اکابرین کی لڑائیاں، مفتی طارق مسعود اور انجینئر مرزا — حافظ محمد زوہیب حنیف

0

ایک عجیب سا ماحول بنا ہوا ہے۔ ایک طرف یہ کہا جارہا ہے کہ مفتی طارق مسعود نے تاریخی فتح حاصل کی ہے تو دوسری طرف یہ کہا جارہا ہے کہ آمنا سامنا پی ٹی وی پر ہوتو حق واضح ہوجائے گا۔

آئیے ذرا تفصیل سے بات کرلیتے ہیں:
معاملہ یہ ہے کہ اس وقت دونوں (ان دونوں کے ماننے والے بھی ) کے پیشِ نظر دین نہیں ہے بلکہ ایک طرف مسلک کا دفاع ہے تو دوسری طرف اس مسلک کی دھجیاں اڑانا مقصود ہے۔ ایسامیں کیوں کہہ رہا ہوں؟ کیوں کہ ایک طرف مشہور کتاب ’ المہند علی المفند‘ (یہ کتاب اصلاً فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خان کی کتاب حسام الحرمین کے جواب میں لکھی گئی ہے۔ حسام الحرمین مولانا احمد رضا خان کا مرتب کردہ ایک سوالنامہ اور اس پر حرمین شریفین کے مختلف فقہی مکاتب فکر کے سنی علما کا فتویٰ کفر ہے۔ یہ فتوی 1906ء میں مولانا احمد رضا خان نے عربی و اردو میں شائع کرایا۔ اس میں  اشرف علی تھانوی، محمد قاسم نانوتوی، رشید احمد گنگوہی، خلیل احمد انبہٹوی کی مختلف کتب کی عبارات کو بہ طور گستاخی پیش کر کے ان پر حکم شرع طلب کیا گیا تھا جس پر علمائے مکہ و مدینہ نے حکم کفر جاری کیا اور تصدیقات و تقریضات لکھیں۔ اس پر بعد میں برصغیر کے 268 علما نے بھی دستخط کیے۔ یہ کتاب چھپنے کے بعد برصغیر میں دیوبندی و بریلوی کی تخصیص شروع ہوئی، جس نے بعد میں دو مکتب فکر دیوبندی اور بریلوی مکتب فکر کو جنم دیا۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ اب مزید آگے بڑھتا گیا دیوبندی علمانے اس کا بھر جواب ایک کتاب کی صورت میں دیا جس کا نام ’المہند علی المفند‘ ”المہند“ کا معنی ہے ”ہندی تلوار“ اور ”المفند“ کا معنی ہے ” خطا کار اور جھوٹا“۔ گویا کتاب کے نام کا مطلب ہوا ”جھوٹے آدمی پر ہندی تلوار“. آپ اندازہ لگالیں کہ معاملہ کس قدر بگڑ گیا تھا ) کی متنازع عبارات کا دفاع (ہمارے ہاں عجیب معاملہ ہے کہ اگر اکابرین سے کچھ اس طرح کی باتیں نکل گئیں جو کہ علمی گرفت میں آگئیں تو بہ جائے اس کے اس سے برأت کا اعلان کریں بلکہ بدقسمتی سے اس کے دفاع میں موٹی موٹی کتابیں لکھ دی جاتی ہیں اور اُن کتابوں کا حال یہ ہوتاہے کہ اگر تمام کتب سمندر میں پھینک دی جائیں اور پورا سمندر سیاہی سے کالا ہوجائے تو بھی دین کو کوئی نقصان نہ ہو۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ابھی تک ہم نے نہ ماضی سے کچھ سیکھا اور نہ ہی حال سے اور اب پتہ نہیں یہ سلسلہ کب تک چلے گا) جب کہ دوسری طرف اس کتاب کی متنازع عبارات کی گرفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا کر یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ دیکھو دین کو کس طرح توڑ موڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ یہاں ایک بات اور واضح کردوں کہ یہ بُرا بھلا ہمارے اکابرین نے ہی ایک دوسرے کو لکھا ہے، کسی نے دجل کہا ہے تو کسی نے مبحوط الحواس تو کسی نے اس سے بھی بڑھ کر، مزید نام لکھنے کی جرأ ت نہیں (افسوس یہ ہے کہ یہ سلسلہ سو سال پہلے کا نہیں ہے بلکہ یہ تو ہزار سال سے چل رہا ہے) اور پھر کہا جاتا ہے کہ اتحادِ امت ہو۔ کتنے نادان ہیں ہم سب! اس سے بھی بڑی نادانی یہ ہوتی ہے ہرجمعہ، عیدین اور دوسرے مواقع پر کہا جاتاہے کہ ’اے اللہ! امت میں اتحاد پیدا کر‘ یا للعجب! دین کے بنیادی عقائد، معاملات(شریعت) اور اخلاقیات کی تعلیمات سے تو ہم کہیں دور نکل گئے ہیں۔ منبر اب دوسرے مقاصد کے لیے تو استعمال ہورہا ہے لیکن دین کے لیے نہیں۔

جب یہ رویہ رہے گا تو اتحادِ امت کون سا ہوگا (ہو بھی نہیں سکتا)؟ کیوں کہ مفتی صاحب کے پیشِ نظر بریلوی مکتب کےخلاف لکھی جانے والی کتاب کا دفاع ہے۔ تو دو جمع دو چار والا معاملہ یہ ہوا کہ بریلوی مکاتب فکر ان لوگوں کے لیے تو بدعقیدہ ٹھہرا۔ یعنی ملک کی ایک بڑی جماعت کو الگ کردیا گیا (نوٹ! کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ بریلوی حضرات خاموش ہیں بلکہ وہاں بھی یہی معاملہ ہے۔ اُن کے نزدیک دیوبندی بدعقیدہ ہیں۔ لیکن ابھی بات ان دونوں حضرات کی ہے اس لیے معاملہ یہی تک رکھا ہوا ہے) اب اس بحث میں ہمارے اہلِ حدیث بھائی بھی کود پڑے ہیں کیوں کہ بریلوی مسلک سے انھیں بھی مسئلے ہیں تو وہ بھی مفتی صاحب کے ہم نوا ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف مرزا صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ وہ مختلف مسالک کی کتب کھولتے ہیں اور ان میں سے جو متنازع عبارات ہیں ان پر بحث کرتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ دیکھو اصل میں یہ تمام حضرات ہی غلط ہیں۔ تاریخ کے معاملے میں جب وہ بحث کرتے ہیں تو وہاں بھی ان کے پیشِ نظر اتحادِ امت نہیں ہوتا بلکہ ایسا محسوس ہو تا ہے کہ وہ کسی مخصوص گروہ کی طرف داری میں بہت آگے نکل گئے ہیں۔ ایک صاحب منبر کا سہارا لیتے ہیں تو دوسرے صاحب بھی تقریباً اسی طرح کے سہارے سے آگے جا رہے ہیں۔

کیا ہی اچھا ہوتا کہ دونوں دین کے بنیادی مقدمات لوگوں کو سکھاتے۔ اس طرح کی متنازع کتب سے اجتناب کرتے ہوئے آگے کی طرف بڑھتے(کیوں کہ ان کتب کے مطالعہ نہ کرنے سے نہ ہی ہمارے دین میں اضافہ ہوگا اور نہ ہی ہم کافر ہوں گے)۔ کیا ہی اچھا ہوتاکہ تاریخ کے تمام حقائق بہ غیر کسی طرف جھکاؤ کے واضح کیے جاتے تاکہ امت کو تاریخ کے مختلف پہلوؤں سے آگاہی ہو تی۔ کیا ہی اچھا ہوتا مسلک سے ہٹ کر صرف عملی مسلمان ہونے کی ترغیب دی جاتی۔ لیکن ایسا نہیں ہورہا اور شاید ہوگا بھی نہیں اُس وقت تک، جب تک یہ دونوں خود نہ چاہیں گے۔ (فدوی کا خیال یہی ہے کہ یہ سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ ایک دوسرے کو لعن طعن کے ساتھ مزید طویل ہوگا) اس موقع پر نوجوانوں کو سوچنا چاہیے کہ کسی کی بھی جیت سے کیا دین کی ترویج ہوگی یا ان کے پیروکاروں کی؟ اگر صرف ان کے پیروکاروں کی ہی جیت ہونی ہے تو دین کا مطالعہ خود کریں۔ قرآن سے رجوع کریں، قرآن تو یہ کہتا ہے کہ ’ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ‘ (ص:۲۹) (یہ قرآن) ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور وفکر کریں اور عقل مند نصیحت حاصل کریں۔

نتیجہ یہ نکلا کہ :

  • اگر آپس میں اتحاد قائم کرنا ہے تو اس طرح کی کتب سے اعلان برأت کیا جائے
  • ایک دوسرے کے علمی دلائل کو علمی ہی رہنے دیا جائے
  • قرآن کو اصل ماخذ مانا جائے
  • لوگوں کو دین کے بنیادی مقدمات سکھائے جائیں۔
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply