جھاڑو اور مائیکل اینجلو کا برش ایک ہو سکتے ہیں اگر —- خبیب کیانی

0

میں نے تو اپنا فرض ہر صورت میں ادا کرنا ہے چاہے اس کے لیے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے، یہ وہ الفاظ تھے جو ایک نوجوان ڈاکٹر نے اپنے کزن سے بات چیت کے دوران اس وقت کہے جب کرونا وائرس اپنی بھر پور قوت سے پاکستان کے مختلف شہروں میں رپورٹ ہونا شروع ہوا۔ ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے جیسا قلیل تجربہ ہونے کے باوجود اس نوجوان ڈاکٹر کو یقین تھا کہ اس کے علاقے میں بننے والے قرنطینہ کیمپ میں موجود مریضوں کی دیکھ بھال کر کے نہ صرف ان کی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں بلکہ علاقے میں مرض کے پھیلائو کو بڑی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اسے اس بات کا اچھی طرح ادراک تھا کہ وبا کے ان ابتدائی دنوں میں طبی عملے کے لیے ایک عام سرجیکل ماسک کے علاوہ کوئی خاص حفاظتی سامان موجود نہیں ہے اور بغیر حفاظتی سامان کے مرض میں مبتلا مریضوں کے ساتھ وقت گزارنا اور ان دیکھ بھال کرنا ایک طرح سے اپنی جان کی قربانی دینے کے مترادف ہی ہے۔ دنیا بھر سے ڈرا دینے والی خبریں، ویڈیوز، دوستوں رشتہ داروں کی احتیاط سے کام کرنے کی ہدایات اور ان جیسی اور بہت سی نصیحتیں اور مشورے اس تک لگاتار پہنچ رہے تھے۔ ان سب چیزوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ڈاکٹر کو اس بات کا فیصلہ کرنا تھا کہ کیا وہ کرونا کے مریضوں کیلیے قائم کیے گئے قرنطینہ سنٹر میں کام کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں، یہ ایک مشکل فیصلہ تھا اور اس فیصلے نے ملک میں بڑے بڑے تجربہ کار ڈاکٹرز کے پتے پانی کیے ہوئے تھے۔ سوچ بچار کے بعد نوجوان ڈاکٹر اس فیصلے پر پہنچا کہ اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ یہ جانتے بوجھتے جان کو بھر پور خطرے میں جھونکنے والا قدم ہے لیکن کیا ایک ڈاکٹر اسی دن کے لیے ڈاکٹر نہیں بنتا؟ کیمپ میں اگر ڈاکٹر کی ضرورت ہے تو حالات جو بھی ہوں وہاں کسی ڈاکٹر کو موجود ہونا چاہیے اور وہ ڈاکٹر کوئی اور بنے نہ بنے میں ضرور بنوں گا۔ وہ فوری طور پر قرنطینہ سینٹر پہنچا اور محدود وسائل و افرادی قوت اور کم تجربے کے باوجود اس نے سنٹر کا انچارج بننے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ اس نے اپنی ٹیم کو متحرک کیا اور سنٹر میں کئی کئی گھنٹے لگاتار کام کیا۔ اس دوران اسے کئی بار دوستوں رشتہ داروں نے فون کیے کہ اسے سمجھا سکیں کہ وہ اپنی صحت کا بھی خیال رکھے لیکن زیادہ تر کا رابطہ نہ ہو پایا کیونکہ وہ اپنا تمام وقت اپنے مریضوں کے لیے وقف کیے ہوئے تھا، اپنے کا م کی اہمیت کے احساس نے اسے اپنا آپ تک بھلا دیا ایک شفٹ کی دی گئی ذمہ داری وہ کئی کئی شفٹوں نبھاتا رہتا۔ اسی روٹین میں ایک دن کئی گھنٹے کام کرنے کے بعد جب وہ رات کو گھر پہنچا تو جاتے ہی اپنے کمرے میں نڈھال ہو کر بستر پر لیٹا اور سو گیا، صبح اپنی روٹین کے مطابق جب وہ ہسپتال جانے کے لیے نہ جاگا تو گھر والے اسے جگانے کے لیے اس کے کمرے میں گئے جہاں ڈاکٹر بے ہوش حالت میں موجود تھا۔ ڈاکٹر کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ٹیسٹ ہونے بعد پتہ چلا کہ ڈاکٹر کے دماغ اور گردے سخت عارضے کا شکار ہیں اور وہ کرونا پازیٹو بھی ہے۔ اس ہیرو کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن ہیرو اپنا آخری ایکٹ کر کے سرخرو ہو کر رب کے حضور پیش ہو چکا تھا۔ یہ کہانی ہے ڈاکٹر اسامہ ریاض کی جن تعلق گلگت بلتستان سے تھا۔ ایک سال سے کچھ عرصہ زائد کا تجربہ رکھنے والا لڑکا جان دینے سے پہلے وہ کر گیا جو اس سے کئی دہائیاں زیادہ تجربہ والے ابھی بھی نہیں کر پا رہے۔ سوال یہ ہے کہ اس نوجوان ڈاکٹر جیسے لوگ ایسی کہانیاں چھوڑ جانے کے لیے موٹیویشن کہاں سے لیتے ہیں؟ اپنے کام سے ایسی شاندار محبت ان کے دل میں کون سا جذبہ جگاتا ہے؟ یہ اپنی نوکریوں کو صرف نوکریا ں کیوں نہیں گنتے؟ ان کی نوکریاں ان کے نزدیک کیا ہوتی ہیں؟

اپنے سیمینارز کے دوران میں اکثر اپنی ہی بنائی ہوئی ایک ٹرم routine trap پر بات کرتا ہوں، مجھے لگتا ہے کہ ہم سب جب کوئی بھی کام یا جاب شروع کرتے ہیں تو ہمارے دل میں بھی اس کام یا جاب کے لیے بہت جذبہ ہوتا ہے اور ہمارے بھی پلانز ہوتے ہیں کہ ہم اپنی فیلڈ میں کچھ شاندار کام ضرور کریں گے، ہم اپنی فیلڈ کو اہمیت بھی دیتے ہیں اور اپنے محکمے کی عزت بھی کرتے ہیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ سب احساسات کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور وہی کام جس کے لیے ہم ہر صبح بڑے جوش سے گھر سے دفتر آتے تھے ہمیں ایک ایسی ورزش لگنا شروع ہو جاتا ہے جو ہمیں چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے بہرحال ہر روز کرنی ہی پڑتی ہو۔ مثال کے طور پر ایک استاد جو نوکری کے آغاز میں اس جذبے سے سکول آتا ہے کہ وہ اپنے معاشرے اپنے ملک کے لیے ایک تعلیم یافتہ نسل تیا ر کرے گا وہ وقت کے ساتھ ساتھ اس گول کو بھول کر صرف سلیبس ختم کروانے کی ورزش کرنا شروع کر دیتا ہے، اس کے دل سے اپنے کام کے سپیشل ہونے کا احساس ہوا ہو جاتا ہے۔ یہاں میں اپنی ذات پر گزرا ایک مشاہدہ بھی ضرور آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا کیونکہ تن بیتی سے اچھی مثال کوئی نہیں ہوتی۔ میں گزشتہ تقریبا ایک دہائی سے ایک پرائیویٹ ادارے سے منسلک ہوں اور یہ ادارہ نوجوانوں کی تعلیم اور صحت کے حوالے سے پاکستان کے کونے کونے میں اور دور دراز علاقوں میں کام کر رہا ہے۔ میں نے جب یہاں کام شروع کیا تو میں بہت پر جوش تھا کہ مجھے پاکستان کے مختلف علاقوں میں نوجوانوں کی تعلیم اور صحت کے لیے کام کرنے کا موقع ملے گا۔ شروع میں خوب دل لگا کر اساتذہ کے لیے ٹریننگ مینوئل بنائے، نواجوانوں کے لیے کتابچے بنائے جو کہ ان کو کمیونیکیشن، فیصلہ سازی، صحت و صفائی اور ذاتی تحفظ جیسی معلومات فراہم کرنے کا باعث بنے۔ اس پروگرام میں ہزاروں اساتذہ اورنوجوان طلباء و طالبات کو تربیت فراہم کی گئی جنہوں نے آگے کئی لاکھ طلبا و طالبات کو تربیت دی، مجھے شروع کے ایک دو سال تو خوب مزہ آیا اور اس چیز کا احساس بھی رہا کہ میرا کام بہت اہم ہے مگر اس کے بعد آہستہ آہستہ سب کچھ روٹین لگنا شروع ہو گیا۔ جب کام روٹین لگنا شروع ہو جائے توآہستہ اہستہ کام آپ کی ترجیح نہیں رہتا بلکہ ایک آٹو میٹک سی ورزش کی شکل اختیا ر کر لیتا ہے۔ میں بھی اس routine trap میں پھنسا مگر کچھ سال پہلے ہونے والے ایک واقعے نے مجھے اپنے کام کی اہمیت کا احساس دلایا۔ ہوا کچھ یوں کہ ہم نے ہری پور میں ایک دور دراز گائوں میں اساتذہ کی ایک ٹریننگ کروائی جس میں دیگر موضوعات کے ساتھ ساتھ یہ موضوع بھی زیر بحث آیا کہ لڑکے اور لڑکی میں وہ فرق جو کہ ایک معاشرے کا پیدا کردہ ہوتا ہے صنفی فرق کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے مگر معاشرہ جب یہ کہتا ہے لڑکیا ں نہ بھی پڑھیں تو خیرہے کیونکہ لڑکیوں کی پڑھائی لڑکوں کی بہ نسبت کم ضروری ہوتی ہے تو معاشرہ صنفی فرق روا رکھ رہا ہوتا ہے جس کی وجہ سے لڑکیوں کی تعلیم میں ایک رکاوٹ حائل ہو جاتی ہے۔ اساتذہ کو یہ باور کرایا گیا کہ اگر ہمیں اپنی بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے تو ہمیں تعلیم کے سلسلے میں اس صنفی فرق پر بچوں اور والدین سے بات کرنی ہو گی تا کہ اس علاقے میں کوئی بھی بچی تعلیم کے حق سے محروم نہ رہ پائے۔ ہم یہ ٹریننگ کروا کر واپس آگئے اور اس کے چھ مہینے بعددوبارہ ان اساتذہ کے سکول میں مانیٹرنگ کے لیے گئے کہ آیا وہ بچوں کو ہماری دی ہوئی ٹریننگ کے بارے میں صحیح سے پڑھا رہے ہیں یا نہیں۔ ہماری ملاقات اس سکول میں چھٹی سے دسویں تک زیر تعلیم چند طلباء و طالبات سے کروائی گئی۔ گزشتہ تجربات کی روشنی میںمیری توقع یہی تھی کہ ٹریننگ لینے والے اساتذہ نے چند ایک آسان موضوعات پر طلباء وطالبات کو تربیت دی ہو گی اور مشکل چیزیں چھوڑ دی ہوں گی۔ میں نے بچوں سے سیشن کے دوران پوچھا کہ کیا آپ لوگوں نے صنفی فرق کے بارے میں پڑھا؟ میری توقع کے برعکس زیادہ تر طلباء و طالبات نے اس کا جواب اثبا ت میں دیا۔ مجھے لگا کہ اس بات کو مزید کریدنا چاہیے اس لیے میںنے اگلا سوال داغ دیا کہ آپ سب میں سے کون ہے جو مجھے اس فرق کے بارے میں سمجھا سکے؟ کافی بچوں نے جواب کے لیے ہاتھ اٹھائے مگر ایک بچہ جو عمر میں کافی چھوٹا لگ رہا تھا جواب دینے کے لیے اس کا جوش دیدنی تھا۔ وہ میری توجہ کھینچنے میں کامیاب رہا اور میں نے اس سے کہا کہ جو سوال میں نے پوچھا ہے اس کا جواب بعد میں بتانا پہلے یہ بتائو کہ آپ میں صنفی فرق کے سوال کو سنتے ہی اتنا جوش کہاں سے آگیا؟ بچے کے جواب نے مجھے حیران کر دیا، اس کا کہنا تھا کہ میں اس کا جواب دینے کے لیے اس قدر پر جوش اس لیے ہوں کیونکہ سکول میں پڑھائے گئے اس کانسیپٹ کی وجہ سے میری زندگی میں تبدیلی آئی ہے، ایک چھوٹے سے بچے سے اس طرح کی بات سننا عجیب تھا، فورا پوچھا کہ بتائو بھئی کیا تبدیلی آئی؟ پوری کہانی سنائو۔ بچے نے بتایا کہ جس دن کلاس میں ٹیچر نے صنفی فرق کا سمجھایا اور یہ بتایا کہ کیسے اس فرق کی وجہ سے کوئی تعلیم سے محروم رہ سکتا ہے تو میرے ذہن میں فورا یہ بات آئی کہ مس تو ٹھیک کہہ رہی ہیں، میں چھوٹا ہوں اور میں چھٹی کلاس میں پڑھ رہا ہوں جبکہ میری بہن جو مجھ سے بڑی ہے اس کو ابا نے پانچویں کے بعد گھر بٹھا دیا ہے۔ میں نے سکول میںہی سوچ لیا تھا کہ آج شام کو جب ابا کام سے واپس آئیں گے تو میں انہیں بتائوں گا کہ وہ صنفی فرق کر رہے ہیں اور اس کی وجہ سے باجی ساری زندگی تعلیم کی وجہ سے پیدا ہونے والی آسانیوں سے محروم رہے گی۔ شام کو جب ابا آئے تو میں ابا سے کہا کہ آپ جو کر رہے ہیں وہ باجی کے لیے اچھا نہیں ہے، ابا نے پوچھا کہ کیا وہ کیا کر رہے ہیں تو جتنی مجھے سمجھ آئی میں نے انہیں صنفی فرق کے بارے میں سمجھانے کی کوشش کی، ابا صبح میرے ساتھ سکول آئے اور پرنسپل کے کمرے میں جا کر پوچھا کہ آپ میرے بیٹے کو سکول میں کیا پڑھا رہے ہیں؟ پرنسپل صاحب نے ابا کو پانی پلا کر آرام سے بیٹھنے کو کہا اور میری ٹیچر کو بلا کر ان کے ساتھ مل کر ابا کو سمجھایا کہ آج ان کے صنفی فرق پر مبنی فیصلے کی وجہ سے ان کی بیٹی تعلیم کے حق سے محروم ہے، انہوں ابا کو سمجھایا کہ پڑھائی بچے اور بچی دونوں کا حق ہے، پڑھی لکھی بچی نہ صرف اپنی زندگی میں زیادہ پر اعتماد ہوتی ہے بلکہ خاندان کے لیے بھی عزت کا باعث بنتی ہے۔ مجھے لگ رہا تھا کہ ابا نہیں مانیں گے لیکن ٹیچر، پرنسپل صاحب اور میری بات چیت سے وہ باجی کو دوبارہ سکول میں داخل کروانے کے لیے راضی ہو گئے۔ باجی اب اسی سکول میں پڑھتی ہے آپ کہتے ہیں تو ابھی بلا کر لے آتا ہوں اسے اس کی کلاس سے۔ میں اس دن اس سکول میں روٹین کا ایک کام کرنے گیا تھا لیکن جب اس بچے نے کہانی ختم کی تو مجھے لگا کہ میرا کام روٹین کا کام نہیں ہے، یہ تو بہت سپیشل کام ہے جو لوگوں کی زندگی کی کہانیوں کو مثبت رخ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، بچے نے مجھے routine trap سے باہر کھینچ نکالا تھا مجھے پطور پروفیشنل یہ سوچ سوچ کر خود پر، اپنے ادارے پر اور اپنے کام پر فخر محسوس ہونے لگا کہ اس تعلیم سے اس بچی کی ذاتی زندگی میں جو آسانیاں پیدا ہوں گی اور جو آسانیاں وہ مستقبل میں اپنے خاندان اور معاشرے کے دیگر افراد کے لیے پیدا کرے گی وہ سب شاید ممکن نہ ہوتیں اگرہم اس انتہائی سپیثل کام کو نہ کر رہے ہوتے، وہ دن اور آج کا دن میں ہر بار سٹیج پر کھڑا ہونے سے پہلے خود کو یاد کرواتا ہوں کہ میرا کام اہم ہے اور مجھے سننے والوں میں سے کسی نہ کسی کی زندگی آج تبدیل ہونے والی ہے مجھے اس کام کو جذبے سے کرنا ہے اور اسے ہلکا نہیں لینا۔

ڈاکٹر اسامہ ریاض جیسے لوگ شاید ہم جیسے لوگوں کو یہ سمجھانے ہی دنیا میں بھیجے جاتے ہیں کہ آپ کے ذمے جو کام بھی لگا یا جائے آپ کو اس کام کو سپیشل بنا دینا چاہیے، ہم کمزور لوگ ساری زندگی ایسے کام ڈھونڈتے ہوئے گزار دیتے ہیں جو ہمیں سپیشل بنا دیں جبکہ ڈاکٹر اسامہ جیسے لوگ بالکل مختلف سمت کا سفر کرتے ہوئے ہر اس کام کو سپیشل بنا دیتے ہیں جو ان کے ذمہ لگایا جاتا ہے، لوگ ڈاکٹر بن کر خود کو معزز کہلواتے ہیں جبکہ ڈاکٹر اسامہ ڈاکٹری کو عزت دے گئے ہیں، کچھ لوگ شاید ان کے فیصلے کو بے وقوفی گنیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ زندگی کو اگر دوبارہ ڈاکٹر کے جسم میں داخل ہونے کا اعزاز بھی مل جائے تو بھی ان کی ترجیحات اور فیصلوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی کیونکہ شاید وہ کشف المحجوب میں لکھی اس با ت کو سمجھ چکے تھے کہ ـگھوڑے کا کمال اصطبل میں نہیں بلکہ جولان گاہ میں پتہ چلتا ہے۔ یا شاید انہوں مارٹن لوتھر کنگ جونئیر کی وہ شاندار تقریر سن رکھی تھی جس میں مارٹن نے یہ شاندار الفاظ بولے تھے کہ۔ ۔ ۔ اگر آپ کو ایک خاکروب کی ذمہ داری بھی ملتی ہے تو گلیوں میں اس جذبے سے جھاڑو لگائیں جس جذبے سے مائیکل اینجلو اپنی پینٹنگز بناتا تھا، آپ کا جذبہ ویسا ہی ہونا چاہیے جیسا کہ بے تھوون کا اپنی سمفنیز کو کمپوز کرتے وقت تھایا جیسا شیکسپئیر کا شاعری لکھتے وقت تھا، ایسے جھاڑو لگائیں کہ آپ کے جانے کہ بعد زمین و آسمان سے ہر کوئی گواہی دے کہ یہاں ایک شاندار انسان اپنا کام کر کے گیا ہے اور اس کاکام اس بات کی گواہی ہے کہ اسے اس کام سے عشق تھا۔ ۔ ۔ ۔ ویسا ہی عشق جیسا ڈاکٹر اسامہ کو اپنے کام سے تھا۔ ۔ سلام ڈاکٹر اسامہ صد سلام میرے ہیرو۔ ۔

(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply