روح، نفس، قلب، عقل، بصیرت اور نفس شناسی —- شیخ شہاب الدین سہروردی

0

عوارف المعارف، حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی (ابوحفص عمر بن محمد متوفی 632 ہجری۔ بانی سلسلہ سہروردیہ) کی مشہور زمانہ کتاب ہے۔ دنیائے تصوف میں اس کو ایک بہت ہی اعلیٰ اور بلند مقام حاصل ہے۔ یہ کتاب تصوف پر ایک جامع تصنیف ہے جس میں تصوف کی حقیقت، طریقت و حقائق معرفت، مقامات اوراحوال بڑی شرح و بسط سے بیان کئے گئے ہیں اور اعمال صوفیہ کا دستور العمل پیش کیا گیا ہے۔ زیر نظر مضمون اسکے باب 56 اور 57، صفحات 642 تا 672 کا خلاصہ ہے۔


روح کیا ہے؟

حضرت عباس (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) فرماتے ہیں کہ یہود نے رسول اکرمﷺ سے روح کی حقیقت دریافت کی توآپ ﷺ خاموش رہے اور پھر جبریل علیہ السلام قرآن کریم کی آیت لیکر نازل ہوئے۔ وَيَسْاَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۖ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّىْ وَمَآ اُوْتِيْتُـمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا  اور یہ لوگ تجھ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، کہہ دو روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں جو علم دیا گیا ہے وہ بہت ہی تھوڑا ہے۔ (سورۃ الاسراء آیت 85)۔ اللہ تعالیٰ نے روح کے بارے میں مخلوق کی کم علمی کی تصدیق کر دی لیکن جب انسان کی تکریم اور بزرگی کا فرشتوں پر فوقیت اور روح کی حقیقت سے آگہی کا معاملہ آیا تو ارشاد فرمایا کہ ولقد کرمنا بنی آدم۔ ہم نے اولاد آدم کو عزت بخشی۔

پس اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ رسول اکرمﷺ کی ذات صدف علم اور منبع حکمت تھی لیکن آپﷺ نے روح کی حقیقت کے بارے میں بحکم الہی خاموشی اختیار فرمائی تو دیگر ارباب علم و بصیرت کیلئے اس مسئلہ پر کلام کرنا کس قدر مشکل ہے۔ بہتر تو یہ تھا کہ نفوس انسانی اپنی حد پر قائم رہتے ہوئے اس معاملے میں اپنے عجز کا اعتراف کرتے لیکن ارباب عقول و نقول نے اس مسئلے پر قیاس آرائیاں کیں اور ان میں روح کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں بے شمار اختلافات پیدا ہوئے۔

الہامی مذاہب کے پیرو اورشریعت کا اتباع کرنے والے علماء و مشائخ نے رسول اکرمﷺ کی احادیث مبارکہ اورقرآنی آیات کی تاویل کرتے ہوئے اس موضوع پر اجمالاًکلام کیا ہے۔ حضرت جنید(رح) فرماتے ہیں کہ روح کاصحیح علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور اسکے بارے میں صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک موجود شے ہے۔ شیخ ابوعبداللہ النباحی(رح) فرماتے ہیں کہ ‘روح ایک ایسا لطیف جسم ہے جو حس اور لمس سے بالاتر ہے اور اسکے بارے میں صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ وہ موجود ہے’۔ شیخ ابن عطا(رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اجہاد و اجسام سے پہلے ارواح کو پیدا کیا اسکے بعد ان کو صورتیں عطا کیں۔ وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ۔ اور بیشک ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری صورتیں بنائیں پھر ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو(سورۃ الاعراف آیت 11)۔ یعنی روح ایک لطیف جوہر ہے جوایک کثیف شے میں قائم ہے جس طرح قوت بینائی ایک لطیف جوہر ہے جو کثیف شے(آنکھ) میں قائم ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت منقول ہے کہ ‘روح اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق سے نمودار ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اسکو بنی آدم کی صورت پر پیدا فرمایا۔ چنانچہ آسمان سے جب کوئی فرشتہ نازل ہوتا ہے تو اسکے ساتھ ایک روح ضرور ہوتی ہے۔ شیخ ابوصالح فرماتے ہیں کہ روح انسان کی شکل میں ہوتی ہے لیکن وہ انسان نہیں ہوتی۔ شیخ مجاہد فرماتے ہیں کہ ‘روح انسان کی شکل میں ہوتی ہے لیکن وہ ملائکہ نہیں ہوتے’۔ حضرت سعید بن جبیر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) فرماتے ہیں کہ عرض کے سوائے اللہ تعالیٰ نے روح سے بڑھ کر اور برتر کوئی مخلوق پیدا نہیں فرمائی اور وہ اتنی عظیم ہے کہ اگر چاہے تو ساتوں آسمانوں اور زمینوں کو ایک لقمے میں نگل سکتی ہے، اسکو اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کی صورت پر پیدا کیا اور اسکا چہرہ آدمیوں کے چہرے کی طرح ہے۔ قیامت کے دن روحیں عرش الہی کے دائیں جانب کھڑی ہوں گی اور فرشتے بھی ان کے ساتھ ایک صف میں ہوں گے اور وہ روح اہل توحید کی بخشش کی سفارش کرے گی اور اگر روح اور فرشتوں کے درمیان ایک نورانی پردہ نہ پڑاہوتا تو تمام اہل سموات اس کے نور سے جل جاتے(یہ وہ اقوال ہیں جو غالباً رسول اکرمﷺ سے سنے گئے یا آپﷺ سے منقول ہیں)۔

شیخ ابوسعید الخزاز سے دریافت کیا گیا کہ کیا روح مخلوق ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں! اگر وہ مخلوق نہ ہوتی تو خلاق کی بدولت عالم کی ربوبیت کا اقرار نہ کرتی۔ یہ روح ہی کا فیض ہےجس سے بد ن کو حیات حاصل ہوئی اور عقل بھی اس سے وابستہ ہے کہ روح ہی سے ہم عقلی دلائل پیش کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ اگر روح نہ ہوتی تو عقل معطل رہتی اور نہ اسکے لئے کوئی حجت ہوتی اور نہ کوئی دلیل۔

حضرت سعید بن المسیب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے حضرت سلمان(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کا یہ قول مروی ہے کہ ‘مسلمانوں کی روحیں برزخ، دنیا، آسمانوں اورزمین کے درمیان جہاں چاہیں اس وقت تک مصروف پرواز رہتی ہیں جب تک اللہ ان کو ان کے اجسام میں واپس نہ فرما دے۔ شیخ واسطی سے کسی نے سوال کیا کہ رسول اللہﷺ کس وجہ سے خلق میں سب سے زیادہ حلیم تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ اسکی وجہ یہ تھی کہ آپکی روح مطہر سب سے پہلے پیدا کی گئی تھی اس لئے اس روح مطہر کو تمکین و ستقرار کا موقع سب سے زیادہ حاصل ہوا کیونکہ نبی کریمﷺ نے خود ارشاد فرمایا کہ ‘میں اس وقت بھی نبی تھا جب کہ حضرت آدم ؑ روح اور جسم کے دمیان تھے’۔

کسی بزرگ کا قول ہے کہ ‘روح نورعزت سے پیدا ہوئی اور ابلیس آتش عزت سے پیدا کیا گیا چنانچہ ابلیس نے اللہ کے حضور کہا کہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین۔ وہ یہ نہیں سمجھ سکا کہ نور، نار سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے علم کو بھی روح کے ساتھ ملا دیا چنانچہ علم کی بدولت روح لطافت کے ساتھ نشونما پاتی ہے جس طرح بدن غذا سے نشونما پاتا ہے۔

متکلمین اسلام میں سے اکثریت نے کہاکہ انسانیت اور حیوانیت ایسے اعراض ہیں جو انسان کے اندر پیدا کئے گئے اور موت ان دونوں کو فنا کر دیتی ہے لیکن روح ایک جسم لطیف ہے اور وہ کثیف اجسام میں اس طرح جاری و ساری ہے جس طرح پانی سبز شاخوں میں سرایت کر جاتا ہے۔ متکلمین کی اکثریت روح کو عرض قرار دیتی ہے لیکن انکے خیال کی تردید ان احادیث سے ہوتی ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ روح ایک جسم ہے، روح کا عروج و ہبوط ہوتا ہے اور عالم برزخ میں گشت کرتی ہیں۔ یہ خواص عرض میں نہیں ہو سکتے۔ جب روح اس قسم کے اوصاف سے متصف ہے تو اسکو عرض نہیں کہا جا سکتا کیونکہ عرض موصوف نہیں ہوسکتا۔ صفت ایک قسم کی کیفیت کا نام ہے اور کوئی کیفیت کسی دوسری کیفیت یا عرض کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتی۔ بعض متکلمین نے کہا کہ روح قدیم ہے کیوکہ وہ امر خداوندی ہے اور حکم کو دوام ہے اور کلام الہی قدیم ہے۔

مسلم یونانی فلسفہ داں حضرات کا کہنا ہے کہ ‘روح جسم سےجدا ہو کر ایک جسم لطیف میں چلی جاتی ہے۔ جب روح بدن سے مفارقت اختیار کرتی ہے توقوت ناطقہ کے واسطے سے قوت واہمہ اسکے ساتھ حلول کرتی ہے اواس وقت وہ محسوسات و حقائق کا مطالعہ و مشاہدہ کرتی ہے۔ موت کے وقت وہ موت کا شعور حاصل کرتی ہے اور موت کے بعد بدن سے خالی ہو کر وہ قبر میں بنفسہ رہتی ہے۔ زندگی میں اسکے جو کچھ معتقدات تھے انکا تصور کرتی ہے اور قبر کے عذاب اور ثواب کو محسوس کرتی ہے’۔

حضرت ابن عباس (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے کسی نے سوال کیا کہ مرنے کے بعد روح، جسم سے جدا ہو کر کہاں چلی جاتی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ بتائو تیل ختم ہونے کےبعد چراغ کی روشنی کہاں چلی جاتی ہے؟ جسم بوسیدہ ہوکر کہاں چلا جاتا ہے؟ مرض میں مبتلا ہو کر جسم کا گوشت کہاں چلا جاتا ہے؟۔

روح ایک ایسی شے ہے جومخلوق ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسکی عادت جاریہ یہ رکھی ہے کہ جب تک وہ بدن کے ساتھ رہتی ہے تو جسم کو زندہ رکھتی ہے اور اسوقت تک وہ جسم سے اشرف و افضل ہے اور جسم سے جد ا ہو کر وہ بھی موت کا ذائقہ چکھتی ہے جس طرح جسم اس سے جد ا ہونے پر موت سے آشنا ہوتا ہے۔

تحميل كتاب عوارف المعارف ل pdfروح کی اقسام اور نفس:

روح کی دو قسمیں ہیں ایک روح انسانی جو علوی اور آسمانی ہے جس کا تعلق امر خداوندی سے ہے اور دوسری روح حیوانی جسکا تعلق عالم خلق سے ہے اور یہ روح علوی کا محل ہے۔ روح حیوانی بھی لطیف جسم ہے اور وہ قوت، حس و حرکت سے بہرہ ور ہے۔ یہ دل سے اٹھتی ہے اور رگوں کے جوف سے پھڑکتی ہوئی گزرتی ہے۔ یہ تمام حیوانات میں موجود ہے اور اس پر تمام حواس کا قیام ہے اور یہ غذا سے زندہ ہے اور مزاج اربعہ کو اعتدال پر رکھتی ہے۔ جب روح علوی اس حیوانی روح میں ورود کرتی ہے تو س وقت حیوانی روح اسکی ہم جنس بن جاتی ہے اور ایسے وصف سے متصف ہوجاتی ہے کہ وہ نطق و الہام کا محل بن جاتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا۔ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا اور اس نفس کی قسم اور اسکی جس نے اسکو ہموار کیا اور اسے بدی و نیکی کی تعلیم دی۔ (سورۃ الشمس آیت 7، 8)۔

یہ نفس جس کا تسویہ کیا گیا دراصل وہ روح حیوانی تھی جو انسان میں موجود تھی اور روح علوی(جسکا تعلق عالم امر سے ہے) کے ملاپ کے بعدان دونوں میں انسیت اورمحبت پیدا ہوئی اور انکے باہم ملنے کے بعد انہیں نفس کہا گیا۔ دونوں ارواح حیوانی اور علوی میں انس اور عشق کا تعلق پیدا ہونے کے بعد اب اگر ایک دوسرے سے جدا ہوں تو انہیں موت کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے۔ نفس میں دونوں ارواح کے انس کے نتیجہ میں قلب (جوہر لطیف جسکا تعلق عالم امر سے ہے) پیدا ہوا جسکا محل گوشت کا لوتھڑا ہے (جسکا تعلق عالم خلق سے ہے)۔ قلب کی تخلیق ایسے ہی ہے جس طرح آدمؑ اور حواؑ کےملاپ سے انکی ذریت پیدا ہوئی۔ اگر روح حیوانی اور روح علوی میں ایک دوسرے کو تسکین پہنچانے کی صلاحیت نہ ہوتی تو قلب کی تکوین و آفرینش نہ ہوتی۔ قلوب میں ایک قلب ایسا بھی ہوتا ہے جو روح علوی سے بہت محبت اور رغبت رکھتا ہے اوراسے تائید ایزدی حاصل ہے اوررسول اکرمﷺ نے اسکا ذکر فرمایا ہے۔

حضرت حذیفہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قلب چار طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو لق دق میدان کی طرح صاف ستھرا ہے اور اس میں چراغ روشن اور تاباں ہے یہ مومن کا قلب ہے۔ ایک وہ جو تاریک ہے اور ذلت سے سرجھکائے ہوئے ہے یہ کافر کا دل ہے۔ تیسرا وہ ہے جو غلاف میں لپٹا ہوا ہے اور یہ منافق کا دل ہے اور چوتھا وہ ہے جو پہلو دار ہے اور اس میں نفاق اور ایمان دونوں ملے ہوئے ہیں۔ اس میں ایمان کی مثال اس ترکاری کی ہے جوپاکیزہ پانی سے نشوونما پاتی ہے اور نفاق کی مثال ایسے زخم کی ہے جو پیپ اور زردپانی سے مملو ہے۔ ان دونوں میں سے جو مادہ بھی اس پر غالب آجاتا ہے اس کو اسی کے مطابق سمجھا جاتا ہے۔

صاف شفاف قلب، روح علوی کا جوہر ہے اور اسکا پاکیزہ نفس سے اسی قسم کا تعلق ہوتا ہے جو ایک پدر مشفق کا اپنے فرزند سعید یا جیسے ایک شوہر نیک بیوی کا خیال رکھتا ہے۔ قلب واژگوں (بدبخت، شقی) تذبذب کا شکار ہوتا ہے اور اسکا نفس امارہ کے ساتھ ایسا تعلق ہے جیسا ایک باپ کا نافرمان بیٹے یا ایک شوہر کا بدخلق اور بداطوار بیوی سے ہوتا ہے۔ کبھی وہ ان سے بے اعتنائی اور روگردانی کرتا ہے اور کبھی انکی درستی حال کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور ان سے بے تعلق نہیں رہ سکتا۔

علو ی روح جب کائنات سےبے تعلق ہو کر نہایت ذوق و شوق کے ساتھ اپنے مولیٰ کی طرف توجہ کرتی ہے تو اس دم قلب بھی ایک فرماں بردار فرزند کی طرح محبت اور شوق کا اظہار کرتا ہے اور نفس بھی اس قلب سے ایسی محبت کا اظہار کرتا ہے جیسے ایک محبت بھری ماں اپنے بیٹے سے پیار کرتی ہے۔ جب نفس اس شوق کے اظہار میں عالم ارضی سے بلند ہوتا ہے تو اسکی پھڑکنے والی رگیں سکڑ جاتی ہیں اور اسکی خواہشات اور حرص و ہوا کا مادہ ختم ہوجاتا ہے اور یہ نفس دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے اور اسے دارالغرور سے نجات مل جاتی ہے اور یہ عالم جاوید کی طرف رواں دواں ہو جاتا ہے۔

اسکے برعکس جب نفس اپنی فطری اور طبعی خواہش کی وجہ سے عالم ارضی کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اسکی ترکیب میں شامل حیوانی روح اسکو عالم سفلی کی طرف کھینچتی ہے کیونکہ اس پر عناصر اربعہ کا رجحان غالب ہوتا ہے۔ اس وقت قلب واژگوں اسکی طرف اس طرح مائل ہوتا ہے جس طرح ایک بچہ مادرانہ محبت سے مغلوب ہو کر اپنے سلیم الطبع اورکامل باپ کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے اپنی کج رفتار اور ناقص ماں کی طرف رجوع کرتا ہے۔ جس طرح شفیق باپ کا دل بیٹے کی طرف مائل ہوتا ہے لیکن بیٹے کا میلان باپ کی طرف نہیں ہوتا اور وہ اسکے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ اس کشاکش کے دوران سعادت مندی یا بدبختی نمودار ہوتی ہے جسے قادر مطلق کا فیصلہ اور تقدیر کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِـهَا وَلٰكِنَّهٝٓ اَخْلَـدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں کی برکت سے اس کا رتبہ بلند کرتے لیکن وہ دنیا کی طرف مائل ہو گیا اور اپنی خواہش کے تابع ہو گیا(سورۃ الاعراف آیت176)۔

اوپر نفس کی جو ماہیت بیان کی گئی ہے اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نفس ہی سےتمام مذموم افعال کا صدور ہوتا ہے اور اسکا علاج و ازالہ مجاہدہ، ریاضت، ذکر الہی، دعا اور مناجات سے ہوسکتا ہے۔ حضرت سعید بن ابی ہلال (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت ہے کہ جب رسول اکرمﷺ یہ آیت قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ  بے شک وہ مراد کو پہنچا جس نے (اپنے نفس کو)پاک کر لیااور وہ نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چُھپایا (سورۃالشمس آیت 9، 10) تلاوت فرماتے تو توقف فرما کر یہ دعا پڑھتے: اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا۔ اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے۔ (صحیح مسلم2722)۔

نفس کے تمام اخلاق کی بنیاد دو صفات پر ہے۔ ایک طیش اور دوسری طمع۔ طیش جہل سے پیدا ہوتا ہے اور طمع، لالچ و حرص سے۔ طیش کے لحاظ سے نفس ایک گول کرے سے مشابہہ ہے جو چکنے مقام پر رکھا ہو چنانچہ ہر وقت حرکت میں رہے گا۔ حرص اور طمع کے اعتبار سےیہ ایک پروانے کی مشابہہ ہے جو تھوڑی روشنی پر قانع ہونے کے بجائے اپنے آپ کو ہمیشہ چراغ کی لو پر گرا کر ہلاک کرتا ہے۔ طیش کی جبلت جلد بازی اور بے صبری ہے اور اس پر صرف صبر سے ہی قابو پایا جا سکتا ہے۔

نفسی صفات کا تعلق انسان کی پیدائش اور تکوین سے وابستہ ہے۔ انسان خاک سے پیدا ہوا اس لئے اس میں ضعف اور کمزوری پائی جاتی ہے۔

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ اور بےشک ہم نے آدمی کو چُنی ہوئی مٹی سے بنایا(سورۃ المومنون آیت12) وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ اور بیشک ہم نے انسان کوخشک بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو ایسے سیاہ گارے کی تھی جس سے بُو آتی تھی (سورۃالحجر آیت 26) خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ کَالۡفَخَّارِ اس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکری کی طرح تھی۔ (سورۃ الرحمن آیت14)

بخل کا وصف طین (گندھی ہوئی مٹی) ہے۔ شہوت اور خواہش کی وجہ حما مسنون (سڑی ہوئی چکنی مٹی ) ہے۔ جہل کا وصف صلصال (کھنکھناتی ہوئی مٹی) ہے۔ شیطانیت، مکروفریب اور حسدکا وصف کالفخار(آگ پر پک کر ٹھیکرے کی شکل اختیار کرنے والی مٹی) ہے۔

حقیقت میں نفس ایک ہی ہے لیکن اسکی مختلف کیفیات اور صفات ایک دوسرے سے متغائر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اسکی تین کیفیات یا اقسام کا ذکر فرمایا ہے۔ یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُۗ ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ اے اطمینان والی نفس اپنے رب کی طرف اس حال میں واپس آ کہ تو اس سے راضی ہووہ تجھ سے راضی ہو۔ (سورۃ الفجر آیت 27، 28) وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ اور پشیمان ہونے والے نفس کی قسم۔ (سورۃ القیامہ آیت 2) اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌ بِالسُّوٓءِ بے شک نفس امارہ تو برائی سکھاتا ہے(سورۃ یوسف آیت 53)

حضرتِ سیّدنا شیخ شہابُ الدّین ابوحفص عمر صدیقی سہروردی علیہ رحمۃ اللہ القَویقلب،عقل اور بصیرت:

جب قلب کو مکمل سکون حاصل ہوتا ہے تو وہ نفس کو بھی سکون و طمانیت کا لباس پہنا دیتا ہے۔ جب اس سکون سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے تو قلب، روح کے مقام پر متمکن ہوجاتا ہے اور نفس، قلب کے مقام کا رخ کرتا ہے اور اس مقام پر پہنچ کر طمانیت کلی حاصل کرتا ہے یہی نفسہ مطمعنہ ہے۔ جب جبلی خواہشات سے مغلوب ہو کرنفس کو اسکے اصل مقام سے اکھاڑ دیا جاتا ہے تو وہ سکون کیلئے سرگرداں رہتا ہے اورمقام سکون سے باخبر رہتے ہوئے اسکے مشاہدہ سے قاصر رہتا ہے اس لئے ملامت کرتا ہے یہ کیفیت نفس لوامہ کی ہے۔ نفس لوامہ اگر سکون و طمانیت سے باز آکر واپس جبلت کی طرف لوٹ جائے اور اسی پر قناعت کر لے تو وہ نفس امارہ ہے۔ تب وہ علم ومعرفت کے نور سے بے بہرہ ہوجاتا ہے اور نفسانی جذبات کے غلبے کی وجہ سے برائی کا حکم دینے لگتا ہے۔

عقل، قلب کی ترجمانی اور تدبیر کرنے والی قوت ہے۔ اسکا محل دماغ اور قلب دونوں ہیں کیونکہ اسے ایک جگہ قرار نہیں۔ کبھی اسکا رخ نیکوکاری کی طرف ہوتا ہے اور کبھی نافرمانی کی جانب۔ جب عقل نافرمانی کی تدبیر کرتی ہے تو اسکا مقام دماغ ہوتاہے اور جب نیکوکاری کی تدبیر کرتی ہے تو اسکا مقام قلب ہوتا ہے۔

شیخ حارث بن المحاسی(رح) کے بقول ‘عقل ایک تکملہ فطری ہے جس کے ذریعے تحصیل علم کی استعداد و صلاحیت حاصل ہوتی ہے اور یہ روح کی زبان اور بصیرت کی ترجمان ہے’۔ تمام علوم نورعقل ہی سے متشکل ہوتے ہیں۔ عقل، علوم کے لئے ایسے ہی ہے جیسے کسی مکتوب کے لئے لوح۔ عقل جب راہ راست پر گامزن ہوتی ہے تو یہ ایسی بصیرت حاصل کر لیتی ہے جو روح کے لئے بمنزلہ قلب ہے اور اس منزل پر اسکو خالق کائنات کی ہدایت نصیب ہوجاتی ہے اور وہ خالق کے ذریعہ کائنات کو بھی پہچان لیتی ہے۔ اللہ اس عقل کو ایسے کام کی طرف متوجہ کر دیتا ہے جو اسکی سربلندی اور برتری کاموجب ہوتا ہے اور جب اللہ کسی کام کو ناپسند کرتا ہے تو اس عقل کو اس کام کے کرنے سے روک دیتا ہے۔ پس ایسی عقل رکھنے والا شخص اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں ہی مصروف رہتا ہے اور ان باتوں سے بچتا ہے جو اللہ کے عتاب کا موجب ہوں۔ یہ عقل جس قدر مستقیم ہوتی ہے اس کو تائید خداوندی کی بصیرت حاصل ہوتی ہے اور وہ ہدایت اور نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور گمراہی سے بچاتی ہے۔

بصیرت ان تمام علوم کا احاطہ کرتی ہے جنہیں عقل اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ بصیرت کو ان امور پر بھی دسترس حاصل ہوتی ہے جو عقل کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں کیونکہ بصیرت کلمات خداوندی سے فیض حاصل کرتی ہے جن کو تحریر میں لانے کیلئے سمندروں کی سیاہی خشک ہو سکتی ہے لیکن وہ ختم نہیں ہوتے۔ جس طرح قلب زبان کے ذریعے بعض باتیں ادا کرتا ہے اسی طرح بصیرت بعض باتوں کی ترجمانی عقل سے کراتی ہے۔ جن حضرات کی عقلی بصیرت کونور شریعت کی تائید حاصل ہوتی ہے وہ عالم ملکوت سے بھی باخبر ہوتے ہیں اور مکاشفہ کی خصوصیت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ یہ بصیرت امور دنیا اور آخرت دونوں کی تدبیر کرتی ہے۔

عقل جب سرنگوں ہو کر جبلی اور نفسانی خواہشات کی طرف مائل ہوتی ہے تو نفس کے اجزاء کو منتشر کردیتی ہے اور اعتدال و ہدایت کے راستے سے ہٹ جاتی ہے۔ اسکا یہ رخ صرف دنیا کے امور پر غور کرتا ہے اور آخرت کی بصیرت سے بے بہرہ ہوتا ہے۔ یہ عقل نوع انسانی میں عام ہے لیکن عقل ہدایت صرف نیک بندوں(مومنین) میں پائی جاتی ہے۔ مجرد عقل کے مشاہدے میں صرف ظاہری کائنات ہوتی ہے وہ بصیرت اور مکاشفہ سے محروم ہوتے ہیں۔ اس عقل سے صرف امور دنیا کی پرداخت ہوتی ہے

حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ‘تم لوگ کسی شخص کے اسلام لانے پر مسرور نہ ہوں، جب تک تم کو اس کی عقل کا اندازہ نہ ہوجائے’۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے ایک بار رسول اکرمﷺ سےدریافت فرمایا کہ فضیلت کا معیار کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا دنیا اور آخرت میں ہر ایک کی عقل سے۔ حضرت عائشہ(رض) نے عرض کیا کہ سزا و جزا کیا ہے، کیا یہ لوگوں کے اعمال پر نہیں ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا ! اللہ کی اطاعت، وہی تو عقل ہوتی ہے۔ لوگوں میں جتنی عقل ہوتی ہے اسی کے مطابق وہ عمل کرتے ہیں اور ان کے اعمال کے مطابق ان کو جزاء اور بدلہ دیا جائے گا۔

حضور ﷺ نے اس سلسلہ میں مزید وضاحت فرمائی کہ ‘ایک شخص مسجد کی طرف جاتا ہے اور وہاں نماز ادا کرتا ہے مگراس کی نماز مچھر کے بازو کے برابر بھی نہیں ہوتی، ایک مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز احد کے پہاڑ کے برابر ہوتی ہے بشرطیکہ وہ اس سے زیادہ عقلمند ہو۔ آپﷺ سے عرض کیا گیا کہ وہ کس طرح زیادہ عقلمند بن سکتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا اسکی صورت یہ ہے کہ وہ حرام کاموں سے زیادہ اجتناب کرے اور نیک کاموں کا زیادہ آرزومند ہو خواہ عمل اور نوافل میں وہ ان سے کم درجہ ہی پر کیوں نہ ہو۔ آپﷺ نے مزید فرمایا کہ ‘حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عقل کو اپنےبندوں پر الگ الگ تقسیم فرمایا، ان کا علم، نیکی، نماز اور روزہ تو یکساں اور مساوی ہو سکتا ہے مگر ان کی عقلوں میں اس قدر فرق ہوتا ہے جیسے کوہ احد کے مقابل کوئی ذرہ ہو’

حضرت وہب بن عنبہ(رح) فرماتے ہیں ‘میں نے تقریباً ستر کتابوں میں پڑھا ہے کہ تخلیق عالم کی ابتداء سے اب تک تمام دنیا والوں کو جتنی عقل عطا کی گئی ہے وہ رسول اکرمﷺ کی عقل مبارک کے مقابل میں ایسی ہے جیسے تمام عالم کے ریگزاروں کے مقابل میں ایک ذرہ ہو۔

نفس شناسی:

جو شخص نفس کی اصل اور جبلت سے واقف ہوگیا اسکو اس بات کا علم ہو گیا کہ وہ باری تعالیٰ کی استعانت کے بغیر اس پر قابو نہیں پا سکتا۔ انسانیت کی تکمیل اسی وقت ہو سکتی ہے جب بندہ علم و عدل کے ذریعہ حیوانی خواہشات کا علاج کرے۔ افراط و تفریط کے پہلوئوں کی رعایت کو مد نظر رکھے۔ شیطانی صفات اور مذموم اخلاق کو پہچان کر اپنے آپ کو برے اخلاق پر راضی نہ کرے۔ ان برے اخلاق سے بھی آگاہ ہونا ضروری ہے جو ربوبیت کے اوصاف سے ٹکراتے ہیں جیسے کبر، عزت، خودبینی، عجب وغیرہ۔ ان اوصاف کو چھوڑ کر ہی خالص بندگی کی جا سکتی ہے۔

شیخ ابوالنجیب السہروردی(رح) نے باسناد شیوخ حضرت عبداللہ بن مسعود(رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےارشاد فرمایا’ ابنائے آدم پر شیطان اور فرشتے دونوں اثر انداز ہوتے ہیں، شیطان ان کے اندر برائی ڈالتا ہے اور حق کی تکذیب کراتا ہے اور فرشتہ بھلائی کا وعدہ اور حق کی تصدیق کراتا ہے۔ پس اگر انسان کو بھلائی ملے تو وہ سمجھ لے کہ یہ من جانب اللہ ہے اور وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور اگر شیطانی اثر اس پر اثر انداز ہو تو اللہ کے حضور شیطان سے پناہ مانگے’۔ اسکے بعد نبی کریم ﷺ نے آیت تلاوت فرمائی کہ اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِۚ-وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًاؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ  شیطان تمہیں محتاجی کااندیشہ دلاتا ہے اور بے حیائی کاحکم دیتا ہے اور اللہ تم سے اپنی طرف سے بخشش اور فضل کاوعدہ فرماتا ہے اور اللہ وسعت و الا، علم والا ہے۔ (سورۃ البقرہ آیت 268)

ان اچھے برے اثرات اور وسوسوں میں وہی تمیز کرنے کی کوشش کرتا ہے جو طالب صادق ہے اور یقین کے راستے پر گامزن ہے اور جن میں اسکے تمیز کی اہلیت و صلاحیت نہیں ہوتی وہ معرفت سے بہرہ مند نہیں ہو سکتے۔ قلوب کو استقامت قلب کے بغیر طمانیت نفس حاصل نہیں ہوتی اور جب نفس مطمئن ہوتا ہے تو شیطان اس سے مایوس ہوجاتا ہے۔ ذکر الہی ایسا نور ہے جس سے دل کی حفاظت ہوتی ہے اور شیطان اس سے ایسا ڈرتا ہے جیسے کوئی آگ سے خوف کھاتا ہو۔ جب نفس کی حرکت سے صفائے قلب میں تکدر پیدا ہوتا ہے تو شیطان طمع کے ساتھ دل کے قریب آجاتا ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ‘شیطان ابن آدم کے دل سے لپٹا ہوا ہے مگر جب انسان اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو پیٹھ کے پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جب وہ ذکر الہی سے غافل ہوتا ہے تو شیطان اسکے دل کو لقمہ بنا لیتا ہے اور اسکو پھسلا کر خام خیالی میں مبتلا کر دیتا ہے’۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ اور جو رحمٰن کے ذکر سے منہ پھیرے توہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی رہتاہے۔ (سورۃ الزخرف آیت 36) اور مزید ارشاد ہے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ اگر متقین کو پھرنے والا شیطان چھولے تو وہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں جس کے باعث ان کو بصیرت حاصل ہوجاتی ہے۔ (سورۃ الاعراف آیت 201)

ان ارشادات ربانی سے واضح ہوتا ہے کہ تقویٰ سے خالص ذکر کا وجود وابستہ ہے۔ متقی انسان اپنے آپ کو برائیوں سے بچاتا ہے اورفضول و بیکار باتوں سے گریزاں ہوتا ہے اور جب اسکا باطن پاک ہوجاتا ہے تو نفسانی باتوں کا اس سے صدور نہیں ہوتا اوراس پر شیطانی دائو اثر انداز نہیں ہوتا۔ نفس کی روزمرہ ضروریات کا تعلق کبھی حقوق اور جائز حظوظ و لذات سے بھی ہوتا ہے۔ نفسانی خیالات سے بچنے کیلئے عام بے ضرر خیالات اور نفسانی خیالات میں تمیز کا علم ہونا ضروری ہے۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو(سورۃ الحجرات آیت 6)

حضرت شیخ سہل بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں فاسق سے مراد کاذب ہے اور کذب ایک نفسانی صفت ہے جس میں نفس چیزوں کو حقائق کے خلاف پیش کرتا ہے پس جب دل میں کوئی خیال گزرے تو اسکو بیان کرنے سے پہلے پوری تحقیق کر لینی چاہیے تاکہ عجلت میں نفسانی خواہش کی تحریک پر کوئی لغزش نہ ہوجائے۔

جب کوئی بندہ حق اپنے نفس کو زہد و تقویٰ کی آگ سے گداختہ کر لے اور ذکر الہی، مناجات اور خدمت الہی میں مصروف رہے تو اسکے نفس کا دائرہ، حق اور حظ میں تمیز کرتے ہوئے اتنا تنگ ہوجاتا ہے کہ اس میں ابلیس اور شیطان کا ورودمشکل ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر دل سیاہ ہوقلب زنگ آلود ہو تو پھر شیطانی وسوسوں اور حق میں تمیز ممکن نہیں ہوتی۔ حضرت ابوہریرہ(رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا’جب کوئی بندہ گناہ کرتا ہے تو اسکے دل پرایک سیاہ نقطہ بن جاتا ہے اور جب وہ توبہ و استغفار کرکے اسے دور کردے تو اسکا دل پھر روشن اور صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر پھر گناہ کا اعادہ کرے تو وہ داغ بڑھتا ہے اور بڑھتے بڑھتے پورے دل پر چھا جاتا ہے’۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ كَلَّا بَلْٚ- رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۔ جو کچھ کام وہ کرتے ہیں وہ ان انکے دل پر مسلط ہو گئے ہیں (سورۃالمطففین آیت 14)۔

چونکہ تصور ہی اصل میں کسی خیال یا عمل کا نقطہ آغاز ہے اس لئے بندہ حق کا اصل کام یہ ہےکہ اسکی حقیقت کا علم رکھتا ہو۔ اسی لئے سرورعالم ﷺ کا ارشاد ہے کہ طلب العلم فریضۃ علیٰ کل مسلم (علم کی طلب ہر مسلمان کا فرض ہے)۔ جو بندہ حق ضعف الیقین (اخلاق و صفات نفس سے کم آگاہی)، تقویٰ کے اصول کے خلاف خواہشات کی پیروی، دنیاوی جاہ و مال کی محبت، لوگوں میں قدر و منزلت اور رفعت و سربلندی کی آرزو سے محفوظ ہے وہ ملکوتی اور شیطانی تصورات میں تمیز کر سکتا ہے اور جو ان میں مبتلا ہے وہ تمیز نہیں کر سکتا۔ زہد و تقویٰ کے بغیر نفس شناسی پر دسترس نہیں ہو سکتی کیونکہ صرف نور توحید اور ایمان سے ہی نفس کو روکا جا سکتا ہے اورنوراسلام سے ہی ابلیس جیسے دشمن کو شکست دی جا سکتی ہے۔ چنانچہ بندہ حق کو چاہیے کہ اولاً ہر خیال کو میزان شریعت پر تولے اور پرکھے۔ اگر وہ فرض ہے، سنت یا نفل تو اس پر عمل کرے اور اگر حرام یا مکروہ ہے تواسے ترک کردے۔ اگر علم شرح کے اعتبار سے دونوں خیال اور جذبات مساوی ہوں تو ان میں سے پہلے اس جذبہ پر عمل کرے جس میں خواہش نفس کی مخالفت زیادہ ہو کیونکہ نفس عموماً ادنیٰ چیزوں کی جانب زیادہ مائل ہوتا ہے اور اپنی شادمانی کیلئے یہ قلب کے ساتھ مل کر نفاق کا اظہار کرتا ہے۔ نفاق قلب سے پیدا ہونے والے خواطر کو پہچاننے کیلئے راسخون فی علم ہونا ضروری ہے۔ (مولف: وحید مراد)

(Visited 1 times, 2 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply