مسلم دنیا ناقابل تسخیر ہے —- رابرٹ نکلسن (وال اسٹریٹ جرنل Wall_street_Journal)

0

افغانستان نے ثابت کردیا ہے کہ عیسوی نظریات و اقدار کو عالمگیر سمجھنا حماقت ہے۔  رابرٹ نکلسن

رابرٹ نکلسن امریکی ہے اور فلاس نامی تنظیم کا بانی صدر ہے۔ یہ تنظیم مشرق وسطی میں عیسائیت کے لیئے کام کرتی ہے۔ اس کا یہ مضمون ‘The Unconquerable Islamic World’ کے عنوان سے 19 اگست 2021 کو وال سٹریٹ جرنل میں چھپا ہے۔ ترجمہ: ابرار حسین


مورخین، فوجی اور سیاستدان کئی دہائیوں تک اس بات پر بحث کریں گے کہ افغانستان میں امریکی مداخلت کے دوران ہم سے کہاں غلطی ہوئی۔ تاہم یہ سادہ سی حقیقت تو کئی برسوں سے واضح تھی کہ ہم مغربیوں کی ناکامی کی وجہ کوشش کی کمی نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم محض فوجی اور معاشی طاقت کے بل بوتے پرمسلم دنیا کو مستقلا تبدیل کرنے چلے تھے۔حالانکہ ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادی 20 سال قبل 9/11 کے بعد جنوبی ایشیا میں ‘انصاف کی تلاش’ میں آئے تھے۔اس کے بعد جلد ہی ہم عالمگیر تہذیب کے پیامبر بن بیٹھے۔ہم نے سمجھا کہ ہر جگہ انسان وہی بنیادی فیصلے کریں گے جو خود ہم نے سیاسی سماج کی تعمیر میں کیے تھے۔ یہ جانے بغیر کہ سیاست کا رخ ثقافت اور ثقافت کی سمت مذہب متعین کرتا ہے ہم افغانستان میں ایک لبرل جمہوری ریاست قائم کرنے نکل کھڑے ہوئے۔ ہمیں کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ امریکہ اور افغانستان جو کچھ بھی ہیں بالترتیب عیسائیت اوراسلام کی وجہ سے ہیں۔

سیاسی مفکر سموئیل ہنٹنگٹن نے درست کہا تھا کہ اسلامی معاشرے ایک مخصوص تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں جو طاقت کے ذریعے غیر ملکی اقدار کے نفاذ کے خلاف مزاحمت کرتی ہے۔ ہم ہنٹنگٹن کی اس دلیل پر یقین کر یں یا نہ کریں لیکن کھربوں ڈالرز کے ضیاع، ہزاروں اموات اور دو دہائیوں پر مشتمل طویل جنگ نے اس کی سچائی کو ثابت کردیا ہے۔

اب بھی ان کی اکثریت نوشتہ دیوار پڑھنے کے قابل نہیں ہے۔عراق، شام، لبنان، فلسطین، یمن، لیبیا اور نائیجیریا جیسے ملکوں میں بظاہر باہم غیر متعلق بحران کو دیکھ کر ہمارے سفارت کار اور حکمت عملی وضع کرنے والے ماہرین یکطرفہ ردعمل دیتے ہیں اوران مشترک نظریات اور کرداروں کو نظر انداز کردیتے ہیں جو ان کے درمیان ربط پیدا کرتے ہیں۔ اس اندھےپن کے پیچھے یہ خواہش کار فرما ہے کہ انسانوں کو مساوی اورایک دوسرے کے رنگ میں رنگ جانے والی ایسی مخلوق کے طور پر دیکھا جا سکے جس کے لیے ایمان اور ثقافت وہ غیر اہم عوارضات ہیں جو صرف اس لیئے اسے لاحق ہوتے ہیں کہ اس کی پیدائش کسی خاص ماحول میں ہوئی ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ کہ یہ عوارضات لاکھوں انسانوں کے لیے ایسی سچائی ہوتے ہیں جن پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا اور انسان ان کو ترک کرنے کی بجائے موت گوارا کرلیتے ہیں۔اس بات کو سمجھنے میں ناکامی اصل میں روحانی کھوکھلے پن کی علامت ہے۔ ہم میں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو امریکہ کی عیسوی بنیاد سے لاتعلق ہوجانے کی وجہ سے یہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ ایمان انسانوں کو آپس میں جوڑنے میں کتنا بنیادی کرداراداکرسکتا ہے۔

“عظیم تر مشرق وسطی” جیسی خوش نما باتیں اہل مغرب کے ہاں ایک متحد مسلم دنیا سے بے چینی کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس بات کی فکر نہ کریں کہ مسلمان خود ایسی باتیں کرتے ہیں یا انڈونیشیا اور مراکش کے درمیان مقامی تنوع امت کے درمیان ہم آہنگی کو کمزور نہیں کرتا۔ اسلام کی عمارت میں کئی کمرے ہیں لیکن یہ عمارت چند ستونوں پر کھڑی ہے۔ اور وہ ستون یہ ہیں؛ قرآن اللہ کی آخری وحی ہےجو تمام انسانیت پر حاکم ہے۔ عقیدہ صرف نجی مسئلہ نہیں بلکہ عمومی قانون کا معاملہ بھی ہے۔عقیدے کے مطابق زندگی اس ریاست میں بہتر طور پرگزاری جاسکتی جو مذہب اور سیاست کو جدا نہیں کرتی اور مسلمانوں کے لیئے جہاں ممکن ہو غیر مسلموں پر اختیار قائم کرناچاہیے تاکہ اللہ کے قانون کا نفاذ یقینی بنایا جاسکے۔ اس طرح کے نظریات طا-لبان، القا-عدہ اور حما-س کے”یہودیوں اور صلیبیوں” سے لڑنے کا باعث بنتے ہیں جو تاریخی طور پر اسلام سے تعلق رکھنے والی زمینوں پر قابض ہیں۔ تاہم ان کے عزائم بنیاد پرستی سے کوسوں دور ہیں۔ بہرحال زیادہ تر مسلمان ان اصولوں کو معیار سمجھتے ہیں اگرچہ وہ خودان پر عمل کرنے میں ناکام ہی ہوں۔

نئے رجحانات سے بدلتےحالات کی فال لی جاسکتی ہے۔ اسرا-ئیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے چار مسلم اکثریتی ممالک کا حالیہ فیصلہ دوستی کا ایک پرخطر ٹھوس عمل تھا جس کا اعتراف کرنا چاہیئے۔ لیکن ایک ایسے علاقے میں اس طرح کے اقدامات ابھی تک محدوداور اجنبی ہیں جہاں مذہبی اور سیکولر مسلمانوں کی بڑی اکثریت اسرائیل، امریکہ اور ان کے درمیان ان قدیم عبرانی روابط کو جو ان دونوں کے آپسی تعلق کی بنیاد ہیں، مسترد کرتی ہے۔ مسلمانوں کے درمیان وہ لوگ جوروایتی عقائد کی گرفت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اگرچہ جرات مند ہیں مگر وہ تعداد کے اعتبار سے چھوٹی سی اقلیت ہیں۔

مغرب اسلامی دنیا کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ تاہم یہ دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مذہبی اسلامی ملت کو نظر انداز بھی نہیں کر سکتا۔ بہترین حکمت عملی یہ ہوگی کہ مغربی اقدار اور اداروں کے فروغ کی کوششوں سے پیچھے ہٹا جائے اور امریکی مفادات اور اتحادیوں کے دفاع کو ترجیح دی جائے۔ امریکی مسلمان قدرتی طور پر دوسرے شہریوں کے برابر حقوق کے مستحق ہیں۔ مسلم اکثریتی ریاستیں جو امریکہ کے ساتھ دوستی کی خواہاں ہیں وہ گرمجوشی سے خوش آمدید کہے جانے کی مستحق ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب وہ امن کے لیے مشکل فیصلے کریں۔ امریکی حکومت مسلمانوں کی باہمی جنگوں کے متاثرین کے لیئے انسانی امداد کی فراہمی اب بھی جاری رکھ سکتی ہے اور خصوصا ان غیر مسلموں کے لیئے جو ایسی صورت حال میں پھنس جائیں۔لیکن مجموعی طور پرامریکہ کو پیچھے ہٹنے کی ضرورت ہے۔ امریکی اقدار کے احترام کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان اقدار کو مسترد کرنے والوں پر انہیں زبردستی نافذ کرنے سے باز رہا جائے۔

مسلمانوں کی اکثریت ہی مسلم مستقبل کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ واشنگٹن کو لازمی طور تسلیم کرنا چاہیئے کہ مسلمانوں کو اپنی اقدار کے مطابق معاشرہ سازی کا حق ہے۔ ویسے بھی ہم تسلیم کریں یا نہ کریں مسلمان اپنے معاشروں کی تشکیل انہی خطوط پر کریں گے جو ان کی اقدار کے مطابق ہوں گے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمان امریکی مفادات کے خلاف فیصلے کریں گےاور ہم تماشائی بنے رہیں گے۔ تاہم امریکہ کو یہ تسلیم کرنا چاہیئے کہ مسلمان کو اپنی مرضی سے معاشرہ سازی کا حق ہے۔

یہ فیصلہ کرنا ہمارا کام نہیں ہے کہ مسلم دنیا بدل سکتی ہے یا شاید یہ تبدیل نہیں ہو سکتی۔ہماری توجہ اس روحانی بیماری کے علاج پر ہونی چاہیے جس نے پہلے ہمیں اندھا کر دیا تھا۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اپنی تہذیبی شخصیت کے شعور کو بحال کرکے اپنی ترجیحات کا از سر جائزہ لیں۔

(Visited 1 times, 11 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply