Connect with us

آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ

سر سید احمد خان اور ہم (مذہبی تناظر میں) —- حافظ محمد زوہیب حنیف 

Published

on

اکتوبر کا مہینہ اگر لیاقت علی خان کی شہادت (16 اکتوبر 1951ء) کا ہےتو وہیں سر سید احمد خان کا یومِ پیدائش (16 اکتوبر 1817ء) بھی ہے۔ سر سید احمد خان ایک ہمہ جہت شخصیت تھی جنھوں نے برِصغیر کے مسلمانوں کے لیے کسی ایک میدان میں کام نہیں کیا بلکہ محققین سے یہ پوچھنا پڑتا ہے کہ آخر وہ کون سا میدان ہے جہاں سر سید احمد خان نے اپنے نشان نہیں چھوڑے۔ سیاسی میدان ہو، علمی میدان ہو یا مذہبی، ہرجگہ سر سید احمد خان کا کام اظہر من الشمس ہے۔ تینوں میدانوں میں سے دو میدان ایسے ہیں (سیاسی اور علمی ) جہاں ہر جگہ سر سید کے معتقدین نظر آتے ہیں جیسے سیاسی طور پر کہا جاتاہے کہ ’دو قومی نظریہ کی بنیا د رکھنے والے ہی آپ ہیں، جو کے آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بن گئی‘۔ سر سید برصغیر میں مسلم نشاتِ ثانیہ کے بہت بڑے علم بردار تھے۔ انہوں نے مسلمانوں میں بیداری، علم کی تحریک پیدا کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ وہ انیسویں صدی کے بہت بڑے مصلح اور رہبر تھے۔ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو جمود سے نکالنے اور انھیں با عزت قوم بنانے کے لیے سخت جدوجہد کی۔ آپ ایک زبردست مفکر، بلند خیال مصنف اور جلیل القدر مصلح تھے۔

انگریزوں نے جس طرح مسلمانوں سے نفرت کا اظہار کیا، اُس کا بھر پور جواب ’اسبابِ بغاوتِ ہند‘ کی صور ت میں لکھا، جس میں ہندوستانی عوام اور خاص کر مسلمانوں کو، جن پر سارا نچوڑ انگریزوں کی بدگمانی کا تھا، بغاوت کے الزام سے بری کیا اور اس خطرناک اور نازک وقت میں وہ تمام الزامات جو لوگوں کے خیال میں گورنمنٹ پر عائد ہوتے تھے، نہایت دلیری اور آزادی کے ساتھ پوست کندہ بیان کیے ہیں اور جو اسباب کہ انگریزوں کے ذہن میں جاگزیں تھے، ان کی تردید کی ہے اور ان کو غلط بتایا ہے۔ اسی طرح علمی میدان میں سر سید نے مغربی طرز کی سائنسی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے جدید اسکولوں اور جرائد کا اجرا کیا۔ سر سید احمد خان نے تمام ہندوستانی مسلمانوں کو اردو کو بہ طور زبانِ رابطۂ عامہ اپنانے کی کوشش کی۔

اردو کے عناصرِ خمسہ (سر سید احمد خاں، مولانا حالی، مولانا شبلی نعمانی، مولانا محمد حسین آزاد اور ڈپٹی نذیر احمد) میں ایک نام سر سید احمد خان کا بھی ہے۔ بہ قول علامہ شبلی نعمانی ”اردو انشاء پردازی کا جو آج انداز ہے اُس کے جد امجد اور امام سرسید تھے“ لیکن کیا وجہ ہے جب مذہب کی بات آتی ہے تو سر سید کے عام طور پر کسی بھی کام کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ اہمیت تو دور کی بات ہے جب بھی مذہبی گروہوں میں ان کا نام لیا جاتا ہے تو کچھ اس طرح کے جوابات ملتے ہیں: وہ نیچری ہیں۔ یہ معجزات کے منکر ہیں۔ ان پر تکفیر کا فتویٰ لگ چکا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ آخر ایسا کیوں؟ وجہ جاننے کی کوشش کرتےہیں؛ سر سید احمد خان وہ واحد شخص تھے جنھوں نے سر ولیم میور (سر ولیم میور ایک اعلی تعلیم یافتہ انگریز تها، جو برٹش حکومت کے دور میں غیر منقسم ہندوستان کی ایک ریاست کا گورنر مقرر ہوا انھوں نے ایک کتاب لکهی، جس کا نام ’ لائف آف محمد‘ تها۔ یہ انگریزی کتاب 1866 میں چار جلدوں میں شائع ہوئی – یہ کتاب بھی سابقہ مستشرقین کی ڈگر پر چلتے ہوئے اور بے سروپا روایات کو بھی سر آنکھوں پر جگہ دیتے ہوئے لکھی گئی ہے گو ذرا طرز استدلال مختلف ہے۔) کی مشہور کتاب ’لائف آف محمد ‘ (Life of Muhammad) کے جواب میں ’خطبات الاحمدیہ‘ جیسی معرکۃ الآراء کتاب تصنیف کی۔ جس میں نہایت علمی و تحقیقی انداز میں اس کی علمی بددیانیتوں کا جواب دیا۔ اس کتاب کی اشاعت نے یورپ بالخصوص برطانیہ میں اسلام اور حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے بارے میں بہت سارے ابہام دور کیے اور یورپین عوام کے لیے اسلام کا فلسفہ سمجھنے میں بہت معاون ثابت ہوئی۔ نیز مسلمانوں میں بھی اس کتاب کی اشاعت سے خوشی کی لہر دوڑ گئی اور مسلمان جو جدید تعلیم اور انگریز سرکار کی نوکری ترک کر رہے تھے وہ تعلیم اور نوکریوں کی طرف پلٹنے لگے۔ جس وقت جب ولیم مور کی کتاب کی تشہیر ہورہی تھی اس وقت کے جید علما کی طرف سے خاموشی چھائی ہوئی تھی اور مستشرقین کی طرف سے شادیانے بج رہے تھے، کیوں کہ ان کا خیال یہی تھا کہ جواب بہ مشکل ہی آئے، مگر خطبات الاحمد یہ میں جس طرح دلائل دیے گئے تھے، ولیم میور اور ان کے ساتھیوں کی تمام خوشیاں خاک میں مل گئیں۔ مذہب کے میدان میں یہ وہ کارنامہ تھا جس سے انکار کی قطعی گنجائش نہیں۔ آگے چل کر سر سید احمد خان نے مذہب کو سمجھنے کے لیے لوگوں کو دلائل کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی اور واضح کیا کہ دین، دلائل و براہین کا نام ہے نہ کہ آنکھ بن کر ہر چیز کو مان لینے کا۔ اس کو بات کو انھوں نے اپنی تفسیر ’تفسیر القرآن وھو الھدیٰ والفرقان‘ میں ثابت کیا۔ لیکن معاملہ اس کے بالکل برعکس نکلا۔ ہمارے ہاں عمومی مسئلہ یہ رہا ہے کہ سُنی سنائی باتوں پر فوراً یقین ہی نہیں بلکہ اُس پر ایک انتہائی کم زور عمارت بھی بنا لی جاتی ہے دراں حال یہ کہ اس عمارت کا ڈھانچہ عنکبوت (مکڑی) کے گھر سے بھی کم زور ہوتاہے۔ اپنی تفسیر میں سر سید احمد خان نے یقیناً اسلاف کی آرا سے انکا ر کیا ہے لیکن قرآن کی کسی آیت نے انکار نہیں کیا۔ اس ایک اس جملہ کو اگر سمجھ لیا جائے تو بات ہی کیا ہے۔ اس ضمن میں واقعہ منقول ہے، سر سید احمد خان کے ہم عصر مولانا قاسم نانوتوی سے ایک مرتبہ انبٹہہ کے ایک بزرگ پیرجی محمد عارف نے تکفیری فتووں کے حوالے سے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ سے کچھ بات چیت کی، اور اس بات چیت کی روشنی انہوں نے سرسید کو ایک خط لکھا، جواب خط میں سرسید نے اپنے عقائد کی وضاحت کی، یہ خط اور عقائد کے سلسلے میں وضاحتی تحریر حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے ملاحظہ فرمائی، اور اس کی روشنی میں ایک طویل مکتوب تحریر فرمایا جو’تصفیۃ العقائد‘ کے نام سے چھپ چکا ہے، اس مکتوب میں حضرت نانوتویؒ نے پیرجی محمد عارف کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے ’پیرجی صاحب یہ گنہ گار کبھی کسی سے نہیں الجھتا اور الجھے بھی تو کیوں کر الجھے، وہ کون سی خوبی ہے جس پر کمر باندھ کر لڑنے کو تیار ہو، ایسی کیا ضرورت ہے کہ اپنے عمدہ مشاغل کو چھوڑ کر اس نفسا نفسی میں پھنسوں، ہاں اس میں شک نہیں کہ سنی سنائی سید صاحب کی اولوالعزمیوں اور درد دل سوزئ اہل اسلام کا معتقد ہوں اور اس وجہ سے ان کی نسبت اظہار محبت کردوں تو بجا ہے، مگر اتنا ہی یا اس سے کچھ زیادہ ہی ان کے فساد عقائد کو سن سن کر ان کا شاکی ہوں اور ان کی طرف سے رنجیدہ ہوں‘۔ (تصفیۃ العقائد، ص:۵)۔

سر سید احمد خان نے قرآنِ مجید کی کسی آیت کا انکار نہیں کیا بلکہ اُس کی تفہیم و تبیین کی۔ مثلاً معجزات کی عام طور پر ایک روایتی تعریف یہ بیان کی جاتی ہے کہ ’اعلانِ نبوت کے بعد نبی سے ایسا عجیب و غریب کام ظاہر ہو جو عادتاً ممکن نہیں ہوتا وہ ”معجزہ“ کہلاتا ہے‘ سر سید احمد خان نے اس کی دوسری تشریح کی ہے یعنی وہ معجزات کو سائنسی دلائل سے ثابت کرتے ہیں اُن کے نزدیک فطرت کے قوانین میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح واقعہ معراج کے حوالے سے اگر سر سید احمد خان کی تحقیقی دیکھی جائے تو وہ بلاشبہ قابل ستائش ہے جہاں انھوں نے معراج سے متعلق تمام روایات کو یک جا کر دیا اور پھر واضح کیا کہ دیکھیں ان روایات میں تاریخ کے حوالے سے ہی کتنا اختلا ف ہے (ملاحضہ ہو، جلد ششم) وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح ایک بہت بڑا مذہبی طبقہ سر سید احمد خان کو ’نیچری‘ کہتا ہے۔ نیچری کہنے کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے قرآنی آیات اور نیچر کا ایک تال میل ملایا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ قرآن کا ایک بہت بڑا حصہ نیچر (وہ آیات جن کا تعلق نیچر (قدرت) سے ہے) سے متعلق ہے۔ البتہ اُ ن کے دلائل کا جواب دلائل جاسکتا تھا اور یہی علمی طریقہ ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ ہم نے سر سید احمد خان کی مذہبی خدمات کو دور نہیں بلکہ بہت دور کردیا ہے اور ان پر جس طرح کفر کے فتوے لگائے ہیں وہ علمی بے دیانتی ہے۔ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس کا دفاع کر سکتاہے وہ کیسے قرآنی آیات کا انکار کرے گا۔ لوگوں کو ان کے لکھے گئے اقتباسات کو سیا ق و سباق سے ہٹ کر بتائے جاتے ہیں جس سے مزید نفرتیں بڑھتی ہیں۔ اور معاملہ یہ ہے کہ ان کی تفسیر تو پڑھنے ہی نہیں دی جاتی ، حالا ں کہ اگر ان کی تفسیر کا بنظرِ عمیق مطالعہ کیا جائے (علمی اختلاف اپنی جگہ) تو یقیناً بہت سی ایسی چیزیں ملیں گی جو علم کی دنیا میں بہت کارآمد ہوگی، نئی نئی جدتیں پیداہوں گی۔ علمی مباحث سے ذہن ِ انسانی کو وسعت ملے گی۔

نوٹ: ادارہ کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Advertisement

Trending