پاکستانی ہائی کمشنر عبدالستار کے نام خط اور ویزہ -10 —- عطا محمد تبسم

0

بھارت سے والد صاحب اور تایا کی واپسی میں تاخیر ہورہی تھی۔ جبکہ تایا پھول محمد خان کے ویزے کا مسئہ بھی گھمبیر ہوگیا تھا۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات ان دنوں کشیدہ ہوگئے تھے اور پاکستانی سفارت خانے نے کام بند کردیا۔ سینکڑوں افراد پاکستان سفارت خانے کے سامنے ڈیڑہ ڈالے بیٹھے رہتے۔ ایسے میں ابا کا خط آیا کہ ویزا ملنا مشکل ہے۔ دہلی میں پاکستانی سفارت خانے کے سامنے روزانہ ہزاروں افراد جمع ہوتے۔ لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ بھارت میں ان دنوں عبدالستار صاحب ہمارے ہائی کمشنر تھے۔ بعد میں وہ وزیر خارجہ بھی رہے۔ ہمارے استاد ذکریا ساجد صاحب، اکثر عبدالستار صاحب کا ذکر کرتے رہتے تھے اور بتاتے تھے کہ وہ ان کے دوست ہیں۔ ہم نے اپنے تایا کے ویزے کا مسئلہ ذکریا ساجد صاحب کے سامنے رکھا۔ ساجد صاحب نے کہا کہ “کوئی مسئلہ نہیں، میں عبدالستار صاحب کو خط لکھ دیتا ہوں، وہ انشا اللہ اس مسئلہ کو حل کردیں گے”۔

استاد محترم ذکریا ساجد اپنے شاگردوں سے بہت محبت کرتے ہیں۔ جو ایک بار ان کی شاگردی میں آگیا۔ جانئے کہ اب اس کی روزی روٹی، روزگار کا مسئلہ ساجد صاحب کا مسئلہ بن گیا۔ وہ اپنے پرانے شاگردوں اور دوستوں کے نام اپنے نئے شاگردوں کو خط دیتے اور ان سے، ان کے روزگار کی سفارش کرتے، جب ہم جرنلزم کے فائینل میں تھے تو پہلے تو وہ ہمیں مشرق میں ٹرینگ کے لیے بھیجتے اور پھر شام کو خود بھی مشرق کا ایک چکر لگا لیتے کہ ہم لوگ وہاں جاکر کام کرتے ہیں، کچھ سیکھتے ہیں یا نہیں۔ پھر ایک دن وہ ہم پانچ چھ افراد کو لے کر نوائے وقت کراچی کے دفتر پہنچ گئے۔ اس زمانے میں نوائے وقت کراچی سے شائع کرنے کی تیاریاں ہورہی تھیں۔ جبکہ جنگ والے لاہور سے جنگ نکال رہے تھے۔ ساجد صاحب نے مجید نظامی صاحب سے کہہ سن کر اپنے کئی شاگردوں کو اس اخبار میں لگا دیا۔ ان میں اخلاق احمد، مظفر احمد، تنویر شیرازی، سعید خان، یوسف خان اور ہم شامل تھے۔ ہم ساجد صاحب کے لکھے خط پر اعتبار کرتے تھے۔ کیونکہ ان کے معمولی سے رقعہ یا خط کی بہت اہمیت ہوا کرتی تھی۔

ساجد صاحب نے شعبہ صحافت کے لیٹر ہیڈ پر عبدالستار صاحب کے نام خط لکھ دیا۔ جسے ایک لفافے میں ڈال کر ہم نے اپنے تایا کو بھیج دیا اور ان سے کہا کہ وہ دہلی جاکر یہ خظ عبدالستار صاحب کو پہنچا دیں، اور اپنے کاغذات لے کر پہنچ جائیں۔ ہمارے تایا نے بعد میں ہمیں یہ روئیداد سنائی۔

” جب میں سفارت خانے پہنچا تو وہاں ہزاروں افراد پاکستانی سفارت خانے کے سامنے ویزے کی درخواستیں لیے بیٹھے تھے۔ بہت سے افراد کئی کئی ہفتے سے وہاں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ سفارت خانے میں اندر گھسنے کی کوئی صورت نہ تھی۔ بڑی مشکل سے میں نے دروازے پر کھڑے ایک اہلکار سے کہا کہ بھائی یہ خط عبدالستار صاحب کے دوست نے بھیجا ہے تم انھیں یہ خط پہنچادو۔ پھر یہ ہماری قسمت کہ ہمارا کام ہوتا ہے یا نہیں۔ وہ نیک دل اہلکار یہ خظ لے کر سفارت خانے کے اندر چلا گیا۔ کوئی آدھے گھنٹے کے بعد گیٹ پر وہ اہلکار اور دوسرا عملہ میرا نام لے لے کر پکار رہا تھا کہ پھول محمد خان جو ٹونک راج محل سے آئے ہیں۔ آگے آجائیں۔ میں فورا اٹھ کر ان کے پاس آیا۔ مجھے سفارت خانے کے عملے نے اپنے ساتھ لیا اور اندر لے گئے۔ اچھی طرح بٹھایا۔ میرے کاغذات لیے اور دو گھنٹے کے بعد مجھے پاکستان آنے کا ویزامل گیا۔ “

تایا پھول محمد خان اور میرے سسر احمد خان میری شادی کے موقع پر

یہ دو پرانے دوستوں کی وضعداری اور ایک دوسرے کا احترام تھا۔ کہ ایک دوسرے کا برسوں ملاقات نہ ہونے کے باوجود صرف ایک خط پر اتنے اعلی منصب پر ہوتے ہوئے، نہ صرف خیال کیا۔ بلکہ وہ کام بھی کردیا۔ عبدالستار 6 نومبر 1999 سے 14 جون 2002 تک پاکستان کے وزیر خارجہ رہے۔ وہ فارن سیکریٹری بھی رہے اور مشرف دور میں اٹل بہاری واجپائی اور پرویز مشرف کے درمیان ہونے والی آگرہ کانفرنس میں بھی شامل رہے۔ وہ پڑھنے لکھنے والے آدمی تھے۔ انھوں نے “فارن پالیسی آف پاکستان” نیوکلئیر اسٹرٹیجی” پر کئی کتابیں تحریر کیں۔ وہ شملہ معاہدے کے وقت بھی آغا شاہی کی معاونت کرتے رہے، 2002 میں جب پرویز مشرف نے وزارت خارجہ سے مشورے کرنا ترک دیئے تو عبدالستار صاحب نے خرابی صحت کی بنا پر استعفی دے دیا۔ وہ 23 جون 2019 کو اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔

تایا پھول محمد خان پاکستان آگئے۔ وہ حیدرآباد میں رہے۔ پرانے دوستوں اور رشتہ داروں سے ملاقات کرتے، بہت ہنس مکھ طبعیت کے تھے۔ ان کی بھارت سے آمد کا ایک مقصد ہماری شادی میں شرکت کرنا بھی تھا۔ اس شادی میں وہ شریک رہے۔ بعد میں کینسر کے مرض میں ان کا پاکستان ہی میں انتقال ہوا۔

اس سلسلہ کی اگلی تحریر اس لنک پہ پڑھیں

پچھلی قسط کے لئے اس لنک پہ کلک کریں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply