مسلم تصورِ اخلاق اور تاریخ کا جبر —- ڈاکٹر غلام شبیر

2

تخلیق کائنات کے باب میں جہاں مذہب اور سائنس یکساں نکتہ نظر رکھتے ہیں وہاں آغاززندگی سے متعلق بھی دونوں ایک صفحے پر ہیں۔ جانے وہ کونسا لمحہ سعید تھا جب مٹی پر پانی کی بوند پڑی اور حیات خوابیدہ آنکھیں ملتے ہوئے اٹھ بیٹھی تھی۔ طین لازب جس سے زندگی نے انگڑائی لی مٹی اور پانی کا امتزاج یعنی چپچپی مٹی تھی سائنس اسی حقیقت کو پروٹوپلازم کہتی ہے۔ انسان بھی اسی طرح تخلیق خداوندی ہے جس طرح دیگرتمام مخلوقات خدا کی مخلوق ہیں۔ انسان کی تخلیق کھنکھناتی مٹی سے ہوئی اس سے جب نظم انسانی کی مالا پروئی گئی تو اس کا ست یا نچوڑ سلٰلہ پر منتج ہوا وہ جب مخصوص قوت اچھال سے رحم مدرمیں داخل ہوتا ہے توتخلیق درتخلیق کئی مراحل سے ہمکنار ہوتا ہے۔ تاہم وہ حقیقت اولیٰ جو انسان کو دیگرمخلوقات سے ممیز کرتی ہے وہ نفخ فیہ من روحہ میں پنہاں ہے جسے اقبال الوہیاتی توانائی (Divine Energy) قرار دیتے ہیں جو انسان کے علاوہ کسی اور مخلوق کے حصے میں نہیں آئی۔ اسی کو قرآن نے نفس انسانی Human Personality سے تعبیر کیا ہے۔ اس کے احساس کو شعور خویش Self- consciousness کہا جاتا ہے۔ اسی سے انسان اپنے ہر ارادے فیصلے اورفعل کا ذمہ دار ہے۔ اسی سے یہ اس قابل ہوتا ہے کہ اسے تو کہہ کرپکارا جائے۔ جب تک اس کی بشری تخلیق کا بیان ہے قرآن اسے صیغہ واحد غائب Third Person سے پکارتا جاتا ہے (خلقہ، سواہ، نسئلہ) جب نفخ روح ہوجاتا ہے توصیغہ واحد یک لخت صیغہ مخاطب میں بدل جاتا ہے جعل لکم السمع والابصار والافئدہ یعنی دن بہ دن بڑھتی گئیں اس حسن کی رعنائیاں پہلے آپ پھرتم ہوئے پھرتو کا عنواں ہوگئے۔ ڈاکٹر علی شریعتی لکھتے ہیں کہ سوربورن یونیورسٹی میں قرآن کے عالم مستشرق ہم مکتب نے انہیں بتایا کہ قرآن بشر اورانسان کی دواصطلاحوں کے درمیان مفاہیم کے اعتبار سے ایک حدفاصل قائم کرتا ہے۔ بشرانسان کے حیاتیاتی پہلوئوں Biological Phenomenon کا نام ہے جو انسان کی حیوانی سطح کا بیان ہے اورانسان ایسا کچھ بننے کے عمل کا نام ہے جو مقصود الٰہیہ ہے۔ بشراس کے بطورحیاتیاتی حقیقت یعنی بطور امرواقعہ “ہونے” کا بیان ہے اورانسان Becoming یعنی” بننے” کے جاں گسل معرکوں اورجہد مسلسل کا نام ہے خلقنالانسان فی کبد کا مطلب یہ ہرگزنہیں کہ انسان کو مشکل اور کٹھن میں پیدا کیا گیا ہے بلکہ ابوالکلام آزاد کے الفاظ میں اسے “جہد طلب” تخلیق کیا گیا ہے، زندگی کی تلخ حقیقتوں سے ایسا معرکہ آزما کہ آخردم بھی پکار اٹھتا ہے

خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ
رہنے دے مھے یاں کہ ابھی کام بہت ہیں

تاہم ڈاکٹر فضل الرحمان کا موقف ہے کہ روح اور جسم کی دوئی کا تصور جو یونانی فکراور عیسائیت اور ہندوازم میں پایا جاتا ہے قرآن اس کی تصدیق نہیں کرتا۔ امام غزالی کے بعد خصوصاً امام غزالی کے زیراثر ہی علمانے روح وبدن کی ثنویت کو قبول کیا اوریہ تصور فکراسلام کا مستقل فرنیچر بن گیا۔ قرآن کی اصطلاح نفس جس کا ترجمہ روح کیا جاتا ہے قرآن میں اس کی برت شخصیت یا خودی کے پیرائے میں ہے۔ نفس المطمئنہ اور نفس اللوامہ سے مراد شخصی کیفیات، رجحانات، فطری اجزا وعناصر مراد ہیں۔ انہیں ذہنی کیفیات بھی کہا جاسکتا ہے بشرطیکہ ذہن کو جسم سے جدا کوئی چیز نہ سمجھا جائے۔ کیونکہ کوئی بھی غم یا خوشی نہ تو خالصتاً روحانی ہے اور نہ خالصتاً جسمانی ہے روح کا تصور جسم کے بغیرمحال ہے اور بغیر روح کے جسم کا تصور بے معنی ہے۔ ابن سینا نے روح اور بدن کی ثنویت کا تصور فلسفیانہ استدلال میں پیش کیا اور وہ استدلال اپنے وہر میں یونانی فکر سے مستعار ہے۔ ابن سینا کا موقف ہے کہ روح کو اپنی نمود کیلئے حیات دنیوی میں بدن کا پیرہن درکار تھا، تاہم بعد از ممات روح جسم کا محتاج نہیں ہوگا، وہ ارسطو کی پیروی میں وجود کائنات کو دائم سمجھ بیٹھا تھا۔ مذہب کو اتنی رعایت دی کہ ہاں جزا وسزا کا عمل روح تک محدود ہو گا۔ غزالی نے تحافتہ الفلاسفہ میں ابن سینا کے ان تصورات کو مذہبی فلسفے سے رد کیا اوکہا قرآن کیمطابق یہ جزا وسزا کا عمل روح وبدن کی ترکیب یعنی طبعی انسان پر ہوگا۔ تاہم امام غزالی نے روح وبدن کی دوئی کو یونانی فلسفے کے زیراثرقبول کیا اور عالم مثال میں وہ روح کو جزا وسزا کا سزاوار سمجھتے ہیں مگر شیخ احمد سرہندی عالم مثال کو سبجیکٹو قرار دیکر رد کرتے ہیں۔ صوفیا کی تاریخ کا مرکز ثقل روح وبدن کی دوئی ہے اور سینٹ پال یا تاریخ تصوف اسی لیے خود اذیتی سے معمور ہے بدن کا رد اور روح کا اثبات تصوف کا فلکرم ہے۔ اقبال پر ابن سینا وفارابی کا گہرا اثر ہے اور خطبا ت میں لکھتے ہیں کہ جنت کوئی تفریح گاہ نہیں ہے اور نہ ہی دوزخ کوئی ٹارچر حال ہے۔ یوں اخروی حیات کو شاید وہ روح تک محدود سمجھتے ہیں۔ تاہم ڈاکٹر فضل الرحمان جزا وسزا کے باب میں غزالی کیساتھ کھڑے ہیں مگر لکھتے ہیں کہ قرآن جسے نفس کہتا ہے اس کا ترجمہ شخص ہے۔ کیونکہ کوئی غم یا خوشی ایسی نہیں ہے جسے خالصتاً روحانی یا جسمانی کہا جاسکے۔ یہاں تک کہ خواب جنہیں روحانی ہونے کا قبول عام حاصل ہے خالصتاً روحانی نہیں ہوتے، اکثر خوف ناک خواب دیکھنے والوں کا جسم پسینے سے شرابور ہوتا ہے یہ خالصتاً روحانی عمل جسم پر کیوں بیت جاتا ہے؟ ماں بچے کے اچھے برے خواب کا اندازہ اس کی نیند کے دوران اس کے جسمانی مظہر سے نہ لگا سکتی اگر خواب خالصتاًروحانی واردات ہوتی۔ احتلام خواب کی ایک صورت ہے کیا اسے خالصتاً روحانی عمل کہا جاسکتا ہے؟

قرآن تخلیق کائنات اور تخلیق ابن آدم سے متعلق جوہری طور پر دومختلف موقف رکھتا ہے۔ قرآن کیمطابق خدا جب کسی چیز کوتخلیق کرتا ہے اسی لمحے اس کی فطرت کے تعین کیلئے اس کو قانون ہدایت و عمل اور مخفی امکانات اور جملہ ممکنہ رویوں کے قوانین (امر، ہدایہ، رہنمائی) ودیعت کردیتا ہے۔ وہ ایک پیٹرن میں ڈھل کر کائناتی نظام کی ایک عامل قوت بن جاتی ہے۔ یوںعظیم الجثہ کائناتی مشین کے اجزا وعناصر اور مظاہر فطرت کو قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ قوانین و ضوابط سے رتی بھر مفر نہیں ہے۔ یوں ساری کائنات مسلم ہے یعنی اس نے رضائے الٰہی کے آگے سرنڈر کررکھا ہے۔ صرف انسان کو اس آفاقی قانون میں استثنا حاصل ہے کیونکہ یہ واحد مخلوق ہے جسے اطاعت اور بغاوت کا ارادہ و اختیار بخشا گیا ہے جس طرح ہر مخلوق کی فطرت میں ضابطہ اخلاق ودیعت کردیا گیا ہے بعینہ انسان کے دل پر اسکی فطرت یا ضابطہ اخلاق کندہ کردیا گیا ہے (91:7-10)۔ انسان اور دیگر مخلوقات میں جوہری فرق یہ ہے کہ جہاں باقی ہر مخلوق فرائض اور قانون ہدایت کی بجآاوری میں ودیعت کیے گئے قانون کی پابند ہے وہاں انسان کو اپنی فطرت میں ودیعت کیے گئے قانون اخلاق Moral Law کا پابند ہونا چاہئے۔ قانون اخلاق کی پابندی کے باب انسان کے ارادہ و اختیار کی آزادی جہاں انسان کیلئے ایک منفرد اعزاز ہے وہاں یہ اتنا ہی بڑا رسک بھی ہے۔ یہ الگ بات کے انسان نے اس کو رسک کے بجائے اعزاز سمجھ رکھا ہے۔

درحقیقت تخلیق ابن آدم خدا اورانسان دونوں کے باب میں ایک رسک عظیم تھا۔ جب فرشتوں نے شوروغوغا کیا کہ تسبیح وتقدیس کیلئے ہم کافی نہیں ہیں؟ یہ جو زمین پر خون بہائے گا اس فساد فی الارض انسان کی تخلیق چہ معنی دارد؟ خدا نے اس الزام کو ردنہیں کیا انی اعلم مالا تعلمون کے مضراب پراس کی ممکنہ رفعتوں کا نغمہ چھیڑنے پر اکتفا کرتے ہوئے اس عظیم رسک اورچیلنج کو قبول کیا۔ دوسری طرف خدا نے جب ” الامانہ” کا بارعظیم رضاکارانہ طور پرقبول کرنے کیلئے پیش کیا تو یہ قدسیوں کے بس کا روگ نہیں تھا کہ اسے قبول کرتے، زمین اپنی وسعتوں کے باوجود ٹھٹر کر رہ گئی، آسمان اپنی بلندیوں اور رفعتوں کے باوجود کوتاہ قامت ثابت ہوئے، پہاڑوں نے اپنی مضوطیوں اوراستحکام کے باوجود ہاتھ جوڑ لیے۔ جب انسان نے اپنے باب میں گستاخی کا ارتکاب کرنیوالے فرشتوں کو کم ہمتی کا طعنہ دیتے ہوئے مقام شوق تیرے قدسیوں کے بس کا نہیں انہیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہوں زیاد کہہ کر اس بارعظیم کو قبولا تو خود باب تحیر انہ کان ظلوماً جھولا پکاراٹھا توانسان نے اس چیلنج کو اپرچونٹی سمجھتے ہوئےاپنی یوں ڈھارس بندھائی کہ باب حیرت سے مجھے اذن سفرہونے کو ہے، تہنیت اے دل کہ اب دیوار در ہونے کو ہے۔

ڈاکٹرمحمد اسد نے الامانہ سے Faculty of Reason مراد لیا ہے جوخدانے انسان کو اپنی ذات، اناینت، I am-ness کی حفاظت کیلئے مرحمت فرمائی جو نفخ من روحہ کا ثمر تھی تاکہ انسان اسےتمیزحق وباطل کیلئے بطور ہتھیار استعمال کرے، بیت التقویٰ کی چوکیداری کا فریضہ سرانجام دے۔ بروز محشر یہی فیکلٹی انسان پربطور گواہ جرح کیلئے بروئے کارآئیگی۔ و جآت کل نفس معھا سائق وشھید(50:21) ہر انسان اپنے ساتھ اپنی خواہشات باطن کے جھنڈ اور گواہ یعنی self-consciousness کے ہمراہ حاضر ہوگا۔ اس کے باطن سے کیا کیا خواہشات امڈتی رہیں اور اس گواہ ییعنی خود شعوری اور فیکلٹی آف ریزن نے ان کے غلط وصحیح اور حصول کیلئے کیا کیا راہیں تجویز کی تھیں؟ Elka Enola نے اسی راز سے پردہ اٹھایا ہے۔ “Morality is doing what is right regardless of what we are told. Religious dogma is doing what we are told, no matter what is right.۔ مصنف نے یہ دین کا تصوراخلاق پیش کیا ہے، جب دینی تصور اخلاق سیاق وسباق، علت اور زمان و مکاں کے عناصر کو طاق نسیاں کا گلدستہ بنادے تو وہ حیات مستعار کھو بیٹھتا ہے اورمذہبی عقیدہ بن جاتا ہے۔ جعل لکم السمع والابصارقلیلاما تشکرون۔ سمع وبصر Empirical knowledge کے حصول کا ہتھیار ہیں اورفئواد قلب انسانی پر رقم کیے گئے قانون اخلاق کی بازیافت اور مظاہرفطرت میں پنہاں غایت اولیٰ کا فہم حاصل کرنے کی فیکلٹی ہے اور شکر سے مرادان فیکلٹیز کا کما حقہ استعمال کرنا ہےتاکہ تاریخ کو خدائی سرگرمیوں کا اکھاڑہ بنایا جا سکے اوربندہ خاکی تقدیر یزداں رقم کرے۔

اہل روایت کے نزدیک “الامانہ” سے مراد قرآن ہے یہ مفہوم درست ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ یہ قرآن اگر پہاڑ پر اتارا جاتا تو وہ ڈر سے ریزہ ریزہ ہوجاتا (59:21)، اور قرآن کے زور استدلال کے بارے کہا گیا ہے اگرقرآن کیلئے یہ ممکن بنانا ہوتا کہ پہاڑ کو حرکت میں لایا جائے یا زمین کو پھاڑ دیا جائے یا مردوں سے بات کیجائے تو ایسا سب کچھ کردکھانا قرآن کیلئے مشکل نہیں ہے (13:31)۔ “الامانہ” کے بارگراں سے متعلق بھی یہی کہا گیا ہے کہ اسے قبول کرنے سے زمین، پہاڑ اورآسمان دستکش ہوگئے تھے۔ یوں الامانہ سے نزول قرآں مراد لینا عین درست ہے مگرقرآن اگرچہ اپنی تسہیل کا دعویدار ہے مگراسے تیئیس سال نازل ہونے میں لگے اوراتنا ہی پیچیدہ ہے جس قدر خود زند گی پیچیدگیوں سے مالا مال ہے۔ قرآن اپنے جملوں کو آیات کہتا ہے اور آیات کا مطلب نشانیاں اور علامات ہے جو حقیقت کلی کی طرف Sublime pointers ہیں جو گہے حقیقت مطلقہ کا کھلا اورسیدھا سادھا بیان ہیں مگرعمومی طور پر انسان کیلئے دعوت فکر ہیں کہ وہ اپنی ذہنی مشق سے انہیں اپنے حیطہ ادراک میں لانے کی کوشش کرتا رہے کیونکہ ان کے مفاہیم کا سلسلہ لامتناہی ہے۔ راقم کا احساس ہے کہ ہماری پوری روایت تفسیر میں “الامانہ ” کا جو مفہوم ڈاکٹر فضل الرحمان نے بیان کیا ہے وہ روایت تفسیر کی تائید کے باوجود ایک اجمل و اکمل اجتہادی نکتہ آفرینی ہےجس نے قرآن و اسوہ رسول کے بحر ذخارکو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ فضل الرحمان کے نزدیک “الامانہ” سے مراد زمین پرسماجی نظام اخلاق کی تشکیل و تجسیم Social Moral Order ہے۔ یوں سمجھیے یہ نظام اخلاق قرآن اور اسوہ رسول ًﷺ کا Pivotal Point ہے۔ یہ کار زمیں کو سنوارنے کی جہد مسلسل ہے۔ یہ مبنی برعدل سماجی، معاشی سیاسی اور ثقافتی نظام اخلاق کی تشکیل و تجسیم Just socio-economic political and cultural order ہے۔ سماجی معاشی اور سیاسی نا ہمواریوں کے قلع قمع سے ایسی معاشرت کے قیام کی سعی ہے جہاں تمیز بندہ وآقا کے ناسور کو جڑ سے نکال پھینکا جائے۔

کس دریں جا سائل و محروم نیست
عبدو مولا، حاکم و محکوم نیست

یہ جدوجہد انسان پر باہر سے مسلط نہیں کی گئی بلکہ ایک وجدانی اور جبلی جذبہ Instinctive Faculty ہے جو یوم الست انسان کی فطرت میں بطور قانون ہدایت یا الامر ودیعت کیا گیا تھا(7:172)۔ انسان کو مثبت اور منفی اخلاقی جذبوں کا مرقع عظیم Polarized Morality بنا کرارادہ و اختیار کی قوت دی گئی کہ وہ اپنے ارادہ واختیار سے اپنے اخلاقی تنائو میں توازن برپا کرے گا؟ قا لو بلیٰ کہا ہاں کیوں نہیں !اس میں سرگرانی اور بغاوت کا جوہر بھی موجود ہے مگر اطمنان اور سکینت اسی میں ہے کہ وہ اپنے ارادہ واختیار سے مثبت اخلاق کو اختیار کرے کیونکہ ایسا کرنا اپنی Built-in, Inlaid فطرت یا قانون الامر کے آگے سرنڈر کرنا ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر اسد نے لکھا ہے کہ مذہب کا سب سے بڑا اعجاز یہ ہے کہ یہ انسان کیلئے Source of Happiness ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو ابراہیم کیونکر ہاجرہ و اسمٰعیل کو سپرد صحرا کرتے یا اسمٰعیل کیونکر افعل ما تومر کی صدا دیتا یا ابراہیم کیونکر اسمٰعیل کی گردن پر چھری رکھتے، انبیا کا تو معاملہ ہی دگر ہے بھلا ابوبکر کیوں کہتے پسر تم تو بدر میں مجھ پر تیغ زنی سے دستکش ہولیے مگر میری تلوار کی زد میں آتے توبچ نہ پاتے، یا عبداللہ بن ابی کا لخت جگر خود رسول اللہﷺ سے اپنے والد کے قتل کی اجازت کا کیونکر متمنی ہوتا۔ مذہب کی تاریخ ایسے جذبوں اور کارناموں سے بھری پڑی ہے۔ جب کوئی انبیا اور صحائف سماویہ کی مدد سےلوح دل پر رقم قانون اخلاق کی تحریرپڑھ لیتا ہے یا اپنی فطرت کے اثبات کیلئے کمر کس لیتاہے تو بڑی سے بڑی قربانی میں راحت و شادمانی محسوس کرتا ہے۔ وہ صدق خوں کی مہک سے قدم قدم مہرہ مہ کی سجدہ گہیں استوار کرتا ہے، اس کی صدائے تکبیر مسلسل باطل کیلئے صوراسرافیل ثابت ہوتی ہے۔

قرآن انسانی ارادہ و اختیار Free Will کو مرکزی اہمیت دیتا ہے۔ انسانی رفعتوں یا پستیوں کا راز اس کی پہل کاریوں Initiativesمیں پنہاں ہے۔ فضل الرحمان (92:5-11) سے استدلال کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ اچھائی یا برائی کا انتخاب انسان نے خود کرنا ہوتا ہے تاہم ہردوصورت میں خدا اس کا معاون و رفیق خصوصی ہے۔ اچھائی اختیار کرے تو فسنیسرہ للیسرٰی خدا اس کیلئے یسرت کی راہ ہموار کر دیتا ہے۔ برائی کو چن لے تو فسنیسرہ للعسریٰ اس کیلئے عسرت کی راہ سہل کردیتا ہے۔ اسی بنیاد پر اقبال خدا کو انسان کا رفیق کار Co-Worker قرار دیتا ہے۔ یوں انسان کی پہل کاریاں Initiatives خواہ تعمیری ہوں یا تخریبی انہیں Honor کرنا خدا نے اپنے اوپر فرض کر رکھا ہے، تاہم جہاں نیک و بد کا انتخاب انسان کا داخلی مسئلہ ہے اس پر ججمنٹ یعنی اس کے نتائج کا فیصلہ خارج سے ہوتا ہے، ان ربک لبالمرصاد تمہاراخدا واچ ٹاور میں گھات لگائے بیٹھا ہے ایک ذرہ بھی اس کی نگاہ سے بچ نہیں سکتا فمن یعمل مثقال ذرۃ خیریرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شریرہ۔ تاہم اخلاق کی اقلیم پر ناکردہ کاریاں Omissions بھی اتنی ہی اہم اور بار نتائج سے مالامال ہیں جس قدر پہل کاریاں اہم ہیں۔ ڈاکٹر فضل الرحمان لکھتے ہیں قرآن کا مجموعی مزاج بتاتا ہے Sins of omission are as bad as sins of commission ناکردہ کاری کے گناہ اتنے ہی بدتر ہیں جس قدر کردہ کاری کے گناہ ہوا کرتے ہیں۔ ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد۔ ۔ یارب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے کا جواب قرآن اثبات میں دیتا ہے۔ علمت نفس ما قدمت واخرت (82:5) کے باب میں ڈاکٹر اسد نے لکھا ہے کہ یوم جزا انسان جان لے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا تھا اور کیا پیچھے چھوڑآیا ہے۔ and this applies to all the good deeds he did and the sins he refrained from, as well as to all the sins he committed and the good deeds he failed to do. اس کا اطلاق ان سب اچھے اعمال پر ہوتا ہے جو اس نے کمائے اوران تمام برے اعمال پربھی جن سے یہ باز رہا اور ان برے اعمال پربھی جو اس نے کیے اور اچھے اعمال پربھی جنہیں سرانجام دینے سے اعتنا برتا گیا۔ یعنی اپنی حتمیت میں ناکردہ کاریوں کے باب میں اتنی ہی گرفت کی جائے گی جتنی کردہ کاریوں کے باب میں برتی جائے گی۔ ناکردہ کاری کے گناہ کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ فیچر فوٹو گرافی کا معروف نام Kevin Carter سوڈان کے دورے پرتھا جب اس نے ایک قحط زدہ قریب المرگ بچی کی تصویر کو کیمرے کے فریم میں اتارا جب قریب میں ایک گدھ اپنی جبلت سے مجبوراس کی موت کا منتظر تھا۔ تصویر 26 مارچ 1993 کو نیویارک ٹائمز میں چھپی اور عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکزٹھہری اورکیون کارٹرکو عالمی شہرت اور ایوارڈ ملنا شروع ہوگئے۔ صرف چار ماہ بعد ایک خاتون صحافی نے اس کا انٹرویو کرتے ہوئے بھاری اخلاقی ذمہ داری کا سوال داغ دیا کہ کیا اس وقت آپ نے اس بچی کو بچانے کی کوشش کی۔ کارٹر نے جواب دیا اس وقت وہ اپنی فلائٹ سے تاخیر کا شکار ہورہا تھا اس لیے جلد چلتا بنا۔ اینکر نے کہا پھر یوں سمجھیئے اس وقت اس سسکتی بلکتی بچی کے گرد دو گدھ تھے جن میں سے ایک کے ہاتھ میں کیمرہ تھا۔ سوال کیون کارٹر کے ضمیرپرآسمانی بجلی بن کر گرا اور واقعے کے صرف چار ماہ بعد Sin of omission کے احساس میں کیون کارٹر نے خود کشی کر لی۔

انسان کے ارادہ واختیار کی آزادی اور یکسوئی فاطر ہستی کو اس قدر عزیز ہے کہ جہاں وہ خود انسان کے آزادانہ فیصلوں میں مخل نہیں ہوتا اور فیصلوں کے بعد معاون ورفیق بنتا ہے وہاں اس نے ابلیس کو بھی قانو ن الامر کے تحت آزادانہ انسانی فیصلے میں دخل اندازی سے بازرکھا ہواہے۔ انما ستزلھم الشیطٰن ببعض ما کسبوا(3:155)۔ شیطان انہیں کسی ایسی ترکیب سے بہکاتا ہے جو خودان کی ذات سے سرزد ہوا کرتی ہے۔ یوں گناہ کے ارتکاب میں شیطان کے کردار کو بنیادی سبب کے برعکس پہلا نتیجہ کہا جا سکتا ہے۔ یعنی اخلاقی بحرانوں کے ہنگام انسان کے سامنے کئی متبادل ہوتے ہیں، انسان سہل پسندی کے باوصف تسہیل اور شارٹ کٹ کا انتخاب کرتا ہے۔ یوں کردہ کاری یا ناکردہ کاری کے گناہSin of commission or omission کا انتخاب انسان اپنے آزادانہ فیصلے کے تحت کرتا ہے جس کا پہلا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شیطان اس موقعے کو غنیمت جان کر اس گناہ کو فاعل کی نگاہ میں دلکش و مرغوب بنا دیتا ہے۔ قرآن کے مطابق ابلیس خدا دشمن قوت کے برعکس انسان کا ازلی اور ابدی دشمن ہے، کیونکہ اس کا حقیقی چیلنج خدا کے برعکس انسان کو در پیش ہے۔

انسان کی بنیادی کمزوری اس کی کم ظرفی اور ضعاف Pettiness and narrowness of Mindہے جس سے تمام برائیوں کا چشمہ پھوٹتا ہے خلق ھلوعاً(70:19)، اس کی فطرت میں بیقراری ہے۔ واحضرت الانفس الشح (4:128) انسانوں کی جبلت میں حرص وہوس ہے۔ جب اسے نعمت ملتی ہے تو غرور کی راہ اختیار کرتا ہے جب برائی چھو لے تو مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہوجاتا ہے۔ غرور ہو یا مایوسی دونوں کا حتمی نتیجہ تخریب اورشخصیت کی تباہی ہے جو نفخ من روحہ سے وجود پذیر ہوئی تھی۔ تکبر اورمایوسی اس الوہیاتی توانائی کو بھسم کر دیتے ہیں جو انسان کو تخلیقی جوہر کے طور پر عظیم پہل کاریوں Tremendous initiatives کیلئے ودیعت کی گئی تھی۔ اس حقیقت کو سمجھنے کیلئے قرآن ابلیس کے نفسیاتی مطالعے کو بطور ماڈل پیش کرتا ہے۔ جب اس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تو اس کے غروراورکبرکا یہ عالم تھا کہ وہ آدم کو کیوں سجدہ کرے جبکہ وہ آدم سے کہیں برتر ہے اور یہ تک بھول گیا کہ آخر حکم کون دے رہا ہے۔ اور جب مقام بلند سے گرا تو مایوسی کا یہ عالم تھا کہ سمجھ بیٹھا کہ حرف انکار سے جو اس کی شخصیت تباہ ہوئی ہے اب احیا واصلاح ممکن ہی نہیں۔ اس کامل مایوسی میں وہ روزجزا تک مہلت کا خواستگا ہوا تاکہ وہ نسل آدم کوخدا کی راہ سے بہکائے کیونکہ اس نے اپنی تباہی اور تنزلی کا ذمہ دار آدم کو ٹھہرایا۔ اس بہانہ جو کوخدا کیطرف سے ابلیس (حددرجہ مایوس) کا خطاب ملا۔ انسان کو بظاہر باہم متصادم مگرحقیقت میں تکمیلی اخلاقی تنائو کی قوتیں حق سے ودیعت ہوئیں مثلاً کنجوسی و فیاضی، غصہ و رحم، ایثار و ہوس، دلیری وبزدلی وغیرہ، یوں انسان کا حقیقی چیلنج ان باہم متضاد اخلاقی خواص میں توازن برپا کرنا ہے۔ اسی توازن کو قرآن تقویٰ کا نام دیتا ہے۔ ابلیس کا ماڈل بتاتا ہے کہ گناہ یا بغاوت کبر اور مایوسی کی دوانتہائوں کیطرف رجوع کرنا ہے۔ کوئی انسانی گناہ ا بغاوت، جارحیت یا ناکردہ کاری ایسی نہیں ہے جس کی جڑیں کبر یا مایوسی میں پیوست نہ ہوں۔

قرآن خود کوتذکرہ قرار دیتا ہے۔ جب تمہارے پروردگار نے پشت آدم سے پوری نسل انسانی کا تخم کشید کیا تو انہیں اپنے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہو؟ جواباً کہا بلاشبہ آپ ہمارے پروردگار ہیں ہم اس پر گواہ ہیں۔ یہ میثاق اس لیے لیا گیا کہ کہیں روز جزا تم بے خبری کے نوحے نہ سنا نے لگو اوریہ نہ کہو کہ یہ سب کچھ توارث گناہ کی وجہ سے ہوا کیونکہ ہمارے اجداد نے شرک کا ارتکاب کیا اور ہم Hereditary Memory or Hereditary Genes کے ہاتھوں اجداد کا عمل دہرانے پر مجبور تھے۔ اور ہمیں ان کے عمل کا خمیازہ کیوں بھگتنا پڑرہا ہے (7:172)۔ عربی گرامر میں فعل مضارع ماضی اور حال دونوں کا مفہوم بیان کرتا ہے اس لیے ڈاکٹر اسد نے اس آیت کریمہ کا ترجمہ حال میں کیا ہے۔ یعنی جب ابن آدم کی تخم ریزی ہوتی ہے خدا اس کو قانون اخلاق، قانون ہدایت یا الامر ودیعت کردیتاہے۔ یعنی وعدہ الست Primordial Covenant انسان کے دل پر رقم کردیا جاتا ہے۔ اسے انسان اپنی خودی کی قیمت پرہی نظرانداز کرسکتا ہے۔ اس لیے بروزقیامت اس کا یہ استدلال قبول نہیں کیا جائے گا کہ اس کی اخلاقی تشکیل Moral conditioning اس کے پیش روئوں (آبائواجداد)کے رویوں سے ہوئی تھی۔ اور جب اس وعدہ الست کی یاددہانی کیلئے انبیا اورصحائف سماویہ بھی تھے لوح دل پر بھی جلی حروف میں تحریر تھا تو اب بہانہ جوئی قبول نہیں۔ یوں تذکر، یاد دہانی یا ذکر سے مراداس وعدہ الست کو یاد رکھنا ہے جودم تشکیل خدا سے باندھا گیا تھا۔ سلسلہ انبیا اور صحائف آسمانی انسانی ارادہ واختیارکی تکریم میں ایک Gentle Reminder سے سوا کچھ نہیں ہے، ابن آدم کے باب میں باقی مخلوقات کے برعکس لا اکراہ فی الدین کا اصول برتا گیا ہے۔ شاہ ولی اللہ کے بقول ہر Specie کو اس کی شریعہ ودیعت کردی گئی ہے اور سوائے انسان کے سب مخلوقات اس شریعہ (جبلت و فطرت) کو من وعن بجا لانے کی پابند ہیں۔ عربی زبان میں کفر کا مطلب چھپ جانا، پردہ پڑجانا، یا محو ہو جانا بھی ہے۔ سو کفر کا مطلب اس وعدہ الست پر پردہ پڑجانا یا یادداشت سے محو ہوجانا ہے یعنی اپنی فطرت سلیم سے منحرف ہو جانا یا اغماض برتنا ہے، اس نسیان سے پردہ اٹھانا انبیا کا کام ہے۔ وعدہ الست یا میثاق ازل کو ایک مثا ل سے سمھجتے ہیں۔ ٹویوٹا کمپنی کا بورڈ آف گورنرز اپنے انجینئرز کے ساتھ ایک پلان بناتا ہے کہ ہم ایک ایسی گاڑی بنائیں گے جس کے یہ فیچرز ہوں گے، مثلاًوہ 300 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے گی وہ ہائبرڈ گاڑی چالیس کلومیٹر کی رفتار کے دوران پٹرول کے بجائے بیٹری پر چلے گی، وہ تیزرفتاری میں ایمرجنسی بریک کے دوران چھت کے بل نہیں الٹے گی وغیرہ وغیرہ، یہ سب فیچرمارکیٹ ہوگئے۔ کسٹمرز نے درخواستوں کے انبار لگادیئے، مگر جب گاڑی مارکیٹ میں آگئئ تو پتہ چلا اس کی فیول ایوریج موعودہ ایوریج سے بہت کم ہے، تیز رفتاری میں ایمرجینسی بریک پر الٹ جاتی ہے اور فی گھنٹہ رفتار 200 کو بھی نہیں چھوپاتی تو کہا جاسکتا ہے کہ یہ اس میثاق کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت یہ بنائی گئی تھی۔ وعدہ الست اسی طرح استعارے کی زبان میں بیان ہوا ہے، کہ انسان کی فطرت میں یہ مثبت منفی اخلاقی فیچر رکھے گئے تھے اورکیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ کا مطلب ہے کہ جو تمہاری فطرت میں قانون اخلاق ودیعت کیا گیا ہے کیا آزادانہ ارادہ واختیار سے اسے بالرضا بروئے کار لائو گے زوردار ہاں کیوں نہیں کی ندا آئی تھی۔

یھدی بہ کثیرا ویضل بہ کثیرا کو مسلکی سچ اور اشعری علم الکلام کی حمایت میں سیاق و سباق سے ہٹاکر برتا جاتا ہے، ورنہ پوری آیت کریمہ پورا سچ ہے وما یضل بہ الالفا سقین الذین ینقضون بعہداللہ و یقطعون ما امراللہ بہ ان یوصل اولائک ہم الخٰسرون(2:26) اللہ نہیں گمراہ کرتا مگر ان کو جنہوں نے فسق و فجور کو اختیار کیا اور اپنے رب کیساتھ کیے گئے وعدے کو توڑا اور ان سے الگ ہوگیا جن سے خدانے جڑے رہنے کا حکم دیا تھا یہ ہیں وہ لوگ جو مطلق خسارے میں ہیں۔ محمد اسد نے لکھا ہے یہاں خدا سے کیے گئے وعدے کے توڑنے سے مراد وعدہ الست کوتوڑنا ہے یہ وعدہ دراصل انسانی فطرت کلی کا جامع پیکیج ہے جو قانون اخلاق کی صورت انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے۔ اس سے انحراف ضلالت اور گمراہی ہے اور یہ خارجی نہیں انسان کا داخلی مسئلہ ہے اور انسان کا کسبی معاملہ ہے۔

تاہم یوں قرآن انسان کیلئے خدا کی ناگزیریت کا مقدمہ نہ صرف وضاحتی بلکہ تنبیہی (Descriptive cum Prescriptive) اندازمیں ایسے زور بیان اور زوداثر طریقے سے پیش کرتا ہے کہ انسانی خودی کے بحرقلزم کا وہ حصہ جسے لاشعور کہتے ہیں اس کی تہہ جسے غزالی حوض اخلاق کا نام دیتا ہے وہاں ایسی ہل چل مچتی ہے کہ اخلاق کے خوابیدہ جوہر vivid & vital ہوکر سطح پر آجاتے ہیں۔ ان کیطرح نہ ہوجانا اورخدا نے انہیں اپنا آپ بھلادیا، یہ وہ ہیں جنہیں خدا نے تقویٰ کے ہتھیار سے محروم کردیا جو ان کی خودی کا محافظ تھا(59:19) یہ معاشروں کی اجتماعی زندگی کیلئے بھی اتنا ہی سچ ہے جتنا انفرادی حیات کے باب میں ہے۔ خدا کی یاد کا مطلب انسانی شخصیت یا ذات کا استحکام ہے جہاں زندگی کے اجزا و عناصراورانسانی سرگرمی کی تفصیلات باہم مربوط و منظم ہوتے ہیں دوسری طرف خدا فراموشی کا مطلب ٹوٹا پھوٹا وجود، سیکولرائزڈ زندگی، غیرمربوط اور نتیجتاً تباہ شدہ خرابہ شخصیت ہے۔ یہی اصول معاشروں کی اجتماعی شخصیت یا کارپوریٹ پرسنالٹی کے بنائو بگاڑ میں کارفرما ہے۔ یادخدا کا مطلب اپنی فطرت کو Respond کرنا ہے قلب منیب پیدا کرنا ہے خدافراموشی کا مطلب اپنی فطرت سے اغماض برتنا اور نتیجتاً اپنی خودی کو غیرمربوط کر کے اس کے اجزا وعناصرکے درمیان نامیاتی تعلق قطع کر لمحہ وار unintegrate disintegrate and destroy کرنا ہے۔ خدا عروۃ الوثقیٰ یا عبداللہ یوسف علی کے الفاظ میں Hand-hold ہے جس کے سہارے کوئی کنوے سے باہرآتا ہے یا پہاڑ اور کھنبے پر چڑھتا ہے ہاتھ سے چھوٹ جائے تو پاتال میں گرنا لازم ہوتا ہے، خدا زندگی کا ماوراالطبعی اینکرنگ پوائنٹ ہے جس سے زندگی جہت عمل کا تعین کرتی ہے۔ معروف ماہرسماجیات درخیم کا کہنا ہے کہ جب انسان کا اخلاقی وژن تنگ نظری کا شکار ہوجائے اورماوراالطبعی جہت Transcendental dimension رخصت ہوجائے پھر آفاقی طور پر تسلیم شدہ معروضی اخلاقی نکتہ نظر کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں پڑتا آیا کہ کوئی خود کوخدا سمجھ کراپنی پرستش میں لگ جائے یا اپنے معاشرے اور قوم کو معبود بنالے یہ Normative Nature سے انحراف ہے اور یہ انحراف اخلاقی صلاحیتوں کو ناکارہ بنا دیتا ہے اورحتمی تجزیے میں ایسے افراد اور قوموں کے وجود کا زمین سے اٹھنا ناگزیر ہو اجاتا ہے اور ایسے جتنے افراد یا قومیں قرطاس ہستی سے مٹ گئے قرآن کہتا ہے ہم نے ان سے کوئی ظلم نہیں کیا یہ بیڑے اپنی باغیانہ موج اخلاق میں غرق ہوئے یہ ان کے اپنے ہاتھ کی کمائی تھی۔ اس ماوراالطبعی جہت Transcendental dimension کا چھوٹنا ایسے ہی ہے جیسے کسی ٹی وی چینل کا سیٹلائٹ سے کنکشن منقطع ہو جانا ہے۔ یا جیسے بحری جہاز کا لنگر سے محروم ہو جانا ہے۔ یہ ماوراالطبعی حوالہ (خدا) اس مستحکم اور ناقابل شکست چٹان کی مثل ہے جو باغی اور بپھری موجوں سے ساحل کی حفاظت کرتی ہے گویا خدا انسانی خودی کے گرداس حصار یا فصیل حق کا نام ہے جو اسے طاغوتی حملوں سے بچاتی ہے۔ اللہ الصمد میں یہی رمزغریب پنہاں ہے صمد بنیادی طور پراس چٹان کو کہاجاتا ہے جو ساحل کی موجوں سے حفاظت کرتی ہے۔

قرآن کا تصور تقدیر بہت واضح ہے۔ قدر کا مفہوم پیمانہ و ترازو ہے جہاں خدا مطلقاً لا محدود اور لا متناہی ہے وہاں ہردیگر چیز مخلوقانہ تخصص محدودیت اور متناہی امکانات Finite sum of potentialities سے متصف ہے۔ اگرچہ انسان میں ان ممکنات کا سلسلہ بہت وسیع وعریض ہے۔ امکانات کے اس سلسلہ دراز کو اعدادو شمار میں لانا انسانی حیطہ ادراک ایک طرف یہ کسی سپر کمپیوٹر کے بس میں بھی نہیں ہے۔ جرمن عیسائی ماہر الٰہیات امانوئل کانٹ پر یہ پردہ وا ہوا تو لکھا Two things awe me most; the heavenly sky and moral law in man. ان گنت کہکشائوں اور ستاروں سے لبالب آسمان اور فطرت انسانی میں پنہاں قانون اخلاق کے وسیع وعریض امکانات مجھے ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ قرآن کیمطابق تاریخ میں کوئی ایسا مکرم مقام کبھی نہیں آسکتا جب انسان یہ کہے سکے کہ اس نے تمام خوابیدہ اخلاقی خوبیوں کو بروئے کار لا کر دکھادیا ہے۔ دنیا کا آخری آدمی بھی یہ دعویٰ نہیں کر پائے گا کیونکہ اس وقت بھی قرآن کا یہ دعویٰ سوفیصدی درست ہو گا کلا لما یقض ما امرہ (80:23) انسان کی سرشت میں جو قانون الامر ودیعت کیا گیا تھا کہ یہ اس کی روشنی میں زمین پر سماجی نظام اخلاق قائم کرے اس نے اس وعدہ الست کو پورا نہیں کیا۔ ان غیر مختتم امکانات اور انسان کی بشری کمزوریوں کی رعایت میں ہی خدا رحمانہ عدل Merciful Justice کا پیکر ہے اور انسان اخلاق کے خوابیدہ امکانات کے برعکس صرف بروئے کا ر لائے گئے امکانات actualized potentials کا مکلف ہے انہیں کی جوابدہی کا سزا وار ہے۔ اگر وہ بڑے گناہوں سے بچتا ہے تو چھوٹی چھوٹی لغزشوں سے خدا اعتنا فرمائے گا اور ان کے اثرات مٹا دے گا۔ الیس اللہ بکاف عبدہ (39:36) کیا خدا اپنے بندے کیلئے کافی نہیں ہے کہ وہ اس کے باوجود شفاعت و سفارش کے وسیلے اور سہارے ڈھونڈتا ہے۔ کوئ بھی خدا کے حضور کسی کے باب میں شفاعت کا متحمل نہیں ہوسکتا بجز ان کے جنہیں خدا اجازت دے(2:225; 10:3;20:109;34:23; 53:26 )۔ اہل تصوف اورآرتھوڈاکسی نے اجازت سے یہ مراد لے لیا کہ بروز قیامت محمدﷺ اذن خداوندی سے اپنے امتیوں کی شفاعت فرمائیں گے۔ ابن تیمیہ کا موقف ہے کہ پرمشن کلاز کو Literal sense میں نہیں لیا جا سکتا یہ صرف خدا کی میجسٹی اور لا محدود پاورز کو بیان کرتی ہے۔ بروز قیامت روح القدس اور ملائک خدا کے حضورقطار میں کھڑے ہوں اور بجز اذن خداوندی کسی کو بولنے کی اجازت نہیں ہوگی (78:38)۔ اگر اسے لفظی معنویت میں سمجھا جائے تو شفاعت تو کیا کسی کو خدا کے حضور لب کشائی کی مجال نہیں ہو گی۔ ڈاکٹر اسد لا یملکون الشفاعتہ الا من التخذہ عندا لرحمٰن عھدا(19:87 ) سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ شفاعت انہیں کی ممکن ہے جنہوں نے حیات دنیوی میں خدا سے وعدہ الست کو نبھایا ہوگا یا کم ازکم جنہیں دنیوی حیات میں خدا کی وحدانیت اور انفرادیت کا ادراک ہوا ہوگا ان کے توازن اخلاق کے خسران سے خدا صرف نظر فرمائے گا۔ یا پھر وہ شفاعت کے سزاوار ہوں گے جن کی توبہ خدا قبول کرچکا ہو گا۔ تاہم ڈاکٹر اسد شفاعت کے معروف نظریے کو رد کرتے ہیں اور ڈاکٹر فضل الرحمان امام ابن تیمیہ کیطرح معروف تصور شفاعت کو رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس تصور میں اتنی اپیل ہے کہ معتزلی تمام تر تعقل پسندی کے باوجود اس نظریے کو ماننے پر مجبور ہو گئے تھے۔ تصور شفاعت لاتزر وازرۃ وزرہ اخریٰ، اور لیس للانسان الا ماسعیٰ سمیت دیگر کئی آیات قرآنی اور قرآن کے مجموعی مزاج کے برعکس ہے۔

ڈاکٹر فضل الرحمان قرآن کے تصور تقدیر کو بڑے آسان پیرائے میں سمجھاتے ہیں۔ کہ کسی کمپنی نے ایک آٹوموبائل کار بنائی ہے فرض کیجئے اس گاڑی کا لائف ٹائم 170000 کلومیٹر ہے، یہ اس کی تقدیر ہے، یہ جہاز کی طرح اڑنہیں سکتی، انسان سے تیزتر ہے۔ یہ جملہ کوائف اس کی تقدیر ہیں۔ بعینہ انسان کو ودیعت کیا گیا قانون امر، ہدایہ اور ان گنت ہونے کے باوجود اس کی فطرت میں محدود امکانات منجملہ اس کی تقدیر ہیں، جن کے برتنے میں انسان کو آزادانہ اختیارحاصل ہے۔ اسی لیے اپنے ارادے اورعمل کا مکلف وذمہ دارہے۔ تاہم ملوکانہ معاشرت، اشاعرہ کے کلام اورایران کے زرتشتی پس منظر سمیت دیگر کئی عوامل کیوجہ سے تقدیر کا مطلب ہرچیز بمشمول انسانی عمل کے خدا کا پہلے سے طے کردہ پلان Divine Predetermination سمجھ لیا گیا اورامارت اسلامیہ عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ کی عملی تصویر بن گئی۔

ڈاکٹر فضل الرحمان نے اپنے ایک آرٹیکل Some Key Ethical Concepts of Quran میں قرآن کی تین اصطلاحوں ایمان، اسلام اور تقوٰی پر ایسی وقیع اور زود اثر بحث کی ہے کہ قرآن کا پورا تصور اخلاق ان اصطلاحوں میں امڈ کر سمٹ گیا ہے۔ لفظ ایمان کامادہ ا، م، ن ہے جس کا مطلب اپنی ذات کیساتھ ہم آہنگ ہونا to be at peace with oneself ہے، داخلی کشمکش سے نجات حاصل کرنا to feel no tribulation within oneself ہے۔ یوں یہ مطمئن ہونا to be satisfied with oneself ہے۔ آخری درجے میں اپنی فطرت سے ہم آہنگی اختیار کرلینا ہے۔ خدا تمیں اس بستی کی مثال دیتا ہے کانت آمنۃ مطمئنہ جومحفوظ ومامون تھی اسے ہرچہارجانب سے رزق میسرکیا جارہاتھا اس نے جب خدا کی نعمتوں کا کفران کیا تو ہم نے اسے بھوک اور خوف کا ہمہ جہت مزہ چکھایا جو یوں اہل بستی نے یہ عذاب بڑی مستقل مزاجی سے اپنے لیے کمایا تھا (16:112)۔ یہا ں آمنۃ مطمئنہ کا مطلب یہ ہے کہ جب تک انہوں نے خود کو اپنی فطرت ازلی Primordial Nature سے ہم آہنگ رکھا وہ نہ صرف خدائی حصار میں محفوظ و مامون تھے بلکہ انہیں ہر کوارٹر سے بہم رزق ملتا رہا جب وہ خدافراموشی کا شکار ہوئے گویا خدا نے انہیں خودفراموشی کی دلدل میں اتاردیا، خدا نے ان کے گرد قائم اپنے حفاظتی حصار کو ہٹالیا تو انہیں لباس الخوف والجوع کا مزہ چکھنا پڑا اوریہ مزہ ان پرمسلط نہیں کیا گیا بلکہ ان کے ہاتھ کی کمائی تھی۔ ایمان کا مطلب Peace & Safety ہے۔ تاہم چوتھی فارم میں یہ لفظ خدا پر یقین کا درجہ حاصل کرتا ہے جو کسی کے امن اورتحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ یوں ایمان دل کے اس عمل کا نام ہے جس کے ذریعے کوئی فیصلہ کن انداز میں خود کو سپردخدا یا پیغام خداکے حوالے کردے اور نتیجے میں کسی ممکنہ خطرے کیخلاف امن اور تحفظ کیلئے حصارخداوندی میں قلعہ بند ہوجانا ہے۔ فضل الرحمان ایمان کی دواہم خصوصیات سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ پہلی بات یہ کہ ایمان سادہ تر الفاظ میں علم الادراک یا تعقل پسندی کا مترادف بھی نہیں اوران سے محروم بھی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ علم و دانش کو ایمان کے کئی اجزائے ترکیبی میں سے ایک جزو قرار دیا جا سکتا ہے۔ بہت سی آیات علم اور ایمان کو مترادف پیرائے میں بیان کرتی ہیں اور یہ کہ ایمان ایک ایسی خوبی attribute ہے جسے علم سے استحکام ملتا ہے۔ مومنین کے متعلق اولٰئک کتب فی قلوبھم الایمان وایدھم بروح منہ (58:22) کہا گیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کا ایمان کاتب ازل نے ان کے دلوں پر کندہ کردیا ہے اور اسے علم کی مدد سے استحکام دیا جاتا ہے۔ اہل تفسیر الروح سے مراد روح القدس لیتے ہیں مگر اشرف علی تھانوی نے اس آیت میں الروح کا مطلب “علم” لیا ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمان نے یہاں روح سے مراد جبرائیل لیا ہے تاہم وہ دوسرے مقام پر الروح کا ایک مطلب Faculty of Knowledge بھی بیان کرتے ہیں۔ اقبال اپنے شعر ہمسایہ جبریل امیں بندہ خاکی ۔ ۔ ۔ ہے اس کا نشیمن نہ بدخشاں نہ بخارا میں شاید جبرائیل کا مطلب فیکلٹی آف نالج ہی لیتے ہیں۔ یونانی فلسفے اور عیسائیات میں اسے Active Intellect یا Doctrine of Logos کہا گیا ہے۔ سینا وفارابی اور دیگر مسلم مفکرین میں Active Intellect کا تصور ملتا ہے جس تک صرف انبیا کو رسائی ہے اور اس علم کے حصول میں انہیں استاذ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ڈاکٹڑ فضل الرحمان کیمطابق ایمان کی دوسری خوبی یہ ہے کہ یہ صرف دل یا دل و دماغ کا معاملہ نہیں ہے ایمان کا عمل میں ڈھلنا ضروری ہوتا ہے۔ ایمان اور عمل کے درمیان ایک نامیاتی تعلق Organic link ہوتا ہے ایمان اور عمل کی علیحدگی قرآن کے تصور سے متصادم ہونے کے ناطے Untenable & absurd صورت حال کو جنم دیتی ہے یہ شہادت گاہ الفت میں قدم رکھنا ہے۔ ۔ لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا۔ جب روز جزا آئے گا تو اس روز نہ تو اس ایمان لانیکا فائدہ ہوگا جو حیات دنیوی میں نہیں لایا گیا تھا اور نہ ہی اس ایمان کا فائدہ ہوگا جو لایا تو گیا مگر اس کی کوکھ سے خیر یا عمل صالح نے جنم نہ لیا ہوگا (6:158)۔ امام زمخشری نے اسی آیت کے باب میں لکھا ہے کہ ایمان بغیر عمل صالح عدم ایمان کے مترادف ہے۔

ایمان کے بعدقرآن کے تصوراخلاق کی دوسری عظیم کلیدی اصطلاح اسلام ہے جس کا مادہ Root س۔ ل۔ م ہے۔ جس کا مطلب to be safe, whole and integral یعنی محفوظ ہونا، مکمل ہونا اور بطوروحدت اپنا وجود قائم رکھنا ہے۔ فعل کی چوتھی شکل میں جب اس کو اسم معرفہ بنانے کیلئے ال کیساتھ ملادیا جاتا ہے تو اس کا مطلب سرنڈریا جینوئن سرنڈر بنتا ہے۔ یہ تصور ایمان کا جزولاینفک ہے۔ خدا کے قانون الامر، یا ھدایہ جو انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے اس کے آگے سرنڈر ایمان کے بغیر ممکن العمل نہیں ہے۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ قرآن کی کچھ آیات میں اسلام کا مطلب بھی نوروہدایت خداوندی ہےیوں ایمان اور اسلام مترادف ہوتے ہوئے ہم زیستی، ہم رکابی اور من توشدی تو من شدی کا مظہر بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر فضل الرحمان لکھتے ہیں کہ ایمان اور اسلام ایک دوسرے کا متبادل ہیں کیونکہ کوئی فرد صاحب ایمان ہوسکتا ہے مگریہ کبھی بھی درست اور کامل نہیں ہوسکتا جب تک اس کا اسلامی انداز میں ظہور نہ ہو یا کسی مخصوص کمیونٹی کے ذریعے یہ شرمندہ تعبیر نہ ہو۔

ایمان اور اسلام کے بعد قرآن کے اخلاقی تصور کی تیسری اصطلاح تقویٰ ہے تقویٰ تصوراخلاق کی مرکزی اصطلاح ہے۔ اس لفظ کی گہرائی میں جانے سے ایک تحیرکا دروازہ کھلتا ہے کہ معنوی اعتبار سے یہ اصطلاح ایمان اور اسلام کے مترادف لگتی ہے۔ تقوٰی کا مادہ و۔ ق۔ ی ہے۔ جس کا مطلب حفاظت کرنا یا تباہی سے بچانا ہے۔ فعل کی آٹھویں شکل میں اس کا مطلب خود کوممکنہ خطرے یا حملے سے بچانا یا محتاط ہونا ہے۔ اس کا عمومی ترجمہ خدا خوفی یا زہد کیا جاتا ہے۔ قرآن میں تقویٰ کا معیاری ترجمہ اخلاقی حوالے سے ہے۔ یعنی خود کو اپنے کردار کے نقصان دہ یا برے نتائج سے بچانا ہے۔ گویا خدا خوفی کا مطلب اپنے اعمال کے برے نتائج سے ڈرنا ہے۔ تقویٰ کا حقیقی تصور ضمیر کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے اسد نے کراماًکاتبین کا مطلب Moral tensions کی مثبت اور منفی قوتیں لیا ہے اور ضمیرکی فیکلٹی آف ریزن ان کے غلط اور درست ہونے کا تعین کرتی ہے۔ یوں فضل الرحمان تقویٰ کا مفہوم شمع باطن بیان کرتے ہیں جو غلط اور درست کی تفریق پر قادر ہوتی ہے۔ ایمان حیات باطن کا نام ہے اسلام عمل کی خارجی جہت ہے، تقویٰ ایمان اور سرنڈر دونوں کی درست جہت نمائی کی کوشش پیہم کا نام ہے جو ضمیرانسانی کو سونپی گئی ہے۔ فضل الرحمان لکھتے ہیں تقویٰ کا اہم ترین فریضہ انسان کو اس کی اجازت دینا ہے کہ وہ اپنا جائزہ لے اور غلط اوردرست میں امتیاز برتے۔ یہ خوداحتسابی جو تقویٰ میں پنہاں ہے اس کا مطلب عام انسانی پیمانوں سے ضمیر کو تشفی دینا Self-righteousness نہیں ہے۔ ایسی خوداحتسابی اگر built-in success کا جوہر رکھتی تو ہیومنزم ایک مکمل ضابطہ حیات کے طورپر کامیاب فلسفہ ہوتااور زندگی کو ماوراالطبعی جہت کے ممنون احسان ہونے کی ضرورت نہ پڑتی۔ ہم جانتے ہیں لوگوں کے ضمیر کس قدر سبجیکٹوٹی کا شکار ہواکرتے ہیں۔ تقویٰ کے مفہوم میں یہ ماورالطبعی جہت کا ر عمل ہے۔ یوں تقویٰ کا مفہوم یہ ہے کہ جب ارادہ و اختیاراورآزادانہ انتخاب ہمارا ہوتا ہے اوراس کے نتیجے کا اثر بھی ہماری ذات پر ہوتا ہے۔ تاہم ہماری کارکردگی پرسچی اور حقیقی معروضی ججمنٹ ہماری نہیں ہوتی اس کا تعلق اللہ عزو جل سے ہے۔

یوں جہاں ایمان حیات باطن یعنی اپنی فطرت میں پنہاں جوہرکو تلاشنا ہے اور داخلی حیات کے تضادات اور کشمکش کو راہ اعتدال وتوازن پرڈال کر اطمینان حاصل کرنا ہے وہاں اسلام حیات باطن کے آگے عمل کی صورت میں سرنڈر کرنا ہے۔ فلپ کے ہٹی کے مطابق لفظ اسلام اس رویے کانام ہے جس کے تحت اسماعیل نے اپنے پدربزرگوار کے آگے رضائے الٰہیہ کے عین مطابق سرنڈر کیا۔ تقویٰ کبر اور مایوسی کے درمیان creative mean, integrative moral organism کے حصول کی جہد مسلسل کا نام ہے۔ اہل عرب تقویٰ کا مفہوم یوں بھی لیتے تھے کہ ٹرے میں برتن اس طرح رکھ کر چلنا کہ ان کے گرنے یا آپس میں ٹکرانے کا احتمال نہ ہو، یوں تقویٰ سے مراد خودی (Self کے اجزا وعناصر ترکیبی کو یوں رکھنا کہ اس کی قویٰ مضمحل ہو کر مختل نہ ہو جائیں۔ تقویٰ خودی کا لباس ہے جس طرح چھلکا پھل کا لباس ہوا کرتا ہے۔ اگر پھل کا کوئی حصہ چھلکے سے باہر نکل جائے تو وہ گل سڑ جاتا ہے اس عمل کو فسق کہا جاتا ہے۔ ایسے ہی اگر خودی کا کوئی عمل لباس تقوٰی سے باہر پائوں رکھ دے تو فسق کا سبب بنتا ہے۔ فجر کا مطلب پھٹنا یا منتشر ہونا ہے اگر لباس تقویٰ پھٹ جائے تو کردار کی مالا بکھر جاتی ہے۔ یوں تقویٰ کے تصور سے قرآن کی اصطلاح فسق وفجور اور فاسق و فاجر کو درست پیرائے میں سمجھا جا سکتا ہے۔ قرآن کی نہایت جامع اصطلاح ظلم تقویٰ کا متضاد ہے۔ عربی میں ظلم کسی شے کو اس کے موزوں مقام سے ہٹا دینا ہے۔ ظلم اس عمل کا نام ہے جو فاعل پر بائونس بیک Boomerang کرتا ہے Reflexive ہونے کے ناطے It recoils upon the agent.

یوں قرآن کی اصطلاح ا “الامانہ” کو اس کے مجموعی تصوراخلاق کی روشنی میں ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ الامانہ قالو بلیٰ کے عملی ثبوت دینے کی ذمہ داری ہے۔ یہ زمین پر مستحکم سماجی نظام اخلاق Viable social Moral Order قائم کرنیکا نام ہے، یہ وعدہ الست کی عملی تعبیر ہے۔ یہ میثاق ازل کی بجا آوری یعنی اپنی فطرت کا اثبات ہے۔ ایک صاحب ایمان کا ایمان اس وقت تک سچا، پورا اور کامل نہیں ہوسکتا جب تک کوئی کمیونٹی اسے اسلامی طور پرwork out نہ کرے۔ فرد اپنے مخفی امکانات کو ایک معاشرے کی صورت ہی بروئے کار لا سکتا ہے کیونکہ بلا معاشرت فرد کا تصور محال ہے۔ فرد زیادہ اہم ہے اور سوسائٹی ایک ذریعہ ہے اس کے بروئے کار آنے کایا معاملہ برعکس ہے یہ اکیڈمک بحث ہے۔ قرآن کی نظر میں فرد اور معاشرہ باہم لازم وملزوم ہیں۔ تقویٰ معاشرتی سیاق وسباق کے بغیر بے معنی ہے حتیٰٰ کہ ظلم النفس بھی سوسائٹی کے بغیرممکن نہیں ہے۔ قرآن جب کسی فرد مثلاً فرعون اور قارون کی ہلاکت کا ذکر کرتا ہے تو یہ مخصوص شخص کے بجائے ایک طرزحیات، طرزمعاشرت یا طرزتہذیب کی تباہی بیان کرتا ہے۔ الامانہ دراصل زمین پر ایک ایسے سماجی، سیاسی معاشی اورثقافتی نظام اخلاق کی تجسیم کا نام ہے جو کسی فرعون، قارون کو جنم نہ دے۔ اس لیے ڈاکٹر علی شریعتی لکھتے ہیں اسلام واحد مذہب جس کے کیرئرکا آغاز سیاست اور جہاد سے ہوا ضیا گوکلپ نے بھی یہی کہا ہے کہ عیسائیت کے برعکس اسلام نے اپنے اخلاقی پروگرام کی تشکیل و تعبیر کیلئے ریاست کے قیام کو ناگزیر سمجھا۔ اقبال بھی یہی سمجھتے ہیں قرآن مومن کیلئے شکوہ اور شان و شوکت کو ناگزیر سمجھتا ہے جو ریاست کے بغیر ممکن نہیں۔ ابن خلدون عمومی انداز میں لکھتے ہیں کہ کسی معاشرے کیلئے ریاست اسی طرح ضروری ہے جس طر ح مغز کیلئے چھلکا۔ ڈاکٹر فضل الرحمان نے بجا لکھا ہے کہ معذرت خواہ سیکولرمسلم دانش کا استدلال کہ میثاق مدینہ سیکولراسٹیٹ کا مسودہ وآئین تھا پیغمبراسلام پراس الزام کے مترادف ہے کہ جب وہ میثاق مدینہ پر دستخط کررہے تھے ان کا یہ عمل غیرمذہبی irreligious تھا گویا اپنے منصب حقیقی سے اغماض تھا۔ اگریہ سیکولر ڈاکیومنٹ تھا تو یہودیوں، عیسائیوں اورمشرکین کیخلاف اسلام کی جدوجہدکارعبث تھی۔ ان کیساتھ برتائو سیکولر نظریے کے بجائے قرآن کی روشنی میں کیا گیا۔ استاذی ڈاکٹر حسین محمد جعفری اپنی کتاب Moral Political vision of Islam لکھتے ہیں کہ اسلام پیغمبرؑ پر ریاست کے قیام کی کوئی ذمہ داری نہیں ڈالتا تاہم ریاست کے قیام کی جدوجہد سے روکتا بھی نہیں ہے۔ اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں۔ برنارڈ لیوس کے شاگرد ہونے کی وجہ سے مرحوم اسلام کی تعبیرمیں لچکدار تھے مگر سیکولرازم کو ایک نظریے کے بجائے عقیدے کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور یہ اقبال، فضل الرحمان اور ڈاکٹر طارق رمضان کے چند استثنائی حوالوں کے سوا پوری یورپ پلٹ سیکولراسلامی دانش کا اجتماعی المیہ ہے۔ اسلام کی سیکولر تعبیر دودھاری تلوار ہے جو ایک طرف نیشنلزم کے ذریعے عالمی اسلامی اتحاد پر کاری وار کرتی ہے دوسری طرف یہ مذہب کو نجی معاملہ بنا کراسلام کے سماجی تشکیل میں کردار کو کاٹ دیتی۔ محمد اسد نے بجا طور پر فرمایا ہے کہ Rise and fall of Islam is directly linked to its capacity to shape social life. ارئیت الذی ینھیٰ عبداً اذا صلیٰ کے باب میں اسد نے لکھا ہے آغاز اسلام میں نماذ کلیہً مذہب کا مترادف تھی یعنی نماز سے مرادمذہب کا سماج کی تشکیل میں کردار تھا، اگرچہ مفسرین نے اس سے کعبہ اللہ کے سامنے ابوجھل کا اہل اسلام کو نماز سے روکنا تھا تاہم یہ ایک آفاقی حقیقت کا بیان ہے کہ ایسے افراد آتے رہیں گے جو مذہب کو نجی معاملہ سمجھ کراس کے سماج کی تشکیل میں کردار سے روکیں گے، اور ایسے بھی آئیں گے جو ماوراالطبعی حوالے کو سرے سے رد کریں گے، یوں اس آیت میں یہی ابدی آفاقی میسج ہے۔

ڈاکٹر فضل الرحمان کا یہ نکتہ نظرقابل غور ہے کہ قرآن زندگی کے مسائل کو بہ یک وقت دوسطحوں یعنی قانون اوراخلاق کی اقلیم پرالگ الگ ڈیل کررہا تھا۔ پہلی سطح پراس وقت کے زمان ومکاں اور اسباب و علل کیمطابق کنکریٹ قانون دے رہاتھا مگر ساتھ ہی وہ اس اخلاقی منزل کوبیان کررہا تھا س طرف معاشرے کی پیش رفت مقصود تھی۔ مثلاًغزوہ احد کے بعد جب یتموں کی نگہبانی اور مال وجائیداد کی حفاظت مقصود تھی تو اس تاریخی ضرورت کے تحت محدود کثیرالازدواجی کی اجازت دی مگر دوسری طرف بیویوں کے درمیان انصاف کی شرط عائد کی اور ساتھ ہی کہا کہ یہ انصاف تمہارے بس میں نہیں۔ چونکہ کثیرالازدواجی اس معاشرے کا عام چلن تھا یوں یکبارگی اس پر قدغن لگانا مناسب بھی نہ تھا مگرمعاشرے کی دائم اصول اخلاق کے تحت حتمی اخلاقی منزل یک ازدواجی قرار دی گئی۔ قتل کے باب میں زمینی حقائق کی روشنی میں اس قبائلی معاشرے کی رسوم کو ہی ردوقبول اور ترمیم کیساتھ جہاں قتل کے بدلے قتل یا دیت یا پھر معاف کردینے کوترجیحاً بیان کیا وہاں اخلاق کی اقلیم پر قتل کو پرائیویٹ کے بجائے سماجی جرم قراردیتے ہوئے کہا کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ایک زندگی کو بچانا پوری انسانیت کے بچانے کے مترادف ہے۔ ڈاکٹرمنظوراحمد نے لکھا ہے کہ شیخ احمدسرہندی سنت مصطفوی ً کو رسول اللہ کا اجتہاد قراردیتے ہیں۔ اس بات سے اتفاق کرنا اگرچہ مشکل ہے لیکن فلسفہ تاریخ شاید اس کا اثبات کرے۔ ڈاکٹرطارق رمضان شاید اسی نکتے کو دوسرے انداز سے پیش کرتے ہیں کہ ہمارا عہدقرآن کو اس مخصوص Temporal History سے نجات دلانے کا تقاضا کررہا ہے۔ اگر عہد بہ عہد قانون سازی کے اصول نئے تقاضوں اورانسانی فہم کے ارتقا کے تحت بدلتے آئے ہیں امام شافعی کا سکول استخراجی عقل Deductive Logic کا قائل تھا ابوحنیفہ کا مکتب فکر اسقرائی اپروچ Inductive Logic کا قائل تھا، استحسان۔ عدل، مصالح مصلح Public Good وغیرہ اور پھرمقاصد شریعہ اسکول وجود میں آیا تواب بھی Geography of legislation کو جوہری تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ یہ مقدمہ انہوں نے اپنی تصنیف Radical Reforms in Islam میں بیان کیا ہے جو انہوں نے اپنے بیان کے مطابق خطبات اقبال کے اس جملے سے انسپائریشن کے نتیجے میں لکھی کہ اگرآج ہمیں کچھ معاملات میں اسلاف سے اختلاف بھی کرنا پڑے تو کرنا ہوگا کیونکہ جن مسائل سے ہم گزررہے ہیں یہ مطلقاً ہمارے ہیں ہمارے اسلاف کو ان حالات ومسائل کا سامنا نہیں تھا۔

یہودونصاریٰ کے ساتھ معاملات کو بھی قرآن نے قانون اواخلاق کی اقلیم پر الگ الگ بیان کیا ہے عہد نبوی میں انہیں دعوت بھی دی گئی انہیں مدنی کمیونٹی کا حصہ بھی قراردیا گیا۔ باربار کی غداری اصول شکنی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کی مستقل عادت کیوجہ سے قرآن نے کہا کہ یہودونصاریٰ کبھئ مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے۔ تاہم انہیں امت مسلمہ کی لڑی میں پرونے کی جدوجہد سے نہ آخردم تک پیغمبرؑ نے پہلوتہی فرمائی اور نہ ہی قرآن کا سلسلہ دعوت موقوف ہوا۔ تاہم جب قرآن نے یہی ایشو اخلاق کی اقلیم پر ایڈریس کیا تو کہا آئو اے اہل کتاب ہم اس امر پر اتفاق کرلیں جوہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے یعنی کلمہ توحید پریکجا ہو کر ایک عالمی سماجی سیاسی معاشی اور ثقافتی نظام اخلاق کا قیام World socio-economic and political cum cultural moral order ڈاکٹر فضل الرحمان اسے مغربی طرز کے Ecumenism بالکل مختلف قراردیتے ہیں جس میں ایک ہی مذہب کی مختلف مسلکی کمیونٹیز کے درمیان Salvation کیلئے جزبہ خیرسگالی کا تبادلہ خیال ہوتا ہے۔ اسلام سالویشن کے برعکس فلاح و خسران کا تصور پیش کرتا ہے اوراس فلاح وخسران کا تعلق زمین پر سماجی نظام اخلاق کے قیام سے ہے۔ کیرن آرم اسٹرانگ نے لکھا ہے کہ قرآن کی کچھ آیات نے اہل اسلام اور اہل کتاب کے درمیان یگانگت اور اتحاد پر بڑے موثر انداز میں زوردیا ہے مگر ان آیات کی بجا آوری کی راہ میں صلیبی جنگیں اوربعد میں عالم اسلام پر مغریلغار کی یادداشتیں حائل ہیں۔ ڈاکٹرفضل الرحمان کہتے ہیں یہ اب بھی ممکن ہے بشرطیکہ مسلمان تاریخ کے بجائے قرآن سے رجوع کریں اور اہل مغرب عیسائی عقیدے کی آفاقی Monotheism cum Egalitarianism سے تطبیق کریں۔

الامانہ کی عملی تعبیر یعنی زمین پر سماجی سیاسی معاشی اور ثقافتی نظام اخلاق کے قیام کیلئے جہد مصطفویﷺ کو ہم نے ایک طویل مضمون بعنوان ” سیرت مصطفوی ﷺ کی تفہیم جدید اور ڈاکٹر فضل الرحمان” میں پیش کردیا ہے یہ فہم سیرت، سیرت کے لٹریچر کے بجائے قرآن سے لیا گیا ہے، ابولکلام آزاد نے لکھا ہے کہ اگرپورا سیرت کا لٹریچر تاریخ کے دھندلکوں میں کھو بھی جائے تو قرآن سیرت مصطفویﷺ کے بیان میں قیامت تک موجود ہے۔ مولانا آزاد نے علامہ شبلی سے درخواست کی تھی کہ وہ جو سیرت النبی پر کتاب لکھ رہے ہیں اس میں ایک حصہ سیرت مصطفوی ما خوزاز قرآن بھی ہونا چاہئے۔ راقم کا خیال ہے اس پروجیکٹ کو ڈاکٹر فضل الرحمان سے بہترکسی نے نہیں نبھایا۔

(Visited 1 times, 8 visits today)

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. کوئی محترم ہے جو اسے آسان اردو میں ٹرانسلیٹ کر سکے؟ شاید کسی خاص اہل علم کے لیے یہ تحریر ہے۔ شکریہ

  2. بہت خوب صورت تخلیق ھے ۔قدیم اور جدید فلسف سے استفادہ مگر راہ اعتدال اختیار کی گئی ہے ۔بے شک قرآن کریم مرکز رشد و ھرایت ھے ۔

Leave A Reply