Connect with us

بلاگز

اردو: ایک بین الاقوامی زبان —- فاطمہ قمر

Published

on

اردو دنیا میں بولی جانے والی تیسری بڑی زبان ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یورپی کمیونٹی میں تین ملین افراد ایسے ہیں جواردو بولتے ہیں۔ ان میں سے نصف برطانیہ میں آباد ہیں، اس لئے یہاں نصاب میں اردو کو بحیثیت اختیاری مضمون شامل کیا گیا ہے۔ برطانیہ کی مشترکہ منڈی میں شامل ہونے والے ہر ملک کے باشندے کے لئے اپنے بچوں کو ان کی مادری زبان پڑھا نا اور اس کے لیے مناسب اقدامات کرنا لازمی ہے، جس کی وجہ سے یہاں کے ا سکولوں میں اُردو تدریس میں اضافہ ہوا ہے۔ ملکہ وکٹوریہ نے بھی اُردو سے دل چسپی کے سبب نہ صرف اسے سیکھنا شروع کیا بلکہ اپنی ڈائری بھی اکثر اس زبان میں لکھتی۔

اٹلی میں اُردو زبان و ادب کا آغاز انیسویں صدی میں ہوا۔ اورینٹل یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ نیپلز یورپ کا قدیم ترین ادارہ ہےجہاں علوم شرقیہ کی تعلیم کا آغاز کیا گیا ۔ اطالوی زبان میں لکھی گئی "اُردو کی گرامر”1892ء میں روم سے شائع ہوئی۔ اقبالؒ کی لکھی گئی دونظمیں "مسولینی” اور "صقیلہ” ان کے دورہ اطالیہ کی یادگار ہیں۔ 1933 ء میں روم کے اندر "مشرق وسطیٰ و بعید ” کا اطالوی ادارہ قائم ہوا جہاں اُردو زبان و ادب کی تدریس ہوتی ہے۔

ناروے کی زبان نارویجن ہےیہاں اُردو پاکستانیوں کے ساتھ پہنچی۔ ناروے کے دارلخلافہ اوسلو سے پمفلٹ نما اُردو اخبار "صدائے پاکستان”، "اخبارپاکستان”، "نوائے پاکستان”، "ندائے پاکستان”، "جہاد” اور "آواز” چھپتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ہفت روزہ اخبار ناروے کے شہر ستوانگر سے بھی شائع ہوتا ہے۔ 1979ء میں پندرہ روزہ اخبار "سفیر”، جون 1978ء میں ماہنامہ پردیس اور جنوری 1980 میں ماہنامہ "انٹرنیشنلسٹ” کا اجرا ہوا۔ ان رسائل کے علاوہ "بازگشت” ایشین کلچرل کونسل شائع کرتی ہے۔

1994 ء میں اسکاٹ لینڈ کے اسکولوں میں باقاعدہ قانون کے تحت اردو تدریس کا آغاز ہوا۔ اس قانون کی منظوری سے قبل متعلقہ حلقوں میں سروے کے تحت عوام کی رائے لی گئی جس میں 15 فیصد افراد نے اُردو اور 2فیصد افراد نے ہندی کے حق میں رائے دی۔

پیرس(فرانس) یونیورسٹی میں "مدرسہ السنہ شرقیہ” کا قیام 1669 میں ہوا جہاں ساٹھ سے زائد زبانیں پڑھائی جاتی ہیں۔ اُردو ادب سے بھی فرانسیسی زبان میں بہت تراجم ہوئے جن میں اقبال اور فیض کا کلام بھی شامل ہے۔ بال جبریل کے علاوہ اقبال کی بہت سی نظموں کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ ہوا۔

مغربی جرمنی میں تقریباًستر ہزار پاکستانی اوردو لاکھ بھارتی آباد ہیں۔ یہاں اُردو لکھنے اور بولنے والوں کی تعداد کم و بیش ایک لاکھ ہے۔ اقبال ؒ نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی یہیں سے حاصل کی۔ جنگ عظیم اول میں برلن میں موجود ہندوستانی نوجوانوں سے اُردو پڑھانے کا کام لیا گیا۔ 1960ء میں برلن کے علاوہ ہیمبرگ اور ہائیڈل برگ یونیورسٹیوں میں بھی اُردو تدریس کا آغاز ہوا۔ ہائیڈل برگ یونیورسٹی کے ساؤتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ میں اُردو کی کل وقتی لیکچرر شپ ایک لمبے عرصہ سے قائم ہے۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں حکومت پاکستان نے "اقبال چئیر ” بھی قائم کر رکھی ہے۔ اُردو زبان کی پہلی گرائمر لکھنے کا شرف یہاں کے ایک جرمن بنجمن شلز کو حاصل ہوا۔ ڈنمارک کا دارلخلافہ کوپن ہیگنن ہے۔ یہاں کی زبان ڈینش (ولندیزی) اور آبادی پانچ لاکھ سے زائد ہے۔ جان جوتسو کیٹلر کی لکھی گئی اُردو صرف ونحو اور لغت ابھی تک ہیگ کے کتب خانے میں محفوظ ہے۔

برصغیر میں سب سے پہلے پرتگالی آئے۔ 1498ء میں دہلی کے اندر اسکندر لودھی کے دورِ حکومت میں ایک پرتگالی سیاح واسکوڈے گاما ہندوستان کے مغربی ساحل کالی کٹ آیا جہاں رفتہ رفتہ پرتگالی تاجروں نے ڈیرے ڈال لیے، جس کے ساتھ پرتگالی اور اُردو کا ملاپ شروع ہوا۔ آج پانچ صدیاں گزرنے کے بعد بھی پرتگالی زبان کے الفاظ مثلاً الماری، بالٹی، صابن، تولیہ، اچار، بسکٹ، پستول‘ تمباکو‘ فیتہ، چابی اور صوفہ وغیرہ اردو میں مستعمل ہیں۔ پرتگال کے مستشرق یول نے اپنی ایک کتاب میں بائیس فرہنگوں کی فہرست دی جس میں پرتگیزی، فرانسیسی، اور انگریزی زبان کی فرہنگیں شامل ہیں، جن کے ساتھ اُردو الفاظ کی فرہنگیں بھی ضمیمے کے طور پر دی گئی ہیں۔ اس فہرست سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اُردو دنیا کی کتنی زبانوں سے مماثلت رکھتی ہے۔ پرتگالی ایسٹ انڈیا کمپنی کو جو منشور شاہی دیا گیا اس میں برصغیر میں آنے والے پادریوں کے لیے بارہ ماہ کے اندر اُردو زبان کو سیکھنے کی شرط بھی شامل تھی۔

سویڈن میں تقریباً 4 ہزار پاکستانی مقیم ہیں۔ یہاں کے دارلحکومت اسٹاک ھوم میں سب سے زیادہ پاکستانی آباد ہیں۔ جہاں اسلامی تعلیم و تدریس کا سلسل اُردو میں جاری ہے۔ سویڈن میں پڑھائی جانے والی نوے زبانوں میں اُردو بھی شامل ہے۔ ہالینڈ کی لائے دن یونیورسٹی اور ایمسٹرڈم یونیورسٹی میں اُردو ایک اضافی مضمون کی حیثیت سے پڑھائی جاتی ہے۔ ایمسٹرڈم میں اُردو کا ایک "سیلف سٹڈی کورس” ان افراد کے لیے موجود ہے جنھیں تحقیق یا کسی منصوبے کے لیے پاکستان آنا ہو۔ 1971ء میں پریم چند اور منٹو کے افسانوں کا پولش میں ترجمہ ہوا اور وارسا یونیورسٹی میں اُردو بطور اختیاری مضمون پڑھائی جاتی ہے۔

مشرقی افریقہ کینیا کا دارلخلافہ نیروبی ہے۔ یہ ملک 12دسمبر 1963ء تک انگریزوں کا غلام رہا۔ یہاں برطانوی حکومت کے دور میں اُردو پڑھائی جاتی رہی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دوسری ایشیائی زبانوں کی طرح اُردو کو بھی اسکولوں سے خارج کردیا گیا۔ 1941ء سے قبل اُردو نیروبی میں پہنچ گئی تھی۔ یہاں ریڈیو سے اُردو پروگرام کے ساتھ ماہانہ مشاعرہ بھی نشر ہوتا ہے۔ جوہنس برگ کی (جنوبی افریقہ) آبادی تقریباً تین کروڑ ہے جہاں اُردو بولنے والوں کی تعداد ایک لاکھ ہے۔ ہر مسجد کے ساتھ ایک مکتب یا مدرسہ موجود ہے جہاں دینی تعلیم اُردو میں دی جاتی ہے۔ ان تمام معلومات کی روشنی میں اردو کی بین الاقوامی حیثیت سے انکار ممکن نہیں۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ اپنی اس شناخت کو قائم رکھنے اور اردو کے معیار کی بہتری کے لیے کوشش جاری رکھیں۔

Advertisement

Trending