زمستاں کی بارش، دل کو چھولینے والی تحریریں —–نعیم الرحمٰن

0

’’زمستاں کی بارش‘‘ خالد مسعودخان کے تہتر کالموں کا مجموعہ ہے۔ کتاب کا ذیلی عنوان ’’تحریریں جو آپ کے دل کو چھُولیں‘‘ ہے۔ بلاشبہ یہ دل سے لکھی اور دل کو چھُو لینے والی تحریریں ہیں۔ خالد مسعود خان ملتان کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد عبدالمجید خان ساجد ایمرسن کالج ملتان میں لائبریرین تھے۔ انھوں نے علامہ اقبال پر کئی کتابیں تصنیف کیں اور اسی سلسلے میں انھیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ ان کے دادا محمد ابراہیم خان پنجابی شاعر اور درجن بھر غیرمطبوعہ کتب کے مصنف تھے۔ ادب، شاعری اور کتابوں سے محبت خالد مسعود خان کو ورثے میں ملی ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم میونسپل پرائمری اسکول چوک شہیداں سے حاصل کیا۔ ایمرسن کالج ملتان سے گریجوایشن کے بعد بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان سے ’بیسٹ گریجوایٹ آف دی ایئر‘ کے گولڈ میڈل کے ساتھ ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ تیرہ سال نوکری کے بعد کہیں پڑھا کہ ’اگر کوئی شخص چالیس سال کی عمرتک نوکری کرتا رہے تو پھر وہ باقی زندگی کچھ اور نہیں کرسکتا۔ ‘ انتالیس سالہ خالد مسعودخان نے عمر کا حساب لگایا اور اسی روز نوکری سے استعفیٰ دیدیا اور لکھنے پڑھنے کو بطور پیشہ اختیار کرنے کے شوق میں اپنی تنخواہ سے چوتھائی مشاہرے پر کالم لکھنے سے اپنے شوق کی تکمیل کی جانب سفر کا آغاز کردیا۔ کالم نویسی سے قبل ہی وہ مزاحیہ شاعری سے ادبی سفر کا آغاز کرچکے تھے اورمزاحیہ طرز کلام کے باعث دنیا بھرمیں مقبول اور ہر اس ملک میں مشاعرہ پڑھ چکے تھے جہاں اردو اور پنجابی سمجھنے والے موجود ہیں۔ کالم نویسی کا آغاز روزنامہ خبریں سے کیا۔ صحافتی سفر میں اوصاف، ایکسپریس، جنگ اور92 نیوز میں کالم لکھتے رہے۔ گذشتہ کئی سال سے روزنامہ دنیاسے وابستہ ہیں۔

خالد مسعود خان کا پہلا تعارف ایک منفرد انداز کے مزاحیہ شاعر کا ہے۔ وہ اردو، انگریزی اور پنجابی آمیز انتہائی دلچسپ زبان میں مزاحیہ شاعری کرتے ہیں۔ جو قاری کو دیرتک گدگداتے رہتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ کریں۔
اس کا رشتہ نہ ہونے کا باعث اس کا ابا تھا
سب حریان تھے، اس نے ایسا ابا کہاں سے لبا تھا
سمجھ نہیں آتی بتی دھاریں وہ کس سے بخشوائے
اس کی ماں توفیڈر تھی اور سکے دودھ کا ڈبا تھا
اس کے دل میں ساڈی یاد کاروڑہ رڑکا ہوگا
ماہی بے آب کی مانند تڑپا ہوگا، پھڑ کا ہوگا
شور شرابا کھڑکا دڑکا سن کر اس نے گیس لگایا
یا بادل گرجا ہے اوپر یا بیگم کا کڑکا ہوگا

ان دلکش اور منفرداشعار کے خالق نے کالم نگاری کا آغاز کیا تو سیاحت، سیاست، زراعت، صحافت، خاکہ نگاری، شمالی علاقاجات کی سیر کو موضوع بنایا۔ ان کی فطرت میں موجود شگفتگی کی زیریں لہرنے ان کالمز کی دلچسپی میں بے پناہ اضافہ کیا۔ اس لئے خالدمسعود خان نے چند دلچسپ کردار بھی تخلیق کیے ہیں۔ جیسے چودھری بھکن۔ جب وہ گندم، گنا، کپاس یاکسی اورفصل کی بوائی، بیجائی اورکھادوں کے متعلق کالم لکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ماہرِ زراعت ہیں۔ جب الیکشن کے امیدواروں کاجائزہ اورکامیاب امیدوار کی پیش گوئی کرتے ہیں بہترین سیاسی تجزیہ نگار لگتے ہیں۔ سرائیکی وسیب اور ملتان کے مسائل اورسڑکوں پر بات کریں تواس کے ماہر نظرآتے ہیں۔ بیرون ملک سفرکے دوران دوستوں سے گفتگو میں ملکی حالات کا جائزہ، کئی امور میں پاکستان اور دیگر ممالک کاموازنہ بھی انتہائی دلچسپ ہوتا ہے۔ خاکہ نگاری میں وہ متعلقہ شخصیت کی پرتیں کھول کر رکھ دیتے ہیں اور اپنی پیاری شخصیات کا ذکر دل کی زبان میں دل چھُو لینے والے انداز میں ایسے کرتے ہیں۔ تحریر مکمل ہونے کے بعد بھی قاری اس کے سحرسے باہر نہیں نکل پاتا اور اکثر اپنے پیاروں میں گم ہوجاتا ہے۔

شکیل عادل زادہ نے بیک پیج پر کتاب کے بارے میں اپنے مخصوص اندازمیں تاثرات رقم کیے ہیں۔

’’زمستاں کی بارش، بہ ظاہراخباری کالموں، بہ باطن ادبی تحریروں کا مجموعہ۔ ادب کی تحریروں میں جوروانی، شستگی، چاشنی، خلاقی، بے ساختگی اور انشاپردازی ہونی چاہیے، ان سارے لواز م سے یہ دل نشین کتاب ممیزومتصف ہے۔ خالد مسعود خان کو پڑھوانے کا فن آتا ہے اور یہ خوبی اسی ادیب کو میسر ہوتی ہے جسے لکھنے اور اپنی بات کہنے کا ہنر آتا ہے۔ ان کی تحریروں میں کہیں کسی بناوٹ کی آلودگی نہیں، نہ مرصع، پُرکار لفظوں سے تحریر کو دل پذیر بنانے کی کوشش۔ لگتا ہے۔ ایک ہی سانس میں سارا ماجرہ قلم بند کیا گیا ہے، رواں رواں، رواں دواں۔ کہنے کویہ کالموں کامجموعہ ہے مگر یہ تو افسانے، افسانچے، شخصی خاکے، آپ بیتیاں اور جگ بیتیاں ہیں۔ یہ سبھی کچھ دل ودماغ پراثرانداز ہوتاہے۔ کسی تحریرکاسب سے بڑا شرف وصف اور کیا ہوسکتا ہے۔ اس مجموعے سے خالد مسعود خان نامی ایک شخص بھی آئینہ ہوتاہے کہ اس میں کس درجے حساسیت، نازکی، برداشت اور دردمندی ہے۔ کیسا گہرا مشاہدہ ہے اس کا۔ اپنے موضوع سے سنجیدگی اور وابستگی کس بلاکی ہے۔ اخباری کالموں کے بے شمار مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ کوئی کلام نہیں کہ عالی جناب خالدمسعود خان کایہ مجموعہ ایک اضافہ ہے، یاد رہ جانے والی کتابوں میں سے ایک کتاب۔ ‘‘

’’زمستاں کی بارش‘‘ کا انتہائی خوبصورت انتساب مرحوم اہلیہ کے نام ہے۔
’’خوش مزاج، خوش خیال اور خوش خصال
جانے والی کے نام، جو اس جہان میں بھی
خوش تھی اور یقین ہے کہ اپنے مالک کے کرم
سے اُس جہان میں بھی خوش ہوگی۔
ہم مطمئن بہت ہیں اگرخوش نہیں بھی ہیں
تم خوش ہو، کیا ہوا جوہمارے بغیر ہو
۔ ۔ ۔
سرِ بامِ ریگانی/ مِراآخری دِیاہے/ مِرادل کہ / جس کومیں نے/ تِرے نام کردیاہے(معین نظامی)

انتہائی عمدہ آرٹ پیپرپردلکش دورنگوں میں پرنٹنگ، بہترین کتابت، مضبوط جلدبندی اورخوبصورت ڈسٹ کور، ان تمام خوبیوں کے ساتھ چارسو پندرہ صفحات کی کتاب کی قیمت صرف نوسوپچیانوے روپے ہے۔ قارئین کے لیے مصنف کے دستخط شدہ کاپی کی فراہمی ایک اورترغیب ہے۔ اس پربھی کتاب کیونکر نہ خریدی جائے۔ مشہورکالم نگارہارون الرشید نے’’تصنع کی ماری دنیامیں ایک بے ریاآدمی‘‘ کے عنوان سے دیباچہ میں لکھاہے۔

’’کالم نگاری اور شاعری تومحض اس کے مشغلے ہیں۔ درحقیقت وہ ایک جہاں گرد ہے۔ ہمہ وقت محوسفر۔ ابن بطوطہ نے زیادہ سے زیادہ کتنی سیاحت کی ہوگی؟ ایک، دو یا تین لاکھ کلو میٹر۔ ہماراجہاں گشت کم ازکم ایک کروڑمیل کی مسافت طے کرچکاہے اوریہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ کیاچیزخالدمسعودخان کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتی؟ یہ پی ایچ ڈی کے ایک مقالے کا موضوع ہوسکتا ہے اگر کوئی کمر باندھے ۔ خالد مسعود کے موضوعات متنوع ہیں اور منفرد بھی ۔ خوداپنی شخصیت کی طرح۔ مزاح نگاری میں اس کے کردار ملتان کے مقامی ہیں اورایک سے بڑھ کرایک طرح دار، کھلکھلاتا ہوا مزاح۔ قلم گل کھلاتاہے، قاری محفل میں شریک۔ ایسی بشاشت کہ تحریرتمام ہونے پرختم نہیں ہوتی۔ خالدمسعوداپنی مزاحیہ شاعری سے پہچانے گئے ۔ پنجابی اور اردو کے امتزاج سے تشکیل پاتی زبان۔ ساری دنیا میں ان کا ڈنکا بجتا ہے۔ شگفتہ کالموں میں بھی ان کا لہجہ گاہے اسی شاعری سے جا ملتا اور جادو جگاتا ہے۔ ربع صدی ہوتی ہے، ازراہِ کرم میرے ہاں تشریف لائے۔ عرض کیا: کالم لکھاکیجئے۔ بولے، کیا لکھوں۔ گزارش کی وہ جو کچھ ابھی آپ ارشادفرمارہے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اول اول ذراسی جھجک تھی، آغازکارمیں جوسبھی میں ہوتی ہے۔ پھرایسے رواں ہوئے۔ ماضی کی بازگشت موصوف کے ہاں بہت ہے۔ بچپن، لڑکپن اورآغازِ شباب کے خوشگواردن۔ یہ ایک شکر گزار آدمی کا طرزِ احساس ہے۔ بیتے ہوئے دنوں کے بارے میں لکھتے ہیں تواحساس ہوتا ہے کہ یہ ایک زندہ آدمی کے ایام تھے۔ اپنے گرد وپیش میں جس کاانہماک گہرا اور کھرا تھا۔ فقط اداسی نہیں، تصویرکشی کاعنصر نمایاں ہواہے۔ قدیم ملتان یا لاہور کے وہ دروبام جو اب تاریخ ہو گئے ہیں۔ ان کی تصاویر اس مہارت سے وہ بناتے ہیں، جیسے کسی مصورکاموقلم۔ پڑھنے والاان کے گداز اور ان کی حیرت میں شامل وشریک ہوجاتا ہے۔ یہی توقلم کاری ہے۔ اپنے شہرکے دروبام کو، اس کے کوچہ وبازارکو، اپنے اساتذہ اور اپنے رفتگاں کو، اپنے ماضی کو خالد نے پورے خلوص سے یادرکھاہے۔ بے ساختہ آدمی ایساہی ہواکرتاہے۔ اپنے گردوپیش پہ معترض وہ ہوسکتا ہے، بے زار نہیں۔ ریاکاری اور ریا کاروں سے بھری اس دنیامیں خالدمسعودخان ایسے لوگوں کادم غنیمت ہے۔ ‘‘

کالم نگار، مصنف اورمترجم رؤف کلاسرا’’خطہ جنوب کی واحدآواز‘‘ میں لکھتے ہیں۔

’’روایتی طور پر اردو اخبارات کے ادارتی صفحات پرلاہور، اسلام آباد اور کراچی کے لکھاریوں، کالم نگاروں، ادیبوں اورشاعروں کا قبضہ رہاہے۔ ملتان، بہاولپور یا ڈیرہ غازی خان جیسے علاقوں کے شاعروں، ادیبوں یا لکھاریوں کو کبھی اس قابل نہ سمجھا گیا کہ وہ بھی ان کے ساتھ چھپ سکتے ہیں۔ اس زرخیز خطے کے مزاج میں محبت ہے، پیار ہے، مٹھاس ہے، مروت ہے اور سب سے بڑھ کر ہردکھ اورظلم کو ہنس کرسہنے کاحوصلہ رہاہے جواس علاقے کی طاقت کی بجائے کمزوری بنا۔ لیکن پھرخالدمسعودجنوب کی ایک طاقتور آوازبن کرابھرے اورانھوں نے ملتان میں بیٹھ کرجنوب کی غربت، محرومیوں، زیادتیوں، سیاسی وڈیروں، سرکاری بابوز اورحکمرانوں کے خلاف ایک نیا محاذ کھولا اوربے رحمی سے سب کورگڑدیا۔ جوکام اس خطے کے سیاستدانوں کوکر ناتھا وہ خالد جیسے لکھاریوں کوکرناپڑا۔ جنوب کا مقدمہ خالد مسعود خوب لڑا ہے۔ اگرچہ کئی دفعہ مجھے خالدمسعودکی اپروچ سے اختلاف بھی رہا۔ لیکن خالد مسعود کوپسند کریں یاناپسند۔ لیکن آپ اسے پڑھنا نہیں چھوڑ سکتے۔ ملکی سیاست سے ہٹ کرہزاروں سال قدیم ملتان اوراس سے جڑی دم توڑتی شاندار روایات اورغیرمعمولی کرداروں پرجتنے شاندار کالمز خالد مسعودنے لکھے وہ کوئی اور نہیں لکھ پائے گا۔ خالدکی تحریریں آپ کو ملتان اور ملتانی کرداروں سے محبت پر مجبورکردیتی ہیں۔ جب خالد اپنے پیاروں کے غم میں لکھتا ہے تو ہم سب اس کے ساتھ روتے ہیں لیکن جب ہنسانے پرآتاہے توآپ بے ساختہ ہنستے رہتے ہیں۔ بلاشبہ خالدمسعود خان ہمارے دورکے بڑے کالم نگاروں میں سے ایک ہے وہ خالد مسعود جس کی تحریروں کااب انتظارکیاجاتاہے۔ ‘‘

خالد مسعود خان ’’زمستاں کی بارش میں خوشبوتمہاری‘‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں۔

’’یہ کالم بھلا کسی کتاب کے لیے لکھے ہی کب تھے؟یہ تووہ تحریریں ہیں جومیں نے صرف اورصرف اپنے لیے لکھی تھیں۔ اب یہ محض اتفاق کے علاوہ بھلا اور کیا ہوسکتاہے کہ آپ کوان کالموں میں اپنا آپ نظرآجائے یا کوئی اپنے جیسا دکھائی دے۔ اگرمجھے خودکلامی کی عادت ہوتی تومیں یہ سب باتیں خود سے کرلیتا، لیکن کیاکروں؟ مجھے یہ ساری باتیں خودسے کرنے کے لیے انہیں لکھنا پڑا۔ اگر اپنا رانجھا راضی کرنے کی مجبوری نہ ہوتی تونہ میںیہ سب کچھ لکھتا، نہ اخبارکی زینت بناتااورنہ ہی انھیں کتاب کی شکل دیتا۔ جہاں بندہ ہر روز اخبار پر نظر ڈالے اورلگے کہ تاریخ تو روز تبدیل ہوتی ہے مگر مندرجات وہی گزشتہ کئی برسوں سے محض الفاظ کے ہیرپھیر سے حسبِ سابق وہی ہیں تو ایسے میں بندہ خود سے مخاطب نہ ہو تو بھلا کرے کیا؟ جہاں عشروں سے این آر او کا حسنِ طلب چل رہاہو، قومی اثاثے گروی رکھ کرقرض لینے اوربانڈجاری کرنے کاچلن ہو، جہاں ہرسودے کے پیچھے کمیشن کہانی ہو، جہاں ہر فیصلہ متنازع ہو، جہاں ہرآسامی پرغلط بندہ بیٹھا ہو، جہاں ہرکام میں میرٹ کے منہ پرطمانچہ ماراجارہاہو، جہاں احتساب صرف اپوزیشن کا مقدر ہو، جہاں ناانصافی غریب، لاوارث اوربے وسیلہ کی جدی پشتی جائیدادبن چکی ہو، جہاں سانحہ ماڈل ٹاؤن سے سانحہ ساہیو ال تک کچھ بھی نہ بدلا ہو، جہاں حکمرانی سے محروم طالع آزمااپوزیشن جمہوری نظام کوغیرجمہوری طریقے سے لپیٹنے کوعین جائزتصورکرتی ہو، جہاں مہینوں تک زورآوروں کے زیرتفتیش رہ کرانکشافا ت کاطلسم ہوشرباتخلیق کر دینے والا عزیربلوچ قسط درقسط مقدمات میں باعزت بری ہوتاجارہاہو، بھلاوہاں ہرروز کیا لکھا جائے؟ ایسے میں انسان خود سے ہم کلام نہ ہو تو اور کیا کرے؟ ایسے میں لکھنے والا کسی روزاپنے لیے نہ لکھے تواورکیاکرے؟یہ سب کالم وہی ہیں جواس عاجزنے اپنے لیے لکھے ہیں۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکرہے کہ ان تحریروں کے پیچھے ضمیرکی خلش، غیرذمہ داری کااحساس اورناآسودہ خواہشات کا ملال شامل نہیں۔ ماں جی، اباجی، فرزانہ، دوست، استاد، کتاب اور میرا ملتان۔ میں ان سب سے حسبِ استطاعت نہیں، بلکہ استطاعت سے بڑھ بڑھ کر محبت کی، خیال رکھا، احترام دیا، دل میں بسایااورپھردل کوان کی یاد سے مہکائے رکھا۔ فقیر نے جب بھی اس بارے میں خود سے سوال کیا دل کومطمئن، ضمیرکوصاف، محبت کوسرخرواوریادوں کوتازہ پایا۔ ‘‘

’’زمستاں کی بارش‘‘ کے تہتر کالمز کوپانچ حصوں میں تقسیم کیا گیاہے۔ پہلا’’سانجھے رشتے‘‘جس میں سترہ کالم والد، والدہ اورمرحومہ اہلیہ کے بارے میں ہیں۔ یہ انتہائی دل گداز اور پراثر کالم ہیں۔ جنہیں پڑھتے ہوئے قاری اپنے اپنے پیاروں میں کھوجاتاہے اوراسے محسوس ہوتاہے کہ یہ بھی تومیرے دل میں تھا۔ فرزانہ مرحومہ کے بارے میں تحریرکردہ کالمزپڑھتے ہوئے راقم کوایسالگاکہ یہ میری اہلیہ مرحومہ شاہانہ کے بارے میںخود میں نے لکھے ہیں۔ دوسرا حصہ ’’یادِماضی‘‘ ہے۔ جس کے ستائیس کالمزمیں ماضی کی یادوں اورشخصیات کاذکر ہے۔ یہ تمام بھی انتہائی دل گدازتحریریں ہیں۔ تیسراحصہ’’دل میں بسنے والے‘‘ جس میں چودہ کالمزاساتذہ اوراہم شخصیات کے بارے میں ہیں۔ چوتھاحصہ’’اپنااپناملتان‘‘ ہے۔ جس میں شامل چھ کالموں میں ملتان اورا س کی یادیں شامل ہیں۔ کتاب کاپانچواں اورآخری حصہ ’’کتاب اورکہانی‘‘ ہے۔ اس حصے کے چھ کالمزمیں کتاب اورکتاب کلچر کے موضوع پریادگارتحریریں پیش کی گئی ہیں۔

’’زمستاں کی بارش‘‘ کاپہلا کالم ’’میری ماں‘‘ ہے۔ خالدمسعودخان لکھتے ہیں۔

’’میری ماں تقریباً ویسی ہی تھی، جیسی دنیابھرکی مائیں ہوتی ہیں۔ مہربان، محبت کرنے والی، ہمہ وقت اولاد کی فکر میں مبتلا، صبح سے شام تک ان کی راہ تکنے والی اور معاف کردینے والی۔ لیکن وہ دنیا بھر کی تمام ماؤں جیسی ہونے کے باوجود ان سے مختلف بھی تھی اور اس مختلف ہونے میں پہلی اور سب سے اہم بات یہ تھی وہ میری ماں تھی۔ یہ بات اسے میرے لیے دنیا کی تمام ماؤں سے افضل کرتی تھی اور اسے دیگر ماؤں پر یہی بڑی فضیلت حاصل تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اس سے ہٹ کر بھی دنیا کی بے شمار ماؤں سے بہت مختلف ماں تھی۔ صابرہ، شاکرہ، متوکل، راضی بہ رضااوردعاؤں پر ایمان رکھنے والی اور اس سے بڑھ کرہمہ وقت، دن رات صرف اورصرف دعائیں کرنے والی۔ میں جو چار روز قبل دنیا کا سب سے خوش قسمت آدمی تھا، آج ایک تہی دست اور بدنصیب شخص ہوں کہ میں ان دعاؤں سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوچکا ہوں۔ میری ماں ایک انتہائی صابرہ اورشاکرہ عورت تھی۔ وہ ایک نرم خواورحلیم طبیعت کی مالکہ ہی نہیں تھی بلکہ یہ خصوصیات اس کی ساری شخصیت پرحاوی تھیں۔ میرااورمیری ماں کا کمرہ ساتھ ساتھ تھا۔ میں نے رات کے پچھلے پہربارہااس کی گریہ وزاری سنی، مگراس میںکبھی گلے یا شکایت کاعنصر کا شائبہ تک نہ پایا۔ اسے ہمیشہ ربِ کریم کی رحمت اور کرم بارے ذکرکرتے ہوئے اوراس سے بخشش اورمعافی کی خوبیوںبارے بڑائی بیان کرتے سنا۔ اس کی گریہ وزاری میں ہمیشہ اپنے گناہوں کی زیادتی اور اس کی رحمت کے بے پایاں سمندرکاذکرہی سنا۔ جب میری بڑی بہن چارماہ کے علی ذیشان اورڈیڑھ سال کے علی برھان کوچھوڑ کر ہمیشہ کے لیے رخصت ہوئی تومیں نے اسے دنیا کے سب سے بڑے غم سے دوچارہونے کے باوجود باحوصلہ اور صابرہ ہی نہیں بلکہ شاکرہ پایا۔ وہ اس حال میں بھی اپنے رب سے فریاد کرنے کے بجائے اس سے رحمت اورفضل وکرم کی طالب تھی۔ ایسی باحوصلہ ماں چشمِ فلک نے بہت کم دیکھی ہوگی۔ ‘‘

اردو ادب میں ماں کے بارے میں بہت عمدہ خاکے لکھے گئے ہیں۔ محمدحامد سراج جنہیں دوسال بعد بھی مرحوم لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کوآتاہے، نے تو ماں کے حوالے سے پوری تاثراتی کتاب ’’میا‘‘ ہی لکھ دی۔ خالدمسعود کا پراثر خاکہ ان خاکوں میں ایک بہت عمدہ اضافہ ہے۔ جس میں راقم سمیت بے شمار قارئین کواپنی ماں کاعکس نظرآئے گا۔ ’’ماں کے پاؤں‘‘ ایک اور انتہائی پراثر تحریر ہے۔ جس میں جہازکے سفرکے دوران ایک نوجوان کے والد بزرگوار کا خیال رکھنے کا اور دوسرا ایک بزرگ خاتون کے ساتھ سفر کرنے والے نوجوان کے بارے میں ہے۔

’’بزرگ خاتون درمیانی چار نشستوں کی باہر والی سائیڈ پر تھیں، خاتون کے ساتھ نہایت خوش شکل اور سمارٹ، نوجوان خوبصورت میچنگ والے کپڑے، کوٹ، پینٹ، شرٹ اور ٹائی، کندھے سے لٹکا لیپ ٹاپ کا بیگ، نوجوا ن نے لیپ ٹاپ کندھے سے اتار کر جہاز کے بالائی خانے میں رکھا۔ ٹائی ڈھیلی کی، کوٹ اتار کر اپنی سیٹ پر رکھا اور زمین پر بیٹھ گیا۔ اپنی والدہ کے جوتے اتارے، جرابیں اتار کر سامنے دیوارکے ساتھ لگے رسائل والے خانے میں رکھیں اور پاؤں کو ہاتھ سے سہلانا شروع کردیا ۔ دیکھا کہ آنے جانے والوں کوتھوڑی دقت ہورہی ہے تو اندرونی سائیڈ پر تنگ جگہ پر بیٹھ گیا اور پاؤں دباتا رہا تاوقتیکہ جہازی میزبانوں نے روانگی کی ہدایات دینا شروع کردیں۔ سارا راستہ نوجوان نے اپنی ماں کا ایسے خیال رکھا کہ صرف محسوس کیا جاسکتا تھا، بیان نہیں کیا جاسکتا۔ کبھی کمبل اوڑھاتا، کبھی اتارتا۔ کبھی تکیہ سر کے نیچے رکھتااورکبھی بازو کے نیچے۔ کبھی چائے اس طرح پلائی کہ پرچ مسلسل اپنے ہاتھوں میں رکھی۔ کھانے کے وقت نیپکن لگایا اور ایک ایک دانہ صاف کیا۔ درمیان میں جہازکادرجہ حرارت کم ہوگیا تو جرابیں دوبارہ پہنائیں دو تین گھنٹے بعددوبارہ جوتے اتارے اورپاؤں کواچھی طرح سہلایاکہ لمبے سفر میں پاؤں سوج جاتے ہیں۔ ایمانداری کی بات ہے کہ میں نے اپنی ماں کی حتی المقدور خدمت کی ہے۔ لیکن مجھے اس نوجوان پرحسرت آئی کہ کاش میں نے اپنی ماں کی ایسی خدمت کی ہوتی۔ آٹھ گھنٹے کے سفرمیں اس کی آنکھ لگی اور اس کی ماں نے کروٹ لی تووہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ اس نے والدہ کو اتنی بار کمبل اوڑھایا اور اتروایا کہ دوسری طرف بیٹھا میں تنگ پڑنے لگامگرمجال ہے جواس نوجوان کے چہرے پر ایک باربھی تنگ پڑنے کا تاثر ابھرا ہو۔ ہربار، ہر کام اسی خوشی سے کرتے دیکھا کہ حیرت اورحسرت ہوئی۔ ‘‘

اس نوجوان کے ذکرسے قاری کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور اس نامعلوم نوجوان کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعانکلتی ہے۔ یہی خالدمسعود کی تحریر کا کمال ہے۔ خالدمسعودخان کے والدکے خاکے کاعنوان’’اسدکاشہ بالا‘‘ ہے اوریہ تین حصوںمیں ہے۔ وجہ تسمیہ یہ ہے کہ مصنف کے بیٹے اسدسے ان کے والد مذاقاً کہتے تھے کہ اسد کاشہ بالاتومیں بنوں گا۔ اباجی کے بارے میں لکھتے ہیں۔

’’ابا جی نے گریجوایشن ایمرسن کالج ملتان سے 1948ء میں کیا۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی کالج کاہندواسٹاف اورپروفیسرزہندوستان چلے گئے۔ جانے والوں میں ہندو لائبریرین بھی شامل تھا۔ اباجی نے بطوررضاکارطالب علم لائبریرین کے فرائض بھی انجام دینے شروع کردیے۔ اسی دوران انھوں نے بی اے کا امتحان پاس کرلیا۔ کالج کے پرنسپل محمد ابراہیم خان نے کتاب اور لائبریری سے محبت اور شوق کو دیکھتے ہوئے بی اے پاس کرنے پرلائبریرین لگانے کی آفر کی جواباجی نے قبول کرلی۔ دوتین سال بعدچھٹی لے کر لاہور چلے گئے اور پنجاب یونیورسٹی سے لائبریری سائنس میں ڈپلومہ حاصل کرکے واپس ایمرسن کالج آگئے۔ اب وہ ٹرینڈ لائبریرین تھے۔ بعدازاں پنجاب یونیورسٹی میں لائبریری سائنس میں ماسٹرز کا آغاز ہوا تو پچاس سال کی عمر میں پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرزکی اولین کلاس میں داخلہ لے لیا۔ اباجی کی زندگی کا بیشتر حصہ ایمرسن کالج میں گزرگیا۔ وہ 1948ء میں ایمرسن کالج میں داخل ہوئے اور1985ء میں وہیں سے ریٹائرہوئے۔ پھردو، دوسال کی دو بار ملازمت میں توسیع ملی اور بالآخر اکتالیس سال تک مسلسل ایمرسن کالج میں لائبریرین کے فرائض انجام دینے کے بعد1989ء میں ریٹائر ہوئے۔ ‘‘

خالد مسعودخان نے اہلیہ فرزانہ کے ساتھ گزرے روزوشب کا ذکراس دل گدازاندازمیں کیاہے کہ ہرحساس دل تڑپ اٹھتاہے اور آنکھیں پرنم ہوجاتی ہیں۔ پہلا خاکہ ’’آخری شرط‘‘ ہے۔

’’چھبیس سال، چھ ماہ اورسترہ دن میں وہ پہلی شرط جیتی اوراس طرح جیتی کہ مجھے تہی دست اورکنگال کرگئی۔ میری اس کی شرطیں چلتی رہتی تھیں۔ ہزاروں نہیں توسینکڑوں شرطیں وہ ہاری۔ دس روپے سے لے کر سو روپے تک کی معمولی شرطیں اوران میں سے بھی نوے فیصد کی اس نے ادائیگی ہی نہیں کی۔ کسی نہ کسی مد میں کٹوا کر برابر کردیں۔ بچے ہماری شرطوں کوانجوائے کر تے تھے۔ ہرباروہ تہیہ کرتی کہ آئندہ شرط نہیں لگائے گی مگر میں شرط میں کشش ہی ایسی پیدا کردیتا کہ وہ سب کچھ بھول کر میرے فریب میں آجاتی۔ ہمارا ایک عرصے سے مذاق چل رہاتھا۔ میں کہتا تھا کہ وہ مجھے اپنی زندگی میں دفن کرے گی جبکہ اس کا کہنا تھا کہ یہ فریضہ میں سرانجام دوں گا۔ میں نے اسے ہنس کرکہا، یہ بات توطے ہے کہ یہ شرط بہرحال میں جیتوں گا مگر مجھے اس شرط جیتنے پرایک ملال ضرور رہے گاکہ میں جیتی ہوئی رقم وصول نہیں کرپاؤں گا۔ یہ ایک ایسی شرط ہے کہ میں جیت کر بھی اسے سیلیبریٹ نہیں کرسکوں گا۔ وہ ایک دم سنجیدہ ہوگئی اورکہنے لگی آپ کواچھی طرح پتہ ہے کہ میں یہ شرط ہار کر زندہ نہ رہ پاؤں گی، سویہ شرط مجھے ہی جیتنی ہے۔ اکیس اکتوبرکی شب گیارہ بجے وہ یہ شرط جیت گئی۔ اپنی تمام پچھلی ہاروں کابدلہ اس طرح لیاکہ مجھے سمجھ ہی نہیں آرہی کہ وہ ہمارے ساتھ کیا کرگئی ہے۔ وہ گزشتہ ساڑھے چارسال سے علیل تھی مگر اس نے کبھی کسی پر ظاہر نہیں کیاتھاکہ وہ بیمارہے۔ میں نے اسے اپنی بیماری سے پریشان اور زندگی سے مایوس کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ایک سال قبل آغاخان ہسپتال کے ڈاکٹرنے اس کی ساری رپورٹس، ٹیسٹ رزلٹ اور چیک اپ کے بعد کہا تھا کہ محترمہ آپ کا وہ علاج ہوچکاہے جواس وقت میسرہے۔ فی الحال ایسی کوئی دواموجودنہیں جوآپ کودی جاسکے۔ میں سُن ہوکر رہ گیا۔ ڈاکٹر نے صاف بتادیا کہ اب ان کے پاس اس مرض کا مزیدعلاج موجودنہیں۔ میں نے اپنی اہلیہ کے چہرے پرنظرڈالی۔ وہ مجھ سے زیادہ حوصلے میں تھی۔ ‘‘

اس سلسلے کا اگلا کالم ’’ڈھائی صفحات‘‘ ہے، جس میں اہلیہ نے اپنے جانے کے بعد ہدایات دی ہیں۔ کالم ’’زمستاں کی بارش‘‘ میں ایوب خاور کی نظم ’’تمہیں جانے کی جلدی تھی‘‘ ملاحظہ کریں۔ ’’تمھیں جانے کی جلدی تھی/ سواپنی جلدبازی میں/ تم اپنے لمس کی کرنیں، نظرکے زواویے، پوروں کی شمعیں/ میرے سینے میں بھڑکتا چھوڑآئے ہو/ وہاں تکیے کے نیچے/کچھ سنہری رنگ کی ٹوٹی ہوئی سانسیں/ کسی نوزائیدہ خوشبوکے تازہ خواب/ بسترکی شکنوں میں گرے کچھ خوبرولمحے/ ڈریسنگ روم میں ہینگرسے لٹکی ایک صدرنگی ہنسی کو/بس اچانک ہی پسِ پردہ لٹکتاہواچھوڑآئے ہو/ تمہیں جانے کی جلدی تھی/ اب ایساہے کہ جب بھی/ بے خیالی میں سہی لیکن کبھی جواس طرف نکلو/ تواتنایاد رکھنا/ گھرکی چابی صدردروازے کے بائیں ہاتھ پر/ اِک خول میں رکھی ملے گی/ اورتمہیں کیامعلوم ہے/ کپڑوں کی الماری ہمیشہ سے کھلی ہے/ سیف کی چابی توتم نے خود ہی گم کی تھی/ سووہ تب سے کھلا ہے اوراس میں کچھ/ تمھاری چوڑیاں، اِک آدھ انگوٹھی/اوران کے بیچ میں کچھ زردلمحے/اوران لمحوں کی گرہوں/میں بندھی کچھ لمس کی کرنیں، نظر کے زاویے/پوروں کی شمعیں اورسنہرے رنگ کی ٹوٹی ہوئی/سانسیں ملیں گی اوروہ سب کچھ جومیرا اور/تمھارامشترک سااِک اثاثہ ہے سمٹ پائے/ تولے جانا/ مجھے جانے کی جلدی ہے‘‘

کالم ’’اکیس اکتوبرسے اکیس اکتوبرتک‘‘ میں لکھتے ہیں۔

’’آج اسے گئے پوراایک سال ہوگیا۔ اکیس اکتوبر2012ء سے اکیس اکتوبر 2013ء تک ۔ اس ایک سال میں دنیا اسی طرح ہے۔ ہرشے رواں دواں ہے۔ لیکن اس ایک سال میں میرے لیے سب کچھ بدل گیاہے ۔ میں نے ایسے کام سیکھ لیے ہیںجن کے بارے میں، میں نے کبھی سوچابھی نہیں تھااورایسی عادتیں چھوڑ دیں ہیں جن کے بارے میں مجھے یقین تھاکہ ان سے نجات ممکن نہیں۔ میں صبح اٹھ کر اپنا بستر خود تہہ کرتاہوں۔ تولیہ خودباتھ روم میں رکھتاہوں۔ اپنا ناشتہ خودبناتاہوں کپڑے استری کرلیتاہوں اورسب سے بڑھ کریہ کہ شلوارمیں ازاربندڈال لیتاہوں۔ ‘‘اگلے کالم ’’ہجرمیرے چارسو‘‘ آج اکیس اکتوبرہے۔ اسے آج رخصت ہوئے دوسال پورے ہوگئے۔ سترہ ہزارپانچ سوبیس گھنٹے۔ اسی حساب سے منٹ اورچھ کروڑ تیس لاکھ بہتر ہزارسیکنڈ۔ لیکن یہ سارا حساب سرے سے ہی غلط ہے۔ اس کے جانے سے ساراحساب کتاب ہی غلط ملط ہوگیاہے۔ مہ وسال کا سارا معاملہ الٹ پلٹ ہوگیا ہے۔ چھبیس سال چھ ماہ اور سترہ دن۔ ایسے لگتاہے کہ چنددن میں گذرگئے تھے اوربعدوالے دوسال! اس کاتوکچھ بھی ٹھیک نہیں۔ کبھی لگتا ہے ایک لمحہ پہلے ہی میں اس کے سرہانے ہسپتال میں کھڑاتھااورکبھی لگتاہے کہ اس بات کوصدیاں نہیں توعشرے ضروربیت گئے ہیں۔ ‘‘پھر کالم ’’یادیں‘‘ اس کے جانے کے بعدوقت کا سارا تصور اورمفہوم ہی بدل گیاہے۔ آج اسے رخصت ہوئے پورے تین سال گزرگئے ہیں لیکن یہ تین سال ایسے تھے کہ جن میں ہرسال تین سوپینسٹھ دن پرتو ہرگز مشتمل نہیں تھا۔ کبھی لگتاہے کہ یہ تین سال اتنے لمبے اور طویل ہیں کہ اس کے ساتھ گزارے چھبیس سال چھ ماہ اورسترہ کاعرصہ ان کے سامنے پل دوپال کاعرصہ محسوس ہوتاہے۔ ‘‘کالم ’’دو ہزار ایک سواکیانوے دن‘‘ میں لکھتے ہیں۔ ’’ایک برس اور گزرا اور چھ برس مکمل ہوگئے۔ چھ برس اتنے طویل ہوسکتے ہیں اس کا اندازہ اب جاکرہورہاہے۔ سنتے تھے کہ دن کویوں چٹکی بجاتے گزارجاتاہے لیکن والے دوہزار ایک سواکیانوے دن توایسے گزرے کہ غالب کامصرع یادآگیا۔ صبح کرناشام کالانا ہے جوئے شیرکا۔ ان چھ سالوں میں کوئی دن ایسانہیں گزرا کہ اسے یاد نہ کیاہو ۔ ‘‘ایک اورکالم ’’تم خوش ہو، کیاہواجوہمارے بغیرہو‘‘ کا اقتباس۔ ’’آج پورے آٹھ سال ہوگئے ہیں لیکن سالوں میں حساب کریں تو دنوں کی گڑبڑ ہوجاتی ہے۔ ان آٹھ سالوں میں دو سال لیپ کے تھے اورلیپ کاسال تین سوپینسٹھ نہیں تین سوچھیاسٹھ دن کاتھا اوریہ بنتے ہیں دوہزار نوسو بائیس دن۔ یہ اس سے حساب لگایا جس دن میں نے اپناآدھادل پاک مائی کے قبرستان میں اس کے ساتھ چھوڑ کر آگیا تھا۔ میں نے اپناآدھادل دفن نہیں کیاتھابس چھوڑ کر آگیا تھا۔ لیکن پھرخیال آتاہے کہ بھلا یہ والادل میراتھابھی کب؟یہ تواس دن سے بھی نوہزارچھ سواسی دن پہلے اسے دے دیاتھا۔ ‘‘

میاں بیوی کے رشتے میں اس قدرپیارقاری کورشک میں مبتلاکردیتاہے اورپھراللہ سے شکایت بھی ہوتی ہے کہ اتنے پیارکرنے والوں کوجدا کیوں کیا؟ لیکن اس کی مصلحتیں وہی جانے۔ اس خاکے میں دودل چھولینے والے اشعاربھی درج ہیں۔ ملاحظہ کریں۔
یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑ نے کی
کہ اب تو جاکے کہیں دن سنورنے والے تھے
جن کے بغیر جی نہیں سکتے تھے، جیتے ہیں
پس طے ہوا کہ لازم وملزوم کچھ نہیں

یاد ماضی میں ’’میری اورمیرے بچوں کی عید‘‘، ’’معجزہ‘‘، ’’محض دس منٹ‘‘، ’’ خوشیوکامفہوم‘‘کچھ یادیں‘‘، ’’وچھوڑے کادرد، حامدعلی بیلا اور شاہ حسین‘‘، ’’کچھ اوریادیں‘‘ اور’’رشتے قائم رہنے چاہیے‘‘ یادگارکالم ہیں۔ جنہیں پڑھ کرکبھی بھلایانہیں جاسکتا۔ ’’دل میں بسنے والے‘‘ میں ’’ملتان کاآخری وضعدار شکاری‘‘، ’’ گڈریاکاداؤجی‘‘، ’’ ماسٹررشید ترابی‘‘، ’’باکسنگ محمدعلی سے پہلے اورمحمدعلی کے بعد‘‘، ’’ایسے استادتو اب خواب ہوگئے‘‘، ’’ماسٹر غلام حسین، استانی جی اورمکول کلاں‘‘ بھی ناقابل فراموش کالمز ہیں۔ ’’سب کا اپنا اپنا ملتان‘‘ میں ملتان کی یادوں کوخالدمسعودخان کچھ اس طرح بیان کیاہے کہ قاری کی نظرمیں ایک فلم کی مانند سب کچھ سامنے آجاتاہے اوروہ خود کواس منظرکاحصہ محسوس کرتاہے۔ دوحصوں پرمشتمل ’’ایک شہرِناپید کا مرثیہ‘‘ جیسے کالم شائدہی کبھی کوئی لکھ سکے۔ سب سے آخرمیں ’’کتاب اورکہانی‘‘ کے عنوان سے آٹھ کالم ہیں۔ جن میں ’’کتاب کلچر‘‘، ’’کتاب، کہانی، اماں ممتازی اورماں جی‘‘، ’’تین تن اورایک حسرت ناتمام‘‘، ’’ماضی کی آنہ لائبر یریاں اورقادرپورراں کی مفت لائبریری‘‘، ’’میلے سے ادبی میلے تک‘‘، ’’کتاب بینی کے فروغ کے لیے ایک اورکاوش‘‘، ’’آنہ لائبریری سے بک کارنرجہلم تک‘‘ اور’’کتاب، لاہور، جہلم اوراقرالائبریری‘‘شامل ہیں۔ جن میں کتاب بینی اورفروغ مطالعہ کے کاوشوں کاذکرخیر کیاگیاہے۔ سب سے آخر میں ہارون رشیدصاحب کامہمان کالم’’آہنگ میں یکتا‘‘ ہے۔

’’زمستاں کی بارش‘‘ ایک ایسی کتاب ہے، جوختم ہونے کے بعدبھی قاری کے دل ودماغ سے محونہیں ہوتی۔ اس کے بہت سے حصے ہمیشہ پڑھنے والے کے ذہن میں موجودرہتے ہیں۔ بے شمارواقعات یوں لگتے ہیں کہ گویایہ بھی میرے دل میں تھا۔ بک کارنرجہلم نے انتہائی خوبصورت انداز میں کتاب کو شائع کیاہے۔

(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply