گورنمنٹ کالج کالی موری حیدرآباد -11 —- عطا محمد تبسم

0

میٹرک تو ہم نے کرلیا۔ انٹر میں داخلے کے لیے ایک ہی کالج تھا، گورنمنٹ کالج کالی موری، جو ہمارے گھر سے تقریبا 12 کلومیٹر دور تھا، پیدل جانا پڑتا تھا۔ کبھی پھلیلی نہر کے کنارے کنارے اور کبھی شہاب سینما، لیاقت کالونی اور اطراف کے گلیوں سے ہوتے ہوئے کالی موری سے گزر کر کالج جاتے۔ گورنمنٹ کالج کی شاندار عمارت اور وسیع و عریض چمن زار، ایک بہت ہی شاندار لائبریری دیکھ کر ہم اس کالج کے اسیرہوگئے۔ اس زمانے میں کالج پرنسپل محمد علی تھے۔ وہ اپنے کمرے سے بہت کم نکلتے تھے۔ رعب وداب بہت تھا، ان کے کمرے میں جاتے ہوئے دل کانپ جاتا تھا۔ بہت رعب دار شخصیت کے مالک تھے۔ اس کالج کا قیام 1917 میں عمل میں آیا تھا، اور حال ہی میں اس کے سو سال مکمل ہوئے ہیں، اب اسے یونیورسٹی کا درجہ دیا جا چکا ہے۔ کالج میں اس زمانے میں جمعیت کا چرچا تھا، مسعود اعجازی، شکیل احمد خان، رؤف شیرانی جمعیت کے روشن چہرے تھے۔ ہمارا گروپ پری انجینئرینگ تھا۔ اردو میڈیم سے ایک دم انگریزی میڈیم میں پڑھائی ہمارے پلے خاک نہ پڑتی تھی۔ امتحانوں کے دنوں میں رٹا لگانے کی کوشش کرتے۔ کچھ یاد ہوتا کچھ بھول جاتے، اس زمانے میں جمعیت نے غریب طالب علموں کو پڑھانے کے لیے بہت شاندار کام کیئے، تلک چاڑی بوناوینچر اسکول کے پیچھے چڑھائی پر سر شام سڑک پر صفائی ہوتی، دری بچھائی جاتی، گیس کے ہنڈولے جلتے اور سنئیر طلبہ جو یونیورسٹی یا بی ایس سی کے طالب علم ہوتے، لڑکوں کو فزکس، میتھ، کیمسٹری پڑھاتے، یہ فری کوچنگ تھی۔ طلب علموں میں علم کی پیاس اور کچھ سیکھنے اور سکھانے کا ایسا جوش بھر جذبہ پھر کبھی دیکھنے میں نہ آیا۔

کالج کے الیکشن کی گہماگمی بھی خوب تھی۔ پوسٹر اور بیجز کی چھپائی کا زمانہ نہ تھا، سب ہاتھ سے مارکر سے لگھے جاتے، جمعیت والوں کو یہ بیجز اور پوسٹر لکھنے میں کمال حاصل تھا، ان کے پاس اچھی خوشخط لکھنے والے طلبہ کی ٹیم تھی، جو یہ بیجز تیار کرتی۔ اس زمانے میں اخبارات میں ممتاز شاعر اور بیوکریٹ مصطفے زیدی اور شہناز کی خبریں نمایاں شائع ہوتی۔ مصطفے زیدی ایک فلیٹ میں مردہ پائے گئے تھے۔ اور ان کے کمرے میں ایک شہناز نامی خاتون نیم بے ہوش پائی گئی تھی۔ شہناز بہت خوبصورت خاتون تھیں۔ جن کی تصاویر اخبارات میں بہت نمایاں شائع ہوتی تھیں۔ یہ کیس عدالت میں چل رہا تھا۔ اور اخبارات مزے مزے کے قصے شائع کرتے تھے۔ ہمارے کالج کا ایک نوجوان شہناز کا بہت عاشق تھا، وہ جلسوں اورجلوسوں میں جو ان دنوں کرش انڈیا کی مہم کے سلسلے میں نکلتے تھے۔ ان جلوسوں میں وہ اکثر بہت زودار نعرہ لگاتا” جئے شہناز”۔

ان دنوں ہم نے اپنے ایک دوست کے ماموں کے پاس ایک پرانی سائیکل دیکھی، اور اس سے کہا کہ وہ یہ سائیکل ہمیں دلا دیں، تاکہ ہم اپنے کالج سائیکل پر جاسکیں، بہرحال 70 روپے میں یہ سائیکل ہم نے خرید لی اور یوں ہمیں گھومنے پھرنے اور کالج آنے جانے کی ایک سواری میئسر ہوگئی۔ ایک دن کالج سے کرش انڈیا کے سلسلے میں ایک بڑا جلوس نکلا، ہم بھی اس جلوس میں نعرے لگاتے ہوئے چل دیئے، ہیرآباد میں جلوس کو پولیس نے گھیر لیا۔ اور اچانک لاٹھی چارج شروع کردیا۔ اس زمانے میں پولیس والوں کے پاس ایک لمبی لاٹھی ہوتی تھی، جس کے ایک سرے پر لوہے کا موٹا سرا ہوتا تھا۔ پولیس کے پاس یہی ایک ہھتیار ہوتا تھا۔ بندوق یا کوئی اور اسلحہ نہ ہوتا تھا۔ اب جو لاٹھی چارج کی بھگدڑ شروع ہوئی تو ہمیں سائیکل پر سوار ہونے کا موقع بھی نہ ملا۔ پولیس والا لاٹھی لیے ہمارے پیچھے دوڑ رہا تھا اور ہم سائیکل تھامے پیدل ہی اس کے آگے آگے دوڑ رہے تھے۔

یہ لائبریریوں اور کتابوں کا زمانہ تھا۔ گلی گلی آنہ لائبری قائم تھیں۔ جہاں ابن صفی، رضیہ بٹ، اے آر خاتون، نسیم حجازی کے ناول بیسٹ ریڈر کے طور پر مقبول تھے، اور ان کی ایڈوانس بکنگ بھی کرائی جاتی تھی، وحید مراد، محمد علی، سدھیر، درپن، سنتوش کمار، ہیرو اور زیبا، صبیحہ، مسرت نذیر، نورجہاں، مقبول فلمی ہیروین تھیں۔ فلموں کےتذکرے ہوتے اور ریڈیو پر دن بھر فلمی نغمے گلی گلی سنائی دیتے تھے۔ حیدرآباد شہر میں آنہ لائبری کے علاوہ میونسپلٹی کے زیر اہتمام ہر وارڈ میں ایک لائبری یا دارالمطالعہ قائم تھا، جہاں اخبارات اور رسائل پڑھے جاتے تھے، شہر میں امریکن کونسل، برٹش کونسل، نیشنل سینر کی شاندار لائبریری اور دارالمطالعے تھے۔ یہ تینوں لائبریری تلک چاڑی پر تھی۔ ہر طالب علم یہاں کا ممبر بننا ایک فخر کام سمجھتا تھا، انگریزی کی موتی موٹی کتابیں ہاتھ میں لے کر گھومتے اور دوسروں پر رعب گانٹھتے کہ ہم “پڑھاکو بچے “ہیں۔

میڑک کے بعد ہی مجھے اپنے گھر کے حالات اور اپنے تعلیمی اخراجات کی فکر ہوگئی۔ نوکری ممکن نہ تھی کہ تعلیم جاری تھی۔ میرے ایک بہنوئی ممتاز خان کی چھوٹی گٹی میں گھڑیوں کی دکان تھی۔ اس زمانے میں گھڑیوں کے ایسے پٹے آئے، جس میں گھڑی کو کلائی کے پسینے سے بچانے کے لیے اسے پٹے کے اوپر کیا گیا۔ میں یہ گھڑیوں کے پٹے شاہی بازار میں کھڑا ہوکر بیچتا۔ لیکن یہ کام زیادہ عرصہ نہ کرسکا۔ ہمارے ایک دوست غلام محمد اریگیشن ڈیپارٹمنٹ میں ملازم ہوگئے۔ اس زمانے میں نہروں میں پانی کی اونچ نیچ صبح شام اندراج ہوتی تھی۔ پرانی گھر گھر گٹ کے ٹکٹکی پر مورس سسٹم کے تحت تارپر نہروں کی پیمائش لی جاتی تھی۔ اس کا اندراج ایک رجسٹر میں ہوتا، اور یہ رجسٹر صبح شام سپرنڈینڈٹ انجینئر چیک کرتا۔ میرے دوست نے مجھے یہاں مسینجر کے طور پر عارضی ملازم کرادیا۔ جہاں میں شام کو سائیکل پر یہ رجسٹر باندھ کر بیراج کالونی سپرنڈینڈٹ انجینئر کی رہائش پر لیجاتا اور وہ چیک کراکے واپس لاتا۔ یہاں میری ہیلی تنخواہ ستر روپے تھی، اس زمانے میں یہ ایک طالب علم کے اخراجات کے لیے ایک معقول رقم تھی۔

اس سلسلہ کی اگلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

پچھلی تحریر اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply