مساوات و آزادی کی بحث اور اسکی قیمت —— وحید مراد

0

مساوات (equality)،جدید اور روشن خیال مغرب کی مقدس اقدار میں سے ایک ہے۔ فرانسیسی انقلابی نعرے ‘آزدی، مساوات، بھائی چارہ’ اور آزادی کے امریکی اعلامیہ میں مساوات کا جشن مناتے ہوئے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ بدیہی تصور ہے کہ تمام انسان یکساں طورپر پیدا کئے گئے ہیں اور انہیں آزادی جیسے لامحدود حقوق حاصل ہیں[1]۔ کنیڈین چارٹر آف رائٹس اینڈ فریڈم بھی اس بات پر زور دیتا ہے کہ ‘ہر فرد قانون کی نظر میں بلاامتیازمساوی قانونی تحفظ، یکساں فوائد کے حصول اور برابر کے حقوق رکھتا ہے۔ اسے ضمیر، مذہب، سوچ، رائے کے اظہار اور پرامن اجتماع اور انجمن سازی کے بنیادی حقوق حاصل ہیں۔[2]

سترھویں صدی کے وسط میں جب ‘لیولرز تحریک Levellers’ نے مساوات کی آواز اٹھائی تو اسکا ایک اہم مقصد اشرافیہ کیلئے خصوص استثنیٰ اور مراعات کو ختم کروانا تھا۔ بعد کی صدیوں میں لبرلز نے معاشی مواقع کی مساوات پر زور دیا جس میں سب لوگوں کو آگے بڑھنے، کامیابی، دولت و آمدنی حاصل کرنے کے منصفانہ مواقع میسر آسکیں۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں کمیونسٹ تحریک کے ہاں مساوات کا مطلب یہ تھا کہ پیداواری ذرائع پر جو چند لوگوں کی اجارہ داری ہے اسے ختم کرکے انہیں تمام لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کھلا چھوڑا جائے۔ اکیسویں صدی میں مساوات کے تصور اور جدوجہدکو آسان اورسادہ بناتے ہوئے اسے’ نتائج میں مساوات کی مہم campaign for equality of result’کی شکل دے دی گئی یعنی ہر ایک کے لئے دولت، حیثیت اور منصب کی یکسانیت۔ یہ پسے ہوئے طبقات کی آواز نہیں بلکہ امریکن ڈیموکریٹک پارٹی کی آواز ہے جو الیکشن میں نعرہ لگاتی ہے کہ انکی اولیں ترجیح یہ ہے کہ امیر لوگوں سے زیادہ ٹیکس وصول کئے جائیں اورانہیں ووٹرز کے مفادات، گلی، محلے، پارکس اور عام آدمی کی سہولیات پر خرچ کیا جائے۔ [3]

کنیڈا میں براڈبینٹ انسٹیٹیوٹ (Broadbent Institute) کا استدلال ہے کہ ‘معاشی عدم مساوات، آمدنی اور دولت کی غیر مساوی تقسیم ہمارے وقت کے اہم چیلنجوں میں سے ایک ہے اور 1990 کے کنیڈا میں عدم مساوات میں جو اضافہ ہوا تھا وہ آج بھی اعلیٰ سطح پر موجود ہے۔ اس رجحان کو تبدیل کرنے کیلئے ترقی پسندوں کو ایسی عوامی پالیسیوں کا مطالبہ کرنا چاہیے جو مشترکہ خوشحالی پر مرکوز ہوں’۔ اسی طرح کنیڈا سینٹر فار پالیسی الٹرنیٹیوز (Canada Centre for Policy Alternatives) کا کہنا ہے کہ’ کنیڈا کو ہمارے عہد کے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک کو حل کرنا ہوگا اور وہ ہے آمدنی اور دولت کی عدم مساوات میں اضافہ’۔ اسکے لئے یہ ادارہ تجویز کرتا ہے کہ زیادہ دولت مندوں کےایک فیصد گروہ پر زیادہ ٹیکس لگانے کی گنجائش موجود ہے۔ [4]

آج کے دورکا مسئلہ یہ ہے کہ خودساختہ معیار زندگی کی وکالت کرنے والوں نے مساوات اور دیگر بنیادی مغربی اقدار کے درمیان توازن برقرار نہیں رکھا بلکہ مساوات کو دوسری اقدار سے بلند رکھا۔ اسکی اہم وجہ یہ ہے کہ بیسویں صدی کی بڑی سیاسی تحریک کمیونزم نے مساوات کو اپنی سیاست کا سب سے بڑا آئیڈیل بنایا۔ کمیونسٹوں نے مساوات پر اتنا زور دیا کہ اسکے لئے عملی طورپر آزادی اور خوشحالی کی قیمت ادا کرناپڑی اور بالآخر پارٹی رہنماوں نے اپنی حکمرانی بچانے کی خاطر عوام اور مساوات کا ستیاناس کیا۔

معاشی مساوات بمقابلہ شخصی آزادی:

دنیا بھر کے معاشروں کے ثقافتی مطالعات یہ بتاتے ہیں کہ معاشی مساوات کا انفرادی آزادی کے ساتھ بالعکس تناسب ہے۔ جن معاشروں میں معاشی مساوات موجودہے وہاں انفرادی آزادی انتہائی محدود ہے اور اسکے برعکس جہاں انفرادی آزادی کی اعلیٰ سطح ہے وہاں معاشی عدم مساوات ہے۔ اسکی وجہ بالکل واضح ہے کہ لوگ رضاکارانہ طور پر اپنی دولت دوسروں میں بانٹ کر مساوات قائم نہیں کرتے۔ ریاست اور ریاستی ادارے امیر لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ٹیکس کی شکل میں اپنی زائد دولت حکومتی خزانے میں جمع کرائیں تاکہ اسے عام لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جا سکے۔ اس طرح ریاست، جبر کے ذریعے انفرادی آزادی کو محدود کرتی ہے۔ ان مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ مکمل معاشی مساوات اور مکمل انفرادی آزدی مطابقت نہیں رکھتیں۔ ایک کی زیادتی سے دوسری میں کمی واقع ہوتی ہے۔ مکمل معاشی مساوات کے حامی بھی مساوات کی ضمانت کیلئے مضبوط ریاستی اقدامات کے حامی ہیں۔ حکومت کی طرف سے جائیداد کی ضبطی اور از سر نو تقسیم زیادہ معاشی مساوات کے حصول کا ذریعہ ہے۔ [5]

The consequences of economic inequalityکمیونسٹ معاشروں جیسے سویت یونین، مائوکےدور کا چین، شمالی کوریا اور کیوبا وغیرہ جہاں معیشت مرکزکے کنٹرول میں تھی اور آزادی کمیونسٹ پارٹیوں کے احکامات کی تعمیل تک محدود تھی۔ انکے برعکس لبرل جمہوری معاشروں کی مخصوص کثرتیت پسندی ایک سے زیادہ پالیسیوں والی متعدد پارٹیوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ لبرل جمہوریتیں معاشی مساوات کی حمایت میں کافی مگر نسبتاًمحدود آزادی کے اقدامات اٹھاتی ہیں جیسے فلاحی ریاست کی پالیسیاں وغیرہ۔ کثرتیت پسند لبرل جمہوریتوں میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اقتصادی مساوات اور انفرادی آزادی کے درمیان توازن کا موضوع بحث کا محور ہوتا ہے۔ کچھ جماعتیں زیادہ مساوات پر زور دیتی ہیں جبکہ کچھ زیادہ انفرادی آزادی کی حامی ہوتی ہیں۔ بات یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ مساوات کی وکالت بھی دراصل کم آزادی کی وکالت ہے۔

ایک اور قدر جو زیادہ معاشی مساوات یا حکومت کی طرف سے مساوات کویقینی بنانے کے اقدامات سے ٹسٹ ہوتی ہے وہ معاشی خوشحالی ہے۔ اس موضوع پر ہمیشہ گرما گرم بحثیں ہوتی ہیں کہ معیشت پر ریاستی کنٹرول کے نتیجے میں ناقص پیداوری عمل اورجدت میں کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کمیونسٹ ممالک کے تجربات یہی بتاتے ہیں جیسے سویت یونین کے زمانے میں مزدور مذاق اڑاتےتھے کہ ‘ہم کام کرنے کا بہانہ کرتے ہیں اور وہ ہمیں ادا کرنے کا بہانہ کرتے ہیں’۔ چین نے کمیونسٹ و ثقافتی انقلاب کی پےدرپے مشکلات سے نکلنے کیلئے سرمایہ دارانہ معیشت میں قدم رکھا۔ اصل سوال کام کرنے کی ترغیب، مواقع کا حصول اور معاشی فوائد کے درمیان پائے جانے والے تعلق پر ہے۔ اب تک کے شواہد بتاتے ہیں کہ پیداوار سے فائدہ اٹھانے کی آزادی مزید پیدا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ معاشی مساوات کی وکالت کرنا درحقیقت کام و پیداوار کے لئے ترغیبات اور خوشحالی کے خلاف وکالت کرنے کے مترادف ہے۔

Equity, thy name is gender equality | Political Economy | thenews.com.pkصنفی مساوات (gender equality):

ماضی میں لبرلز، افراد کے درمیان مساوات پر زور دیتے تھے لیکن آج کے دور کے ترقی پسند جیسے کنیڈین فلسفی ول کملیکا (Will Kimlicka) وغیرہ افراد کی مختلف کیٹیگریز (جینڈر، نسل، مذہب، جنس، زبان، قومیت وغیرہ) میں مساوات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اجتماعی مساوات اس بات کا مطالبہ کرتی ہے کہ ہر کٹیگری کے لوگ مختلف گروہوں میں شامل ہوں کیونکہ اس مساوات کا مطلب شمولیت (inclusiveness)ہے۔ مشرقی ایشین کی شمولیت کے بغیر اسکول کی کلاس، سکھوں کے بغیر پولیس فورس، افریقی نژاد امریکیوں کے بغیر سٹی کونسل، اطالوی نژاد باشندوں کے بغیر سول سروس، مسلمانوں کے بغیر دفاتر، ہم جنس پرستوں اور ٹرانس جینڈر کے بغیر کمپنی بورڈ نامکمل، نسل پرستانہ اور غیر منصفانہ کہلاتے ہیں۔ جتنی زیادہ اقلیتیں معاشرے کے ہر شعبے میں شامل ہونگی اتنا ہی زیادہ وہ مساوی اور انصاف پسند کہلائے گا۔

Difference Between Feminism and Gender Equality (With Table) – Ask Any Differenceبظاہر یہ کہا جاتا ہے کہ صنفی مساوات کا مطلب مرد و زن کو برابر کے مواقع اور شمولیت مہیا کرنا ہے لیکن عملی طورپر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 60 فیصد طالب علم خواتین ہیں اور قانون و میڈیکل شعبہ جات میں بھی انکی بڑی اکثریت ہے۔ ہر جگہ کوشش ہو تی ہے کہ مرد اورمخالف جنس کی طرف رغبت رکھنے والے لوگ جتنےکم ہوں اتنا ہی اچھا ہے۔ جیکوٹا نیومین(Dakota Newman) کے خیال میں صنفی مساوات بھی ایک پریشان کن اصطلاح ہے کیونکہ اسکی کوئی متفقہ تعریف نہیں اور کئی مطالب ہو سکتے ہیں۔ [6]

صنفی یا جنسی مساوات سے مراد یہ ہے کہ جنس سے قطع نظر اصناف کیلئے تمام ذرائع، وسائل اور مواقع، معاشی شرکت، قدر و منزلت، حقوق، فیصلہ سازی سمیت مختلف طرز عمل، خواہشات اور ضروریات تک برابری کی بنیاد پر رسائی ہو۔ اسکا مقصد پالیسی اور قوانین میں ایسی تبدیلیاں لانا ہے جس سے اصناف کو خود مختاری حاصل ہو اور عالمی سطح پر جنسی اسمگلنگ، نسائی قتل، جنسی تشدد اورصنفی اجرت کا فرق اور دیگر جنسی جبر کے حربے ختم ہوں اور خواتین کو تعلیم، تربیت، روزگار، ملکیت، جائیدادکریڈٹ وغیرہ میں زیادہ رسائی دی جائے۔ صنفی مساوات کا حصول اقوام متحدہ کے سترہ پائیدار ترقیاتی اہداف میں سے پانچویں نمبر پر ہے اور اسے ہر سال اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP)کی انسانی ترقی کی رپورٹوں (Human Development Reports) سے ماپا جاتا ہے۔ [7]

Women and Sustainable Development Goals .:. Sustainable Development Knowledge Platformصنفی مساوات میں اقوام متحدہ کا کردار:

صنفی مساوات کا مطلب صرف عورتوں اور مردوں کے درمیان مساوات نہیں بلکہ یہ عالمی سطح پر بائنری جنس (صرف مرد، عوررت) پر مبنی معاشرے کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہے جس میں اقوام متحدہ ایک اہم کھلاڑی کے طورپر کردار ادا کر رہا ہے۔ کئی عشرے پہلے اس اصطلاح کو اقوام متحدہ کے متعدد اقدامات میں شامل کیا گیا۔ یہ اصطلاح ٹرانس جینڈر لوگوں کی اس شناخت کو قانونی تحفظ اور فروغ دینے کیلئے استعمال ہوتی ہے جو انکے پیدائشی جسم سے ظاہر نہیں ہوتی۔ 2019 میں اقوم متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے اس اصطلاح کا مفہوم اپنی ایک قرارداد میں اس طرح بیان کیا کہ مرد وں اور عورتوں کے درمیان فرق ختم کرنے کا بین الاقوامی ایجنڈا واضح ہو گیا۔

اقوام متحدہ کی اس قرار داد میں انٹر سیکس کھلاڑیوں کو اجازت دی گئی کہ وہ خواتین کے کھیلوں میں شرکت کر سکتے ہیں اور اسے انکے حقوق کا تحفظ قرار دیا گیا۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی دیگر قراردادوں میں جہاں لفظ صنف شامل کیا گیا اسکا مطلب یہ ہے کہ صنفی جھنڈے تلے ان مردوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ مقصود ہے جو اپنی جنس تبدیل کرکے عورتوں میں شامل ہوتے ہیں اور ان میں ٹرانس جینڈر کے علاوہ (queer, intersex, pan sexual, gender non confirming, nonbinary) اور صنفی تنوع کی مکمل رینج شامل ہے۔ صنف کی اصطلاح ایک ایسا ہتھیار ہے جسے عورتوں کے نام پر خاندان کو ختم کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جن ممالک نےاقوام متحدہ کی صنفی قراردادوں کی حمایت کرتے ہوئے ان پر دستخط کئے ہیں وہ ممکنہ طورپر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی نگرانی کے تابع ہو سکتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ ٹرانس جینڈر نظریے کو مکمل طورپر قبول کرتے ہوئے نافذ کر رہے ہیں یا نہیں؟

اقوام متحدہ کے Sustainable Development Goals میں مختص لاکھوں ڈالر ہر سال خواتین کے حقوق کے نام پر ان صنفی نظریات کو فروغ دینے کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔ ہم صدیوں سے ماں، باپ، بیٹا، بیٹی، بہن، بھائی جیسے الفاظ سنتے آئے ہیں جن کے باہمی رابطے سے خاندان تشکیل پاتا ہے لیکن اب انہیں صنفی مساوات کی بے رحم گاڑی کے پہیوں کے نیچےکچلا جا رہا ہے۔ اس ایجنڈے کے کامیاب ہوتے ہی خواتین وہ تمام حقوق کھو دیں گی جنہیں صدیوں کی محنت سے حاصل کیا گیا تھا۔ [8]

مساوات یا یکسانیت؟

فرانسیسی پولیٹیکل فلسفی، ایلین ڈی بینوسٹ (Alain de Benoist) کہتے ہیں کہ جینڈر تھیوری میں مساوات کو ‘یکسانیت sameness’ سے تعبیرکیا جاتا ہے حالانکہ یہ تعبیر واضح طور پر نسائیت کے مخالف ہے۔ اس تعبیر میں یہ فرض کیا جاتا ہے کہ سوسائٹی خود کفیل ہے اور اس میں تمام مصروفیات، تعلقات، معاہدے اور وابستگیاں اپنی مرضی اور خودمختاری سے طے پاتی ہیں لہذا خواتین کی شناخت کو بھی انکی آزادی اورخودمختاری کے تناظر میں دیکھنا چاہیے نہ کہ کسی مخصوص گروہ سے تعلق رکھنے کے نتیجے میں۔ یعنی خواتین ہر قیمت پر اپنے آپ کو عورت (مرد کےدست نگر) سمجھنے سے گریز کریں۔

Equality, similarity, parity, parallelism, comparison, balance, sameness icon - Download on Iconfinderمساوات کا یہ تصور یکسانیت کا تقاضا کرتا ہے اور یہ دراصل دریدا (Jacques Derrida) کے بائنری درجہ بندی (binary oppositions and binary pairs) کے تصور سے اخذ کیا گیا ہے۔ دریدا کے خیال میں بائنری درجہ بندی مثلاً دن/رات، موجودگی/غیر حاضری، مذکر/مونث وغیرہ میں ہمیشہ ایسا رجحان پایا جاتا ہے کہ ایک اصطلاح دوسری پر حاوی ہوتی ہے یعنی دن کے بغیر رات، موجودگی کے بغیر غیر حاضری اور مذکر کے بغیر مونث کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ فیمنسٹ ماہرین نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس جارحانہ اورپرتشدد رجحان کا مقابلہ کیا جانا چاہیے۔ چنانچہ ریڈیکل فیمنسٹ اینڈریا ڈورکین (Andrea Dworkin) نے اپنے عقیدے اور نظریات میں ‘مردانہ تسلط اور صنف کو ختم کرنے کا عزم’ ظاہر کیا ہے۔ فرانسیسی فیمنسٹ مونیک وٹگ (Monique Wittig) نے کہاکہ ہمیں سیاسی، علامتی اورفلسفیانہ طورپر مرد اور عورت کی کیٹیگری کو تباہ کرکے دونوں کو برابری کی سطح پر لانے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی کسی پرحاوی نہ ہو سکے۔ اسکے خیال میں شناخت کا اظہار اور خواہش کی آزادی یہ تقاضا کرتی ہے کہ صنفی زمرے ختم کئے جائیں کیونکہ جب تک یہ زمرہ جات قائم ہیں عورت کی شناخت مرد کے مرہون منت رہے گی۔ [9]

مونیک وٹگ اس بات سے بھی نفرت کرتی تھیں کہ وہ ایک خاتون مصنفہ ہیں اس لئے وہ اپنے آپ کوریڈیکل لزبئین رائٹر کہلواتیں۔ اس کے خیال میں لزبئین، عورتیں نہیں ہوتیں کیونکہ وہ عورت کی کٹیگری سے باہر نکل جاتی ہیں اور لزبئین کے ساتھ ہی تعلقات رکھتی ہیں۔ انہیں اپنا وجود تسلیم کروانے کیلئے مرد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مساوی حقوق کی جدوجہد اور مردانگی کو تباہ کرنے کی کوشش میں خود نسوانیت نے مردانگی کی شکل اختیار کرلی اور اب حقیقی عورت اسے سمجھا جاتا ہے جو مرد کا رو پ دھار لے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مساوات پسند فیمنزم کو نسوانی تنوع میں کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ نسوانی تنوع میں فرق کا خیال غالب ہے اورفیمنزم حیاتیاتی فرق کو بھی ختم کرنے کے درپے ہے۔ [10]

مساوات کی قیمت:

اس وقت جس اجتماعی مساوات کے ایجنڈے پر کام ہورہا ہے، دنیا بھر کے معاشرےاسکی بہت بھاری قیمت ادا کررہے ہیں۔ ایک قیمت تو انفرادی شناخت کا نقصان ہے جس میں نسلی، قومی، مذہبی، جنسی کیٹیگیز کو افراد پر تھوپا جاتا ہے جس سے افراد کی انفرادیت، متعلقہ کٹیگیری کی متعین صفات تک محدود ہوجاتی ہے۔ دوسری قیمت مخصوص کاموں میں صلاحیت اور میرٹ کے فقدان کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ لوگوں کو محض انکی نسل، مذہب، جنس وغیرہ کی وجہ سے منتخب کیا جاتا ہے بجائے اسکے کہ انکی کام کی صلاحیت کو فوقیت دی جائے۔ اس طرح متعلقہ عوامل کو اہمیت نہ دینے کی وجہ سے کم صلاحیتوں کے لوگ اوپر آجاتے ہیں۔ پھر اس طرح کے جملے سننے کو ملتے ہیں کہ ‘اچھا آپ نے گریجوئیشن میں بہت اچھا اسکور کیا ہے لیکن ہمارے پاس پہلے سے ایک سکھ ورکر موجود ہے اور اب ہمیں ایک ہم جنس پرست یا لزبئین ورکر کو شامل کرنا ہے’۔ دوسرے الفاظ میں کیٹیگری کے لیبلز کی وجہ سے کسی اہم کام کیلئے پایا جانے والا رجحان، صلاحیت اور پوٹینشل غیر اہم ہوجاتا ہے اور لوگ محض کیٹیگری میں شمولیت کی وجہ سے کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔ چنانچہ اجتماعی مساوات کے حامی بھی دراصل انفرادی شناخت، میرٹ اور فضیلت (excellence) کی تلاش کے خلاف ہیں۔ آپ اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ مساوات کو آگے بڑھانے کے پروگرامز مفت اور مفید ہیں۔ انکی بھاری قیمت آزادی، خوشحالی، انفرادیت، میرٹ اور فضیلت کے خاتمے کی شکل میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ [11]

آپ ایک ایسی کمپنی کا تصور کریں جہاں سب برابر ہیں۔ کوئی منیجر، سپروائزر یا چوکیدارا ر وغیرہ نہیں، ہر کوئی ایک ہی کام کرتا ہے اور کوئی کسی کو رپورٹ نہیں کرتا۔ سب کو ایک جیسی تنخواہ ملتی ہے قطع نظر اسکے کہ وہ کتنا کام کرتا ہے اور کتنا موثر ہے۔ سب کیلئے کام کے ایک جیسے اوقات ہیں۔ کسی کو کبھی ترقی نہیں ملتی کیونکہ اس سے مساوات قائم رکھنے میں مشکل آسکتی ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسی کمپنی کامیاب ہوگی؟ ظاہر ہے نہیں کیونکہ معاشرہ ہمیشہ تخصص پر پروان چڑھتا ہے۔ کوئی تنہا شخص جیسے چاہے زندہ رہ سکتا ہے لیکن معاشرے میں شامل ہونے کے بعد ایک خاص درجہ بندی کی پیروی کرناضروری ہے۔ ہر کوئی ‘الفا’ نہیں ہو سکتا اور اگر سب ‘الفا’ بننے کی کوشش کریں گے تو معاشرہ ناکام ہو جائے گا۔ مساوات کا نعرہ کسی فرد یا چند افراد کیلئے بہت خوشنما ہو سکتا ہے لیکن مکمل مساوات معاشرے کی کام کرنے کی کارگردگی کو ختم کر سکتی ہے۔ عدل و انصاف تو معاشرے کے باقی رہنے کیلئے ناگزیر ہے لیکن اصناف کے درمیان مکمل مساوات قائم کردینے سے معاشرہ موثر انداز میں کام نہیں کر سکتا۔

مکمل مساوات کے ذریعے جب مساوی نتائج کی گارنٹی دی جاتی ہے تو نہ صرف مذہب، عقائد، تہذیب، آرٹ، موسیقی، ادب، جذبات بلکہ زندگی کی ہر رنگارنگی ضائع ہو جاتی ہے۔ مستقبل کے بارے میں تشویش لاحق ہوجاتی ہے۔ نوجوانوں کو سمجھ نہیں آتا کہ وہ کس کو دوست بنائیں اورکس سے شادی کریں کیونکہ یقینی صورتحال کیلئے جس جوش و خروش کی ضرورت ہوتی ہے وہ مساوات سے مفقود ہوجاتا ہے۔ مکمل مساوات خاندانی رشتوں کو بھی متاثر کرتی ہے اور ہر معاملہ تجارت اوربارگیننگ کے اصول سے طے ہوتا ہے۔ جذبات، وابستگی اور محبت کے بغیر گھر کمپیوٹر الگورتھم کی طرح بن جاتا ہے نتیجتاً بچے ماں باپ کا قتل کرتے ہیں یا گھر کے بڑے اپنے محرم رشتوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتے نظر آتے ہیں اور زندگی ایک ڈائونا خواب بن جاتی ہے۔ [12]

References:

[1] “The Declaration of Independence” The Want, Will and Hopes of the People. Retrieved from https://www.ushistory.org/DECLARATION/document/

[2] “The Constitution Acts of Canada 1867 to 1982”. Retrieved from https://laws-lois.justice.gc.ca/PDF/CONST_TRD.pdf

[3] “Let’s end corruption – starting with Wall Street” New Internationalist magazine issue 447. Retrieved from https://web.archive.org/web/20131102012454/http://newint.org/features/2011/11/01/wall-street-corruption-protests/

[4] “Growing Gap” CCPA. Retrieved from https://www.policyalternatives.ca/projects/growing-gap

[5] Kymlicka, Will (1996) “Multicultural Citizenship: A Liberal Theory of Minority Rights”. Retrieved from https://www.amazon.ca/Multicultural-Citizenship-Liberal-Theory-Minority/dp/0198290918/ref=sr_1_4?ie=UTF8&qid=1486600545&sr=8-4&keywords=kymlicka

[6] “Women in Canada embrace higher education”. Retrieved from https://www.macleans.ca/education/uniandcollege/women-in-canada-embrace-higher-education-statcan-survey/

[7] McKie, Linda & Jeff Hearn (2004) “Gender Neutrality and Gender Equality: Comparing and contrasting policy responses to Domestic Violence in Finland and Scotland”. Retrieved from https://web.archive.org/web/20131021023708/http://www.scottishaffairs.org/backiss/pdfs/sa48/sa48_McKie_and_Hearn.pdf

[8] Ells, Kimberly (2021) “The Dark Side of Global Gender Equality”. Retrieved from https://www.dailysignal.com/2021/01/27/the-dark-side-of-global-gender-equality/

[9] Kirkup, James(2003) “Monique Wittig”. The Independent https://web.archive.org/web/20071001031550/http://news.independent.co.uk/people/obituaries/article123410.ece

[10] Mattix, Micah (2015) “The Absurdity of Gender Theory”. Retrieved from https://kirkcenter.org/reviews/the-absurdity-of-gender-theory/

[11] Salzman, Philip Carl (2018) “Equality at What Cost?”. Retrieved from https://fcpp.org/2018/04/14/equality-at-what-cost/#_ftnref5

[12] Chamberlain, Shannon (2014) “What is the price of Perfect Equality?”. Retrieved from The Atlantic https://www.theatlantic.com/business/archive/2014/08/what-is-the-price-of-perfect-equality/378621/

(Visited 1 times, 6 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply