عمر شریف: میرا مسیحا —— شہناز شورو

0

عمر شریف کا ہم پر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے ہمیں پاکستانی تاریخ کے اس بدترین دور میں ہنسنا سکھایا، جب لوگ ہنسنا مسکرانا بھول چکے تھے۔ اور یہ بہت بڑی ٹرانزیشن تھی۔ یہ ایک آرٹسٹ کا پوری قوم پر احسان ہے۔ آج جب وہ زندگی کے مشکل ترین وقت سے گزر رہا ہے تو ہم میں سے بہت سوں کو اس کی “زبان” اور “کامڈی” کے انداز یا طریقہ کار سے اختلاف یاد آیا ہے۔ او رئیلی؟؟ بات بے بات ماں بہن کی گالیاں دینے والی مخلوق اور بیہودہ ترین اسٹیج ڈراموں کی گندی زبان سے اگر عمر شریف کی کامڈی کا موازنہ کریں تو حیرت ہوتی ہے کہ اس نے کس طرح ذومعنی اور سہ معنی گھٹیا جملوں اور حرکات و سکنات کے بغیر جنسی تلذذ کو ابھارے بنا ڈراموں میں حس ظرافت کو برقرار رکھا۔ عمر شریف کی کامڈی میں ایک خاص کلچرل مزاح ہے جو نہایت پرتاثر ہے اور دیکھنے اور سننے والوں کو قہقہ لگانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اس کا کمال یہ ہے کہ اس نے بجائے دوسروں کے کلچر کو نشانہ بنانے کے خود کو نشانے پر رکھا اور جس زبان و ثقافت سے اس کا اپنا تعلق تھا اس پر کھل کر مزاح لکھا اور سب کو محظوظ ہونے کا موقع دیا۔

میری اپنی ذات پر عمر شریف کا بڑا احسان ہے. پی ایچ ڈی کی ریسرچ کے سلسلے میں ڈیٹا جمع کرنے کی غرض سے جب میں نے مختلف شیلٹر ہاؤسز اور جیلوں میں جا کر خواتین اور مردوں کی زندگی کا مشاہدہ اور مطالعہ کیا تو ایک عجیب احساس غم نے مجھے آ لیا۔ ان انٹرویوز کی ریکارڈنگ کی ٹرانسکرپشن کرتے ہوئے مجھے دوبارہ درد و اذیت کی اسی کیفیت سے گزرنا پڑا، جس سے نکلنا میرے لئے محال ہوا۔ میری سینئر پڑوسن جو کئی پی ایچ ڈی سکالرز کو سائیکیاٹرسٹس سے رابطہ کرتے اور بار بار ہاسپٹلائزڈ ہوتا دیکھ چکی تھی، اس نے میرے بچوں کے حوالے سے مجھے سمجھاتے ہوئے پڑھائی چھوڑ کر اپنی صحت پر توجہ دینے کے لئے کہا۔ میری سپروائزر نے مجھے خبردار کرتے ہوئے یہ مشورہ دیا کہ میں ایک یا دو سال کے لئے چھٹی لے لوں۔ مگر میرے لئے یہ تقریباً ناممکن تھا کہ میں اس پروجیکٹ کو طویل عرصے کے مؤخر کروں۔ میں ہمیشہ ڈاکٹرز کے پاس جانے سے گھبراتی ہوں لہٰذا اس کیفیت کے دوران میں مسلسل سوچتی رہی کہ مجھے اس وقت اپنی ذہنی صحت کو بچانے کے لیے ایسا کیا کرنا چاہیے تاکہ میں اس مشکل وقت سے نکل سکوں۔ ایک ہندوستانی ریسرچر جو خود کم و بیش اسی صورتحال سے دوچار تھی، نے مجھے کپل شرما شو دیکھنے کا مشورہ دیا۔ میں نے چند پروگرام دیکھے۔ ایک دن یو ٹیوب پر کوئی پروگرام ڈھونڈتے اچانک عمر شریف کا ایک شو مل گیا۔ پرانی یادوں سے جڑے ان جملوں اور فقروں میں چھپے مزاح نے مجھے پھر عمر شریف کے شوز دیکھنے پر مجبور کر دیا۔ پھر تو ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا۔ ۔ ۔ ایک طویل سلسلہ تھا۔ صرف دو یا تین ماہ کے عرصے میں، میں پھر سے زندگی کا روشن پہلو دیکھنے کے قابل ہو چکی تھی۔ اور پھر سے اپنے پروجیکٹ کو مکمل کرنے میں لگ گئی۔ یہ میری ذات پر عمر شریف کا بہت بڑا احسان ہے۔ اس واقعہ کا ذکر میں نے اخترعلی اختر سے کیا۔ اختر نے مجھے عمر شریف کا فون نمبر دیا اور میں نے ایک دن فون کرکے عمر شریف کو اس بابت بتایا۔ آج تک میری خواہش ہے کہ میں کسی دن بہت سارے پھول لے کر عمر شریف کے پاس جاؤں اوراس کا شکریہ ادا کروں۔ یارک یونیورسٹی برطانیہ کی ویب سائٹ پر موجود میرے لکھے ہوئے ڈاکٹورل تھیسس  کے سر آغاز میں میں نے عمر شریف کے لئے لکھا تھا:

“I would like to send my gratitude to one person, a great Pakistani comedian Umar Sharif, whom I have never met but he saved me from being stressed out. The process of collecting and transcribing the sensitive data made me very emotional to the extent that at one point I intended to seek help of some doctor. At that difficult time, his humorous video clips cheered me up and I came back to normal without any medicine.”

ساری زندگی ہنسی اور مسکراہٹ کے پھول بانٹنے والے عمر شریف کو اس لاچار حالت میں دیکھنا کیسا دل شکن تھا۔
پر جوخدادکھائےسوناچار دیکھنا (سودا)

(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply