عالم اسلام میں قرآن، حدیث اور فقہ کے علاوہ مقبولِ کتب —- حافظ محمد زوہیب حنیف

0

عالم اسلام میں قرآن، حدیث اور فقہ کے علاوہ مقبولِ کتب کونسی ہیں؟ اسکا جواب اتنا سیدھا بھی نہیں ، اس میں کافی باتیں اثر انداز ہوتی ہیں، مثلا برِصغیر میں کچھ اور، اور افریقہ میں کچھ اور اہمیت رکھتا ہے۔ کسی زبان میں کسی صنف کو زیادہ اہمیت دی گئی تو کسی دور میں کچھ اور زیادہ چلا، مثلاً شیخ سعدی کی گلستان برِصغیر و ایران میں بہت مقبول تھی جب کہ رومی کی مثنوی اور دیوان حافظ کی اپنی ایک الگ اہمیت ہے۔ کہانیوں میں کلیلہ و دمنہ ، الف لیلہ وغیرہ اپنے وقت میں بہت مقبول رہی ہیں۔ تاریخِ طبری مدارس اور علماکے حلقوں میں مقبول کتاب رہی ہے۔ اسی طرح غزالی کی احیاء العلوم نے اپنی مقبولیت سے ریکارڈ توڑے ہیں۔ عربی ادب میں جو مقام ’مقامات الحریری‘ کو حاصل رہا اس کے متعلق کچھ لوگوں کا دعوی ہے کہ یہ قرآن کے بعد سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ ’دلائل الخيرات‘ رسول اللہﷺ کی تعریف میں دعاؤں اور مناجات کی کتاب ہے جو افریقہ اور عرب میں تقریباً ہر گھر میں دن میں ایک دفعہ ضرور پڑھی جاتی تھی۔

بہرحال فدوی کے نزدیک قرآن ، حدیث اور فقہ کے بعد سب سے زیادہ مقبول صنف سیرت النبی ﷺاور نعت رہی ہے۔ آئیے ان کتب کا مختصر سا تعارف پیش کرتے ہیں :

گلستان بوستان :

یہ فارسی زبان میں کلاسیکی ادب کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ اس کا کئی زبانوں میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے اور علمی مدارس کے نصاب میں ایک طویل عرصے سے شامل ہے۔ شیخ سعدیؒ کی اس شہرہ آفاق کتاب ’ گلستان‘ میں نصیحت آموز اور زندگی کو سنوارنے والی دلچسپ حکایات ہیں۔ گلستان کی نصیحتوں میں شیخ سعدی کا انداز عاجزانہ کے بہ جائے جارحانہ نظر آتا ہےیہ کتاب اکثر مدارس میں طویل عرصے سے شامل نصاب ہے۔ یہ کتاب نثر میں ہےاس کتاب کی نثر کلاسیکی ادب کا اعلی نمونہ ہے’ گلستان‘ فارسی زبان کی نثر کی وہ کتاب ہے، جس کا دنیا کی سب سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے۔ ( شاہ کار اسلامی انسائیکلوپیڈیا، سید قاسم محمود ، ص، ۱۲۹۱، الفیصل ناشران و تاجران، لاہور، س ن )

مثنوی مولانا روم :

مثنوی کا لفظ مثنی سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں دو دو کے یا دو کیا گیا ہے۔ شعری اصطلاح میں مثنوی اس کلام کو کہتے ہیں جس کے ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اور ہر شعر کا قافیہ بقیہ اشعار کے قافیے سے مختلف ہوتا ہے البتہ مثنوی کے تمام اشعار ایک ہی بحر میں ہوتے ہیں۔ ’’مثنوی نے مولانا کو حیاتِ جاوداں عطا کی ہے۔ اس کتاب کی مقبولیت اور ہر دلعزیزی اس قدر بڑھی کہ تمام ایرانی تصانیف اس کے مقابلے میں ہیچ ہوکر رہ گئیں۔ اس مثنوی کے کل اشعار کی تعداد ہے۲۶۶۶۔ ۔ ۔ ‘‘( مثنوی مولوی معنی ، مولانا جلال الدین رومی، مترجم ، قاضی سجاد حسین صاحب ، ص، ۹، حامد اینڈ کمپنی اردو بازار ، لاہور ، س ن)

دیوانِ حافظ:

دیوان حافظ (شمس الدین ) حافظ شیرازی کا فارسی مجموعہ کلام ہے۔ کہا یہ جاتاہے کہ ’’ ایران کی غزل پر سب سے زیادہ رنگین اور حسین نقوش جس شاعر نے بنائے ہیں وہ حافظ ہی ہیں ‘‘ (دیوانِ حافظ ، مترجم ، مولانا قاضی سجاد حسین ، پروگریسیو بکس ، اردو بازار لاہور، س ن) ,دیوانِ حافظ میں پانچ سو غزلیں اوربہت سی رباعیاں، قصیدے اور قطعات موجود ہیں۔ دیوانِ حافظ سے متعلق یہ کہا جاتاہے کہ کہ اگر کسی نے فارسی سیکھ لی اور دیوان ِ حافظ کا مطالعہ نہیں کیا تو در حقیقت اُس نے فارسی سیکھی ہی نہیں۔ حافظ شیرازی کے دیوان کے خطی نسخے ایران ، ہندوستان ، افغانستان ، پاکستان اور ترکی کے کتب خانوں میں بھی موجود ہیں۔

کلیلہ و دمنہ :

کلیلہ و دمنہ اصلا ً سنسکرت زبان کا ایک شاہ کار ’پنچ تنتر‘ کا عربی زبان میں ترجمہ شدہ کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ ’’جانوروں کی زبان میں قصہ نویسی کا رجحان بہت قدیم ہے۔ یونانی قلم کار ایسوب(۵۸۴۔ ۶۲۰ق م) کو جانوروں کی زبان میں من گھڑت کہانیاں تیار کرنے والوں میں اولین مصنف کے طور پر جانا جاتاہے۔ ۔ ۔ دنیا کی مختلف زبانوں میں یہ سلسلہ جاری رہا ، ہندوستان میں نظم و نثر دونوں میں ’پنجتر‘ یا فصولِ خمسہ (Five principles) نامی کتاب تیار کی گئی ، یہ تیسری صدی قبل مسیح کی بات ہے جب وشنو شرما نے دنیا کے سامنے یہ ادبی سرمایہ سنسکرت زبان میں پیش کیا تھا، اس کتاب کو توقع سے بڑھ کر مقبولیت حاصل ہوئی اور جانوروں کی زبانی لکھے گئے قصوں (Beast Fables) کو ایک نمایا حیثیت حاصل ہوگئی۔ ۔ ۔ ‘‘ (کلیلہ و دمنہ ، مترجم ، مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی ، ص، ۶، قباگر گرافکس ، حید ر آباد ، سن اشاعت ، ۲۰۱۴ء) اس کو عربی زبان میں ’’عباسی دور کے فارسی نژاد نامور ادیب ، انشا پردازعبد اللہ بن مقفع نے پہلوی زبان (۱۰۶ھ۔ ۱۴۲ھ) نے پہلوی زبان سے کیا۔ آٹھوی صدی عیسوی کے وسط میں جب یہ ترجمہ سامنے آیا تو عربی زبان کے نثری ادب کو ایک قیمتی ادبی شاہ کار مل گیا۔ ۔ ۔ اکثرمحققین اس کو ابن مقفع کی ذاتی کاوشش قرار دیتے ہیں۔ ‘‘( کلیلہ و دمنہ ، مترجم ، مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی ، ص، ۶، قباگر گرافکس ، حید ر آباد ، سن اشاعت ، ۲۰۱۴ء)

الف لیلیٰ: ‎‎

کہانیوں کی مشہور کتاب جسے آٹھویں صدی عیسوی میں عرب ادبا نے تحریر کیا اور بعد ازاں ایرانی، مصری اور ترک قصہ گو نے اضافے کیے۔ پورا نام (اَلف لیلۃ و لیلۃ) ایک ہزار ایک رات۔ اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اسے کس نے لکھا؟ ’’ کسی ایک نے یا زیادہ نے یا یہ کہانیاں وہاں کے قصہ گو سنایا کرتے تھے جسے وہاں کے کسی مصنف نے لکھ کر ایک جگہ جمع کر دیا، اس بارے میں اب تک یقین سے کچھ نہیں کہا گیا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد یہ ایرانی، مصری اور ترک زبانوں میں پہنچی اور ان زبانوں کے قصہ گو اس میں اضافے کرتے رہے۔۔۔۔ بعد میں جب یہ کہانیاں ایک ہزار ایک راتوں پر پھیل گئیں تو اس کانام ’الف لیلۃ و لیلۃ‘ یعنی ’ایک ہزار ایک راتیں‘ ہو گی۔۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے بعد کسی لکھنے والے نے ان کہانیوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔۔۔۔ الف لیلہ کی کہانیوں کی کہانی کچھ یوں ہے کہ سمرقندکا ایک بادشاہ شہریار اپنی ملکہ کی بے وفائی سے دل برداشتہ ہو کر عورتوں سے ہی بدظن ہوگیا، اُس نے یہ دستور بنا لیا کہ روزانہ ایک نئی شادی کرتا اور دلہن کو رات بھر رکھ کر صبح کو قتل کرا دیتا۔ آخر اس کے ایک وزیر کی لڑکی شہرزاد نے اپنی صنف کو اس عذاب سے نجات دلانے کا ارادہ کیا اور اپنے والد کو بمشکل راضی کر کے شہریار سے شادی کر لی۔ ‘‘( بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ۲ اگست ، ۲۰۱۲۔ )

تاریخ ِطبری:

تاریخ ِطبری علامہ ابن جریر طبری متوفیٰ 310ھ کی مشہور تصنیف ہے۔ اس کتاب کا نام ’تاریخ الرسل والملوک ‘ یا ’تاریخ الامم و الملوک‘ ہے، البتہ تاریخِ طبری کے نام سے عوام و خواص میں مشہور ہے۔ علامہ طبری کی یہ تصنیف عربی تصانیف میں مکمل اور جامع تصنیف شمار کی جاتی ہے۔ ’’ یہ کتاب ان سے پہلے کے مؤرخین: یعقوبی، بلاذری، واقدی، ابن سعد وغیرہ کے مقابلہ میں اکمل اور اُن کے بعد کے مؤرخین، مسعودی، ابن مسکویہ، ابن اثیر اور ابن خلدون وغیرہ کے لیے ایک رہنما تصنیف بنی۔ معجم الادباء میں یا قوت حموی نے لکھا ہے کہ: ابن جریر نے اپنی اس تالیف میں۳۰۲ ہجری کے آخر تک کے واقعات کو بیان کیا اور بروز بدھ ۲۷؍ ربیع الاول ۳۰۳ہجری میں اس کی تکمیل کی۔ ‘‘( تاریخِ اسلام، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی، جلدا ول، ص ، ۲۴، ۲۳، مکتبۃ العلم، کراچی، س ن) ابن جریر نے اپنی تاریخ کی ابتدا حدوثِ زمانہ کے ذکر ، اول تخلیق یعنی قلم و دیگر مخلوقات کے تذکرہ سے کی، پھر اس کے بعد آدم علیہ السلام اور دیگر انبیاء و رسل کے اخبار و حالات کو تورات میں انبیاء کی مذکورہ ترتیب کے مطابق بیان کیا، یہاں تک کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تک تمام اقوام اور ان کے واقعات کو بھی بیان کیا ہے۔ اسلامی تاریخ کے حوادث کو ہجرت کے سال سے لے کر ۳۰۲ھ تک مرتب کیا اور ہر سال کے مشہور واقعات و حوادث کو بیان کیا۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں حدیث ، تفسیر ، لغت ، ادب ، سیرت ، مغازی ، واقعات و شخصیات ، اشعار، خطبات اور معاہدات وغیرہ کو خوبصورت اسلوب میں مناسب تر تیب کے ساتھ ہر روایت کو اس کے راوی اور قائل کی طرف (بغیر نقد و تحقیق کے ) منسوب کیا کہ اس کو کتاب اور فصول کے عنوان سے تقسیم کرکے ان کو علماء کے اقوال سے مزین کیا ہے۔

احیاء العلوم :

امام غزالی کی تصوف پر انتہائی معرکۃ الآراء کتاب ’احیاء علوم الدین‘ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ۔ ۔ ’’ جو اسرار و شریعت و طریقت، اخلاق و تصوف، فلسفہ و مذہب ، حکمت و موعظت، اصلاح ظاہر و باطن اور تزکیہ نفس کے موضوع پر بے مثل اور بے نظیر کتاب ہے جس کی اثر انگیزی کا عالم یہ ہے کہ اس میں جو بات کہی گئی ہے وہ قاری کے دل میں اترتی چلی جاتی ہے۔ ۔ ۔ ‘‘(احیاء العلوم ، امام غزالی ، مترجم، مولانا ندیم الواجدی، ص، ۵، دارالاشاعت ، اردو بازار کراچی، س ن )۔ دراصل یہ کتاب اخلاقیات سے متعلق ہے۔ امام غزالی نے اخلاقیات کے جو اصول واضح کیے ہیں اگر کوئی شخص بہ نظر غائر اس کتاب کا مطالعہ کرے تو اُس کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ اصل میں اخلاق ہوتاکیا ہے اور کس طرح اپنی زندگی ان اخلاقی اصولوں کو سامنےرکھ کر گزارنی چاہیے۔ علامہ شبلی نعمانی نے اپنی معروف تصنیف ’الغزالی ‘ میں احیاء العلوم کی مختلف خصوصیات لکھیں ہیں مثلا، اخلاقیات کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’ اخلاقی کی تعلیم میں ایک بہت بڑی غلطی ہمیشہ سے یہ ہوتی آتی ہے کہ اختلاف طبائع و امرجہ کا لحاظ نہیں کیا جاتا۔ ۔ ۔ کس بانی مذہب کے نزدیک اگر تجرد اور ترکِ اختلاط پسندیدہ ہے تو وہ چاہے گا کہ تمام عالم تارک الدنیا ہوجائے۔ ۔ ۔ لیکن چوں کہ انسانی طبعیتیں مختلف ہیں اس لیے اس قسم کی ایک طرفہ تعلیم کا اثر خاص طبائع تک محدود ہوجاتاہے کہ باقی ہزاروں آدمیوں کے حق میں بیکار ہوجاتاہے۔ اس نکتہ کو سب سے پہلے امام صاحب نے سمجھا ان کے اصولوں کے موافق اخلاق کی تعلیم ، اختلاف طبائع کے لحاظ سے ہونی چاہیے۔ جس شخص کا مزا ج قدرتی طور سے معاشرت پسند واقع ہوا ہو اس کو ہر گز تجرد اور ترک تعلقات کی تعلیم نہیں کرنی چاہیےبلکہ معاشرت کے وہ اصول و قواعد بنانے چاہییں جس کے ذریعے سے وہ نیکیاں ظہور میں آئیں جو معاشرت کے ساتھ مخصوص ہیں۔ ۔ ۔ اسی طرح جس کا مزاج قدرتاً تجرد پسند ہے اس کو ہرگز معاشرت کی ہدایات نہیں کرنی چاہیے بلکہ گوشہ گیری اور ترکِ تعلقات کے ایسے اصول سکھانے چاہیں جن سے وہ اعتدال سے متجاوز نہ ہونے پائے۔ ‘‘(الغزالی ، علامہ شبلی نعمانی، ص، ۸۶، ۸۵، اسلامی کتب خانہ اردو بازار لاہور، س ن) یہی وجہ ہے کہ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی ’احیاء العلوم‘ کا اپنا ایک مقام ہے۔

مقامات الحریری:

مقامات حریری علامہ ابومحمد قاسم بن علی بن عثمان الحریری (ابو محمد حریری) (المتوفى: 516ھ) کی شہرہ آفاق تصنیف ہے ان مقامات میں وہ خود کو شیخ سروجی کے نام سے استعمال کرتا ہے۔ مقامات حریری میں علامہ حریری نے عربی زبان و ادب اور الفاظ کا نمونہ دیا ہے۔ یہ کتاب جتنی زیادہ مغلق ہے اتنی زیادہ دلچسپ بھی ہے۔ داخل نصاب ہونے کی وجہ سے طلبہ علما کو اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مقامات (مقامہ کی جمع) ہے جس میں عام طور پر ایک ہیرو ہوتا ہے جو نئے نئے تجربات سے لوگوں کو چونکاتا رہتا ہے اور یہ سب کچھ زبان کی جادو بیانی اور سحر آفرینی سے ہوتا ہے۔ مقامات میں سب سے زیادہ مقبولیت ان پچاس مقامات ہے جو ’مقامات حریری‘ کے نام سے معروف ہیں۔ مقامات حریری کا درس ’ قرآن کریم اور احادیث شریفہ کی تفسیر وتشریح میں معاون ثابت ہوتا ہے‘۔ مقامات ِ حریری کے اردو تراجم اگر چہ کثرت سے بازار میں نظر آئیں گے لیکن دو مترجمین ایسے ہیں جنھوں نے ترجمہ کا حق ادا کیا ہے ایک ؛ابن الحسن عباسی ہیں جو کہ استاد ہیں جامعہ فارقیہ ، کراچی کے۔ اس کتاب کو مکتبہ فاروقیہ نے چھاپا ہے جس کا سن اشاعت ، ۲۰۱۱ ء ہے۔ اسی طرح دوسرا ترجمہ جس کا نام افادیاتِ شبیری رکھا گیا ہے اور اس کے مترجم علامہ مولانا حافظ شبیر حسین ہیں اور اس کو مکتبہ اعلیٰ حضرت نے چھاپا ہے اور اس کا سن اشاعت ۲۰۱۵ء ہے۔

دلائل الخیرات:

دلائل الخیرات درود پاک پر دنیا میں مشہور و مقبول ترین کتاب ہے۔ اس کتاب کی غرض و غایت بھی مصنف نے خود بیان کردی ہے وہ لکھتے ہیں کہ فالغرض فی ہذا الکتاب ذکر الصلوٰۃ علی النبی ؐوفضائلہا اس کتاب کو تحریر کرنے کی غرض و غایت حضور نبی اکرم پر درود پاک اور اس کی فضیلت کو بیان کرنا ہے۔ دلائل الخیرات کا اردو ترجمہ ’دعائے حزب البحر ‘ کے نام سے علامہ محمد حکیم شرف قادری نے کیا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply