نفس مطمئنہ اور نفس امارہ کی جنگ : علامہ ابن قیم (رح)

0

یہ مضمون علامہ ابن قیم (رح) کی تصنیف ‘کتاب الروح’ کے صفحات 310 تا 359 سے ماخوذ ہے۔ علامہ کا پورا نام حافظ شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن ابی بکر الدمشقی تھا اور ابن قیم کے نام سے مشہور ہوئے۔ 691 ہجری میں دمشق میں پیدا ہوئے اور 751 ہجری (1350 عیسوی) میں وفات پائی۔ آپ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے شاگردوں میں سے تھے اور آپ کا تعلق امام احمد بن حنبل کی فقہ سے تھا۔ آپ کی ساٹھ سے زائد تصانیف ہیں جن میں دس سے زائد کتب بہت مشہور ہوئیں اور کتاب الروح بھی انہی میں سے ایک ہے۔ (مولف: وحید مراد)


قرآن مجید میں نفس کی تین کیفیات کا بیان ہے۔ نفس مطمئنہ، نفس لوامہ اور نفس امارہ۔ نفس مطمئنہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کی تصدیق کرتا اوراس کے وعدوں پر مطمئن رہتا ہے۔ اللہ پر یقین رکھنے، اسکے احکام کے آگے سر تسلیم خم کرنے (تعمیل و اطاعت ) سے اس میں اطمینان اور ٹھنڈک پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ اطیمنان علم و ایمان سے بھی حاصل ہوتا ہے اور ارادہ و عمل سے بھی۔ جب شک سے یقین کی طرف، جہالت سے علم کی طرف، غفلت سے ذکر الہی کی طرف، گناہوں سے توبہ کی طرف، ریاسے خلوص کی طرف، جھوٹ سے سچ کی طرف، سستی سے چستی کی طرف، غرور سے عاجزی کی طرف، اکڑ سے انکساری کی طرف اور بے عملی سے عمل کی طرف سفر شروع ہوتا ہے تو اطمینان قلب حاصل ہوتاہے۔

نفس لوامہ کا مطلب تلون مزاجی اور تردد کی کیفیت ہے۔ اس میں نفس رنگ بدلتا رہتا ہے۔ کبھی اللہ کا ذکر کرتا ہے اور کبھی غافل ہوجاتا ہے، کبھی اللہ کی طرف آگے بڑھتا ہے اور کبھی پیچھے ہٹ جاتا ہے، کبھی رجوع کرتا ہے اور کبھی پتھر بن جاتا ہے، کبھی خوش ہوتا ہے کبھی ناخوش، کبھی اچھے عمل سے راضی اور کبھی برے عمل سے راضی۔ یہ نفس جب گناہ کے کاموں پر لعن طعن کرتا ہے تو وہ ایمان ہی کی دلیل ہے کیونکہ نفس امارہ تو گناہوں پر ملامت نہیں کرتا۔

نفس امارہ برائی کی طرف ابھارتا ہے۔ نفس کے اندر شر مخفی ہے جو برے عمل کرواتا ہے اورکوئی شخص بھی اپنے نفس کی برائی سے سوائے اللہ کی مدد کے بچ نہیں سکتا(وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْۚ-اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْؕ اور میں اپنے نفس کو بے قصور نہیں بتاتا بےشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے۔ سورۃ الیوسف آیت53)۔ اگر اللہ، بندے کو اس کے نفس پر چھوڑ دے تو بندہ نفس کی برائی سے اور برے اعمال سے ہلاک ہوجائے اور اگر اللہ اسے توفیق دے اور اسکی مدد کرے تو وہ نجات پاجائے۔ وَ لَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ مَا زَکٰی مِنۡکُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا اوراگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے ایک شخص بھی کبھی پاک نہ ہوتا(سورۃ نور آیت 21)۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیبﷺ کے لئےفرمایا کہ وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْــٴًـا قَلِیْلًاۗۙ اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو آپ ان کی طرف کچھ نہ کچھ جھک ہی جاتے۔ رحمۃ اللعالمینﷺ فرماتے کہ ‘ہم اپنے نفسوں کی برائیوں سے اور برے اعمال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے وہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں’۔

اللہ تعالیٰ نفس کی مختلف کیفیات سے ہمیں آزماتا ہے۔ وہ فرشتے کے ذریعے تلاوت، اذکار اور نیک اعمال پر نفس مطمئنہ کی مدد فرماتا ہے تاکہ وہ نفس امارہ کے ساتھ ہمت سے جنگ کر سکے۔ یہ فرشتہ اسے غلطی پر نفرت دلاتا ہے، گناہوں کو بری صورت میں پیش کرتاہے، سچ کو حسین و جمیل صورت دے کر اسکی طرف مائل کرتا ہے۔

اسکے مقابلے میں شیطان نفس امارہ کو جھوٹ اور ریاکاری سکھاکر سیدھی راہ سے ہٹا تا اور گمراہ کرتا ہے۔ شیطان جھوٹے وعدے کرتا ہے، برائیوں پر ابھارتا ہے، بڑی بڑی امیدیں دلاتا ہے، دھوکے دیتا ہے اور برے کاموں کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے، خواہشات اور ارادے کے ذریعے اسکی مدد کرتا ہے۔ جب نفس خواہشات کا دروازہ کھولتا ہے تو وہ نیک اعمال کو کھا جاتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ ‘انسان پر شیطان بھی اترتا ہے اور فرشتہ بھی، برے خیال بھی آتے ہیں اور اچھے بھی۔ شیطانی خیالات برائی پر اور حق کو جھٹلانے پر ابھارتے ہیں اور نیک خیالات بھلائی پر اور تصدیق حق پر ابھارتےہیں۔ جس کے دل میں نیک خیالات آئیں اسے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور یقین کر لینا چاہیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور دوسری صورت میں شیطان رجیم سے اللہ کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔ اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِۚ-وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًاؕ- شیطان تمہیں محتاجی کا اندیشہ دلاتا ہے اور بے حیائی کاحکم دیتا ہے اور اللہ تم سے اپنی طرف سے بخشش اور فضل کاوعدہ فرماتا ہے(سورۃالبقرۃ آیت 268)۔

فرشتہ نفس مطمئنہ سے توحید و احسان، صبر و توکل، توبہ و رجوع، نیکی وتقویٰ اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت و توجہ، موت اور موت کے بعد کی زندگی کی تیاریوں کو چاہتا ہے لیکن شیطان نفس امارہ سے اسکے خلاف کام چاہتا ہے اور یہ نفس مطمئنہ کے عمل کو چھین لینا چاہتا ہے تاکہ نفس امارہ مضبوط ہو۔ اس لئے نفس مطمئنہ پر یہ بات مشکل ہے کہ اسکاہر عمل جوں کا توں اللہ تعالیٰ تک پہنچ کر نجات کا ذریعہ بن سکے۔ شیطان اور نفس امارہ اس عمل کو خالص حالت میں اللہ تک نہیں پہنچنے دیتا۔ حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اگر مجھے پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ نے میرا ایک ہی سجدہ قبول کر لیا تو مجھے موت سے زیادہ کوئی چیز عزیز نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ اللہ پرہیز گاروں کے عمل کو قبول فرماتا ہے۔

نفس امارہ نفس مطمئنہ کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑا رہتا ہے جب نفس مطمئنہ کسی نیکی کی طرف راغب ہوتا ہے تو نفس امارہ اسے برائی پر اکساتا ہے یا اسکی نیکی کو خراب کرنے کے درپے ہوتا ہے۔ اگر وہ ایمان و توحید پر یقین رکھتا ہے تو یہ شک و نفاق اور شرک سے خوف و امید لے آتا ہے۔ جب وہ اخلاص و توکل، صدق و محاسبہ، توبہ و انابت کو لاتا ہے تو یہ اسکے الٹ عمل لا کر اسے کئی سانچوں میں ڈھال لیتا ہے اور قسمیں کھاکر کہتا ہے اسکا مقصد صرف ہمدردری اور صلح کل ہے حالانکہ اسکا مقصد صرف اپنی خواہشات کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ جن صفات و اخلاص و افعال کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، نفس امارہ ان جیسی وہ صفات واخلاص و افعال سامنے لاتا ہے جو اللہ کو ناپسند ہیں اور سب کو گڈمڈ کرکے ایسی تلبیس پیدا کرتا ہے جس کو سمجھنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ افعال ارادوں کے تابع ہوتے ہیں اور بظاہر ایک جیسے معلوم ہوتے ہیں لیکن حقائق میں مختلف ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کے درمیان پائے جانے والے فرق کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ شیطان کی تلبیس سے بچا جا سکے۔ وہ صفات جن کی ایک صورت اچھی ہوتی اور ایک بری انکی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

1۔ غیرت اورغرور: ایک غیر ت اللہ کو پسند ہے اور دوسری ناپسند۔ زنا اور فحاشی سے بچنے کیلئے پائی جانی والی غیرت کواللہ پسند کرتا ہے اس لئے جس شخص میں یہ غیرت و حمیت نہیں پائی جاتی اسے دیوث کہا جاتا ہے لیکن جاہلانہ و مشرکانہ ثقافت کی غیرت و حمیت ناپسندیدہ ہے۔ لڑائی میں غرور کی چال اللہ کو پسند ہے لیکن اسکے علاوہ ناپسند ہے۔

2۔ غرور اور خود داری: خوداری یہ ہے کہ انسان کمینے پن اور بری عادتوں، طمع اور لالچ سے بچتا رہے اور اپنے نفس کو رذائل میں داخل کرنے سے اونچا سمجھے۔ مالک کے تعظیم و تکریم کرتے وقت اپنے نفس کی پاکیزگی کو قائم رکھنا اور اسکی حفاظت و نگرانی کرنا خوداری ہے۔ لیکن غرور خود کو اونچا سمجھتا ہے اور دوسروں کو نیچا سمجھتا ہے اور مالک کے سامنے تعظیم و تکریم اور پاکیزگی کا خیال نہیں کرتا۔

3۔ صیانت و تکبر : صیانت یہ ہے کہ دل و دین کی حفاظت کی غرض سے گناہوں کے داغوں اور دھبوں سے بچا جائے اورظاہری جسم کی طہارت اور پاکیزگی کی غرض سے کپڑوں اور جسم کو بھی گندگی اور چھینٹوں سے بچایا جائے اس لئے ایسا شخص اپنے آپ کو آلودہ جگہوں اورماحول سے بچا کر رکھتا ہے لیکن اسکے مقابلے میں غرور کرنے والا شخص اپنے قیمتی لباس اور اپنی جھوٹی آن اور شان کو بچانے کیلئے غریب اورہلکے لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے اور بعض اوقات ان کی پرواہ کئے بغیر انہیں روند کر گذر جاتا ہے۔

4۔ نرمی اور کاہلی: نرمی ایک اچھی صفت ہے لیکن اس سے ملتی جلتی ایک اور صفت سستی، کاہلی یا مداہنت بری صفات ہیں۔ نرمی، مہربانی اور بھلائی کو اللہ پسند کرتا ہے لیکن مداہنت (خوشامد، چکنی چپڑی باتیں) کو پسند نہیں کرتا۔ ایمان والے خاطر و مدارت کرتے ہیں لیکن منافق خوشامد کرتے ہیں۔

5۔ تواضح اور رسوائی: عبادات، دینی تعلیم اور اللہ کی معرفت سے انسان میں ایک صفت پیدا ہوتی ہے جسے عاجزی اور انکساری کہتے ہیں۔ اللہ کی رضا کی خاطر مخلوق خدا سے محبت و پیار اور رحمت و شفقت سے پیش آنا، اپنے آپ کو دوسروں کے مقابلے میں اچھا نہ جاننا، دوسروں کے فرائض ادا کرنا لیکن کسی پر اپنا حق نہ سمجھنا۔ اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کو یہ صفات عطا کرتا ہے۔ لیکن ان صفات کے خلاف رسوائی اور ذلت نفس کی رذیل صفات ہیں جن میں انسان نفسانی لذتیں حاصل کرنے کی خاطر اپنے آپ کو پستی اور کمینگی کی حد تک گرا دیتا ہے۔ نفسانی خواہشات کی خاطریہ رسوائی اور ذلت اللہ کو پسند نہیں۔

6۔ عفو اور ذلت:بدلہ پر قدرت ہونے کے باوجود بطور احسان و کرم اپنا حق ختم کرنا عفو(معافی)کہلاتا ہے۔ برائی کا بدلہ اس جیسی برائی ہے (وجزاء سیئتہ سیئتہ مثلھا) یعنی بدلہ(عدل) جائز ہے، عفو(فضل، معاف کرنا) اعلیٰ اخلاقی صفت ہے اور ظلم حرام ہے۔ لیکن اسکے برعکس خوف، دل کی کمزوری، بذدلی اور کسی لالچ کی وجہ سے بدلہ نہ لینا ذلت ہے جو بہت بری صفت ہے۔

7۔ انتقام و انتصار: اپنے آپ کو خواہشات سے آزاد کرکے، عزت کی حفاظت اور احکامات خداوندی کے تحفظ کی خاطر جو بدلہ لیا جاتا ہے وہ انتصار کہلاتا ہے۔ یہ غیرت ایمانی کا تقاضا ہوتا ہے۔ اسکے برعکس صرف اپنے نفس کی آگ کو ٹھنڈا کرنے یا دوسرے کو ذلیل کرنے کی خاطر جو بدلہ لیا جاتا ہے وہ انتقام ہوتا ہے اور یہ اللہ کو پسند نہیں۔

8۔ خشوع ایمان اور خشوع نفاق: خشوع ایمان یہ ہے کہ دل اللہ کی تعظیم، جلال، وقار اور رعب کے آگے ڈر، شرم، حیا اور محبت سے جھک جائے، اپنے گناہوں پر شرمندہ اور نادم ہو اور بدن کے تمام اعضاء بھی اسکے ساتھ جھک جائیں۔ دل اس وقت جھکتا ہے جب نفسانی خواہشات کی آگ بجھ چکی ہو اور دل میں اطمینان اور قرار آچکا ہو لیکن خشوع نفاق مصنوعی تکلف ہوتا ہے جو صرف اعضاء پر ظاہر ہوتا ہے اور دل شہوتوں سے بھرا ہوتا ہے اور برے ارادے اس میں جوش مار رہے ہوتے ہیں۔

9۔ فرح قلب اور فرح نفس: اللہ تعالیٰ پر ایمان، محبت اور معرفت سے جو دل کی خوشی حاصل ہوتی ہے اسے فرح قلب کہتے ہیں۔ مثلاً جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ایمان والوں کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور وہ خوش ہوتے ہیں۔ اسی طرح اخلاص، توکل اور توبہ سے روحانی فرح اور مسرت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن فرح نفس مادی آرام، سکون اور تعیشات سے حاصل ہوتی ہے۔

10۔ سخاوت اور فضول خرچی: اللہ تعالیٰ نے مال میں دو قسم کے حقوق رکھے ہیں ایک حقوق مقررہ (زکوۃ، صدقہ فطر اور جنکا خرچ اٹھانا لازم ہے) اور حقوق غیر مقررہ(ہدیہ کا بدلہ، مہمانوں کا حق، عزت و آبرو قائم رکھنے کیلئے خرچ)۔ سخی یہ تمام حقوق خوشی اور فراخی دل کے ساتھ اس امید پر ادا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں اسکا صلہ دے گا لیکن اسراف کرنے والے کا ہاتھ شہوت و خواہش کی وجہ سے کھلا ہوتا ہے اور وہ بغیر کسی حکمت کے اندھا دھند خرچ کرتا ہے۔

11۔ شجاعت اور جراءت: شجاعت، نازک اور خطرناک مواقع پر جمے رہنے کا نام ہے۔ جس طرح بزدلی، بے صبری، بے چینی، وسوسہ اور بدگمانی سے پیدا ہوتی ہے اسی طرح شجاعت، فتح کی امید، صبر اور اللہ پر یقین، اچھے گمان اور ایمان سے پیدا ہوتی ہے۔ شجاعت کی طرح جراءت بھی دل کی بہادری ہی ہے لیکن یہ غصے، انا، لاپرواہی اور انجام سے بے خبری سے پیدا ہوتی ہے اس میں نفس فائدہ اور نقصان سے بے پرواہ ہو کر جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔

12۔ احتراز و بدگمانی: احتراز(پرہیز، احتیاط) یہ ہے کہ ہر خطرے کا ظاہری اسباب سے مقابلہ کیا جائے اور اسکے لئے پوری طرح تیار رہا جائے۔ محترز، لوگوں سے ملتے وقت ان سے بدگمانی نہیں رکھتا بلکہ احتیاط برتتا ہے۔ لیکن بدگمانی میں دل، بغض اور کینے سے بھرا ہوتا ہے اور اسکا اثر زبان اور اعضاء پر بھی ہوتا ہے اس لئے ایسا شخص نکتہ چینی اور ملامت کرتا ہے۔ احتیاط میں افراط و تفریط سے بچا جاتا ہے اور ہر وہ کام کیا جاتا ہے جس سے اللہ اور اسکے رسولﷺ راضی ہوں لیکن وسوسہ یہ ہے کہ جو کام سنت رسول ﷺ سے ثابت نہ ہو اسے دین خیال کرنا۔

13۔ اقتصاد و تقصیر: اقتصاد، افراط و تفریط کی درمیانی راہ ہے کیونکہ دین غلو اور کمی کے درمیان ہے لیکن شیطان، انسان کو تقصیر یعنی غلو(افراط۔ حد سےبڑھ جانا) یا تفریط(کمی) کا شکار کر دیتا ہے۔

14۔ فراست اور گمان: اللہ تعالیٰ نے گمانوں سے بچنے کا حکم فرمایا ہے اور فراست کی تعریف فرمائی ہے۔ فراست، صاف شفاف دل اور قرب خداوندی سے متعلق ہے کیونکہ مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے جو اللہ نے اسکے دل میں مقرر فرمایا ہے۔ جب مومن ہر قدم اللہ کے حکم کے مطابق اٹھاتا ہے تو اسکا دل آئینے کی طرح صاف ہوجاتا ہے اور و ہ وساوس و اوہام کی ابلہ فریبیوں کو اپنی فراست سے سمجھنے میں غلطی نہیں کرتا جبکہ گمان صرف شک، بے یقینی، خوف، وسوسے اور شیطانی خیالات پر مبنی ہوتا ہے۔

15۔ نصیحت و غیبت: کسی شخص کو فتنے، مکر یاشر سے بچانے کیلئے جب ڈرانا مقصود ہوتا ہے تو نصیحت کی جاتی ہے اور اسکی حیثیت صحیح اور مخلصانہ مشورے کی سی ہوتی ہے۔ جب فاطمہ بنت قیس (رض) نے معاویہ (رض) اور ابوجہم(رض) میں سے کسی ایک سے نکاح کے بارے آپ ﷺ سے مشورہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ معاویہ(رض) غریب آدمی ہیں اور ابوجہم(رض) عورتوں کو مارتے ہیں۔ یہ نہایت ہی مخلصانہ مشورہ تھا جو عبادت اور نیکی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسکے مقابلے میں اگر کسی کی آبروریزی، لوگوں کی نظر میں مقام و مرتبہ گرانے یا برائی کی غرض سے عیب جوئی کی جائے تو وہ ایک نفسی بیماری ہے جسے غیبت کہتے ہیں اور وہ آگ کی طرح ہے جو تمام نیکیوں کو کھا جاتی ہے۔

16۔ ہدیہ اور رشوت: ہدیہ سے محبت و احسان اور تعارف مقصود ہوتا ہے۔ ہدیہ اگر بدلہ کے ارادے سے دیا جائے تو قیمت چکانا ہے اور اگر فائدے کی غرض سے دیا جائے تو برتری پیش نظر ہوتی ہے۔ لیکن رشوت ایک لعنت ہے جسکا مقصد کسی کا حق مارنا یا غلط کو صحیح ثابت کرنے کا ارادہ ہوتا ہے۔ اگر ظلم روکنے کیلئے رشوت دی جائے تو پھر رشوت لینے والے پر لعنت پڑے گی۔

17۔ صبر و سنگدلی: صبر میں انسان ہائے ہائے کرنے، دل کی پریشانی، زبان کی شکایت اور اعضاء کی غیر مناسب حرکتوں سے بچتا ہے۔ صبر اصل میں دل کو شرعی اور تقدیری احکام پر ثابت قدم رکھنا ہے لیکن سنگ دلی، دل کی خشکی اور سختی کا نام ہے جس میں دل پتھر کی طرح ہوجاتا ہے اورکسی چیز کا اثر نہیں لیتا۔

18۔ ثقہ اور غرہ:جب وسیع تجربات، صحیح دلائل، قرائن اور فراست سے دل کا سکون و بھروسہ ہو۔ جب دل غیر اللہ سے کٹ کر صرف اللہ کی بندگی کے بندھن میں بندھا ہو، وہ اپنی ضروریات صرف اللہ سے ہی مانگتا ہو اور یہی اسکی قوت ہو تو اسے ثقہ کہتے ہیں۔ غرہ محض شیطان، نفس اور جھوٹی خواہشات کی خوش فہمی اور دھوکہ ہوتا ہے جیسے یہ خوش فہمی کہ گناہوں کے باوجود اللہ بخش دے گا۔ غرور سے مراد وہ دھوکہ ہے جس پر اس چیز سے اطمینان حاصل کیا جاتا ہے جواطمینان دلانے کے لائق نہیں اور اس جگہ سے فائدے کی امید رکھنا جہاں سے فائدہ حاصل نہیں ہوا کرتا۔ یہ ایک طرح کا سراب ہوتا ہے۔ اللہ کے مقابلے میں شیطان اور نفس امارہ پر بھروسہ صرف سراب ہے۔

19۔ امید اور تمنا: امید کامیابی کے اسباب فراہم کرنے میں بہت محنت اور جدوجہد کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے جبکہ تمنا یہ ہے کہ کامیابی کے اسباب فراہم کئے بغیر سمجھا جائے کہ کامیاب ہوجائوں گا۔ تمنا ایک طرح کی خوش فہمی ہوتی ہے جس نفس او ر شیطان مبتلارکھتا ہے۔

20۔ مبادرت اور عجلت: فرصت کو غنیمت جاننا اور وقت سے فائدہ اٹھانا مبادرت ہے جیسے پھل پک جانے پر مزید انتظار کئے بغیر اسے اتار لینا لیکن عجلت وقت سے پہلے کام کرنے اور جلد بازی کو کہتے ہیں جیسے زیادہ قیمت وصول کرنے کی خاطر وقت سے پہلے کچےپھلوں کو اتار کر بیچ دینا۔ عجلت شیطانی عادت ہے اور یہ ہلکے پن، غصہ اور تیزی سے پیدا ہوتی ہے۔ جلدی کرنے والا ہمیشہ شرمندہ ہوتا ہے۔

21۔ اظہار نعمت اور فخر: نعمت کا اظہار کرنے والامنعم کی خوبیوں، اسکی بخشش اور احسان کا شکر ادا کرتے ہوئے اسکی نعمتوں کو نشر کرتا ہے تاکہ نفس کو اسی سے مانگنے پر ابھارا جائے اور غیروں کی امید ختم کر لی جائے۔ لیکن فخر یہ ہے کہ نعمتوں کی وجہ سے لوگوں پر اپنی بڑائی جتائی جائے اور انہیں احساس دلایاجائے کہ وہ عزت میں ہم سے نیچے ہیں اور اس بنا پر انہیں اپنی تعظیم و خدمت کی طرف متوجہ کیا جائے۔

22۔ رقت قلب اور جزع: جزع نفسانی کمزوری اور قلبی خوف ہے جو حرص اور طمع کی شدت اور تقدیر پر ایمان کی کمزوری سے پیدا ہوتی ہے اور اس میں تکلیف پہنچنے یا کوئی آسائش چھن جانے سے آہ و بقا کی جاتی ہے۔ لیکن رقت قلبی، ایمان کی مضبوطی اوردل کی نرمی ہے جو صفت رحمت سے پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نرم مزاج بندوں پر رحم فرماتا ہے۔ آپ ﷺ رحمت اللعالمین، نرم دل اور انتہائی صابر تھے۔ آپ ﷺ انسانوں، بچوں، عورتوں کے علاوہ جانوروں، پرندوں اوردیگر مخلوق خدا پر بھی مہربان تھے۔

23۔ منافست اور حسد: منافست، نفیس سے ہے یعنی عمدہ چیز کی طرف پسندیدگی اور اسے حاصل کرنے کی کوشش یا مسابقت۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ فاستبقوا الخیرات چنانچہ صحابہ کرام (رض) نیکیوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کیا کرتے اور نیک کاموں میں شرکت سے خوش ہوتے۔ لیکن حسد ایک قابل مذمت اور گری ہوئی عادت ہے۔ اس میں نفس اپنی سستی اور عاجزی کی وجہ سے ان لوگوں سے جلنے لگتا ہے جو قابل تعریف نیک کاموں میں آگے بڑھتے ہیں۔

24۔ محبت ریاست او ر محبت امارت:دین کی عظمت چاہنے والا تعظیم شرع چاہتا ہے تاکہ اللہ کی اطاعت کی جائے اور گناہوں سے دامن بچایا جائے۔ اس مقصد کی خاطر وہ چاہتا ہے کہ دین کا ہر جگہ بول بالا ہو اور لوگ شرعی قوانین کے مطابق زندگیاں بسر کریں۔ وہ دعائیں مانگتا ہے کہ امامت اورخلافت کے ذریعے پیغام الہی ہر جگہ پہنچے۔ لیکن تعظیم نفس چاہنے والوں میں حکومت و ریاست کی طلب ہوتی ہے تاکہ وہ حکام اور رئیس بن کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکیں۔ دنیوی ریاست کی کوشش میں بغاوت، حسد، سرکشی، ظلم، فتنہ، نفسانی حمیت پیدا ہوتی ہے اور حقوق شرعیہ کی توہین اور رذیلوں کی عزت ہوتی ہے۔

25۔ توکل اور عجز : توکل ایک قلبی صفت اور دل کی عبادت ہے جس میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد و بھروسہ ہوتا ہے اور بندہ اپنے تمام معاملات اللہ کے حوالے کر دیتا ہے اور اسکی تقدیرپر راضی ہوجاتا ہے کیونکہ اسے اللہ پر یقین ہوتا ہے کہ وہ اس کے لئے اچھی صورتیں ہی پیدا کرے گا اور اسکے ساتھ وہ ظاہری اسباب فراہم کرنے میں بھی محنت کرتا ہے لیکن ان پر بھروسہ نہیں کرتا۔ نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ توکل کرنے والے تھے۔ اسکے مقابلے میں ظاہری اسباب مہیا کرنے کیلئے محنت، مشقت اورجدوجہد سے کنارہ کش ہو نا یا صرف ظاہری اسباب پر بھروسہ کرکے مسبب الاسباب سے منہ موڑلینا عجز ہے۔ توکل امید کی طرح ہے اور عاجزی محض خواہش اور تمنا کی طرح ہے۔

26۔ حال کی خبر دینا اور شکوہ کرنا: حال کی خبر دینے والے کا ارادہ ہوتا ہے کہ جو اسے علم ہے اسکی اطلاع دے دے یا عذر پیش کر دے یا دوسروں کو خبردینا اور نصیحت کرنا مقصود ہوتا ہے۔ شکایت اور شکوے میں منشا ناراضی اورشکایت ہوتا ہے۔

(Visited 1 times, 3 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply