امید اور خواب کا شاعر: سید الطاف بخاری —– رقیہ اکبر چوہدری

0

” رقص آوارگی” سید الطاف بخاری کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ جناب افتخار عارف اور حسن نثار صاحب کے تبصرے کے ساتھ شروع ہونے والا یہ شعری مجموعہ دیدہ زیب سرورق، عمدہ کاغذ اور کتابت کی خوبصورتی سے مزین ہے۔

سید الطاف بخاری کا یہ پہلا شعری مجموعہ اس بات کی علامت ہے کہ وطن سے دور رہ کر بھی انہوں نے اپنی زبان اور دھرتی ماں سے قلب و قلم کا رشتہ باہم استوار رکھا۔ اردو ادب میں روایات کی پاسداری کرتے ہوئے نظم و غزل میں نئی جہتیں دریافت کیں ،معاشرے کے ہر رنگ اور ہر روپ کو اپنے ماہرانہ قلم کے ذریعے جلا بخشی۔حمدیہ کلام اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت امام حسین رضی اللہ کے حضور نذرانہ عقیدت بھی پیش کیا۔

الطاف بخاری کا تخلیقی وفور لائق تحسین ہے غم ذات ہو ،غم جاناں ہو یا غم دوراں آپ کو ان کی شاعری میں ہر رنگ اور ہر روپ کے جذبات و احساسات کا بھرپور اظہار دیکھنے کو ملے گا۔ ذات سے لیکر کائنات تک کی ایک طویل مسافت ہے جو شاعر نے طئے کی۔ اسی لئے لہجہ کبھی نرم اور کبھی گرم و برہم ہوا کہیں جذبات و احساسات میں شدت ہے تو کہیں دھیما پن ، کہیں محبت کی کلکاریاں ہیں تو کہیں زندگی کی تلخیوں کا رنگ شامل ہے مگر اس سب میں جو بات بہت نمایاں ہے وہ ہے خواب اور امید کی بھرپور روشنی۔آپ کو ان کی شاعری میں حزن و رنج تو نظر آئے گا مگر ملال اور مایوسی کہیں نظر نہیں آئے گی۔

اس قدر بےدلی ، کیوں ہے یہ خامشی؟ آو باتیں کریں
مار ڈالے گی حالات کی بےبسی، آو! باتیں کریں
کوئی افکار زندہ ،کوئی فلسفہ،کوئی امید کی اک کرن دوستو!
کوئی تازہ غزل ، کچھ نئی شاعری، آو! باتیں کریں
آس میں بدلے سب یاس و آزردگی ،سامنے لاو سب اپنی زندہ دلی
موت کے ہاتھ سے چھین لو زندگی آو! باتیں کریں

ایک اور جگہ امید و عزم کا دیا کچھ اس طرح جلاتے ہیں ملاحظہ کریں

اک چراغ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
راستہ تم کو نہیں خود کو دکھانا ہے مجھے
میں شکستہ دم ہوں لیکن یہ شکستہ دل نہیں
اک نئی ترتیب سے لشکر بڑھانا ہے مجھے
میں وطن سے دور ہوں پر ماں ہے میری منتظر
دھرتی ماں نے جب بلایا لوٹ جانا ہے مجھے

کتاب میں شامل کلام ان کی فنی پختگی ،تازہ کاری اور شگفتگی کا مظہر ہے شاعر نے اپنی داخلی کیفیات کے اظہار کیلئے بھاری بھرکم الفاظ کا سہارا نہیں لیا نہ ہی مشکل و مبہم تشبیہات و استعارات کا استعمال کیا بلکہ عام فہم ،سادہ اور سہل الفاظ و اسلوب کے ساتھ اپنی بات قاری کی بصارتوں اور سماعتوں کی نذر کر دی مگر ان سادہ و سبک اور پیچ و خم سے عاری الفاظ میں فکر و خیال کی گہرائی و گیرائی ہے سیدھے سادھے یہ الفاظ اپنے اندر معانی کی کئی پرتیں سموئے ہوئے ہیں۔بہت مشکل ،متنوع اور اچھوتی زمینوں کا انتخاب بھی نہیں کیا ،لفظی پہلوانی سے قاری کو پچھاڑنے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی بلکہ زبان کی روانی ،سلاست اور مختصر بحروں کے ساتھ نئے مضامین باندھے۔

بہت سن چکے وصل کی داستاں
مگر بعد اس کے، بتا ! کیا ہوا ؟
دم قیس سے تو بیاباں بسے
مگر بعد میں شہر کا کیا ہوا ؟

وہ دن گئے جب غزل محض محبوب کے لب و عارض کے بیان یا ہجر و وصال کے تلخ و شیریں محسوسات کے بیان تک محدود تھی مگر اب غزل کا کینوس بہت وسعت اختیار کر چکا ہے اس میں ہر موضوع کو بہ احسن بیان کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور الطاف بخاری نے بھی غزل کے کینوس کو اس کی وسعت کے ساتھ استعمال کیا ہے گو کہ ان کی غزل میں روایتی رومانوی تخیلات کا بھرپور اظہاریہ ہے مگر رومان و مستی تک محدود نہیں بلکہ زمانوی وسعتوں تک پھیلاو نظر آتا ہے۔

رات کی تاریکیاں یوں ہی عبث بدنام ہیں
جرم دن کی روشنی میں کون سا ہوتا نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مزاج شیخ منقسم ہے حرمت شراب میں
جو نہ ملی حرام ہے ،جو مل گئی حلال ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے حصے کی ظلمت مجھے دیجئے
پھر جو باقی بچے ، روشنی آپ کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب بتایا کسی نے میری موت کا
ہنس کے بولے وہ ‘اچھا’ ! تو کیا ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسن بخشا ہے تجھ کو میری آنکھ نے
چھین لوں گا کبھی جو جلال آ گیا

بات پہلی سی شاید نہ باقی رہے
ایک بار آئینے میں جو بال آ گیا

حزنیہ افکار و خیالات کم و بیش ہر شاعر کے شعری شعور کا حصہ ہوتے ہیں ان محسوسات سے عبارت کلام ہر عہد میں مقبول رہا ہے اور اس کے اثرات بھی تادیر رہتے ہیں تخلیق کار چونکہ اپنے سماج کا نمائندہ ہوتا ہے اس لئے اس کے تخلیق کردہ ادب میں سماجی کرب کا عکس کچھ زیادہ ہی نمایاں ہوتا ہے الطاف بخاری کا اشہب قلم بھی رومانوی تخیل کے خواب نگر کی سیر کرتے ہوئے اپنے کان دکھی دلوں کی صدا پہ لگائے رکھتا ہے جو ان کے درد مند دل ہونے کا ثبوت ہے اس لئے ان کے کلام میں حزنیہ رنگ کثرت سے ملتا ہے۔

کشمیر کی بیٹی کے دکھ سے لیکر برما کے مسلمانوں کی حالت زار پہ خامہ فرسائی کی۔ سولہ دسمبر ،جنگ ،فاختہ جیسی نظمیں اس مجموعے کا حصہ ہیں۔ کورونا جیسی وباء میں مبتلا مخلوق کائنات کو امید کی کرن دکھائی تو فیض کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے سامراجی قوتوں کی طرف سے جبر و استحصال پہ انہیں للکارا بھی ہے

ہم بولیں گے!

اظہار پہ بھی پابندی ہے
گفتار پہ بھی پابندی ہے
غدار ہے وہ جو بات کرے
جو سوچے وہ بھی کافر ہے
اے عہد ستم کے اہل حکم
تم کتنی زبانیں بند کرو گے ،کتنے رستے روکو گے؟
تم کتنی سوچیں قید کرو گے ،کتنے قلم خریدو گے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاید تم کو احساس نہیں
یہ وقت بدلنے والا ہے
ہم دیوانے ہم فرزانے
تاریک نگر کے سب باسی
ہم سوچیں گے ، ہم بولیں گے
ہم چیخیں گے، للکاریں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم لکھیں گے تم قاتل ہو
ہم لکھیں گے تم راہزن ہو
تم قاتل ہو، تم ظالم ہو ،تم غاصب ہو
ہم تم کو بیچ چوراہے میں
اب ننگا کر کے چھوڑیں گے
ہم بولیں گے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply