زیف سید کی کتاب “آدھی رات کا سورج” —- راجہ قاسم محمود

0

زیف سید کی تقریباً دو سو صفحات پر مشتمل کتاب “آدھی رات کا سورج” شائع ہوئی ہے۔ کہنے کو تو یہ ناول ہے مگر اس کا ناول ہونا از خود ایک سوال ہے۔ اس لیے کتاب کے ابتدائیہ میں مصنف نے اس سوال کا ذکر کیا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ ناول ہے یا سفرنامہ، فکشن ہے یا نان فکشن؟ جب میں نے یہ کتاب پڑھ لی تو یہ ہی سوال میرے ذہن میں آیا۔ اس کا جواب مصنف نے یہ دیا ہے کہ
کیا ہر کتاب کو کسی ڈبے میں بند کر کے لیبل لگانا ضروری ہے؟
زیف سید صاحب کے اس جواب کو کافی سمجھتے ہوئے اس کے موضوع کی طرف آتے ہیں۔

یہ کتاب اندلس میں مسلم اقتدار اور اس کے عروج و زوال کی ایک جھلک ہے۔ یہ واقعی ایک ٹریجڈی ہے جو پڑھنے والے کو افسردہ کر دیتی ہے۔

مسلم اسپین کی داستان کے ساتھ یہ ایک سفر نامہ بھی ہے جس میں موجودہ اسپین کے سفر کا حال بھی درج ہے مگر اس کتاب کا اصل دلچسپ پہلو اول الذکر ہے۔

مسلم اسپین نے جو کہ یورپ کی غالب اور ترقی یافتہ تہذیب تھی نے باقی یورپ پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑے۔ اس نے یورپ کی تمدن و علم کو روشنی عطاء کی جو آگے یورپ کی ترقی کی ضمانت بنی۔ یورپ کا عروج مسلم اسپین کے وجود کے مرہون منت ہے۔ پھر یہی مسلم اسپین کس طرح زوال کا شکار ہوا اس کا بھی کتاب میں ذکر ہے۔

کتاب میں اندلس کے مختلف ادوار کا ذکر ہے مگر آغاز فرانس سے ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ ایک سفر نامہ بھی ہے تو فرانس کی ساڑھے تیرہ سو سال قبل کی تاریخ کا بھی ایک اہم واقعہ ذکر کیا گیا ہے وہ ہے عبدالرحمان الغافقی جو اندلسی مسلم فوج کے سربراہ ہیں جن کو اموی خلیفہ ہشام بن عبد الملک نے اندلس کا امیر مقرر کیا تھا کا مقابلہ فرانسیسی فوج جس کی سربراہی چارلز کارٹل کر رہا تھا۔ یہ لڑائی یورپ کی تاریخ میں کئی حوالوں سے یادگار رکھی جائے گی۔ مسلم سلطنت اس وقت کی سپر پاور تھی اور اس فوج کا پلڑا بھی بھاری تھا۔ عبدالرحمان الغافقی جرنیل بھی بہت بڑا تھا مگر چارلز کارٹل یہ جنگ جیت گیا اس طرح اسلام اندلس کی طرح فرانس میں اس طرح داخل نہ ہو سکا۔ کچھ یورپی مورخین فرانس کی اس فتح کو خوشی سے بیان کرتے ہیں مگر کچھ کے خیال میں اس جنگ کے نتیجے نے فرانس و یورپ کو نقصان پہنچایا کیونکہ مسلم صرف فوجی ہی نہیں علمی طاقت کے بھی حامل تھے۔ ان کی اس شکست سے فرانس اس علم سے بھی محروم ہوا جس سے اندلس مالا مال ہوا۔ اس خیال کے مورخین کا دعویٰ ہے کہ اگر اس دن عرب فاتح ہوتے تو یورپ 267 برس آگے ہوتا۔ کیونکہ یہ علوم یہاں پر اتنے سال بعد پہنچے۔

سفرنامے میں جب اسپین پہنچتے ہیں تو وہاں پر میڈرڈ بمبنگ کا ذکر آتا ہے اور پھر خود کش حملہ آوروں کی تاریخ کو صدیوں پیچھے مسلم اندلس میں دکھایا جاتا ہے جہاں کے مسلم رواداری اور احترام مذاہب کے حوالے سے بہت اچھے کردار کے مالک ہوتے ہیں مگر ایک چیز جو ناقابل برداشت ہے وہ شان رسالت میں گستاخی ہے۔ مگر دیکھتے ہی دیکھتے پے در پے ایسے واقعات ہوتے ہیں اور ایسے کرداروں کے لیے مسلم قاضی موت کی سزا تجویز دیتے ہیں۔ سزا پر عمل کے باوجود ایسے لوگ سامنے آتے رہتے ہیں اور سزا بھی پاتے ہیں یہ چیز مسلم حکمران کے لیے بھی پریشانی کا باعث ہے کہ انجام کے علم کے باوجود یہ حملے کیوں کیے جا رہے ہیں۔ خود عیسائی مذہب کے مذہبی پیشوا بھی اس حرکت کی مذمّت کرتے ہیں مگر دو سو سے زائد لوگ موت قبول کرتے ہیں مگر حملے جاری رہتے ہیں۔ خود کش حملوں کی اس تاریخ کو زیف سید نے بہت عمدگی سے بیان کیا ہے۔

Islam in Spain: A Story of Many Strands - Part I - European Eye on  Radicalizationکتاب میں مسلم اندلس کے کئی کرداروں کی داستانیں ہیں جو ان کے غیر معمولی شخصیت کو بیان کرتی ہیں۔ ان میں ایک امیر عبدالرحمان اموی کی داستان ہے کہ وہ کس طرح عباسی فوجوں سے چھپ کر اندلس پہنچے اور پھر وہاں پر کیسے حکومت قائم کی۔ امیر عبدالرحمان اموی ایک بیدار مغز اور جواں ہمت شخص تھے ان کو عباسی خلیفہ منصور نے ‘صقر قریش’ یعنی ‘قریش کا عقاب’ کہا۔
منصور نے درباریوں سے پوچھا کہ ‘صقر قریش’ کا لقب کس کو جچتا ہے۔ تو درباریوں نے تین نام لیے
آپ یعنی ابو جعفر المنصور
سیدنا معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ
عبدالملک بن مروان

ابو جعفر المنصور نے کہا کہ اس لقب کا سب سے زیادہ مستحق عبدالرحمان اموی ہے۔ یہ شخص اپنی ذہانت و فراست کی بنیاد پر تن تنہا لڑا اور تلواروں اور نیزوں سے بچ نکلا۔
جبکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی سرپرستی سے اپنے مرتبے میں پہنچے، عبدالملک بن مروان کا پورا خانوادہ حکمران تھا جبکہ میں بھی اس مقام پر اپنے خاندان کی تگ و دو کی وجہ سے ہوں۔ مگر عبدالرحمن اموی نے یہ سب کچھ تن تنہا حاصل کیا۔

امیر عبدالرحمن اموی کے حالات پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں، زیف سید نے مختصر انداز میں ان کی زندگی کا ایک تعارف پیش کیا ہے۔ عبدالرحمن اموی ناصرف ذہین و فطین تھے بلکہ ایک انتہائی علم دوست شخصیت بھی تھے۔ ان کی علم دوستی کا بھی مصنف نے ذکر کیا ہے۔

ایک اور متاثر کن شخصیت زریاب کی ہے جو کہ بغداد سے ہجرت کر کے اندلس گئے۔ یہ قرطبہ کے شاہی موسیقار مقرر ہوئے۔ یہ عرب سے عود نامی ایک ساز لیکر آئے تھے۔ گٹار جو کہ مغربی موسیقی کا سب سے اہم ساز ہے عرب سے آئے اس عود ہی کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ زریاب کی داستان بھی بہت دلچسپ اور حیران کن ہے۔

عباس ابنِ فرناس مسلم اسپین کا ایک اور کردار ہے جس نے نویں صدی عیسوی میں گلائیڈر کا تجربہ کیا۔ گو کہ اس تجربے کے نتیجے میں عباس ابنِ فرناس حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس کی کمر زخمی ہو گئی مگر اس تجربہ نے ہی یورپ کو اس جانب متوجہ کیا۔

امیر عبدالرحمان اول کے بعد امیر عبدالرحمان ثالث بھی مسلم اسپین کا ایک اہم کردار ہے۔ مدینہ الزہراء اس کی یادگار ہے۔ اس کو اندلس کا تاج محل کہا جاتا ہے۔ مگر اس مدینہ الزہراء کی داستان افسوس ناک ہے یہ شہر فقط 65 برس ہی قائم رہ سکا۔ اس کو بربروں نے تاخت وتاراج کر دیا۔ اس کی تباہی پر اندلسی شعراء نے قصیدے لکھے۔ ابن حزم اندلسی کا ایک قصیدہ زیف سید نے ترجمہ کیا ہے۔ پہلے اس شہر کی شان و شوکت کو ایک دیومالائی داستان قرار دیا جاتا تھا مگر 1910 میں شہر کی کھدائی سے جب یہ دریافت ہوا تو معلوم ہوا کہ مورخوں نے کوئی مبالغہ آرائی نہیں کی۔ اب تک مدفون شہر کا دس فیصد حصہ بازیافت ہو سکا ہے۔

ایک اور شخصیت متعمد کی ہے جس نے اشبیلیہ پر 1059 سے لیکر 1091 تک بڑی شان سے حکومت کی۔ یہ وہ زمانہ ہے جس وقت مسلم اسپین کی سرحدیں محدود ہوتی جا رہی تھیں۔ معتمد نے یوسف بن تاشفین کی مدد سے الفانسو کو شکست دی مگر یہ مدد معتمد کو کئی حوالوں سے بہت مہنگی پڑی۔ یوسف بن تاشفین کی جنگی حاضر دماغی کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کیسے مستعدی سے اس کی فوج نے الفانسو کی متحدہ افواج کا سامنا کیا۔ بعد میں چار سال بعد الفانسو نے دوبارہ جنگیں چھیڑیں تو پھر یوسف بن تاشفین سے مدد کی درخواست کی گئی تو یوسف بن تاشفین نے کہا کہ اس دفعہ وہ فقط مدد نہیں کرے گا بلکہ اندلسی ریاستوں کو اپنی مرابطونی سلطنت میں ضم کرے گا۔ اپنے اس قدم کے لیے یوسف کے پاس علماء کے فتاوی بھی تھے۔ المعتمد نے بربروں کے خلاف الفانسو سے مدد مانگی مگر اشبیلیہ بربروں کے قبضے میں آ گیا اور المعتمد قید ہو گیا۔ معتمد ایک بلند پایہ شاعر بھی تھا۔ قید خانے میں اس کی لکھی نظم کا علامہ اقبال نے ترجمہ بھی کیا ہے جو بال جبریل میں شامل ہے۔
اک فغاں بے شرر سینے میں باقی رہ گئی
سوز بھی رخصت ہوا جاتی رہی تاثیر بھی

الحمرہ کی داستان بھی بہت متاثر کن ہے اور کتاب کا حصہ ہے اس کو ابن بطوطہ کی زبانی بیان کیا ہے کہ چوبیس سال کی سیاحت کے بعد اندلس میں قدم رکھتا ہے تو کہتا ہے کہ اس جیسی پرشکوہ عمارت اس نے کہیں نہیں دیکھی۔ مصنف نے اس باب میں الحمراء کی سیر بھی کرائی ہے اور اس کے دلکشی کو ذکر کیا ہے۔

زیف سید صاحب نے بتایا ہے کہ موجودہ اسپین میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ غرناطہ میں پانچ سال بعد مسجد کی بنیاد رکھی گئی ہے اس کی وجہ ایک قہوہ خانہ بنا جو ایک نو مسلم خاتون نے کھولا۔ ورنہ یہ علاقہ چوروں اچکوں کی آماج گاہ تھی۔ قہوہ خانے کی کشش میں مراکش اور شمالی افریقہ کے تارکینِ وطن نے اس کا رخ کیا پھر اس کے دیکھا دیکھی وہاں اور قہوہ خانے آباد ہوئے۔ یہ رنگ ڈھنگ دیکھ کر غرناطہ میں مسلمان منتقل ہوئے اور پھر یہاں مسجد قائم ہوئی ہے۔ اس مسجد کی تعمیر میں بھی انتہاء پسند عیسائیوں کی طرف سے رکاوٹیں بھی آئیں مگر بالآخر 2003 میں تمام قانونی و سماجی رکاوٹوں کو شکست دیکر مسجد تعمیر ہوئی اور اس کے مینار سے آذان کی آواز بلند ہوئی۔

مسلم اسپین کی علم دوستی کی ایک مثال طیطلہ شہر بھی ہے۔ یہ 711 عیسوی میں مسلمانوں نے بغیر لڑائی کے فتح کیا اور 1085 میں الفانسو ششم نے مسلمانوں سے چھین لیا۔ اس شہر میں مسلمانوں نے دارالترجمہ قائم کیا ہوا تھا اور دنیا کی ہر اہم کتاب کا عربی زبان میں ترجمہ کیا جاتا تھا۔ اس ہی شہر کے کتب خانے سے عربی کتابوں کے یورپی زبانوں میں تراجم ہوئے جنہوں نے اس کی نشاۃ ثانیہ میں اہم کردار ادا کیا۔

ارسطو کو مغرب نے نظر انداز کر دیا تھا، مگر مسلم اسپین نے اس کی علوم کو عربی میں ترجمہ کر کے اس کو زندہ رکھا۔ پھر علامہ ابنِ رشد نے اس کے افکار کی شروحات لکھیں۔ ابنِ رشد خود بہت بڑے مفکر تھے ان کی زندگی کے بارے میں زیف سید صاحب نے لکھا ہے۔ زیف سید صاحب نے بتایا ہے کہ ابنِ رشد کے افکار یورپ میں سب سے زیادہ مقبول ہوئے اور عقل کے حق میں سب سے مضبوط مقدمہ ابن رشد کی تحریروں نے قائم کیا۔ زیف کہتے ہیں کہ مشرق نے ابنِ رشد کو فراموش کیا جبکہ مغرب نے اپنا لیا یہ ہی اس کی ترقی کی بنیادی وجہ تھی۔ ابنِ رشد کے ساتھ مسلمانوں کی بدسلوکی کا بھی زیف سید نے ذکر کیا ہے کہ کس طرح ان پر الزامات لگائے گئے اور ان کی تصانیف کو ان کے سامنے جلایا گیا۔

آخری چیپٹر بڑا درد سوز ہے کہ جب اسپین سے مسلمانوں کو بیدخل کیا گیا اور ان کے لیے عیسائیت یا موت کی دو آپشنز رکھی گئیں۔ ان کو شراب پینے اور سور کھانے پر مجبور کیا گیا۔ ان کے لیے علماء کو فتوی دینا پڑا کہ یہ لوگ سور کھا سکتے ہیں، شراب پی سکتے ہیں بلکہ اعلانیہ اسلام کو برا بھلا کہہ سکتے اس شرط پر کے دل سے اس چیز کو برا جانتے ہوں۔

مصنف کی بیان کی گئی داستانوں میں مبالغہ آرائی ہو سکتی ہے کیونکہ یہ کوئی تاریخ کی کتاب نہیں مگر کتاب کا بنیادی مقصد مسلم اسپین کی بازیافت اور اس سے یورپ کی نشاۃ ثانیہ وہ کافی حد تک قاری کے سامنے آ جاتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ پر اثر کتاب ہے اور جو افسردہ بھی کرتی ہے اور سوچنے پر مجبور بھی کرتی ہے۔ مسلم اسپین کے زوال میں ایک کردار مسلمانوں کی باہمی خانہ جنگیوں اور طوائف الملوکی کا بھی تھا جس کا ذکر بھی کتاب میں جا بجا ملتا ہے۔ مصنف نے وسیع کینوس کا کم صفحات میں احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ اس میں کافی کامیاب بھی ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یورپی کتب خانوں میں عربی نسخوں کا علم: مزید ڈرامائی مماثلتیں ---------- پروفیسرجارج صلیبا
(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply