چیمپئنز مائنڈ سیٹ: مگر کیسے؟ —- خبیب کیانی

0

کیا آپ کا کوئی ایسا جاننے والا یا دوست ہے جس کی ذہانت کی وجہ سے یونیورسٹی یا کالج کے دورمیں توآپ نے ہر استاد کو یہ کہتے سنا ہو کہ یہ نوجوان بہت ترقی کرے گا مگر آج وہ تما م تر توقعات کے برعکس کوئی انتہائی معمولی سا کام کر رہا ہو؟ عمومی طور پر ہم سب کی زندگیوں میں کوئی نہ کوئی ایسا فرد ضرور ہوتا ہے جس کے بارے میں قیاس تو ستاروں پہ کمند ڈالنے کے ہوتے ہیں مگر وہ جاوقت کی خس و خاشاک کا حصہ بنتا ہے۔ ایمانداری سے ایسے کیسز کا جائزہ لیا جائے تو ان میں چند ایک ایسے ضرور ہوتے ہیں جن کوذمہ داریوں کا گرداب یوں گھیرتا ہے کہ وہ اپنی ذہانت و لیاقت کو بھول کر اپنے خاندان کی بقا ء کے لیے لڑنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر ذمہ داریوں کا یہ طوق اترتے اترتے اتنی دیر ہوجاتی ہے کہ ان کے اپنے خواب دور کہیں وقت کی گرد میں کھو چکے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ان چند کیسز کو چھوڑ کر با قی ایسے تمام افرادکی زندگیوں کا جائزہ لیا جائے تو مشاہدے میں آتا ہے کہ ان کے پاس زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے صحت، دولت، ذہانت، ماحول، سپورٹ اور ان جیسے دیگر تمام مصالحے تو موجود ہوتے ہیں لیکن ان مصالحوں سے کامیابی کی ہانڈی پکانے کے لیے چیمپئین مائنڈسیٹ کی جو آگ چاہیے ہوتی ہے وہ ان کے ہاں مفقود ہوتی ہے۔ وہ کبھی اندازہ ہی نہیں کر پاتے کہ قدرت نے ان کو کس قدر اہم صلاحیتوں سے نوازا ہے اور ان صلاحیتوں سے وہ اپنی انفرادی اور اور معاشرے کی اجتماعی کہانی پر کیسا زبردست اثر ڈال سکتے ہیں۔ ایسا صرف افراد کے معاملے میں ہی نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات ٹیمیں، گروپس یا اقوام بھی اس سارے مخمصے کا شکار ہو جاتی ہیں،۔ سب کچھ ہوتا ہے مگر مائنڈ سیٹ چیمپئنز والا نہیں ہوتا اور جب تک کوئی فرد، گروپ یا قوم خود کو چیمپئین ماننے کو تیار نہ ہو تب تک کچھ بڑا کام کر دکھانے کا خواب کیسے پورا ہو سکتا ہے؟ آئیں اس بات کو کھیل کی دنیا سے جڑی ایک دو کہانیوں سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سال تھا 2014، بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم تقریبا ہر میچ میں بری طرح سے ہار رہی تھی، زیادہ تر میچز میں مخالف ٹیمیں بنگلہ دیش کو آئوٹ کلاس کر رہی تھیں جبکہ کچھ میچز ایسے بھی ہو رہے تھے کہ جن کے دوران بنگلہ دیش ٹیم جیتتے جیتتے اچانک لڑکھڑا کر ہا ر کو گلے لگا لیتی تھی۔ کوچ شین جرگنسن سب حربے آزمانے کے بعد بنگلہ دیش ٹیم سے الگ ہوئے اور ان کے بعدسری لنکن نژاد ہتھوروسنگھا کو کوچنگ کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ہتھورو سنگھا بنگلہ دیش کی ٹیم کو ایک عرصے سے زیر مشاہدہ رکھے ہوئے تھے اور جانتے تھے کہ یہ ٹیم بھر پور صلاحیت اور مختلف اوقات میں میجراپ سیٹس کرنے کے باوجودتواتر سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پارہی۔ ڈسپلن سے جڑے مسائل کو درست کرنا ہتھورو سنگھا کی پہلی ترجیح تھی، شکیب الحسن جیسے مشہور اور اہم کھلاڑی کو ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ٹیم سے باہر بھیج کر ساری ٹیم کو درست رویے کی اہمیت شروعات میں ہی باور کروا دی گئی۔ ڈسپلن سے جڑے ایسے ہی چند اور بنیادی معاملات کو سمیٹنے اور کچھ مزید میچز کھیلنے کے بعد ہتھورو سنگھا اسی ٹیم کو لے کر 2015 کا ورلڈ کپ کھیلنے آسٹریلیا جا پہنچے جہاں وارم اپ میچز میں بنگلہ دیش کے ہاتھ ایک کے بعد ایک ہار آئی۔ اس تمام عرصے میں ڈسپلن پر کام کرنے کے علاوہ ہتھوروسنگھا نے بنگلہ دیشی ٹیم کے مائنڈ سیٹ یا مینٹل گیم کو بھی خوب فوکس میں رکھا، ہتھورو سنگھا کو لگ رہا تھا کہ یہ ٹیم اگر بیٹنگ بائولنگ فیلڈنگ تینوں شعبوں میں شاندار ٹیلنٹ موجو د ہونے کے باوجود اچھا پرفارم نہیںکر پارہی تو یقینا اس کارکردگی کے پیچھے کوئی مینٹل بلاک یا ایررہے۔ اسی کشمکش میں ورلڈ کپ کا آغاز ہوا اور بنگلہ دیش کو پہلے میچ میں افغانستان جیسی نسبتا کم تجربہ کار ٹیم سے پنجہ آزمائی کا ٹاسک ملا۔ پہلی باری بنگلہ دیش نے لی اور ایک اچھا ٹارگٹ سیٹ کیا۔ افغانستان کی باری شروع ہوئی تو آغاز میں ہی افغانستان کی بیٹنگ لڑکھڑا گئی اور ایسی لڑکھڑائی کہ پھر سنبھل نہ پائی۔ بنگلہ دیش نے میچ با آسانی جیت لیا۔ ہتھورو سنگھا نے سارا میچ بغور دیکھا اور اس آسان سے میچ کو دیکھتے ہوئے اس نے اس ایک نکتے کو ڈھونڈ نکالا جس کی اسے تلاش تھی۔ میچ کے بعد ہتھورو سنگھا نے ٹیم کو متنبہ کیا کہ افغانستان جیسی ٹیم کے خلاف فتح کو بنگلہ دیشی کھلاڑیوں نے ضرورت سے زیادہ منایا اور اگر یہی روش رہی تو آگے جانا ممکن نہیں ہو گا۔ ورلڈکپ کا ابتدائی میچ جیتنے والی ٹیم کو یہ مشاہدہ پہلے پہل تو بہت عجیب لگا مگر جب کوچ نے اس کو وضاحت سے بیان کیا توٹیم کو اپنے مینٹل فوکس کو ایڈجسٹ کرنے میںکافی مدد ملی۔

ہتھورو سنگھا کی وضاحت کا خلاصہ یہ تھا بنگلہ دیشی ٹیم جب افغانستان جیسی کم تجربہ کار ٹیم سے جیت کر اتنی زیادہ خوشی مناتی ہے تو وہ ذہنی طور پر کہیں نہ کہیں یہ مان رہی ہوتی ہے کہ یہ نسبتا کم تجربہ کار ٹیم بھی ہمارے لیول کی ہی تھی۔ کوچ نے بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو مزید سمجھایا کہ اس اپروچ سے وہ بطور ٹیم خود کو دو طرح سے نقصان پہنچارہے ہیں، ایک تو یہ کہ وہ لاشعوری طور پر خود کو نچلے درجے کی ٹیموں کے کلب کا ممبر سمجھتے آ رہے ہیں اور دوسرا یہ کہ جب وہ خود کو چھوٹی ٹیموں میں شمار کرتے ہیں تو بڑی ٹیمیں ان کو بطور حریف اور بڑی لگنا شروع ہو جاتی ہیں۔ بنگلہ دیش ٹیم کو اس مشاہدہ سے بھی آگاہ کیا گیاکہ بالکل یہی غلطی وہ بڑی ٹیموں کے خلاف بھی کرتے آرہے ہیں اور وہ ایسے کہ وہ جب بھی کسی بڑی ٹیم کے خلاف جیتتے ہیں تو تمام کھلاڑی اس جیت کو بطور اپ سیٹ لیتے ہیں اور خوشی ایسے منائی جاتی ہے جیسے کوئی انہونی ہو گئی ہو۔ جب ایک ٹیم اپنی ذہنی اپروچ کی وجہ سے خودکو چھوٹی ٹیم سمجھتی آرہی ہے تو وہ بڑی ٹیموں کا سامنا کرتے ہوئے پراعتماد کیسے ہو سکتی ہے؟ ٹیم کوحکم دیا گیا کہ آج کے بعد کسی لیگ میچ کو جیتنے کے بعد ایسی باڈی لینگوئج نہیں اختیا ر کرنی جس سے کہ یہ لگے کہ کوئی انہونی ہو گئی ہے، میچ چاہے بڑی ٹیم سے جیتیں چاہے چھوٹی ٹیم سے، جیت کو ایسے ٹریٹ کریں جیسے کہ وہ کبھی کبھار ہونے والی چیز نہ ہو بلکہ ایک عام چیز ہو جس کا آپ کو اپنی محنت اور اعتماد کی وجہ سے پہلے سے اندازہ تھا۔ اس چھوٹے سے مینٹل شفٹ نے بنگلہ دیش ٹیم میں ایک نئی روح پھونک دی، کھلاڑیوں کو اندازہ ہو گیا ان میں اور بڑی ٹیموں میں فاصلہ گیم کا نہیں مینٹل اپروچ کا ہے، انفرادی مائنڈسیٹ میں ہر کسی کو باور کروا دیا گیا کہ وہ ایک بڑی ٹیم کا ممبر ہے جو ٹورنامنٹ میں کھیلنے والی دیگر بڑی ٹیموں کو پہلے بھی ہرا چکی ہے اور جو کام ایک بار کر لیاگیا ہو اس کو دوسری باراور پھر بار بار بھی کیا جا سکتا ہے، انفرادی اعتماد اور احساس ذمہ داری میں ایسا شاندار اضافہ ہو اکہ ٹورنامنٹ سے پہلے کے کئی مہینوں میں پے در پے شکستوں کا شکار ہونے والی ٹیم نے گروپ سٹیج میںتین میچز جیت لیے، ان میں سے سب سے قابل ذکر فتح انگلینڈ ٹیم کے خلاف تھی جس کا شمار فیورٹ ٹیموں میں ہو رہا تھا۔ گو کہ بنگلہ دیش ٹیم کوارٹر فائنل میں شکست کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی مگر اس ٹورنامنٹ نے بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو یہ بخوبی سمجھا دیا کہ چیمپئین بننا ہے تو گیم پر توجہ کے ساتھ ساتھ اپنا انفرادی اور اجتماعی مائنڈسیٹ بھی چیمپئنز والا رکھنا ہوگا۔ اسی چیمپئین مائنڈسیٹ کی بدولت بنگلہ دیش نے ورلڈ کپ کے بعد 2015 میںہی نہ صرف پاکستان، بھارت اور جنوبی افریقہ جیسی ٹیموں کوپے در پے تین ایک روزہ سیریزوں میں پچھاڑ ابلکہ انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیم کو ٹیسٹ میچ بھی دھول چٹا دی۔

جگ بیتی تو سنا دی آئیں اب آپ کو کچھ تن بیتی بھی سناتا ہوں۔ کچھ سال پہلے تک مجھے ہاکی کھیلنے کا بہت شوق تھا اور میں نیشنل سٹیڈیم لاہور میں ایک مقامی کلب میں اس کھیل کی با قاعدہ تربیت کے لیے بھی جاتا رہا۔ اس چھوٹے مگر اہم تجربے سے میں نے زندگی میں ایک چیمپئین کے مائنڈ سیٹ کے لیے اپنے ذہن کو پروگرام کرنے کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ اس سلسلے میں سب سے اہم بات جو میں نے سیکھی وہ یہ تھی کہ ایسا مائنڈ سیٹ ڈیویلپ کرنے کے لیے بڑے بڑ ے ذہنی گولز سیٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ مائنڈ سیٹ بہت چھوٹے چھوٹے لمحات اور مارجنز کے اندر رہ کر ڈیویلپ کیا جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ میرے کلب کی ٹیم کا ایک اور مقامی کلب کی ٹیم کے ساتھ میچ ہو رہاتھا جس میں میری ٹیم گیارہ کے مقابلے میں زیرو گول سے ہار رہی تھی، آخری منٹ کا کھیل چل رہا تھا اور مخالف ٹیم اپنی ڈی سے بال لے کرہمارے گول کی طرف حملے کی نیت سے آگے بڑھی، رستے میں کئی موقعے ایسے آئے جب ہمارے کھلاڑی با آسانی مخالف ٹیم کے حملے کو روک سکتے تھے لیکن یہ علم ہونے کی وجہ سے کہ ہم گیارہ زیرو سے ہار رہے ہیں اور آخری منٹ کا کھیل چل رہا ہے ہمارے کھلاڑی میچ ختم ہونے کی سیٹی بجنے سے پہلے ہی ذہنی طور پر ہار چکے تھے، مخالف ٹیم بنا کسی روک ٹوک کے بال کو ہماری ڈی تک لے آئی جہاں میں بطور ڈیفنڈر کھڑا تھا میرے علاوہ مخالف ٹیم اور ہمارے گول کے درمیان صرف ایک رکاوٹ تھی جو کہ ہمارا گول کیپر تھا، باقی ٹیم کی دیکھا دیکھی مجھے بھی یہی لگا کہ اب انہیں روکنے کا کیا فائدہ، میچ تو ہم پکا ہار چکے ہیں، مجھے کراس کر کے مخالف ٹیم نے بارہواں گول داغا اور اس سے پہلے کہ ہم دوبارہ بال کو لے کر چلنا شروع کرتے امپائرنے میچ کے خاتمے کی سیٹی بجا دی۔ میچ ختم ہوا تو مجھے ہمارے کلب کے نائب کوچ نے بلایا اور پوچھا کہ میں نے آخری گول پر مخالف کھلاڑیوں کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ میرا جواب تھا کہ جناب سبھی لوگ تو ہار مان چکے تھے میچ ہم پکا ہار چکے تھے اس لیے مجھے لگا کہ جو سب کر رہے ہیں وہی مجھے بھی کر لینا چاہیے، بس اسی سوچ کے تحت میں میں نے بارہویں گول کو روکنے کی بالکل بھی کوشش نہیں کی۔ کوچ میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سادہ سا سوال کیا ! “۔ .”kiani! do you want to become a mediocre or a champion?میرا جواب تھا کہ جی ظاہر ہے میں چیمپئین بننا چاہتا ہوں۔ کوچ نے کہا کہ ـ اگر ایسا ہے تو پھر جو کچھ آج تم نے کیا وہ سب شدید غلط تھا، زندگی میں انہی چھوٹے چھوٹے موقعوں کے دوران اپنایا جانے والا رویہ ہی وہ چھاننی ہے جو ایوریج اور چیمپئین میں فرق پیدا کرتی ہے، آج تم نے بارہواں گول اس لیے کھا لیا کیونکہ تمھارے خیال میں گیارہ اور بارہ میں کوئی فرق نہیں،۔ بظاہر یہ تمھیں ایک چھوٹا سا رویہ لگ رہا ہے لیکن یاد رکھو ایسے موقعوں پر یہی چھوٹے چھوٹے رویے ہمارے ذہن کو جلد ہتھیار ڈال دینے کے لیے کنڈیشن کر دیتے ہیں۔ اس بارہویں گول کے لیے لڑ کر تم آج کا میچ تو بالکل نہیں بچا سکتے تھے مگر اگلے میچز میں ایسے ہی کسی حملے کو روکنے کے لیے پریکٹس ضرور کر سکتے تھے۔ آج تم نے گیارہ اور بارہ کے فرق کو معمولی سمجھا، اگر کچھ عرصہ تم ایسے ہی کرتے رہے تو ہو سکتا کسی میچ میں مخالف ٹیم کا ایک گول کا مارجن بھی آخری منٹ میں تمھیںبہت بڑا اور ناقابل تسخیرلگنا شروع ہو جائے حالانکہ آخری ایک منٹ میں ٹیمیں دو گولز کے مارجن کو بارہا توڑ کر فتح سمیٹ چکی ہیں۔ یاد رکھو چیمپئین بظاہر نظر آنے والے حالات کو کبھی خاطر میں نہیں لاتا بلکہ اپنے ہر لمحے کو چاہے وہ کتنا ہی بد ترین کیوں نہ ہوexcellence کے لیول پر جینے کی کوشش کرتا ہے، اسی کوشش کو دوہراتے رہنا ہی چیمپئیز کا راز ہے۔ ہاکی کا میچ بھی زندگی سمجھ کے کھیلو، یہاں چیمپئین جیسا برتائو تمھیں زندگی میں بھی excellenceحاصل کرنے کے لیے تیار کرے گا۔

کوچ کی سمجھائی ہوئی اس بات سے میں نے ہاکی کے بارے میں بہت کچھ سیکھا اور زندگی کے بارے میں بھی۔ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ نصیحت میرے ساتھ ہے، میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ excellence یا چیمپئنز کے مائنڈ سیٹ کو حاصل کرنے لیے بڑے بڑے تیر مارنے کے بجائے چھوٹے چھوٹے سخت لمحات میں ہمیں ذہن کو ہار نہ ماننے اور کوشش کرتے رہنے کے لیے ٹریننگ دینی چاہیے، اس سے نہ صرف ہم اپنی فیلڈ میں آگے بڑھتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے ذہن کو پروگرام بھی کر رہے ہوتے ہیں ہم اپنی فیلڈ کے چیمپئینز ہیں نہ کہ ایوریج۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply