بہرے ہو جاو —– خبیب کیانی

0

بہرے ہو جائو۔ ۔ آگے جانا ہے تو بہرے ہو جائو۔ بہرے ہو جائیں؟ کیا مطلب سر؟ بہرے کیسے ہو جائیں؟ مجھے ملنے والے اکثر نوجوان صرف ایک سوال لے کر آتے ہیں کہ سر کامیابی کا گر کیا ہے؟ او ر میں جب آگے سے سادہ سا حل پیش کرتا ہوں کہ کامیاب ہونا ہے تو آپ لوگ پہلی فرصت میں ہی بہرے ہو جائیں تو یہ ان کے لیے ایک حیران کن بات ہوتی ہے۔ ان کی حیرت کو دور کرنے کے لیے اپنی کی ہوئی بات کی وضاحت کے لیے ان کے سامنے میں ایک کہانی رکھتا ہوں جو کچھ یوں ہے کہ ایک بار مینڈکوں کے ایک گروپ نے ایک بہت اونچے مینار کو دیکھنے کے بعد یہ شرط لگا لی کہ دیکھتے ہیں ہم میں سے کون اس مینار کو سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے سب سے پہلے سر کرتا ہے۔ ریس کے لیے طے کردہ وقت پر تمام مینڈک نکتہء آغاز پر اکٹھے ہوئے اور ریس کو دیکھنے کے لیے دیگر جانور، پرندے اور حشرات وغیرہ بھی اکٹھے ہو گئے۔ تمام مینڈک بہت پر جوش تھے اور ہر کسی کو یقین تھا آج جیت اسی کے نام ہوگی۔ سیٹی بجتے ہی تمام مینڈکوں نے بھر پور قوت سے سیڑھیاں پھلانگنا شروع کر دیں تا کہ چوٹی تک سب سے پہلے پہنچ کر معرکہ مارا جا سکے۔ ریس کے آغاز کے کچھ دیر بعد ہی زیادہ تر مینڈکوں کو تارے نظر آنا شروع ہو گئے انہیں لگا کہ وہ ریس کو آسان لے گئے تھے، ایک کے بعد ایک مینڈک گرتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سوائے چند ایک کے باقی سب ریس چھوڑ گئے۔ اب تگڑا مقابلہ تھا، لیکن مصیبت یہ تھی کہ بچ جانے والوں کو ریس کے ساتھ ساتھ ان مینڈکوں کی پھبتیاں، ریس چھوڑنے کے مشورے اور حوصلہ توڑ جملوں کو بھی ڈیل کرنا تھا جو کہ ہار مان کرریس سے باہر ہو چکے تھیـ۔ یہ بہت مشکل ہے، تم میں سے کوئی بھی مینار کے ٹاپ پر نہیں پہنچ پائے گا، عقل مند ہو تو ریس چھوڑ دو، یہ اور ان جیسے دیگر جملوں کی ایک بوچھاڑ تھی اور جیسے جیسے بلندی بڑھتی جا رہی تھی ان آوازوں کا اثر بھی بڑھنے لگا تھا۔ تھکاوٹ اور ریس چھوڑ دینے والے مینڈکوں کی آوازوں نے بالآخر اپنا کام دکھانا شروع کر دیا، ایک کے بعد ایک مینڈک حوصلہ ہار تا گیا اور کرتے کرتے بات یہاں تک جا پہنچی کہ ایک کے علاوہ باقی تمام مینڈک ریس سے باہر ہو گئے۔ اب جب سبھی ریس سے باہر ہو چکے تھے تو ظاہر ہے کہ ان کو کہاں گوارا تھا کہ آخری مینڈک مینار تک پہنچ پائے؟ سب نے مل کر اس مینڈک کا حوصلہ توڑنے کی بھر پور کوشش کی، اس کا کئی طرح سے مذاق اڑایا گیا، اس کے دھیان کو توڑنے کے لیے ہر حربہ آزمایا گیا لیکن وہ شیر کا بچہ، نہیں شیر کا نہیں، وہ مینڈک کا بچہ بازنہ آیا اور اس نے مینار کو سر کر کے ہی چھوڑا۔ اب جب مینار فتح ہو چکا اور اس سارے مینڈک منڈل کو اپنانیا ہیرو مل گیا تو اس کے نیچے آتے ہی مینڈکوں کے میڈیا چینلز کے رپورٹرز مائیک اٹھا کر اس ہیرو مینڈک کے پاس جا جمع ہوئے، سوال سب کا ایک ہی تھا کہ بھائی صاحب یہ بتائیں کہ جب اتنے سارے مینڈک، بلکہ یوںکہنا چاہیے کہ آپ کے آس پاس موجود سارے مینڈک ہی آپ کا حوصلہ توڑنے کے لیے اس قدر منفی جملے کس رہے تھے تو آپ اس سب کے دوران اپنے گول پر اتنے فوکسڈ کیسے رہے، اپنے دھیان پر اتنا زبردست کنٹرول آپ نے کیسے ڈیویلپ کیا؟ سوال کئی بار دہرایا گیا مگر مجال ہے جو جیتنے والے مینڈک نے اس کا کوئی جواب دیاہو، اس سے پہلے کہ سب مل کر جیتنے والے مینڈک کو مغرور قرار دے کے پیٹنا شروع کر دیتے، جیتنے والے مینڈک کے محلے کا ایک بزرگ مینڈک وہا ں آپہنچا، اسے جب ساری صورتحال کا علم ہوا تو اس نے سب کو بتایا کہ اس غریب جیتنے والے مینڈک پر اتنا غصہ نہ کرو، یہ اگر بہرا نہ ہوتا تو ضرور آپ کے سوالوں کا جواب دیتا۔ بزرگ مینڈک کی اس بات کے ساتھ ہی سب میڈیا رپورٹرز مینڈکوں کو جواب مل گیا کہ کیسے اس جیتنے والے مینڈک نے آس پاس کے لوگوں کی باتوں کو خاطر میں لائے بغیر فتح حاصل کی، جواب سادہ سا تھا، وہ ساتھی مینڈکوں کے طنزیہ جملے، حوصلہ توڑنے والے کمنٹس کو سن ہی نہیں رہا تھا کیونکہ وہ بہرہ تھا۔۔۔ نوجوانوں کو یہاں پہنچ کر سادہ سا مشورہ دیتا ہوں کہ ایک مرتبہ خوب تسلی اور احتیاط سے بیٹھ کر اپنے گولز یا اہداف کو سیٹ کر لیں اور اس کے بعد بہرے ہو جائیں جب تک کہ آپ ان گولز کو حاصل نہ کر لیں۔

گئے گزرے زمانوں کی داستانوں کی دنیا ہو یا آج کی چکا چوندزندگی، ہر بڑی کہانی میں آپ کو مین کیریکٹر میں اپنے گولز کو سیٹ کر لینے کے بعد آس پاس کے لوگوں کی باتوں اور تجزیات کو مکمل طور پر اگنور کرنے کی صلاحیت ضرور نظر آئے گی۔ لوگوں کے پیش کیے گئے اعدادوشمار کتنے ہی درست اور بجا کیوں نہ لگ رہے ہوں ان کیریکٹرز کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ چاروں سمت سے لوگوں کی جانب سے کورس میں گائے جانے والی ناممکن ناممکن کی قوالی کے شور میں بھی اپنے گولز کو حقیقت میں بدلنے کے لیے پر یقین رہتے ہیں۔ اگر آپ لوگوں کو کرکٹ سے شغف ہے تو شاید ہی آپ میں سے کوئی بھی آسٹریلیا اور سائوتھ افریقہ کے مابین ہونے والے اس حیران کن میچ کو بھول پایا ہو جس میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سائوتھ افریقہ کے لیے پچاس اوورز میں  434رنز کا ٹارگٹ سیٹ کیا تھا۔ یہ انوکھا میچ مارچ  2006میں کھیلا گیا یعنی کہ یہ t20 کرکٹ کے آغاز سے بھی پہلے کی بات ہے۔ یہ وہ دور تھا جب ایک روزہ میچوں میں 300کے آس پاس کے سکور کو ایک بڑا ٹوٹل گنا جاتا تھا اور جس ٹیم کو 300رنز پڑ جاتے تھے اس کے لیے میچ میں واپس آنا بہت مشکل ہو ا کرتا تھا۔ جب آسٹریلیا کی اننگز ختم ہوئی تو سائوتھ افریقی ٹیم کے کھلاڑیوں کے کندھے ایسے ڈھلکے ہوئے تھے کہ لگ رہا تھا ان کے ذہن میں اننگز نہیں میچ ہی ختم ہو چکا تھا، دنیا بھر کا میڈیا سائوتھ افریقی ٹیم کے اس کارنامے کا کھل کر یا ڈھکے چھپے لفظوں میں مذاق اڑا رہا تھا کہ ٹیم نے اپنے ہی گرائونڈ ایسی بدترین درگت بنوالی۔ اننگز کے درمیان کی بریک کے آغاز میں تو سب سائوتھ افریقی کھلاڑی ایک دوسرے سے منہ چھپاتے نظر آئے مگر ظاہر ہے رسمی طور پر ہی سہی دوسری اننگز کی پلاننگ کی میٹنگ میں تو سب کو اکٹھا ہونا تھا اور ایک دوسرے کا سامنا بھی کرنا تھا۔ میٹنگ کال کی گئی اور کوچنگ سٹاف تقریبا سبھی کھلاڑی ڈھکے چھپے لفظوں میں یہی بات کرتے نظر آئے کہ ہماری بیٹنگ میں فیس سیونگ کی ہی کوشش ہو سکتی ہے باقی تو اتنا بڑا ٹوٹل عبور کرنا ظاہر ہے ایک نا ممکن کام ہے۔ سب مل کر جب ناممکن نا ممکن کی جگل بندی کر رہے تھے اس وقت ان میں بھی ایک بہرہ کھڑا تھا۔ جی۔ ۔ بہرہ اس لیے کہ نہ تو وہ یہ سوچ رہا تھا کہ اتنا بڑا ٹوٹل ہم نے کیسے کھا لیا، نہ یہ کہ دنیا بھر میں میڈیا اور تماشائی ان پر پھبتیاں کس رہے ہیں اور نہ ہی اسے اس بات میں کوئی دلچسپی تھی کہ اس کے ساتھی اس ٹوٹل کو عبور کرنے کو تقریبا ایک ناممکن کام قرار دے رہے ہیں۔ اس کے ذہن میں ایک ہی ٹیپ چل رہی تھی کہ آسٹریلیا نے اس کے حساب سے 15 سے 20رنز کم بنائے تھے اور 438ایک بہت آسانی سے عبور کیے جانے کے قابل سکور ہے۔ نا ممکن نا ممکن کے شور میں بھی اپنے اندر کے یقین پر بھروسہ کرنے والا یہ کھلاڑی سائوتھ افریقی ٹیم کا سینئیر آل رائونڈر جیک کیلس تھا۔ سب کی حوصلہ توڑ باتوں کو سننے کے بعد جب کیلس جیسے سینئیر کھلاڑی نے کہا کہ آسٹریلیا 15سے 20رنز شارٹ ہے اور ہم اسے با آسانی پچھاڑ سکتے ہیں تو چند نوجوان کھلاڑی فورا جیک کیلس کے ساتھ مل گئے اور دیکھتے دیکھتے چند منٹ میں ٹیم نے فیس سیونگ کے بجائے میچ جیتنے کے لیے پلاننگ کرنا شروع کر دی۔ سائوتھ افریقہ نے 49.5اوورز میں 438رنز بنا کر آسٹریلیا کے ساتھ دنیا بھر کے میڈیا، تجزیہ نگاروںاور خود پر پر ہنسنے اور پھبتیاں کسنے والے تمام افراد کو بھی دھول چٹا دی۔ جیک کیلس نے شاید مینڈکوں کی یہ کہانی پڑھی ہوئی تھی اسی لیے اتنا کچھ اتنی آسانی سے اگنور کرتے ہوئے اس نے اپنے یقین کی نہ صرف حفاظت کی بلکہ اسے اپنی دل شکستہ ٹیم کے ہر کھلاڑی میں بھی با آسانی منتقل کیا۔ یہ میچ آج بھی کرکٹ کے عظیم ترین بانچ میچوں میں سے ایک میچ گنا جاتا ہے۔

اگر سنجیدگی سے اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ جیک کیلس جیسے افراد لوگوں کے منفی اورحوصلہ توڑ دینے والے جملوں کے ساتھ ساتھ شکست کی طرف واضح اشارہ کرتے ہوئے اعدادوشمار کو اتنی آسانی سے کیسے اگنور کر لیتے ہیں تو اس سوال کے جواب میں دوعوامل کو تو بہر صورت شامل کرنا پڑے گا۔ پہلی بات تو یہ کہ ان کا افراد کا اعتماد ویسا نہیں ہوتا کہ جس کے لیے teenage confidenceیا biased optimismکی ٹرمز استعمال ہوتی ہیں کہ ایک بندہ ہے وہ کسی فیلڈ کے بارے میں کچھ خاص نہیں جانتا اور اس کے باوجود اسے لگتا ہے کہ وہ اس فیلڈ کے کسی بھی ماہر کو با آسانی پچھاڑ سکتا ہے۔ کیلس جیسے لوگ اپنی فیلڈ میں بھر پور محنت کرنے کے بعد ہی اس لیول کے اعتماد تک پہنچتے ہیں کہ وہ اپنی مکمل ٹیم اور اپنے پورے کوچنگ پینل تک کی رائے کے برعکس شکست کے بجائے جیت کے لیے پر عزم ہوں۔ یہ نہ صرف اپنی فیلڈ سے جڑی صلاحیتوں کو نکھارتے ہیں بلکہ اس فیلڈ سے جڑی ثانوی باتوں کو بھی سیکھنے اور سمجھنے کی لگاتا ر کوشش کرتے رہتے ہیں مثال کے طور پر کیلس ٹیم میں ایک آل رائونڈر کے طور پر موجود تھا اور اس کی ذمہ داریوں میں بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ شامل تھیں لیکن اس نے اس کے ساتھ ساتھ اس گرائونڈ کی پچ کی تاریخ اور عمومی رویے پر کہ اس پچ پہ عموما کتنا سکور پڑتا ہے وغیرہ پر بھی بھر پور توجہ دی ہوئی تھی اور اسی وجہ سے اس نے ٹیم میٹنگ میں سب کو بتایا کہ بھائی، آسٹریلیا پندرہ سے بیس رنز شارٹ ہے۔ بھر پور محنت سے حاصل کیے گئے اعتماد کے بعد دوسری چیز جو اس بہت ضروری بہرے پن کے لیے اہم ہے اسے نیورو سائنس میں audacity pricipal کہا جا تا ہے، اس اصول کے مطابق بد ترین حالات میں بھی پرعزم رہتے ہوئے اپنے آئیڈیا کو حقیقت کا رنگ دینے کی صلاحیت رکھنے والے لوگوں کی شخصیت میں ایک trait ہوتا ہے کہ وہ جب کوئی بظا ہر بے وقوفانہ سا آئیڈیا لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں تو پھر اس بات کی بالکل بھی پرواہ نہیں کرتے کون کیا کہ رہا ہے ان کے اندر ایک go for it attitude ہوتا ہے اور وہ بد ترین مخالفت کے باوجود بھی بصیرت و جسارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے خیال کو حقیقت میں بدل ڈالتے ہیں۔ دنیا کے تمام بڑے سائنسدانوں کی شخصیات میں یہ trait شامل تھا۔

اب یہ بتائیں کہ آپ دل میں کیا خواب لیے پھر رہے ہیں؟یہ شاندار خواب حقیقت میں کب بدلیں گے؟اگر آپ آج تک یہ سوچتے رہے ہیں کہ جب تک آپ کے خوابوں کو دوسرے لوگ approval نہ دیں تب تک ان کو حقیقت میں بدلنے کا عمل شروع نہیں ہو سکتا تو سن لیں اور سمجھ بھی لیں کہ ایسا کبھی بھی نہیں ہو گا۔ اپنی فیلڈ میں بھرپور محنت کر کے ایک خواب ایسا ضرور بنائیں کہ جسے سنتے ہی لوگ کہیں کہ نا ممکن، ہو ہی نہیں سکتا۔ اپنی محنت سے حاصل کیے گئے اعتماد اور اپنے go for it attitude پر انحصار کرتے ہوئے اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے ڈٹ جائیں، آس پاس موجود لوگوں کی ناممکن ناممکن کی قوالی ہو یا دیگر طنزیہ جملے، آپ کا جواب ایک ہی ہونا چاہیے، واااز نہیں آرہی۔ ۔ واااز نہیں آرہی۔

(Visited 1 times, 14 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply