Connect with us

بلاگز

پسِ آواز ——- علی عمر عمیر

Published

on

میں سُن رہا تھا۔ آوازیں مختلف سمتوں سے میرے کانوں پر دھاوے بول رہی تھیں اور دماغ اُن کان پڑی آوازوں کو ترتیب دینے میں مصروف تھا۔

یہ پہلی آواز تھی، ایک بانسری کی آواز۔۔۔ کوئی تیس میٹر دُور سامنے کی طرف فُٹ پاتھ پر بیٹھا ایک مجذوب پرانی سی، سستا سی بانسری پھونک رہا تھا۔ دُھن غیر مانوس تھی، ردھم تگڑا نہیں تھا، سانس کمزور تھی اور پِچ بار بار بدل رہی تھی۔۔ بانسری ہمیشہ سے میرا پسندیدہ موسیقی کا آلہ رہا ہے۔ اگر کوئی اچھا بانسری نواز ہو تو گھنٹوں بیٹھ کر سُنوں گا، جھوموں گا اور سر دھنوں گا۔ بانسری نواز کی ہر پیچیدہ تال پر عش عش کروں گا اور یونس تحسین کا شعر ذہن میں لاؤں گا۔

بانسری میں سانس پھونکی، شکل دی آواز کو
اور سارا دکھ، ہواؤں کے حوالے کر دیا

لیکن یہ ویسی بانسری نہیں تھی اور اس پر میرا دھیان بھی ویسا نہیں تھا۔

دوسری آواز ایک لڑکی کی تھی۔۔۔ ایک لڑکی جو میرے بالکل سامنے بیٹھی، میرے اور بانسری والے مجذوب کے درمیان رُکاوٹ بن رہی تھی۔ اُس کی وجہ سے مجھے قدرے بائیں طرف جسم کو جُھکانا پڑتا، تب جا کر وہ مجذوب اُس کے بازو کی اوٹ سے نظر آتا۔ وہ میز کے دوسری طرف بیٹھی بول رہی تھی۔ بے شک وہ مخاطب مجھی سے تھی مگر مجھے یہی لگ رہا تھا کہ وہ بس بول رہی تھی۔ بولنے اور بات کرنے کا فرق جانتے ہو کیا ہوتا ہے؟ بولنے والے کو سُننا، نہ سُننا سامع کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے، جبکہ بات کرنے والے کی سُننا لازم ہوتا ہے۔ یہ کوئی مسلمہ اصول تو شاید نہ ہو، مگر محبت کے تقاضے اصولوں کے محتاج نہیں ہوتے۔ سو وہ بول رہی تھی، میرے کانوں تک اس کی آواز بھی پہنچ رہی تھی، مگر میں سن نہیں رہا تھا۔ جب سُن نہیں رہا تھا تو کیا بتا پاؤں گا کہ وہ کیا بول رہی تھی؟

تیسری آواز انتہائی غیر اہم تھی۔ میرے بائیں اور اُس لڑکی کے دائیں طرف کوئی دو سو میٹر فاصلے پر کسی بڑے ہوٹل کا جنریٹر چل رہا تھا۔ بڑا سا، پرانا جنریٹر، جس کی آواز اس قدر تیز تھی کہ دو سو میٹر اُدھر سے بھی اس کی ڈگڈگاہٹ مسلسل کانوں پر ہتھوڑے کی ہلکی ہلکی ضربوں کی طرح بج رہی تھی۔ گو کہ ایسی آوازوں کو آپ کا دماغ کا مسلسل "ڈی فوکس” کرتا رہتا ہے اور میرا دماغ بھی یہی کر رہا تھا۔ مگر کافی دیر گزرنے کے بعد دماغ اس نہ ختم ہونے والے "ڈی فوکسنگ پراسیس” سے جیسے تھکنے لگا ہو۔

ایک اور آواز، جو دراصل ایک آواز نہ تھی، ایک سڑک سے آرہی تھی۔ ہر گزرتی گاڑی کی آواز، موٹرسائیکل، ڈبے، سی ڈی اے کے ٹرکوں کے انجنوں کی آواز۔ کوئی گاڑی شُوں کر کے تیزی سے گزر رہی تھی تو ساتھ ہی ایک موٹرسائیکل والا جیسے موٹرسائیکل پر ٹہلنے نکلا ہو۔ ایک نوجوان نے سائیلنسر نکالا ہوا تھا اور موٹرسائیکل کو بار بار ریس دے رہا تھا۔ دُور جاتے تک اُس کی پھٹی آواز کانوں کو تکلیف دیتی جاتی۔ ایک بابا جی اپنی پرانی خیبر پہ بیٹھے جھول رہے تھے، اُس کے انجن سے پھٹ پھٹ کا شور نکل رہا تھا، گاڑی جھٹکے کھا کھا کے آگے بڑھ رہی تھی۔ میکینکوں کی زبان میں کہا جائے تو "مِسنگ” کر رہی تھی۔ درایں اثنا چمچماتی، نئی گاڑیاں، بے آواز گاڑیاں بھی وہاں سے گزرِیں، جن کے صرف ٹائروں کی رگڑ سے نکلنے والی آواز ہی کانوں تک پہنچ رہی تھی۔

شام کا وقت تھا۔ اسلام آباد کے ایک سیکٹر کے اِس مرکز میں شام کا یہ وقت بڑا پررونق ہوا کرتا ہے۔ آوازوں کا ایک ہجوم کانوں کو گھیر لیتا ہے۔ نئی نئی آوازیں، زندگی سے بھرپور قہقہے، خوبصورت لڑکیوں کی خوش گپیاں، ہوٹلوں پر کھانے والوں کی گہماگہمی، ویٹروں کے نعرے، برتنوں کی ٹھن ٹھن، چھن چھن، گاڑیوں کا شور، موبائلوں، کمپیوٹروں کی دکانوں پر بجتے اُونچے، بے ہنگم گانے، گاہکوں کی حسرت بھری آپسی سرگوشیاں، دکانداروں کی چالاک باتیں۔۔۔ ایسے میں ان پرہجوم جگہوں پر چڑیاں، لالیاں نہیں بولا کرتِیں، ہاں کوّوں کی کائیں کائیں کبھی کان پڑ جاتی ہے۔

اس سارے شور و غل میں میرے لیے اہم اگر کوئی آواز ہونی چاہیے تھی تو وہ صرف دوسری آواز تھی۔ لیکن میں اس آواز کو بھی اہمیت نہیں دے رہا تھا۔ یہ شاید ایک نوجوان کی نوجوانی کا اختتام اور اصل جوانی کا آغاز تھا۔ جمالیات کے معنے تبدیل ہو رہے تھے۔ جذبات اور احساسات نئے پہلؤوں سے ابھر رہے تھے۔ تفریح اور سکون کا فرق واضح ہو رہا تھا۔ زندگی کا لااُبالی دور اختتام کو پہنچ رہا تھا اور زندگی بھی اختتام کی جانب بڑھ رہی تھی۔

Advertisement

Trending