ابلیس کے پجاری —– فارینہ الماس

1

اسلام آباد کے ایک ہائی پروفائل مقدمے، نور مقدم اور ظاہر جعفر کی کل کی عدالتی کاروائی کے دوران ظاہر جعفر نے کہا کہ ”نور قربان ہونا چاہتی تھی۔ اور میں نے اس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اسے قربان کیا“ اس کیس کے دوران ایسے خدشات کا اظہار پہلے بھی کیا جاتا رہا کہ ہوسکتا ہے ظاہر جعفر کا تعلق ایلومیناٹی تنظیم سے ہو؟ لیکن اس کے اس حالیہ بیان نے اس خدشے میں نئے سرے سے جان ڈال دی ہے۔ گو کہ عدالت میں اس کا تعلق ایسی کسی تنظیم سے ثابت کرنا یا اس کا ذکر بھی کرنا بلکل اسی طرح ناممکن ہے جس طرح گذشتہ کچھ عرصہ پہلے پاکستان میں چائلڈ پورنو گرافی کا ڈارک ویب سے تعلق اور اس سلسلے میں ڈارک ویب سے جڑے ہوئے کچھ طبقہء خاص کے نام سامنے آنے پر جلد ہی کیس سے صرف نظر اختیار کی جانے لگی۔ عدالت یا قانون اس بات کو ثابت کرے یا نہ کرے لیکن تاریخ کے اس سچ کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ ”فری میسن تحریک“ کے کارندے پاکستان میں کام کرتے رہے ہیں۔ یہ تنظیم، پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے ہی یہاں اپنا کام کر رہی تھی۔ لاہور میں چیئرنگ کراس کی طرف جاتے ہوئے ریڈ کریسنٹ کی عمارت کے دائیں جانب واقع سفید عمارت میں ہونے والی سرگرمیوں سے گئے وقتوں کے لوگ ضرور آشنا ہوں گے۔ جسے لوگ بھوت بنگلے سے منسوب کیا کرتے تھے۔ کراچی میں فری میسن ہال جو عبداللہ ہارون روڈ پر واقع ہے جہاں ایک جانب گورنر ہاؤس، دوسری جانب ٹوئنٹی چرچ اور جعفر برادرز کی ایک بڑی عمارت موجود ہے۔ وہ بھی کبھی شیطانی سرگرمیوں کا مرکز رہ چکا ہے۔ یہ اب محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے زیر استعمال ہے۔ راولپنڈی میں سکاٹ لینڈ کی سرپرستی میں چلائے جانے والا لاج اور ایسے ہی دوسرے لاجز اس تنظیم کی سرگرمیوں کا مرکز رہے ہیں۔ یہ وہ لاجز تھے جہاں شیطان کی پوجا اور دیگر شیطانی سرگرمیوں کی سرپرستی بھی کی جاتی تھی۔ ذوالفقارعلی بھٹو کے دور میں ان کی ایسی مکروہ سرگرمیوں کا پتہ لگایا گیا اور اس تنظیم کو کام کرنے سے روک دیا گیا۔ ظاہر جعفر جس قربانی کا ذکر شعوری یا غیر شعوری طور پر کر رہا ہے اور اسے اسلام سے جوڑ رہا ہے۔ ہر عاقل و بالغ شخص جانتا ہے کہ ایسی انسانی قربانی کا تصور اسلام میں نہیں البتہٰ شیطان کی پوجا کرنے والوں میں ضرور پایا جاتا ہے۔

مصنفہیہ دنیا ظاہری طور پر جس قدر پرکشش اور دلکش دکھائی دیتی ہے اس کے اندر اتنے ہی گھناؤنے اور سفاک راز پوشیدہ ہیں۔ ٹیکنالوجی کی ترقی ہی کو آڑ بنا کر انسانی خون کے کتنے بھیانک کھیل کھیلے جا رہے ہیں اس سے بہت کم ہی لوگ واقف ہیں۔ بہت سوں کے نزدیک تو ایسی کہانیاں خودساختہ اور بعید العقل ہیں۔ لیکن اب ایسے بہت سے ہولناک انکشافات ہورہے ہیں جو اس گہرے راز کا پردہ چاک کرنے کا باعث بننے لگے ہیں۔ ایسے ہی کچھ بھیانک راز، عالمی تنظیم”فری میسن تحریک“ اور”ایلومیناتی“ تنظیم کی سرگرمیوں میں پوشیدہ ہیں۔ ان تنظیموں کا تعلق یہودیوں سے ہے۔ ان کے ممبرز وہ لوگ ہیں جو شیطان کی پوجا کرتے ہیں۔ یہ خود کو شیطان کا غلام، اور دنیا کی تمام تہذیبوں، مذاہب اور اقوام سے برتر مانتے ہیں۔ ان کا ہدف اعلیٰ عہدوں پر فائز امرائ، وزرائ، صدور، وزیراعظم اور مذہبی شخصیات اور بڑے بڑے تاجر ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ امریکہ کے صدر بھی اس تنظیم کا رکن رہ چکے ہیں۔ گو کہ ان کی تعداد انتہائی قلیل ہے لیکن ان کے وسائل اور رسائی حد سے زیادہ مضبوط اور متحرک ہیں۔ اس وقت یہ تمام دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔

ان کی تاریخ کبالہ جادو اور بنی اسرائیل سے وابستہ ہے۔ کبالہ جادو بابل تہذیب کے مخصوص اعدادوشمار اور علامات پر مبنی جادوئی علم کا نام تھا، جو کہ دراصل شیطانیت کے کیمیائی جادو سے ممکن ہوتا تھا اس میں ہپناٹزم کے ذریعے انسان کے دماغ اور اس کی فکر کوکنٹرول کیا جاتا۔ ایسی قوتوں اور عملیات میں بنی اسرائیل جو کہ حضرت یعقوبؑ کی نسل میں سے تھے، کا کوئی ثانی نہ تھا۔ حضرت یوسفؑ نے مصر میں اپنے دور حکومت کے دوران اپنی قوم بنی اسرائیل کو مصر میں آباد کیا تو یہ جادو مصر تک محیط ہو گیا۔ اس دور میں فرعون اپنے دربار میں دنیا کے بڑے بڑے جادوگروں کو اکٹھا کیا کرتے جو انہیں شیطان سے رابطے میں رکھنے کا سبب بنتے۔ سامری جادوگر جس کا ذکر قرآن پاک میں بھی ہے، اسے فرعون نے ہی حضرت موسیٰ کا مقابلہ کرنے کے لئے بلوایا۔ بنی اسرائیل جادوگروں سے دنیا پر حکمرانی کے حربے سیکھا کرتے۔ ان سے ایسی ایسی ایجادات کرواتے کہ جنہیں آج بھی سائنس حیرت سے تکتی ہے۔ اہرام مصر کی تعمیر بھی ایک ایسی ہی ایجاد ہے جو انسان کو ورطہءحیرت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ حضرت سلیمانؑ علیہ السلام، اپنے والد حضرت داؤدؑ کے بعد فلسطین کے حکمران بنے تو قبل مسیح 961سے قبل مسیح 922 کے دوران انہوں نے جنات کی مدد سے یہاں ہیکل سلیمانی تعمیر کروایا۔ ان کے دور میں بنی اسرائیل کا مرکز متحدہ فلسطین تھا۔ ہیکل سلیمانی کی تعمیر میں حصہ لینے والے مزدور بیرون ملک سے منگوائے گئے تھے۔ جنہوں نے ہیکل سلیمانی کے خفیہ تہہ خانے بھی تعمیر کئے جہاں بہت سے راز رکھے گئے۔ حضرت سلیمانؑ کی قوم بنی اسرائیل کا براہ راست جنات اور شیاطین سے رابطہ ہوا کرتا تھا۔ قرآن کریم میں سورہ انبیاءمیں حضرت سلیمان کے بارے اللہ کا فرمان ہے کہ ”ہم نے بہت سے شیاطین بھی ان کے تابع کئے تھے۔ جو ان کے فرمان سے غوطے لگاتے اور اس کے سوا بھی بہت سے کام کرتے“۔ حضرت سلیمانؑ کے پاس جنات کی طاقت تو تھی لیکن وہ اپنی قوم کو شیطانی جادو نہیں سکھاتے تھے بلکہ وہ قوم ان کی حکم عدولی کرتے ہوئے شیطانی جنات کے رابطے میں رہا کرتی۔ ان کی وفات کی بعد یہودیوں نے جادو کے علم کو روحانی علم کا درجہ دے دیا۔ یہ لوگ دجال کی بطور مسیحا آمد کے منتظر ہیں۔ ان کے بقول دجال کی آمد کی نوید انہیں شیطان نے ہی سنا رکھی ہے۔ اپنے اسی عقیدے کی بنا پر انہوں نے حضرت عیسیٰؑ کو مسیحا ماننے سے انکار کیا تھا۔

اس قوم کے شیطان اور شیاطنی طاقتوں سے تعلق کو واضح کرنے کے لئے یہ بہت بڑی مثال ہے کہ جب یہ مصر میں آباد ہوئی تو جادوگری میں مصری جادوگروں سے بھی بہت آگے نکل گئی۔ جس کا اظہار انہوں نے فلسطین میں آباد ہونے کے بعد کیا۔ ان کی شیطانی طاقتیں ہی ان کا غرور تھیں جنہوں نے اس قوم کو سرکش اور فسادی بنایا۔ فلسطین میں ہی انہوں نے جادو کی کتابوں کو مقدس کتابوں کا درجہ دلوایا۔ وہ ایسی شیطانی عملیات کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتی تھی۔ ان کتابوں کو انہوں نے ہیکل سلیمانی میں رکھ دیا۔ اس پر اللہ کے حکم سے دو بار حملہ ہوا جس نے اسے تباہ وبرباد کردیا۔ اسی دوران ڈیڑھ لاکھ یہودی بھی قتل ہوئے۔ جادو کی سبھی کتابیں اس کے ملبے میں دفن ہو گئیں۔ گیارہ سو اٹھائیس عیسوی میں بچ رہنے والے یہودیوں نے ایک تنظیم قائم کی جس کا نام ”نائٹ ٹمپلرز“ رکھا گیا۔ اس تنظیم کا مقصد ہیکل سلیمانی کے ملبے میں دفن جادو کی کتابوں اور دجالی ریاست کے قیام کے لئے وسائل اور اندھی طاقت کا حصول تھا جس میں یہ قوم کامیاب رہی۔ اسے ماننے والے لوگ جلد ہی دنیا کے بڑے بڑے وسائل پر قابض ہوگئے۔ یہ انتہائی تجربہ کار لوگ تھے۔ جن کی ایک خاص تربیت ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی تنظیم کو میسن گلز نامی تنظیم میں مدغم کر لیا۔ اور اپنا نام فری میسن رکھ لیا۔ فری میسن دراصل یہ ان مزدوروں کو کہتے ہیں جنہوں نے ہیکل سلیمانی کی تعمیر میں حصہ لیا۔ اس تنظیم نے بڑی محنت سے برطانیہ میں اپنا جال بچھایا۔ اور اپنی حیثیت کو منوایا۔ 1128میں اسے ایک مذہبی تنظیم کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اور انہیں تمام یورپین قوانین سے استثنیٰ حاصل ہوگیا جس سے انہوں نے اپنی جائیدادیں اور جاگیریں بناکر دنیا کے وسائل پر قابض ہونے کا اپنا خواب پورا کرنا شروع کیا۔ ان کے مقاصد دنیا میں جنگوں کو بڑھاوا دینا، سودی کاروبار کا جال بچھانا، عالمی مالیاتی اداروں کی صورت دنیا پر حکمرانی قائم کرنا، جنس پرستی اور مادی خیالات کو پھیلانا تھا۔ اور اپنے ان مقاصد میں یہ تنظیم پوری طرح کامیاب بھی رہی۔ اسی کی کاوشوں سے مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگوایا گیا اور انہیںمسلنے اور کچلنے کے لئے تمام تر سازشوں کا کھیل کھیلا گیا۔ ان کے خلاف جنگ سے ہی یہ تنظیم اپنے مہنگے ہتھیار بیچنے میں اور معیشت پر کنٹرول میں کامیاب رہی۔ 1776میں فری میسن نے ایک نئی تنظیم قائم کی جس کا نام ”ایلومیناتی“ ہے۔ جس کا مطلب ہے روشنی کا مینار۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کے پاس جو علم ہے وہ دنیا کا بہترین علم ہے اور یہ علم عام انسانوں کی رسائی میں نہیں آنا چاہئے اس لئے یہ تنظیم ایک خاص رازداری کے تحت کام کرتی ہے۔ بائبل میں ابلیس کو”لو سیفر“ کا نام دیا گیا ہے جس کا مطلب روشنی کا مینار ہے اور یہ نام اس وقت کے لئے دیا گیا تھا جب ابلیس اللہ کا فرماں بردار تھا۔ لیکن یہ تنظیم آج بھی شیطان کو یہی نام دیتی ہے۔ اور اسے تمام تر روشنی اور علوم کا منبع مانتی ہے۔ فری میسن کا بانی ”البرٹ پائیک“ تھا۔ یہ وہ شخص تھا جس کا کہنا تھا کہ”تیسری عالمی جنگ کا سبب مذہب اسلام بنے گا۔ “لیکن اس نے یہ دعویٰٰ اس وقت کیا تھا جب ابھی دنیا میں دو عالمی جنگیں برپا نہ ہوئی تھیں۔ اس کی کتاب ”مورلز اور ڈوگما“ کو یہ لوگ اپنی رہنمائی کے لئے پڑھتے ہیں۔ ابلیس کی پوجا کرنے والوں میں سب سے بڑا درجہ 33ڈگری کا درجہ مانا جاتا ہے۔ یہ لوگ کرنٹ کو ”لوسیفر“ کی روشنی سے تشبیہہ دیتے ہیں اس لئے اسے ماننے والوں کے وجود پر یہ سائن ضرور بنا ہوتا ہے۔ پوری دنیا کا صرف ایک فیصد ان لوگوں پر مشتمل ہے جو طبقہءامراءسے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ لوگ تیرہ نسلوں سے چلے آرہے ہیں۔ یہ لوگوں کو بآسانی اپنی تنظیم کا حصہ نہیں بننے دیتے لیکن اپنی تنظیم کا مہرہ ضرور بنا لیتے ہیں۔ یہ مہرے اگر اس تنظیم سے نکلنا چاہیں تو صرف موت ہی انہیں ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ موت بھی وہ جو انتہائی بھیانک اور لرزہ خیز ہو۔ ان کی تیرہ نسلوں میں دو خاندان ”ڈیوڈ فلپ“ اور ”روتھس چائلڈ“ کے تھے جو پوری دنیا کی معیشت کو کنٹرول کرتے رہے۔ یہ کٹر یہودی خاندان ہیں۔ بظاہر یہ لوگ دنیا میں فلاحی کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن پس پردہ یہ شیطان کے مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔ امریکی ریاست لاس اینجلس میں ان کی ایک بہت بڑی عبادت گاہ ہے جہاں ان کے مذہبی اجتماعات ہوتے ہیں۔ ان میں یہ بہت سی شیطانی رسومات ادا کرتے ہیں جیسے فنا کی رسم، خون بہانے اور خود اذیتی کی رسومات۔ جسم پر کرنٹ لگانا، تیز دھار آلے سے کٹ لگانا لوہے کی سلاخیں جسم سے گزارنا وغیرہ۔ ان پجاریوں کا ہیڈ کوارٹر امریکی ریاست میسی چوسٹس میں ہے پورے امریکہ میں ان کی تقریباً چوبیس عبادت گاہیں ہیں۔ یہ خود کو عقلیت پسند مانتے ہین۔ اجتماعات میں مخصوص قسم کا شیطانی لباس پہنتے ہیں اورمخصوس موسیقی کی دھنیں چلاتے ہیں۔ یہ لوگ پرکار اور مثلث کی شکل کو اپنی مذہبی علامت مانتے ہٰیں۔ کبالہ جادو کو ماننے والوں نے احرام مصر اسی وجہ سے تکونی شکل میںبنائے تھے۔ یہ لوگ شیطان کو خوش کرنے کے لئے جانوروں اور انسانوں کی قربانی دیتے ہیں۔ ان کی اجتماعی علامتی نشان آنکھ ہے جو کہ دجال کی آ نکھ ہے ان کا مرکز اسرائیل اور امریکہ ہے۔ مقصد تمام مذاہب کا خاتمہ اور ایلومیناتی مذہب کا راج ہے۔ یہ لوگوں کو دولت اور طاقت کا لالچ دے کر تنظیم کا حصہ بناتے ہیں۔ اپنے ممبرز کی برین واشنگ کرتے ہیں۔ اور اس طرح کرتے ہیں کہ انہیں خود بھی اس کا علم نہیں ہو پاتا۔ یہ تنطیم عالمی سطح پر جاسوسی کے فرائض بھی ادا کرتی ہے۔ یہ لوگ جنگیں برپا کرنے اور منشیات کے استعمال کو پھیلانے پر خاص توجہ دیتے ہیں۔ تاکہ ذہنوں اور معیشت دونوں کو کنٹرول کرسکیں۔ یہ انٹرنیٹ اور میڈیا کو اپنے مقاصد کے لئے بہت خاص اور رازدار طریقے ستے استعمال کرتے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک بڑی اہم کڑی ”ڈارک ویب“ ہے۔ جسے عام سرچ انجن ڈھونڈ نہیں پاتے۔ یہ انتہا کی رازدادی سے اپنا سسٹم چلاتی ہے۔ اس ویب کے زریعے لوگوں کو ڈرگز سپلائے کی جاتی ہیں جو کہ ان کی بنائی گئی خاص لیبارٹریوں میں تیار ہوتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسے کے بیج کو خاص طور پر انسانی خون کی آبیاری سے سینچا جاتا ہے۔ ڈارک ویب کا کارندہ ہی ڈرگ سپلائر بھی ہوتا ہے۔ اس سے ملتے جلتے نشے ہی کی سرعام دستیابی پاکستان میں آئس کے نشے کی صورت کی جارہی ہے۔ جو انسان کا ذہن ماؤف کر کے اسے انتہا درجے کا ظالم اور بے حس بنا دیتا ہے۔ اسے انسانی خون کو دیکھ کر لطف ملتا ہے۔ ڈارک ویب پر انسانی گوشت کی رسد و طلب کا کام بھی ہوتا ہے۔ جسے کینی بولزم بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں آدم خوروں کا ایک فورم بنایا گیا ہے۔ جہاں اراکین اپنے جسم کے کسی حصے کا گوشت بیچ سکتے ہیں۔ یہاں ایسی پوسٹیں نظر آتی ہیں کہ ”کیا کوئی میری ران کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟“یہ بھی دعوت دی جاتی ہے کہ اسے آپ خود بھی کاٹ سکتے ہیں یا خود اپنے سامنے کٹتا ہوا دیکھ بھی سکتے ہیں۔ یہودیوں کے ایک ریستوران نے ڈارک ویب پر یہ اشتہار دیا کہ یہاں انسانی دماغ کی لذیذ ڈش بھی دستیاب ہے یا یہاں انسانی آنکھ، کان یا دوسرے اعضاءکی خریدو فروخت بھی ہوتی ہے۔ جس کے ریٹ لکھ دئے جاتے ہیں۔ فری میسن کے 666کارندے یا جادوگر انسانی گوشت کی خریدو فروخت کا کام ڈارک ویب کے زریعے ہی کرتے ہیں۔ یہ اپنی شکل کسی پر عیاں نہیں کرتے۔ یہاں انسانی کھال سے پرس، جوتے، مردانہ بیلٹیں وغیرہ بھی فروخت کی جاتی ہیں۔ یہاں لین دین کے لئے بٹ کوائن کی کرنسی استعمال ہوتی ہے۔ آرڈر خفیہ سرپرائز بکس کے زریعے مہیا ہوتا ہے۔ اگر آرڈر کرنے والا پولیس کو مطلع کردے یا وہ آرڈر لینے سے انکار کردے تو پھر اس کا انجام بھیانک موت کے سوا کچھ نہیں۔ یہاں انسانی کھال اتارنے کی ویڈیوز بھی شیئر کی جاتی ہیں۔ یہودیوں کے یہ جادوگر انسانی گوشت کھا کر دراصل اپنی شیطانی قوتوں کو بڑھاتے ہیں۔ اس کاروبار پر دنیا کی بڑی بڑی سائیٹس پر آرٹیکلز لکھے جا چکے ہیں۔ بزنس ان سائیڈر، ریڈ ایٹ، بی بی سی اور ڈی ڈبلیو وغیرہ پر اس کا مواد موجود ہے۔ ڈارک ویب پر پورنو گرافی خصوصاً معصوم بچوں سے جنسی زیادتی کی ویڈیوز کا کام بھی ہوتا ہے۔ اس دھندے میں دنیا بھر سے کئی ہائی پروفائل شخصیات کا تعلق بھی سامنے آتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک اس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکا۔

ایلومیناتی کی دنیا سے منسلک لوگ شیطان کو راضی کرنے کے لئے ہیلوون نائیٹ مناتے ہیں۔ یہ اپنے نشے اور کینی بولزم کے ذریعے انسانی دماغ کو اس سطح پر لے جاتے ہیں جہاں انسان محض ایک زومبی بن کر رہ جاتا ہے پھر وہ کسی کی آ ٓنکھ نکالے یا گلہ کاٹ کر تن سے جدا کردے اس کے لئے یہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ یہ حملہ اس برق رفتاری سے کرتے ہیں کہ اس سے بچنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ امریکہ میں اس تنظیم کے ممبران کی تعداد اسی لاکھ ہے۔ ان کے پاس کھربوں ڈالرز کے فنڈز ہیں۔ یہ ہر وقت شیطان کی تسبیح کرتے ہیں اور اس سے غیبی مدد مانگتے ہیں۔ ان کا اولین مقصد دجالی ریاست کا قیام ہے۔ اور ان تنظیموں کے پیچھے یہودیوں کی ہی طاقت اور دماغ ہے۔ یہ پوری دنیا کو دجالی ریاست میں بدلنا چاہتے ہیں۔ دنیا میں ہر جگہ ان کی شیطانی سرگرمیوں کو نفرت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اس کے باوجود ان سرگرمیوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔

پاکستان میں ماضی میں اسلام آباد، راول پنڈی اور لاہور میں فری میسن کی تنظیم کی سرگرمیوں کے ادارے موجود تھے۔ جنہیں وقتاً فوقتاً حکومتوں نے کام سے روک دیا۔ ستر کی دہائی میں ان مراکز کا انکشاف اور ان کی سرکوبی کا انتظام ہوا۔ لیکن اب ایک بار پھر یہ فتنہ جنم لے چکا ہے۔ کچھ ایسی پوشیدہ رپورٹیں سامنے آرہی ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ یہاں بھی شیطان کے چیلے سرگرم ہیں۔ جو ڈارک ویب جیسے شیطانی گروپوں کے لئے کام کر رہے ہیں۔ جب یہاں چائلڈ پورنو گرافی کے کیسز سامنے آئے تو کچھ لوگوں کے نام منظر عام پر آئے۔ معاشرے کے اس ناسور پر تاحال کسی کی نظر ہے نہ فکر۔ ہماری نئی نسل جو ڈیجیٹل دنیا میں الجھی ہوئی ہے۔ وہ کس وقت اس دنیا کے گھناؤنے کاروبار سے منسلک ہو جائے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ ہمارے یہاں جس قدر بے رحم اور غیر انسانی واقعات سننے میں آرہے ہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ ایسے افراد دجالی سرگرمیوں کا حصہ بننے لگیں۔ ہمیں بطور ایک سماج اور ایک ریاست کے اب اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا ہو گا ورنہ کہیں نہ کہیں ہم بھی اس دجالی ریاست کی تعمیر کے ذمہ دار بن جائیں گے۔

نوٹ: ادارہ کا مصنفہ کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. حیران کن انکشافات ہے. کیا عام آدمی ان معلومات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ؟ اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر ان سے بچاو کی صورت ناممکن ہے

Leave A Reply