قومی و عالمی مشاہیر کا اقبال کو خراج تحسین: یک سطری مضمون —– ڈاکٹر محمد اعجازالحق اعجاز

0

اقبال جس کے بارے میں جناح نے کہا اگر مجھے اقبال اور حکومت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو میں اقبال کو ترجیح دوں گا، جواہر لال نہرو جس نے ان کے برابر بیٹھنے سے انکار کردیا اور قدموں میں براجمان ہونے پہ فخر محسوس کیاتھا ان کی وفات پہ کہا تھا کہ اقبال کی موت ہندوستان کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے مگر آپ کی حیات آفریں نظمیں مدت تک آئندہ نسلوں کو درس آزادی دیتی رہیں گی، ابوالکلام آزاد نے کہا ہندوستان آپ سے بڑا اردو شاعر پیدا نہیں کرسکا آپ کی وفات سے نہ صرف ہندوستان بلکہ مشرق کو نقصان عظیم پہنچا ہے، بلبل ہند سروجنی نائیڈو نے کہا وہ ایشیا کا ملک الشعرا ہے، مولانا شبلی نعمانی نے کہا حالی اور آزاد کی جو کرسیاں خالی ہوں گی ان میں سے ایک اقبال پر کرے گا ۔ اکبر الہ آبادی نے کہا اس کا ہر لفظ اوج ملکوت کا عالم ہے، حسر ت موہانی نے کہا عاشقی کا حوصلہ بیکار ہے تیرے بغیر، آرزو کی زندگی دشوارہے تیرے بغیر، علامہ سید سلیمان ندوی نے کہا ایک عرصہ بعد ڈاکٹر اقبال جیسا مفکر اعظم پیدا ہوا ہے، ہندوستان کا فخر اقبال، اسلامی دنیا کا ہیرو اقبال، فضل و کمال کا پیکر اقبال، حکمت و معرفت کا مجسمہ اقبال، سر طامس آرنلڈ نے کہا مشرق اور ہندوستان میں حرکت تجدید نے اپنا ممتاز ترین ظہور سر محمد اقبال کی شاعری میں کیا ہے، مولانا ظفر علی خاں نے کہا کہ اقبال کا مرنا، اسلام کے سر پر ہے قیامت کا گزرناہے، نوبل انعام یافتہ ہرمن ہیسے نے کہا وہ فکر کی تین اقالیم اسلامی، ہندی اور مغربی فکر کا شہنشاہ ہے،، نوبل انعام یافتہ ای ایم فارسٹر نے کہا اقبال عبقری ہے اور جدید ہندوستان کے دوعظیم ترین ثقافتی نمائندوں میں سے ایک ہے، نکلسن نے کہا کہ اقبال آئندہ نسلوں کے لیے ضرور ایک پیغام بر کا درجہ رکھتے ہیں ہربرٹ ریڈ نے کہا شاعری میں ما بعد الطبیعاتی صداقتوں کے معیار پر اگر آج کے اپنے شعراء کی پرکھ کی جائے تو مجھے صرف ایک ہی ایسا زندہ شاعر نظر آتا ہے جو کم عیار نہ ثابت ہو گا اور یہ بھی طے ہے کہ وہ ہمارے عقیدہ اور نسل کا شاعر بھی نہیں ہے میری مراد محمد اقبال سے ہے آج جب کہ ہمارے مقامی شاعر حضرات کیٹس کی زمین میں بلیوں اور پرندوں کے موضوعات پر تضمینیں تحریر کرنے میں مصروف ہیں لاہور میں ایک ایسے شاعر نے جنم لیا ہے جس کی نظموں نے سب کو مسحور کرکے رکھ دیا ہے، این میری شمل نے کہا لگتا ہے اس کے کلام کو جبریل کے پروں نے چھو لیا ہے، دور حاضر کے ایک بڑے فلسفی چارلس ٹیلر نے کہا ہمیں اقبال کو دوبارہ پڑھنا ہوگا، اسے واپس آنا ہوگا، اسی کے پاس جدید دنیا کے بیشترمسائل کا حل ہے، اطالوی الیسینڈرو بوسانی نے کہا شاعری اور فلسفے کا ایسا حسیں امتزاج بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے جیسا اقبال کے ہاں ہے، فرانسیسی ڈاکٹر ایوا ڈی وٹرے مئرووچ نے کہا میں نے اقبال کے خطبات پڑھ کر اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ اس کی صداقت پہ میرے دل نے صدا دی، ایرانی ملک الشعرا بہار نے کہا گزشتہ تین سو سال میں اقبال سے بڑا فارسی شاعر پیدا نہیں ہوا میں اقبال کو اسلامی مجاہدوں، عالموں اور ادیبوں کی نوسوسالہ جدوجہد کا خلاصہ اور نچوڑ سمھتا ہوں دورِ حاضر اقبال ہی کا دور ہے، ڈاکٹر علی شریعتی نے کہا جدید افکار اور فلسفہ عالم کی تاریخ میں اقبال کی شخصیت برگساں اور ڈیکارٹ کی شخصیت کے ہم پلہ ہے، انھوں نے یہ ثابت کیا کہ آج فکر و فلسفہ کی دنیا میں اسلام فکر و دانش کی عالی ترین سطح پہ اپنا کردار ادا کرسکتا ہے، دور ِ حاضر بھی اسی کا ہے، ایران ہی کے سعید نفیسی نے کہا آج ایران میں کیا پیروجوان اور کیا زن و مرد سب پاکستان کے عظیم شاعر محمد اقبال سے بخوبی واقف ہیں اور ہر شخص کی زبان پر ان کا نام اور ہر گھر میں ان کا کلام موجود ہے، یہ روشنی بخشنے والا اور عالم آفتاب برصغیر پاک و ہند میں فارسی زبان کی نو سو سالہ ادبی روایات کا وارث ہے، ایران ہی کےملک الشعرا صادق سرمد نے کہا اقبال عظیم ہے اور اس کی عظمت یک روزہ نہیں اس لیے کہ عظیم ہستیاں ہرروزعظیم ہوتی ہیں وہ کل بھی عظیم تھا وہ آج بھی عظیم ہے، آقائے علی دشتی نے کہا ہر قوم اپنے لیے کسی ستائش کے سامان کی حاجت مند ہوتی ہے پھر بھلا اقبال سے بڑھ کر کون پاکستان کے لیے قابل ستائش ہو سکتا ہے، ایرانی علامہ دہخدا نے کہا جس طرح پاکستان کو مشہور نابغہ دوران اقبال پہ ناز ہے ہمیں بھی اس پہ اور اپنے اوپر ناز ہے کہ اس جیسے عظیم شاعر نے ہمیں مخاطب کیا ہے، ایرانی کاظم رجوی نے کہا اقبال کی وجہ سے پاکستان پوری دنیا میں رخشندہ ہے، آقائے مجتبی مینوی نے کہا پچھلے سو برس میں ایران میں مسلمہ طور پر ایسی کوئی ہستی نہیں گزری جو من حیث المجموع محمد اقبال کی برابری کے قابل ہو اور ہو سکتا ہے کہ دوسرے مشرقی ممالک بھی اس سلسلے میں ہماری طرح ہوں، روسی نتالیا پری گارینا نے کہا وہ ایک عظیم شاعر انسانیت ہے، فلسطینی محمد زیتون نے کہا اقبال! اقبال جس کے سامنے مشرق کی قسمت کا ستارا چمکا جس کا سینہ نور محمدی سے روشن تھا۔ جنت کی ہوائیں جس کے رخساروں کو چومتی تھیں، جس کے لبوں پر حکمت کے ’’ رحیق مختوم‘‘ کی تری تھی نہ جادو نہ شراب نہ منتر اور اشلوک اس کی نظر نے ہند کی نئی نسلوں کے خواب مرتب کیے۔ لب اقبال۔ ۔ ۔ معجز بیاں لب اقبال، سری لنکا کے تیسا وجے رتن نے کہا اقبال کا پیغام وہ وہ پیغام تھا جس کی انسان دوستی نے اس کی شاعرانہ کشش کو عالمگیر بنا ڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں بھی محفل سخن گرم ہو، خواہ وہ مسلم پاکستان ہو یا ہندو بنگال، ایران ہو یا روس کوئی اسلامی جمہوریہ چین ہو یا یورپ کی یونیورسٹیوں کے مسیحی طلبہ کا اجتماعی یا بدھ طالب علموں کی کوئی ایسی ہی محفل! ہر جگہ وہ نغمے خاص توجہ سے سنے جائیں گے جنہیں اسلامی احیاء کے داعی محمد اقبال کے قلم نے غیر فانی بنا دیا ہے، ڈاکٹر فضل الرحمن نے کہا اقبال کے خطبات دور جدید میں اسلامی مابعدالطبیعیات کی تعمیر کی واحد منظم کوشش ہے، رشید احمد صدیقی نے کہا اس صدی میں اب تک ہم جن آزمائشوں سے گزرے ہیں اور شاید گزرتے رہیں ان سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اقبال کے کلام سے جو تقویت اور تسکین ملتی رہتی ہے وہ اس صدی کے کسی اور شاعر اور شاعری میں نہیں ملتی، عبدالرحمن بجنوری نے کہا وہ ایک ایسا موسی ہے جس نے اپنے عصا سے چٹان کو ضرب لگائی ہے اور ایک نیا کوثر پھوٹ بہا ہے جو بنی اسرائیل کے بارہ چشموں سے کسی طرح کم نہیں، امتیاز علی خاں عرشی نے کہا اگر ہم نے کوشش کرکے اقبال کے نصب العین کی کسی حد تک پیروی کر لی تو اس دنیا میں اپنی اور اپنے ملک کی اور ہمسایوں کی دوبارہ سربلندی حاصل کر لینے میں شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے گی، آل احمد سرور نے کہا وہ جبریل مشرق تھا، تلوک چند محروم نے کہا وہ کلیم ہند ہے، قاضی عبدالغفار نے کہا وہ ہرطرف چھا گیا، راغب احسن نے کہا وہ مادر گیتی کا وہ فرزند رشید ہے جس کی ذات میں آریت، عجمیت، سامیت، یونانیت، رومانیت اور المانیت کے کلچر کی لہریں ہم آغوش ہیں، وہ ارتقائے کائنات اور عمران انسانی کے مختلف تہذیبی نمود کی معنویت سے آگاہ اور ان کا بالغ نظر نقاد ہے، مگر وہ عارف محض، عالم محض، ناقد محض اور حکیم محض ہی نہیں بلکہ ان سب سے بہتر و برتر ایک میغام بر ہے، محمد دین فوق نے کہا وہ پیغمبر دین خودی اور چراغ محفل ہندوستان تھا، فیض نے کہا اس کا گیت سب کے دلوں میں اتر گیا، فراق نے کہااس کے متعدد اشعار واقعیت اور روحانیت کے اس امتزاج کا پیش خیمہ ہیں جس کے لیے انسانیت آج گوش بر آواز ہے، اونچی سے اونچی آواز اور اونچے سے اونچا لہجہ سب کچھ اس کی شاعری میں ہے، عبدالماجد دریاآبادی نے کہا اس کی نگاہ فضائے روح کی بلندیوں پہ رہتی ہے، محی الدین قادری زور نےکہا وہ اردو کا شاعر اعظم ہے جس کا ہر دور ایک نئی بہار اپنے ساتھ لا رہا ہے، عبدالقادر سروری نے کہا دنیا کے اس شاعر اعظم نے غوروفکر کے لیے اتنا سرمایہ چھوڑا ہے کہ نئے نئے نقاط ِ نظر سے اس کی شاعری کا مطالعہ ہوتا رہے گا، نورالحسن ہاشمی نے کہا وہ ایک عظیم انقلابی شاعر تھا جس کا مطمح نظر ظاہری یا وقتی انقلاب نہیں بلکہ قلب و روح کا پائیدار انقلاب تھا، ابولخیر کشفی نے کہا اقبال کی آواز اور اس کا لہجہ میرا مرشد کامل ہے، سید احتشام حسین نے کہا اقبال کو بعض حوالوں سے اردو کا سب سے بڑا شاعر کہا جاتا ہے اس میں کیا شک ہے، ڈاکٹر رضی الدین صدیقی نے کہا اس کے ہر مصرع اور ہر شعر سے خدائی رستے کا پتہ چلتا ہے، مہندر راج سکسینہ نے کہا وہ ایک عظیم شاعر حکمت شناس تھا، شمس الرحمن فاروقی نے کہا اقبال کی اردو شاعری سے میرا عشق ساٹھ سال پرانا ہے اور اب اس میں تخفیف نہیں ہوسکتی اور ان کی شاعری کی فکری توانائی اور تونگری کی کوئی انتہا نہیں، اور ہمارے عہد کے جن شعرا نے اپنے ہم عصروں اور بعد والوں کو مسلسل متاثر کیا ہے ان میں ییٹس، اقبال اور ایلیٹ سرفہرست ہیں، علی سردار جعفری نے کہا ناتوانوں کو عطا کی قوت ضرب کلیم، تونے بخشا ملت بے پر کو بال جبریل، پنڈت چاند نرائن نے کہا اقبال لیلائے سخن ہے اور پورا ہندوستان اس کا مجنوں ہے، جگن ناتھ آزاد نے کہا مشرق و مغرب کا ہر دیار اس پہ نازاں ہے، گوپی چند نارنگ نے کہا اقبال کے بارے میں یہ بات عام طور پر محسوس کی جاتی ہے کہ ان کی آواز میں ایک ایسا جادو، ایسی کشش اور نغمگی ہے جو پوری اردو شاعری میں کہیں اور نہیں ملتی، ان کے لہجے میں ایسا شکوہ، توانائی، بے پایانی اور گونج کی ایسی کیفیت ہے جیسے کوئی چیز گنبد افلاک میں ابھرتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی چلی جائے، حفیظ جالندھری نے کہا آج ہر قلب مومن میں جو تصویر ہے اقبال ہی کی تصویر ہے، محشر بدایونی نے کہا کچھ نہ دنیا میں رہے گا نہ رہا ہے باقی ذکر اقبال مگر بعد فنا ہے باقی، ، مجید امجد نے کہا ترا ہر شعر ساز قدس کا راگ، شورش کاشمیری نے کہا وہ ایک ابر نو بہار کی طرح فضاوں پہ چھا گیا اور اس چمن کی رگوں میں سما گیا اور وہ یوں اٹھا کہ مشرق و مغرب پہ چھا گیا، ماہر القادری نے کہا دیا تھا جو پیام زندگی نطق محمد نے اسی پیغام کو اقبال دہراتا ہوا آیا، حفیظ ہوشیارپوری نے کہا ہندوستان کے باقی شعرا ستارے جب کہ اقبال مہ تاباں ہے۔ طفیل ہوشیارپوری نے کہا وہ دانائے یگانہ اور شہ اقلیم معانی ہے، صوفی غلام مصطفے تبسم نے کہا وہ شب زدوں کو نوید سحر دے گیا، واصف علی واصف نے کہا اس کا پیغام حیات افروز ہے، سیف الدین سیف نے کہاوہ ایک مرد قلندر تھا اور اس کے بعد کے زمانوں نے ہم سے جو کیا اس کی کمی رہ رہ کر محسوس ہوتی ہے، عبدالحمید عدم نے کہا قلندر گیا اس کی بولی گئی، گرہ رازکی پھر نہ کھولی گئی، ڈاکٹرخلیفہ عبدالحکیم نے کہا اس کے کلام میں عالم لاہوت کی دولت ہے جو انسان کی حالت بدل دیتی ہے، عبدالعزیز خالد نے کہا اس کی پرواز تخیل دیکھ کر محو حیرت فاعلاتن فاعلات، خواجہ دل محمد نے کہا وہ شہنشاہ اقلیم معانی اور دانائے رموزآسمانی ہے، خوشی محمد ناظر نے کہا وہ یوسف ملت ہے، رام بھگوان داس بھگوان نے کہا اس کا ہر نغمہ نغمہ جبریل اور صور اسرافیل ہے، وحشت کلکتوی نے کہاوہ پیشوائے نکتہ سنجان جہاں ہے، منشی درگا سہائے سرور جہاں آبادی نے کہا ترے بغیر ہیں مرغان نغمہ زن خاموش، طالب انصاری بدایونی نے کہا وہ شعرو حکمت کا امام ہے، نخشب جارجوی نے کہا کوئی اقبال سا اب دیکھنے والا ہی نہیں، جلوہ طور تو موجود ہے موسی ہی نہیں، شوق بدایونی نے کہا جیسے تم ہو مثال خود اپنی ایسا پائیں کہاں جہاں میں، عابد علی عابد نے کہا اس کی کارگہ فکر میں مہر و مہ ڈھلتے تھے، ایم ڈی تاثیر نے کہا راہ بھی راہبر بھی تو نقش بھی نقش گر بھی توتجھ سے شہود بینات تجھ سے وجود ممکنات، رئیس امروہوی نے کہا وہ مسیحائے اہل دل ہے، ساغر دہلوی نے کہا وہ امر ہے، مخدوم محی الدین نے کہا اس کا کلام نغمہ جبریل ہے انسان کا گانا نہیں صور اسرافیل ہے انسان نے پہچانا نہیں، شیر افضل جعفری نے کہا وہ قلندری سے خدا کو شکار کرتا ہے، مجید لاہوری نے کہا کاشف حکمت فطرت ہے کلام اقبال، سبط حسن نے کہا اقبال انسانیت کا عظیم دوست اور سماجی انقلاب کا پیغام بر ہے، مصر کے ڈاکٹر عبدالوہاب عزام نے کہا اس دوری اور فاصلے کے باوجود اس دیار عرب میں، میں عالم بیداری میں اقبال کی آواز سن رہا ہوں، کیا خوب آواز ہے، یہ غموں کی اس دنیا میں خوشی کا نغمہ الاپنے والا کون ہے، یہ کون ہے جو انسانیت کو سوئے حرم لا رہا ہے، یہ مرد آزاد کون ہے جس نے قید کی تمام بیڑیوں کو توڑ ڈالا؟ علی خامنہ ای نے کہا وہ مشرق کا بلند ستارہ ہے، امین احسن اصلاحی نے کہا وہ زمین کا تھا مگر اس کی پرواز آسمان تک تھی، وہ شاعر تھا مگر اس کی شاعری میں علم نبوت کی روح کارفرما تھی، وہ تسخیر قلوب و ارواح کی ایک غیبی طاقت سے مسلح ہو کر آیا، مصر کے ڈاکٹر طہ حسین نے کہا اس نے زمانے پہ اپنا سکہ بٹھا دیا، ترکی کے ڈاکٹر علی نہاد تارلان نے کہا وہ ایک آفاقی نابغہ، عالم مشرق اور اسلام کا ایک عظیم مفکر و شاعر، اپنے انفرادی و مابعدالطبیعی جہان میں وجد و استغراق میں ڈوبا ہوا ایک درویش ہے اور اجتماع و جمیعت کی دنیا میں زبردست باطنی قوت کا سرچشمہ ہے، شام کے امیر شکیب ارسلان نے کہا گزشتہ دس صدیوں میں دنیائے اسلام نے اس سے بڑا مفکر پیدا نہیں کیا، کشمیر کے سید علی گیلانی نے کہا وہ دور حاضر میں روح دین کا عظیم شناسا تھا، ایران کے ڈاکٹر ضیاالدین سجادی نے کہا وہ عصر حاضر کا عظیم شاعر اور فلسفی ہے، روسی ادیب نکولائی گلیبوف نے کہا وہ بیسویں صدی کے عظیم ترین شعرا و مفکرین میں سے ہے، شمیم حنفی نے کہا اقبال ہماری فکری روایت کے سب سے بڑے مفسرتھے، اپنی آگہی اور وسعت فکر کے لحا ظ سے اقبال کا کوئی پیش رو اور کوئی ہم عصر ان کے رتبے کو نہیں پہنچتا، اردو کی فلسفیانہ روایت اور اجتماعی فکر کا نقطہ عروج ہمیں اقبال کی شاعری اور نثر میں نظر آتا ہے۔ اقبال احمد نے کہا اقبال بلا شک و شبہ ایک عبقری، ایک عظیم شاعر اور ایک اصلی مفکر ہے، وہی اقبال ہمارے دلوں میں جیتا ہے، اسی کا کلام جاوداں ہے اور جاوداں رہے گا، وہی اس دور کا سب سے بڑا شاعر اور مفکر ہے۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply