم ’’ریناساں ایجوکیشنل سوسائٹی ‘‘ نے قائم کیا تھا۔ اس کے محرک اس سوسائٹی کے بانی حیدر آباد کے معروف سی ایس پی آفیسر ایس کے رحیم تھے۔ مشہور قانون دان، دھرم داس اس تنظیم کے سرپرست تھے۔ دیگر عہدے داروں میں معروف ادیب و شاعر، براڈ کاسٹر الیاس عشقی اور احمد عبدالقیوم بھی شامل تھے۔ ” سٹی کالج ” کے نام سےابتدائی طور پر’’اسٹیشن روڈ‘‘ پر واقع این ٹی ہوپ فل اسکول کی عمارت میں شام کا پہلا کالج قائم کیا گیا تھا۔ اس کے قیام کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ملازمت پیشہ افراد یا محنت کش دن بھر رزق حلال کمانے کے بعد شام کو تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکیں۔

اس کالج سے لا تعداد فارغ التحصیل طلبا نے سیاست، علم و ادب فن و ثقافت اور مختلف شعبوں میں سٹی کالج کا نام روشن کیا۔ کالج کا ہفتہ طلبہ اور کل پاکستان بین الکلیاتی مباحثے شہرت رکھتے تھے۔ جن میں پاکستان کے دور دراز علاقوں اور صوبوں کے طلبا شرکت کرنے کواپنےلئے اعزاز تصور کرتے تھے۔ یہ مباحثے اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں کسی وقفے کے بغیر ہفتوں جاری رہتے تھے۔ کالج کے تحت منعقد ہونے والی کلاسیکل میوزک کانفرنس اور مشاعرے بھی بہت شہرت رکھتے تھے۔ اس کے پرنسپل ممتاز ادبی شخصیات رہی۔ جن میں مرزا عابد عباس، پروفیسر عبدالستار شیخ، پروفیسر سید قوی احمد، پروفیسر عبدالرحیم ڈیتھو، پروفیسر عظیم عبدالکریم عباسی اور پروفیسر انوار احمد زئی کے نام نامی شامل ہیں۔ 6 ؍جولائی 1975 کوایک گروپ تفریح کے لئے بس میں شمالی علاقہ جات کی دلہن مری کی چھانگلہ گلی پہنچا تو بس ایک پہاڑی کا موڑ کاٹنے کے دوران بس گہری کھائی میں جا گری۔ بس میں 60سے زائد طلبا سوار تھے، جن میں سے 46طلبا اپنے خالق حقیقی سے جا ملے جبکہ دیگر شدید زخمی ہوئے۔ اس میں ہمارے بہت سے دوست بھی جان بحق ہوئے۔ پورے ملک میں سوگ رہا۔ شہر کے ہر محلے اور گلی سے کوئی نہ کوئی جنازہ اٹھا تھا۔ ہم کئی دن تک سوگواری کے عالم میں رہے۔

جاری ہے—-

اس سلسلہ کی پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply