ٹاپرز ارینہ Toppers_Arena اور سوفیصد مارکس کا ڈرامہ—- چوہدری بابر عباس خان

0

موجودہ تعلیمی نظام کی حالت دیکھ کر دل پسیج کر رہ جاتا ہے۔ او۔ لیول، اے۔ لیول کے طلبہ، ٹاپ برینڈ اور مہنگے تعلیمی نظام کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ کیوں کہ یہاں وافر وسائل کے ساتھ سخت محنت پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ ان اداروں میں جدید طریقہ ہائے تدریس کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہاں بچے کو جس بنیاد پر تعلیم دی جاتی ہے اس میں تربیت اور تصوراتی مطالعہ خاص طور پر اہم ہے۔ ان بچوں کی صلاحیت اور قابلیت کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ ان طلبہ کو آگے ایف سی، کنرڈ اور ایچی سن جیسے اداروں میں مسائل کا سامنا کم ہی ہوتا ہے۔

ایک اور اکثریتی طبقہ سوفیصد نمبرز لینے والے ان طلبہ کا ہے جو ہمیشہ پہلی پوزیشن لیتے ہیں۔ یہ طلبہ بزنس سیکرزاور نجی تعلیمی اداروں کی تیار کردہ پود ہیں۔ اِن کا شمار اُن والدین کے بچوں میں ہوتا ہے جنھوں نے تعلیم کو زیادہ نمبر حاصل کرنے کا کھیل سمجھ رکھا ہے۔ میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے حالیہ نتائج اس کی واضح مثال ہیں۔ رٹہ لگانا موجودہ تعلیمی نظام کا خاصہ ہے۔

حالیہ نتائج میں سو فیصد نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کی کثرت ہے، جن کی تعداد ستر کے قریب ہے اور ننانوے، اٹھانوے فیصد نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد شاید سینکڑوں اور ہزاروں میں ہو۔ سائنسی مضامین میں سو فیصد نمبر حاصل کرنے کی گنجائش ہوتی ہے مگر ان سائنسی مضامین کے علاوہ ادب اور سماجی علوم کے مضامین میں ایسا کون سا عددی طریقہ ہے جس کے تحت سوفیصد نمبر لیے اوردیے جاسکتے ہیں؟ اس بار صرف چار مضامین کے امتحان ہوئے اور کرونا کے سبب دی گئی رعایت کی وجہ سے امتحانات میں نمبرز کا یہ طُومار لگ گیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ایسا صرف اس بار نہیں ہوا، زیادہ نہیں تو یہ قصہ دس پندرہ سال پرانا ضرور ہے۔ قوم کے ساتھ یہ کیسا ہاتھ ہو رہا ہے؟ گذشتہ دو سالوں میں ان تعلیمی و امتحانی پالیسیز نے تعلیمی نظام کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔

وبائی مرض کے اس دور میں تعلیم کو چھوڑ کر تمام، کاروباری سرگرمیاں، ذرائع آمدو رفت، سیاسی، مذہبی اور سماجی اکٹھ اور جلسے حسبِ معمول جاری رہے۔ خدا جانے تعلیمی سرگرمیوں کو معطل کرکے اس بری طرح نقصان پہنچانے کے پیچھے کیا عزائم کار فرما تھے۔ حیرت سے انگلیاں کاٹ کھائیں یا سر دھن لیں کہ دو سال تک بچے اسکول ہی نہیں گئے۔ ہمارے تعلیمی نظام کی حالت پہلے ہی قابل رحم تھی اس پر طویل عرصے تک اسکول بند رہنے کی وجہ سے غیر طالب علمانہ رویہ مزید پروان چڑھ گیا۔ ان حالات میں نمبرز کا جو مینا بازار لگایا گیا ہے اسے کیا کہنا چاہیے؟

ایک تیسرا طبقہ زمین داروں کا ہے جن کی اپنی زمینیں ہیں مگر ان کے مزارعے اتنے طاقت ور ہیں کہ ان کی اپنی زمین پر ان کو کسی قسم کا کوئی حق نہیں، البتہ مالیہ اور ہر طرح کا محصول سب سے پہلے انہی سے وصول کیا جاتا ہے۔ یہ عددی لحاظ سے سب بڑا مگر لاغر و نحیف طبقہ ہے جو اپنے جسم و روح کے رشتے کو اگر قائم رکھ پائے تو ہمت جمع کر کے اپنی اولاد کو گاؤں، جھوک اور کسی کچی بستی کے سرکاری اسکول میں داخل کروا دیتا ہے۔ اگر آپ اس حساب کو سمجھ سکتے ہیں جو سو فیصد نمبرحاصل کرنے والے طلبہ کو بطور خاص پڑھایا جاتا ہے تو جناب آپ کے لیے اس بات سے انکار مشکل نہیں ہو گا کہ اس طبقے سے سو فیصد نمبرحاصل کرنے والے طلبہ کی تلاش نا ممکن ہے۔ جب کہ پندرہ بیس سال پرے کی بات کے انھی اداروں اور اسی طبقے سے انتہائی قابل اور ذہین طلبہ سامنے آتے تھے۔ اور اگر غور کیا جائے تو یہ طبقہ سماج میں اپنی شناخت کے ساتھ ضرور مل جائے گا۔ ان کے ہاں ستر فیصد نمبرز کے حصول کو عمدہ کارکردگی سمجھا جاتا رہا ہے اور محض چھ سو نمبر حاصل کرنے والا طالب علم اعلیٰ قابلیت اور سات سوسے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے طالب علم کا شمار بہترین شاگردوں میں ہوتا ہے۔ بلاشبہ یہ طلبہ خود کو آئندہ تعلیمی زندگی میں ثابت کرنے میں بھی کامیاب رہتے ہیں۔

ہمارا حال اب مختلف ہے، ٹاٹ سے اٹھ کر اونچے عہدے کے حصول کا سفر تھم گیا ہے۔ اب ان ہونہار طالب علموں کی بھیڑ ہے جو ثواب کو “س” سے بھی لکھ لیتے ہیں اور دل چاہے تو “ص” سے بھی۔ چلیں اس ساری کج فہمی کو ردکر دیتے ہیں۔ پچھلے دس، پندرہ سالوں میں میٹرک اور ایف۔ اے تک کے نتائج کوبہ مشکل سو فیصد تک محدود کیا گیا ہے ورنہ جوش و جذبے کا یہ عالم ہے کہ اصل مقابلہ سو فیصد کے بعد ہی شروع ہو۔ ایک بات حیرت میں ڈالتی ہے کہ وہ کیا اسباب ہیں جن کے باعث طالب علموں کی یہ جماعت بی۔ اے کی سطح پر ساٹھ فیصد تک بھی مشکل سے ہی پہنچ پاتی ہے اور ایم۔ اے کی سطح پر یہ تنائج بیس سے تیس فیصد رہ جاتے ہیں۔

ایک دل چسپ صورت حال یہ ہے کہ جامعات میں ان کھسیانے سے نتائج میں اول الذکر نے اپنی کارکردگی دکھانی ہوتی ہے۔ او۔ لیول اے۔ لیول کا طالب علم اس کا استحقاق بھی رکھتا ہے مگر اس کے بعد زیادہ تعداد ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھنے والے طالب علموں کی ہوتی ہے۔ درمیان والوں کی اصل بھد یہیں اڑتی ہے اور انتہائی شرمناک حد تک کم تعداد میں وہ یہاں اپنا وجود برقرار رکھ پاتے ہیں۔ کیوں کہ یہاں وہ چند صفحاتی پڑھائی ختم ہو جاتی ہے جس میں استاد کی رہنمائی میں مخصوص سوالات کے جوابات ازبر کر کے سو فیصد نتائج کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ مگر یہ طالب علم اور ان کے ہم خیال والدین کبھی ہمت نہیں ہارتے۔ پنجاب یونی ورسٹی، قائد اعظم یونی یورسٹی، پشاور یونی یورسٹی، نسٹ و کامسیٹ وغیرہ سے انھیں کیا لینا۔ طب و ہندسہ کی تعلیم تو ویسے بھی مخصوص حد تک رہ جاتی ہے۔ اس پریہ غلط فہمی کہ یہ متعصب ادارے ہیں جوذہین اور لائق طالب علموں سے مخاصمت رکھتے ہیں اور اس بنا پر انھیں نمبرز نہیں دیتے۔ اس پر زندہ باد کا نعرہ لگا کر علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے وہی دھندہ خوب چلتا ہے جہاں آغاز ہی ساٹھ سے ستر فی صد نمبرز سے ہوتا ہے۔ اس تعلیمی ادارے میں امتیازی کامیابی حاصل کرنے کی کل مشقت، بروقت فیس کی ادائیگی، ہر مضمون کی ایک عدد اسائنمنٹ جس کے نام پر ایک لفافہ بذریعہ ڈاک ارسال کرنا لازم ہے چاہے اندر کا مواد کچھ بھی ہو۔ لفافہ ٹیوٹر کو موصول ہو نے پر ساٹھ نمبر تو یقینی ہیں۔ اگر اس اسائنمنٹ پر حسب تربیت رنگین قلم استعمال کر دیا گیا توکمال است۔ اس سب میں ایک اہم ریاضت امتحان میں شمولیت ہے۔ امتحانی مرکز میں طالب علم کی حاضری لازم ہے۔ کتاب پڑھنا تو دور اس کی عدم دستیابی کے باوجود ان مراحل ہی کو طے کر لینے پر کامیابی یقینی ہوجاتی ہے۔

او۔ لیول اور اے۔ لیول کے طالبِ علم تو کہیں نہ کہیں کوئی راستہ بنا لیتے ہیں کہ وہ لیاقت کے ساتھ ثروت بھی رکھتے ہیں۔ اگر کوئی پستا ہے تو وہی زمین کا مالک جس کی زمین مزارعوں کے ہاتھ میں ہے جو اسے پاس بھی نہیں پھٹکنے دیتے البتہ باج مالیہ اس نے ضرور دیناہے۔ !

قوم کو یکساں نصاب پر متحد کرنا اچھا قدم ہے مگرعملاََ اس کو رد کیا گیا یا کہیں جزوی اور علامتی طور پر اپنا گیا، ایک بھدا مذاق لگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نصاب کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے یا سرے سے ختم کردیا جائے۔  مزید یہ کہ غیر معیاری اعلی تعلیمی اداروں، بالخصوص علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے نظام کو بہتر کیا جائے جو بظاہر فاصلاتی نظام تعلیم کی فراہمی کی بہترین سہولت تو ہے مگر عملاً پیسہ بنانے کی جائز بلیک مارکیٹ ہے۔ اس ادارہ کے طلبہ کی غالب اکثریت نالائق اور کوڑھ مغز ہے جن کی ڈگری پر نمبر ستاروں کی مانند چمکتے ہیں اور عملی سطح پراسے گرہن لگ جاتا ہے، جو کہ محنتی طلبہ کے ساتھ زیادتی ہے۔

پھر یہ ہی نابغے اسناد کے بنڈل اٹھائے گھومتے نظر آتے ہیں جو اپنی قابلیت سے خوب واقف ہوتے ہیں۔ ان کا کہیں کوئی داؤ نہ لگے تو اس ریوڑ کی خاصی تعداد اپنی جیسی نئی پنیری تیار کر کے معاشرے میں لا پھینکتی ہے۔ اس ساری واردات کے معاشرے اور بالخصوص تعلیمی نظام پر منفی اثرات ہمیں ہر شعبٔہ زندگی میں متاثر کر رہے ہیں۔

بہر حال سب راضی اور خوش ہیں تو دھندا چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply