جہنم میں قرنطینہ —-  نعیم صادق

0

وہ یہاں تازہ وارد ہوا تھا۔ اسے ابدی جنت کے نواحی علاقوں میں ایک عالی شان کاٹیج الاٹ ہوا تھا۔ آس پاس کے باغات سے آنے والی نشہ آور خوشبو سے اس کا کمرہ بھر گیا تھا۔ دودھ، شراب اور شہد کی نہریں خراماں خراماں اس کے گھر کےعقب سے گزر رہی تھیں۔ محمد بخش (ایم بی) جو ، ایک پارسا اور خدا سے ڈرنے والا، ٹھیکیداری نظام کے تحت کم معاوضہ پانے والا میونسپلٹی ورکر تھا۔ جس نے اپنی تمام دنیاوی زندگی مکمل غربت اور مصیبت میں گزاری، اب وہ ایک ایسی دنیا میں تھا جس کا وہ گمان بھی نہ کرسکتا تھا۔

پھر اچانک، ایک صبح وہ اٹھا تو اسے یہ محسوس ہوا کہ پھلوں کے باغ سے آسمانی خوشبو رخصت ہو گئی ہے۔ وہ جلدی سے دودھ کی ندی کی طرف دوڑا اور اپنے لیے ایک گلاس بھر لیا۔ لیکن یہ دودھ کی طرح کا ذائقہ نہیں تھا۔ اس کے بعد اس نے شراب اور شہد کی ندیوں کو آزمایا۔ ان میں بھی نہ ذائقہ تھا نہ کوئی خوشبو۔ جب وہ اس حیران جن تبدیلی پر غور کرنے بیٹھا، اور سوچنے لگا تو ، اسے احساس ہوا کہ وہ بخار میں مبتلا ہے۔ گلے میں درد ہے اور ناک بہہ رہی ہے۔ MB اپنی دنیاوی زندگی میں کبھی بھی EOBI یا سوشل سیکورٹی کے لیے رجسٹر نہیں ہوا تھا۔ اپنے غیر یقینی نئے استحقاق کے بارے میں سوچتے ہوئے وہ قریبی طبی سہولت کے مرکز کی طرف چل دیا۔ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے انتہائی احتیاط اور احترام کے ساتھ اس کا معائنہ کیا۔ چند لیب ٹیسٹوں کی ہدایت دی، جن کے نتائج فوری طور پر آ گئے۔ MB کو SARS-CoV-2 کے لیے مثبت پایا گیا۔

ایم بی کے کورونا میں مبتلا ہونے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ لیکن دائمی سکون اور امن کی جگہ ہونے کی وجہ سے کسی نے اس پر آنکھ بھی نہ اٹھائی۔ یہ سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہ سکتا تھا۔ اگر ایم بی نے غلطی سے اپنی ” ماسک پہننا اور سماجی فاصلہ رکھنا ” جیسی زمینی عادتوں کا سہارا نہ لیا ہوتا۔ جوں ہی دوسروں نے اس آسانی سے منتقل ہونے والی بیماری کی اہمیت کو محسوس کرنا شروع کیا، انہوں نے بھی کچھ خدشات کا اظہار کرنا مناسب سمجھا۔ ایک چھوٹے سے وفد نے مقامی انتظامیہ سے ملاقات کی اور درخواست کی کہ وسیع ترعوامی مفاد میں ایم بی کو کہیں اور منتقل کیا جائے۔

یہاں دوسری واحد ہاؤسنگ اسکیم جو قریب ہی واقع تھی، اسے روایتی طور پر جہنم کہا جاتا ہے – یہ ایک ایسا مقام ہے، جہاں سے ہر کوئی دور رہنا پسند کرتا ہے۔ ایم بی کو جہنم کی طرف سفر کا حکم دیا گیا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ جہنم کو جانے والا راستہ نیک ارادوں سے بھرا پڑا تھا۔ ایم بی چونکہ حقیقی طور پر”جہنم” کا امیدوار نہ تھا۔ اس لیے اسے جہنم کی بھڑکتی آگ کی بھٹیوں، ابلتے ہوئے پانیوں اور حشرات سے بہت دور ایک کونے میں رکھا گیا تھا۔ نئی جگہ، اگرچہ معقول حد تک تکلیف دہ تھی۔ لیکن یہاں سے ایم بی کو اپنے پڑوسیوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ایک دن اس نے ’’ جہنم کےداروغہ ‘‘ سے یہ پوچھنے کی جسارت کی کہ ان یہاں کون سے بڑے بڑے لوگوں کا قیام ہے ؟ ‘‘۔ اس نے داروغہ سے یہاں کا ایک مختصر دورہ کرنے کی درخواست بھی کی۔ جسے داروغہ نے منظور کرلیا۔

داروغہ نے اسے بتایا، “وہ گروہ جسے آپ اس پنجرے میں دیکھ رہے ہیں، جسے زہریلے حشرات ڈس رہے ہیں، وہ ایک ایسے سیارے کے رہنما ہیں۔ جنہوں نے جھوٹے بہانے اور من گھڑت الزامات لگا کر چھوٹے ممالک سے جنگیں لڑی۔ اور وہ کون ہیں ؟جو دہکتے ہوئے سرخ انگاروں پرلٹکائے ہوئے ہیں؟” ایم بی نے پوچھا “اوہ، یہ چیف منسٹر، لیبر منسٹر، چیف سیکرٹری، لیبر سکریٹری اور مختلف صوبوں کے لیبر ڈائریکٹرز اور مختلف بلدیات کے کمشنر ہیں۔ انہوں نے میونسپل کارپوریشنز کے ٹھیکیداری سینٹری ورکرز کو برسوں تک، کم از کم اجرت سے کم ادائیگی اور انہیں کوئی EOBI یا سوشل سیکورٹی نہ دے کر بے رحمی سے ان کا استحصال کیا۔

“اور وہ کون ہیں جو اس چھوٹے سے کمرے میں باہر سے بند ہیں، اور آگ میں جل رہے ہیں اور بجلی کے جھٹکے کھا رہے ہیں، ” ایم بی اپنا تجسس چھپا نہیں سکا۔ “وہ صنعتوں کے چیف ایگزیکٹوز، لیبر ڈائریکٹرز اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کے سربراہ ہیں۔ وہ لوگ ہیں جنہوں نے رشوت کے بدلے تمام صحت اور حفاظت کے قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے فیکٹری کے کارکنوں کو دم گھٹنے اور جھلس جانے والے حادثات سے دوچار کیا۔

ایم بی اس جواب سے گنگ اور ششدر تھا اور بمشکل ایک آخری سوال کرسکا۔ اور وہ تمام استحصال شدہ افراد اور کم تنخواہ لینے والے سینیٹری ورکرز کہاں ہیں۔ جو سڑکوں پر جھاڑو لگاتے اور گٹروں کو صاف کیا کرتے تھے۔ ؟

“وہ اپنی زندگی ہی میں اپنے گناہوں سے کہیں زیادہ عذاب سہہ چکے ہیں۔ انہیں اب جنت کے بہترین مقامات میں رہنا چاہیے۔ جب آپ جہنم سےاس دس روزہ قرنطینہ کے اختتام پر واپس جائیں۔ تو براہ مہربانی انھیں میرا سلام کہیں۔ داروغہ نے جواب دیا، اور پھر وہ دھیمی ہوتی ہوئی آگ کو دوبارہ تیز کرنے اور شعلوں کو بلند کرنے کے لیے چلا گیا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply