جنابِ انجینئر بمقابلہ مُفتی محترم —- یوسف ابوالخیر

0

مفتی طارق مسعود صاحب کے دورہ جہلم کے بعد جس چیز کا بے چینی سے انتظار تھا وہ جنابِ انجینئر محمد علی مرزا کا جوابی وڈیو تھا جو انہوں نے داغ دیا۔

گوکہ کُشتی کے اس داؤ پیچ میں انجینئر صاحب ایک بار پھر مُفتی محترم پہ حاوی نظر آرہے ہیں، مگر سچ پوچھیے تو انجینئر صاحب کے جواب نے مطمئن کرنے کے بجائے مزید مضطرب اور بے چین کردیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انجینئر علی صاحب کو خدا نے بعض خاص صلاحیتوں سے مالامال فرمایا ہے۔ ان کا مطالعہ، ان کا مشاہدہ، حافظہ، موضوع پر دسترس، حاضر دماغی، مدلل جوابی، مخالف کے مقابل دلیل کے انبار لگانا اور زیرِ بار کرلینا، سامعین کو قائل اور مائل کرلینا اور لوگوں کے دل و دماغ پر اپنا سکہ بٹھا دینا، یہ وہ خصوصیات ہیں جو نایاب ہیں اور جو خوش قسمتی سے انجینئر صاحب کے اندر بدرجہ اُتم پائی جاتی ہیں۔ اس پر سوا سیر یہ کہ انجینئر صاحب خیر سے فرقہ پرست یا اکابر پرست بھی نہیں جو انہیں مذہبی طبقے میں مزید ممتاز کر دیتا ہے۔

لیکن اس سب کے ساتھ ساتھ ان خصوصیات اور نعمتوں کے کچھ تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ جیسے کہ علم کا لازمی تقاضہ حِلم اور بُردباری بھی ہے، عاجزی و انکساری بھی ہے، نرمی اور خاکساری بھی ہے ورنہ فصاحت و بلاغت تو عامر لیاقت صاحب میں بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔

یہ وہ مرکبات ہیں جو علم کے ساتھ رگڑ کھا کھا کے آپ کو عالم الغیب کا پسندیدہ اور اس کی مخلوق کے لیے نافع بندہ بناتے ہیں۔ لیکن یہ اتنی بھاری بھرکم خصوصیات ہوتی ہیں جن کا وزن ڈھونا ہر کسی کے بس کی بات نہیں؛ جب اتنا وزن کاندھوں پہ پڑ جائے تو عموماً قدم ڈگمگا جاتے ہیں، بندہ خود پسندی کا شکار ہوجاتا ہے، نرگسیت کا مرض لاحق ہوجاتا ہے، مبنی بر اخلاص تنقید بھی اس کی طبعِ نازک پر گراں گزرنے لگتی ہے۔ افسوس کہ یہی کچھ انجینئر محمد علی مرزا کے کیس میں بھی نظر آرہا ہے۔

انجینئر صاحب اپنے آپ کو مولا علیٰ رض علیہ السلام کا سچا عاشق، مولانا مودودی اور ڈاکٹر اسرار علیہ الرحمتہ کا پیروکار، اور حضراتِ احمد دیدات و ڈاکٹر ذاکر نائک کے حلقہ اثر اور شاگردوں میں باور کرواتے ہیں، مگر بدقسمتی سے ان کے رویے میں اُن عظیم شخصیات کے اخلاقیات اور مخالفین کے ساتھ برتاؤ کی کوئی جھلک دکھائی نہیں دیتی۔

حالیہ واقعے میں بھی جنابِ انجینئر علی مرزا نے مفتی مسعود صاحب کے ردعمل میں عوامی جوشِ خطابت اور حکمت و دردمندی سے تہی لب و لہجہ اختیار کرکے اپنے مداحوں کی تسکین کا سامان تو ضرور کیا ہے، مگر حقیقی معنوں میں اپنے سنجیدہ حلقہ اثر اور اسلاف کی روحوں کو تکلیف سے دوچار کردیا ہے۔ جس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہوسکتی ہے کہ انجینئر صاحب کو اپنے اسلاف کی سُنّت میں ابھی تک کسی قابلِ ذکر آزمائش کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے، کہ جو شخصیت کی پُختگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اِسی واسطے میری انجینئر مرزا کے لیے دردمندی کے ساتھ “بددعا” ہے کہ
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کردے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

مفتی صاحب کی خدمت میں باادب عرض ہے کہ آپ سماجی، خاندانی اور معاشرتی میدان میں دعوت کا اچھا کام کررہے ہیں، اُسی میں مزید بہتری لانے کی کوشش کیجئے، بابوں کی صفائیاں دینا، اور ان کی گُڈی اونچی کرنے کی تگ و دو میں توانائیاں صرف کرنا لاحاصل اور بے سود ہے۔ آپ جناب افراد کے بجائے نظریات کو موضوع سخن بنائیں اور فروعات کے بجائے معاملات کی بہتری پہ فوکس کریں تو یہ خدمت ہوگی۔ مخالفین پہ جائز تنقید کرتے وقت بھی آپکا لہجہ منفی اور اکسانے والا ہونے کے بجائے داعیانہ اور ہمدردانہ ہو تو بات میں وزن ہوگا اور مخاطب اسے زیر غور بھی لائے گا، ورنہ تو ردعمل کی نفسیات اسے مزید رسوخ عطا کرے گی۔ اسلاف سے اور کچھ لیں نہ لیں حکمت کا سبق ضرور لیں۔

(Visited 1 times, 25 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply