مت سہل ہمیں جانو —- حمید شاہد کا انتخاب میر

0

میر محمد تقی میر نے اپنے سوانحی حالات اور اپنے عہد کے احوال ’’ذکر میر‘‘ میں لکھ چھوڑے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ’’ ذکرِ میر‘‘کا پہلا مسودہ ۱۸۷۱ ء سے ۱۸۷۳ ء کے برسوں میں تیار ہو گیا تھا۔ یہ کتاب فارسی زبان میں لکھی گئی تھی۔ سی ایم نعیم کے ’’ذکرِمیر‘‘ کے انگریزی ترجمے (مطبوعہ آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، انڈیا، ۲۰۰۲ء) کے دیباچے میں اس کی تصنیف کا سال ۱۸۸۲ء بتایا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ میر صاحب یہ کتاب نواب آصف الدولہ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے تھے۔ خیر، کہنا یہ ہے کہ میر صاحب کے سوانحی حالات کا پہلا حوالہ تو یہی ’’ذِکر میر‘‘ ہے۔ محمد حسین آزاد نے ’’آب حیات‘‘ میں میر صاحب کے حوالے سے جو لکھا تذکرہ نگاروں نے اسے بھی بہت اہمیت دی ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کی ’’تاریخ ادبِ اُردو‘‘ جلد دوم میں میر صاحب کے سوانحی حالات انہی مآخذ سے جمع ہو گئے ہیں۔ لگ بھگ میر صاحب کے ہر دوسرے انتخاب میں یہ کوائف موجود ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میر صاحب کی غزلیات پڑھنے سے پہلے میرصاحب کی زندگی کی کہانی پڑھنا بھی مفید رہے گا۔ ایسا صرف میں ہی نہیں سمجھتا یہ ایک مستحکم رائے ہے۔ خواجہ احمد فاروقی ’’میر تقی میر: حیات اور شاعری‘‘ میں ایک مقام پر لکھتے ہیں ’’میر میں دراصل ایک دنیوی زیرکی تھی جو زمانے کے گرم و سرد کو چکھنے کے بعد آتی ہے۔ ایک ہوش مندی ہے جو مشاہدہ کے بغیر ممکن نہیں۔ وہ گھر میں نہیں بیٹھے رہے انھوں نے دنیا کو نکل کر دیکھا۔ ‘‘ میرصاحب کی اس زیرکی تک پہنچنے کے لیے ہمیں اپنے زمانے کے خول سے نکل کر اُس زمانے میں پہنچنا اور ان حالات کو سمجھنا ہوگا جن سے میر صاحب نبرد آزما تھے۔

فاروقی صاحب نے ’’شعر شور انگیز‘‘ کے دیباچوں میں جہاں میرصاحب کو کلاسیکی شعریات کی روشنی میں پڑھنے کو کہا ہے وہیں مغربی تنقید کے زیراثر یہ ثابت بھی کرنا چاہا ہے کہ ’’مصنف خود معنی پیدا نہیں کرتا، بلکہ ایسے سیاق و سباق بناتا ہے اور ایسی ترتیب پیش کرتا ہے اور مروج نظام کے امکانات اس طرح استعمال کرتا ہے کہ اس کا کلام بامعنی ہو جاتا ہے۔ ‘‘ یہ درست کہ بعض اوقات ہم مصنف کو جانتے ہی نہیں لہٰذا منشائے مصنف کو بھی نہیںجان سکتے اور مجبوراً ہمیں متن سے آزادانہ معاملہ کرنا ہوتا ہے مگر جہاں مصنف اور اس کے زمان و مکان تک پہنچنا ممکن ہو مگر جان بوجھ کر منھ پھیرلیا جائے توکیا ہم معنی کی ایک اور ممکنہ جہت سے اغماض نہیں برت رہے ہوتے؟یقین جانیے کہیں کہیں ایسا جاننا یوں اہم ہو جاتا ہے کہ متن اس کے بغیر اپنی پوری معنویت ظاہر ہی نہیں کرپاتا۔
دیوان دوم میں میر صاحب کہتے ہیں:
شہاں کہ کحل جواہر تھی خاک پا جن کی
انھیں کی آنکھ میں پھرتی سلائیاں دیکھیں

آپ جانتے ہیں کہ اس شعر میں ایک تاریخی حوالہ ہے۔ میر صاحب’’ذکر میر‘‘ میں لکھتے ہیں کہ وہ امیر خان انجام کی حویلی میں مقیم تھے۔ دہلی کے حالات ابتر تھے اور وہاں کے امرا باہم بر سر پیکار۔ یہ وہی زمانہ تھا کہ مرہٹوں نے دلی کوتاراج کیا تھااور عمادالملک نے احمد شاہ کو قید کرکے اُس کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر کر اندھا کر دیا تھا۔ وہ اس سفر وحشت میں احمد شاہ کے ہمراہ تھے۔ شعر کے ہمہ جہت معنوں تک پہنچنے کے لیے یہ جاننا لازم ہے کہ یہ تاریخی حوالہ کیا تھا۔ اچھا، ایک لحاظ سے متن خود مکتفی سہی کہ اس شعر کا اطلاق نئے زمانے پر بہ خوبی کیا جاسکتا ہے اور یوں نئے معنی متعین ہو جائیں گے مگر یہ جاننا بھی اہم ہے کہ معنی شاعر کے اپنے زمانے کو متن سے بے دخل کرتے ہیں نہ اس حوالے کو جس سے شاعر نے مدد لی تھی بلکہ اسی کی توسیع ہو جاتے ہیں۔ گویا شعر کی تخلیق کا زمانہ ہو یا اس کے پڑھے جانے کا زمانہ دونوں اہم ہیں۔

میر صاحب کا زمانہ
میر صاحب کا زمانہ سیاسی، معاشی اور سماجی اکھاڑ پچھاڑ کا زمانہ تھا۔ ملک میں ہر کہیں انتشار، افراتفری اور طوائف الملوکی کا سیلاب امنڈا پڑتا تھا۔ انھوں نے جو زمانہ دیکھا اس کے آتے آتے مغلیہ سلطنت کو زوال کا گھن کھوکھلا کر چکا تھا۔ انسانی صورت حال مخدوش تھی۔ انھیں چاروں اور زوال دکھائی دے رہا تھا اور انہی حالات میں ان کے اندر کا تخلیق کار اپنے لیے راستہ تلاش کر رہا تھا؛ جی وہ بھی ایسے میں کہ میر صاحب کے اپنے معاشی حالات اچھے نہ تھے۔ یہیں ایک دلچسپ واقعہ بھی بیان کیے دیتا ہوں۔

کہتے ہیں جب میر صاحب دہلی سے لکھنؤ کے لیے نکلے توزاد راہ کی کمی کا سامنا تھا۔ جس گاڑی میں سوار ہونا تھا اس کے کرائے کے لیے پیسے تک پاس نہ تھے۔ ایک شخص نے انھیں شریک سفر کرلیا تو اس لائق ہوئے کہ دہلی کو خدا حافظ کہہ پائیں۔ جس شخص نے میرصاحب کی ذمہ داری اُٹھائی تھی، سفر شروع ہوا تو اس نے کچھ کہنا چاہا اور میرصاحب اسی شخص سے منھ پھیر کر بیٹھ گئے۔ بات آگے چلی نہیں، گاڑی چلتی رہی۔ کچھ وقت گزرا تو ایک بار پھر اُس شخص نے کچھ کہنے کے لیے انھیں مخاطب کیا۔ میر صاحب کے مزاج بگڑ گئے، کہا: ’’صاحب قبلہ آپ نے کرایہ دیا ہے مگر باتوں سے کیا تعلق؟‘‘ اس شخص نے ادبدا کر کہا۔ ’’ حضرت، اس میں کیا مضائقہ ہے۔ راہ کا شغل ہے باتوں میں ذرا جی بہلتا ہے۔ ‘‘میر صاحب اور بگڑ گئے، کہا:’’ خیر! آپ کا شغل ہوگا۔ ہماری زبان بگڑتی ہے۔ ‘‘

تو یہ تھے میر صاحب، بگڑے ہوئے حالات میں بھی اپنی انا کو قائم رکھا اور اپنی زبان کو بگڑنے نہ دیا۔ اچھا، وہ حلیہ جو میر صاحب کا بیان کیا جاتا ہے، اسے نگاہ میں رکھیں تو وہ اور بھی گزر چکے زمانے کے لگتے ہیں۔ وہی قدیمانہ وضع، کھڑکی دار پگڑی، پچاس گز کے گھیر کا جامہ، اک پورا تھان پستولیے کا کمر سے بندھا، ایک رومال پٹڑی دار تہہ کیا ہوا اس میں آویزاں، مشروع پاجامہ، جس کے عرض کے پائیچے، ناگ پھنی کی انی دار جوتی جس کی ڈیڑھ بالشت اونچی نوک، کمر میں ایک طرف سیف یعنی سیدھی تلوار، دوسری طرف کٹار، ہاتھ میں جریب۔ جی یہ وہی زمانہ تھا جس میں لکھنؤ والے نئے انداز اپنا چکے تھے۔ ہر کوئی نئی تراشوں کا دلدادہ۔ بانکے ٹیڑھے جوانوں نے میر صاحب کو اوّل اوّل اس حلیے میں ایک مشاعرے میں دیکھا تو خوب ہنسے تھے مگر یہی میر صاحب اپنے کلام سے محترم ہو گئے تھے۔

جن دنوں میر صاحب دہلی میں تھے اور نواب صمصام الدولہ کے ہاں ملازم، تو ان دنوں نادر شاہ درانی دہلی پر حملہ آور ہوا تھا۔ اس حملے میں دہلی شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ صمصام الدولہ بھی ماراگیا۔ جب مالک نہ رہا تو ملازمت کیسی۔ بے روزگار ہوکر اپنے وطن آگرہ لوٹ گئے۔ گھر میں کتنی دیر بیٹھ سکتے تھے۔ آگرہ میں کوئی ذریعہ معاش نہ بن پایا تو پھر دہلی پہنچے اور اپنے خالو سراج الدین علی خان آرزو کے یہاں مقیم ہو گئے مگر اپنے مزاج کے سبب اُن سے نہ بنی تو وہاں سے نکلے اور ایک رئیس رعایت خان کے ہاں ملازم ہو گئے۔ یہاں بھی نہ ٹکے۔ اس رئیس کی ملازمت سے نکلے تونواب بہادر کی مصاحبت میں چلے گئے۔ نواب بہادر کو صفدر جنگ نے قتل کروا دیا تو میر صاحب پھر سے بے روز گار ہو گئے۔

اُن دنوں دہلی خانہ جنگی کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اسکندر آباد کی لڑائی کے دوران میر صاحب احمد شاہ کے ساتھ تھے۔ جن دنوں وہ راجہ ناگرمل کے بیٹے کے ہاں معقول تنخواہ پر ملازم ہو گئے تھے اُن دنوں اس شہر کے حالات اتنے بگڑے اور ایسی لوٹ مارہوئی کہ وہاں رہنا مشکل ہو گیا تھا۔ جب میر صاحب کے گھر پر بھی لوٹ مار ہوئی تو وہ بددل ہو کر وہاں سے نکلے اور متھرا جاٹھہرے۔ کچھ عرصہ اِدھر اُدھر گھوم پھر کر جب پھر دہلی پہنچے تواسے اجڑے ہوئے پایا۔ دہلی کا اجڑنا گویا اُن کے دل کا اُجڑنا تھا۔ شہر کی یہ حالت اُن سے دیکھی نہ جاتی تھی۔ وہ حسام الدولہ کے بھائی وجیہہ الدین کے ہاں ملازم ہو گئے تھے۔ معقول وظیفہ مقر ر تھا۔ لگ بھگ گوشہ نشین ہو گئے تھے اور خوب شعر کہہ رہے تھے کہ جو سنتا اوروں کو بھی سناتاتھا۔ یوں دور دور تک اُن کی شاعری کا ڈنکا بجنے لگا تھا۔

نواب آصف الدولہ تک میر صاحب کی شہرت پہنچی تو چاہا کہ وہ اس کے دربار سے وابستہ ہو جائیں۔ میرصاحب کو لکھنؤ بلوا لیا اور ان کا وظیفہ مقر ر کر دیا۔ لکھنؤ ان دنوں شعرو شاعری کا مرکز تھا۔ دہلی اجڑ چکا تھا اور وہاں کے اہل فضل و کمال لکھنؤ میں آباد ہو رہے تھے۔ میرصاحب لکھنؤ میں بہت مدت رہے اور بہت احترام پایا مگر اُن کا دِل دہلی ہی میں رہا۔ انھیں نہ جانے کیوںیہ گماں ہو چلا تھا کہ لکھنؤ والوں کے ہاں ان کے کلام کو ڈھنگ سے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہ تھی۔

میر صاحب کا آخری زمانہ لکھنؤ میں گزرا تھا۔ وہ گومتی کے کنارے آباد علاقے میں رہائش پذیر تھے۔ چھ ماہ تک بستر علالت پر پڑے رہے۔ علاج معالجہ خوب ہو رہا تھالیکن وہ جو کہا جاتا ہے کہ بیماری کا علاج ہے، موت کا نہیں، تو اُن کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔ کوئی علاج کارگر نہ ہو رہا تھا اور موت اپنے وقت پر آکر اپنا کام کر گئی تھی۔ میر صاحب اسی شہر میں، وزیر گنج سے کچھ آگے اکھاڑہ بھیم والے قبرستان میں دفن ہوئے۔ میر صاحب کو قبر میں بھی قرار نہ ملا۔ کہتے ہیں یہ قبرستان اب وہاں نہیں ہے۔

۱۷۲۳۔ ۱۸۱۰ تک کا لگ بھگ نو دہائیوں پر مشتمل یہ زمانہ ہند مسلم تہذیب کے مسلسل زوال کا زمانہ بنتا ہے۔ قومی سطح پر انارکی اور اکھاڑ پچھاڑ کا زمانہ۔ انہی حالات میں میر صاحب نے بسر کی اور اپنے زمانے سے نکل کر ہمارے زمانے تک یوں پہنچے کہ کوئی اور اُن جیسا نہیں ہے۔

میر صاحب کا زندگی نامہ
میر صاحب کا زمانہ اگرچہ آج تک چلا آتا ہے مگر جس زمانے میں وہ اپنی زندگی کی تلخیوں سے نبرد آزما تھے اس کا قصہ اُس خاندان سے شروع ہوتا ہے جو ملک حجاز سے ہجرت کرکے دکن پہنچا تھا۔ یہ خاندان کچھ عرصہ دکن میں رہا پھر احمد آباد آگیا۔ میر صاحب کے جد اعلیٰ یہاں بھی نہ ٹکے اور تلاش روزگار میں اپنے پیاروں کے ساتھ مغلوں کے دارالحکومت اکبر آباد (آگرہ) میں آکر بس گئے۔ یہ بسنا بھی کیابسنا تھا کہ انھیں اس کی آب و ہوا ہی راس نہ آئی اوروہ چل بسے تھے۔ میر صاحب کے دادا انہی کے فرزند تھے۔

میر صاحب کے دادا کے بارے میں یہی بتایا گیا ہے کہ وہ ابھی لڑکے ہی تھے کہ یتیم ہوگئے تھے۔ اس لڑکے کو تلاش معاش کے سلسلے میں گھر سے نکلنا پڑا تھا۔ ’’ذکر میر‘‘ کے مطابق اچھا یہ ہوا کہ انھیںگردِ اکبر آباد فوج داری کی ملازمت مل گئی تھی۔ میر صاحب کے دادا بھی پچاس سال کی عمر میں چل بسے تھے۔ اُن کے دو بیٹے تھے؛ ایک میر صاحب کے والد اور دوسرے چچا؛ موت اُن دونوں کے تعاقب میں بھی رہی۔ چچا جوانی میں دیوانے ہو کرموت کا لقمہ بنے جب کہ میر صاحب ابھی گیارہ برس کے تھے کہ والدکا سایہ سر سے اُٹھ گیاتھا۔

میر صاحب کے جنون کا قصہ بھی بہت مشہور ہے۔ اوپر نیچے صدمات اور مالی مشکلات نے اُنھیں ذہنی انتشار کا شکار کر دیا تھا۔ یہیں سے ایک پیکر سے عشق کی کہانی بھی ساتھ ہو لی تھی۔ وہ چاند میں ایک ’’پیکرے خوش صورت‘‘کو دیکھنے لگے تھے۔ ’’ذکر میر‘‘ میں اس کا مفصل بیان موجود ہے اور ’’مثنوی خواب و خیال‘‘ میں اس کی ترجمانی یوں ہوتی ہے:

زمانے نے رکھا مجھے متصل
پراگندہ روزی پراگندہ دل

اسی مثنوی میں آگے چل کر وہ لکھتے ہیں:
جگر جور گردوں سے خوں ہو گیا
مجھے رکتے رکتے جنوں ہو گیا
ہوا ضبط سے مجھ کو ربط تمام
لگی رہنے وحشت مجھے صبح و شام
یہ وہم غلط کاریاں تک کھنچا
کہ کار جنوں آسماں تک کھنچا
نظر رات کو چاند پر گر پڑی
تو گویا کہ بجلی سی دل پر پڑی
مہ چار دہ کار آتش کرے
ڈروں یاں تلک میں کہ جی غش کرے
توہم کا بیٹھا جو نقش درست
لگی ہونے وسواس سے جان سست
نظر آئی اک شکل مہتاب میں
کمی آئی جس سے خورد خواب میں
اگر چند پر توسے مہ کے ڈروں
ولیکن نظر مو طرف ہی کروں
ڈروں دیکھ مائل اسے اس طرف
بحدے کہ آ جائیں ہونٹوں پہ کف
پڑی فکر جاں میرے احباب کو
اڑا دیویں سب گھر کے اسباب کو
کوئی پاس کوئی تفاوت سے ہو
سراسیمہ کوئی محبت سے ہو
کوئی فرط اندوہ سے گریہ ناک
گریباں کسو کا مرے غم سے چاک
جو دیکھو تو آنکھوں سے لو ہو بہے
نہ دیکھو تو جی پر قیامت رہے

میر صاحب کے والد محمد علی متقی درویش صف انسان تھے۔ اُن کے مالی حالات اچھے نہ تھے۔ اُن کی وفات کے بعد میرصاحب کو تلاش روزگار میں گھر سے نکلنا پڑا۔ ’’ پائوں میں چکر ہوتا ہے یاں سر کو بھی ہے چکر آج ‘‘۔ یہ میر صاحب نے کہا تھا جن کے پائوں کا چکر ایسا تھا کہ اس نے انھیں چکرا کر رکھ دیا تھا۔ ’’ذکر میر‘‘ سے نثار احمد فاروقی نے اِن چکرا کر رکھ دینے والے اسفار کی یوں تلخیص کی ہے:

۱۔ آگرے سے دہلی میں پہلی بار آمد تقریبا ً۱۱۴۷ ھ/۳۵۔ ۱۷۳۴ء
۲۔ آگرے سے دہلی میں دوسری بار آمد حملہ نادری کے بعدتقریباً ۱۱۵۳ھ/۱۷۴۱ء
۳۔ دہلی سے سرہند کا سفر ۱۱۶۱ھ/۱۷۴۸ء
۴۔ دہلی سے پشکر(راجستھان)کا سفر ۱۱۶۲ھ/۱۷۴۹ء
۵۔ پشکر سے اجمیر کا سفر ۱۱۶۲ھ/۱۷۴۹ء
۶۔ دہلی سے فرخ آباد کا سفر ۱۱۶۳ھ/۱۷۵۰ء
۷۔ دہلی سے سکندر آباد(ضلع بلند شہر) شعبان ۱۱۶۷ھ/جون ۱۷۵۴ء
۸۔ دہلی سے برسانہ
۹۔ برسانہ سے کمہیر(راجستھان)
۱۰۔ راجاناگریل کے ساتھ شجاع الدولہ کوسمجھانے کے لیے بھی ایک سفر کا ذکر ہے مگر اس کی منزل معلوم نہیں۔
۱۱۔ کمہیر سے دہلی میں آمد
۱۲۔ دہلی سے آگرے کا سفر(۲۳ سال بعد) ۱۱۷۶ھ/۱۷۶۲ء
۱۳۔ دہلی سے آگرے کا سفر(دوسراسفر) ۱۱۸۰ھ/۶۷۔ ۱۷۶۶ء
۱۴۔ راجا ناگرمل کے ساتھ کاماں کا سفر ۱۱۸۴ھ/۱۷۷۱ء
۱۵۔ کاماں سے فرخ آباد کا سفر ۱۱۸۴ھ/۱۷۷۱ء
۱۶۔ فرخ آباد سے دہلی کا سفر ۱۱۸۴ھ/۱۷۷۱ء
۱۷۔ دہلی سے سکرتال کا سفر ۱۱۸۵ھ/۱۷۷۲ء
۱۸۔ واپسی میں نجیب آباد، نہٹور، شیرکوٹ
سیوہارہ، سلیم پورہ، امروہہ، گڑھ مکتیسر، ۱۱۸۶ھ/۱۷۷۳ء
ہاپوڑ ہوتے ہوئے دہلی آئے۔
۱۹۔ دہلی سے براہ فرخ آباد لکھنؤ کا سفر ربیع الثانی۱۱۹۶ھ/مارچ۱۷۸۲ء
۲۰۔ آصف الدولہ کے ساتھ بہرائچ کا سفر
۲۱۔ آصف الدولہ کے ساتھ پیلی بھیت

اوردامن کوہ ہمالیہ کا سفر

’’ذکر میر‘‘ میں ان سب مصائب کا ذکر مل جاتا ہے جو اس خدائے سخن کو جھیلنے پڑے اور ان ہی کے سیاق میں پڑے ہوئے اُن کے زمانے کے احوال بھی پڑھنے کو مل جاتے ہیں جو میرصاحب کی ذہنی تشکیل میں اپنا حصہ ڈال رہے تھے۔

دیوان چہارم، نسخہ محمود آباد میں میر صاحب کے بھتیجے محمد محسن کی اپنے قلم سے لکھی ہوئی عبارت سے میر صاحب کی پیدائش کا سال ۲۳۔ ۱۷۲۲ء اخذ کیا جاسکتا ہے۔ محمد محسن نے میر صاحب کی وفات کی بابت لکھا تھا کہ وہ ۲۰ شعبان ۱۲۲۵ھ بروز جمعہ بوقت شام لکھنؤ کے محلہ سٹہٹی میں نوے سال کی عمر پورے کرکے فوت ہوئے اور اگلے روز یعنی ہفتے کو دوپہر کے وقت اکھاڑہ بھیم کے مشہور قبرستان میں اپنے عزیزوں کی قبروں کے قریب دفن ہوئے۔ اس بیان کی روشنی میں اگر۱۲۲۵ھ سے عمر کے نوے سال نکالیں تو پیدائش کا سال ۱۱۳۵ ھ بنتا ہے۔ عیسوی اعتبار سے یہ سال ۲۳۔ ۱۷۲۲ء کا ہوا۔ اس سال ولادت کی تصدیق دیوان چہارم پر لکھی ہوئی اس عبارت سے بھی ہوتی ہے جو ’’سوانح میر تقی میر ‘‘ کے زیر عنوان کسی معدوم تذکرے ’’نوادرالکملا‘‘سے نقل کی گئی ہے۔ ’’اصلاً اکبر آباد کے تھے۔ ۱۱۳۵ھ کے آخر میں پیدا ہوئے۔ ‘‘

مالک رام نے لکھا ہے کہ جس زمانے میں میر صاحب شعر کہہ رہے تھے وہ بڑا پر آشوب زمانہ تھا۔ بیرونی حملہ آوروںکی یورش اور اندرونی امیروں کی خانہ جنگی نے سلطنت مغلیہ کا حال بہت پتلا کر رکھا تھا۔ بہ قول اُن کے ’’بادشاہِ دہلی کی حیثیت شاہِ شطرنج سے زیادہ نہیں تھی۔ ‘‘ احمد شاہ درانی نے متعدد حملے کیے تھے۔ ملک کے اندر افغانوں، مرہٹوں اور جاٹوں نے ایسے اودھم مچا رکھی تھی کہ خلق خدا ان کے ظلم و ستم سے پناہ مانگتی تھی۔ مالک رام لکھتے ہیں، یہ تمام حالات نہ صرف میر صاحب کے سامنے پیش آئے تھے وہ خود بھی اس ’’دریائے خون کے شناور‘‘ تھے۔

باپ کے مرنے کے بعد اُنھیں اپنے چھوٹے بھائی محمد رضی اور بہن کو گھر میں بٹھا کر باہر نکلنا پڑا تھا۔ میر صاحب کی پریشانی اور خستہ حالی کا تذکرہ میر صاحب کے لفظوں یوں ملتا ہے:’’بسیار گر دیدم، شفیقے ندیدم‘‘۔ دہلی میں میرصاحب کی ملاقات خواجہ محمد باسط سے ہوئی جو انھیں اپنے چچاصمصام الدولہ سے ملانے لے گئے۔ یہ ملاقات ایک روپیہ روزینہ وظیفہ کا وسیلہ ہوگئی تھی۔ ۱۷۳۹ء میں نادر شاہ کے حملے میں صمصام الدولہ زخمی ہو کر مر گئے تو یہ وظیفہ بھی بند ہو گیا۔ نادر شاہ خوب تباہی مچا کر دہلی سے جا چکا تو میرصاحب پھر دہلی آئے اپنے سوتیلے ماموں سراج الدین علی خان آرزو کے ہاں رہے۔ میر صاحب نے اپنے اس ماموں سے بہت کچھ اخذ کیا مگر ناراض ہو کر ان کے گھر سے نکلے تو کبھی اس کا کھل کر اعتراف نہ کیا۔ محققین نے آرزو کے ہاں قیام کا عرصہ سات برس لکھا ہے تاہم میر صاحب نے ’’ذِکر میر‘‘ میں یہ عرصہ کچھ دِن لکھا اور آگے بڑھ گئے۔ واقعہ یہ ہے کہ میر صاحب نے ابتدائی برسوں میں آرزو جیسے یگانہ روزگارشاعر سے کسب فیض کیا۔ ’’نکات الشعرا‘‘ میں وہ اس کا اعتراف کر چکے تھے انھوں نے آرزو کو ’’اوستاد و پیرو مرشد بندہ‘‘ کہہ کر احترام بھی دیا تھا۔ ’’ذکر میر‘‘ میں آرزو کے بعد سعادت علی سعادت امروہوی کو میر صاحب نے ایسے شخص کے طور پر یاد کیا جس نے بہ قول اُن کے انھیں’’ریختہ کی طرف متوجہ کیا‘‘ تھا۔ خان آرزو انھیں غزل کی طرف لائے یا سعادت علی سعادت امروہی، یہ واقعہ سب نے لکھا ہے کہ میرصاحب لگ بھگ اسی زمانے میں غزل کہنے لگے تھے جب وہ جوان تھے اور ایک جنوں بھی ان پر طاری تھا۔ سعادت خان ناصر کے مطابق:

’’عنفوان جوانی میں جوش وحشت اور استیلائے سودا طبیعت پر غالب ہوا اور زبان و کام ہرزہ گوئی پر غالب، ترکِ ننگ و نام بلکہ رسوائی خاص و عام پسند آئی۔ ہر کسی کو دشنام دینا شعار اور سنگ زنی کاروبار تھا۔ ‘‘

تب خان آرزو نے میر صاحب سے کہا تھا:
’’اے عزیز دشنام موزوں دعائے ناموزوں سے بہتر اور رخت کے پارہ کرنے سے تقطیع شعرخوش تر ہے۔ ‘‘

سعادت علی خان کے مطابق:
’’میر صاحب کے ذاتی جوہر میں موزونیِ طبیعت شامل تھی، جو دشنامِ زبان تک آئی اور مصرع یا بیت ہو گئی تھی۔ بعد اصلاحِ دماغ ودِل کے مزا شعر گوئی کا طبیعت پر رہا۔ کبھی کبھی دوچار شعر جو خان آرزو کی خدمت میں پڑھے پسند فرمائے اور تاکید شعر و سخن کی زیادہ سے زیادہ کی۔ ‘‘

یہ میر صاحب کا آغاز تھا اور والد کی وفات کے بعد جن حالات سے گزر کر وہ ’’خدائے سخن‘‘ اور ’’امام فن‘‘ کہلائے ان حالات کی طرف اوپر اشارہ کیا جا چکا ہے۔ اس کی ایک اور جھلک وقت کے اس پارچے سے دِکھا دیتا ہوں کہ جب ۱۷۷۲ میں مرہٹے سب کچھ لوٹ کر لے جا چکے تھے۔ میر صاحب راجہ ناگر مل کے بیٹے رائے بہادر سنگھ کے ہمراہ تھے جس کی مالی حالت بہت خستہ تھی اور میر صاحب کی حالت اور بھی ابتر۔ ’’ذکر میر‘‘ سے میر صاحب کے اپنے لفظوں میں اس ابتر حالت کا نقشہ :

’’میں بھیک مانگنے کے لیے اُٹھا اور شاہی لشکر کے ہر سردار کے در پر گیا۔ چوں کہ شاعری کی وجہ سے میری شہرت بہت تھی، لوگوں نے میرے حال پر خاطرخواہ توجہ کی۔ کچھ دن کتے بلی کی سی زندگی گزری اور (پھر) حسام الدولہ کے چھوٹے بھائی وجیہ الدین خان سے ملا۔ اس نے میری شہرت اور اپنی اہلیت کے مطابق تھوڑی بہت مدد کی اور بہت تسلی دی۔ ‘‘

میرصاحب انا پرست آدمی تھے اور ان ناموافق حالات میں بھی ان کی نازک مزاجی نے اُن کا ساتھ نہ چھوڑا تھا۔ تذکرہ نویسوں نے میرصاحب کے اس زمانے کے کئی دلچسپ قصے محفوظ رکھ چھوڑے ہیں۔ انہی میں سے ایک قصے کے مطابق جب وہ رعایت علی خان کے ہاں ملازم تھے تو ایک دن مالک نے فرمائش کی کہ میر صاحب اپنے چند اشعار ایک قوال بچے کو سکھا دیںتاکہ وہ ساز پر گائے۔ میر صاحب کو یہ اچھا نہ لگا اور انھوں نے انکار کر دیا۔ خان مذکور کا اصرار برقرار رہا تو مجبوراًاپنے پانچ اشعار اس قوال بچے کو یاد کرا دیے۔ لیکن یہ بات ان کی طبع نازک پر گراں گزری۔ وہاں سے اٹھ کر گھر گئے توکئی روز باہر نہ نکلے اور پھررعایت علی خان کی ملازمت ہی چھوڑ دِی۔ یہ الگ بات کہ خان نے ان کے چھوٹے بھائی محمد رضی کو ملازمت پر رکھ لیا کہ وہ بہر حال میر صاحب کا قدردان تھا۔

تذکرہ نویسوں کے مطابق یہ نازک مزاجی گردش زمانہ اور پراگندہ روزی کے سبب بددماغی ہو گئی تھی۔ بہ قول خود اُن کے کیفیت یہ تھی کہ ’’لاتا ہے روز فتنہ ء تازہ بروئے کار‘‘۔ اُن کی بددماغی کے چرچے ہر کہیں تھے۔ لطف یہ کہ میر صاحب کو اپنی اس کیفیت اور بدنامی کا خوب خوب ادراک بھی تھا :
حالت تو یہ کہ مجھ کو غموں سے نہیں فراغ
دل سوزش درونہ سے جلتا ہے جوں چراغ
سینہ تمام چاک ہے سارا جگر ہے داغ
ہے نام مجلسوں میں مرا میرؔ بے دماغ
ازبسکہ کم دماغی نے پایا ہے اشتہار

جمیل جالبی لکھتے ہیں کہ اٹھارویں صدی عیسوی کے اس ماحول میں پراگندہ روزی، پراگندہ دل، میر صاحب نے وقت کی دھڑکن کو اپنے خون میں شامل کرکے اسے اپنی شاعری کے ساز میں سمو دیا تھا۔ میر صاحب کی آواز اٹھارہوں صدی کی روح کی آواز ہے جس میں اس دور کے احساسات، امید و بیم، خوف و رجا، آس و یاس اور غم و الم شامل ہیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی کے مطابق ہماری تاریخ میں میر صاحب کے علاوہ کوئی بڑا شاعر ایسا نہیں ہے جس نے زمانے کے اتنے سرد و گرم دیکھے ہوں۔ جو جنگوں میں شریک رہا ہو۔ جس نے بار بار ترک وطن کیا ہو۔ جس نے بادشاہوں اور فقیروں کی صحبتیں اٹھائی ہوں جس نے عسرت اور تنگی کے وہ دن دیکھے ہوں کہ بہ قول خود میر صاحب کے’’کتے اور بلی کی طرح‘‘ زندگی بسر کرنی پڑی ہو۔ جس نے آرام کے دِن بھی دیکھے ہوں۔ جو صوفیوں میں صوفی، رندوں میں رند اور سپاہیوں میں سپاہی رہا ہو۔ زندگی کے یہ سب تجربات میرصاحب کے ہاں تخلیقی تجربہ ہو رہے تھے اورفاروقی صاحب کہتے ہیں کہ اُن کی شخصیت کی ہمہ گیری نے اُن میں اتنی قدرت رکھ دی تھی کہ ادھر ادھر کے الفاظ کو بھی اپنی عبارت میں اس طرح کھپا رہے تھے کہ وہ ٹھونس ٹھانس معلوم نہ ہوں۔ میر صاحب کی زبان کی بے تکلفی زندگی کے انہی تجربات کی دین ہے۔


یہیں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میرصاحب کی تصانیف کا ذکر بھی ہو جائے۔ میر صاحب کا اُردوکلیات چھ دواوین پر مشتمل ہے۔ یہ دواوین کس زمانے میں مرتب ہوئے اس کا احوال ’’تاریخ ادب اُردو‘‘ سے اختصار کے ساتھ یہاں مقتبس کر رہا ہوں۔
۱۔ میر صاحب کا دیوان اوّل اپنی ابتدائی صورت میں ۱۷۵۲ ء تک مرتب ہو چکا تھا۔ یہ دیوان دہلی میں مرتب ہوا تھا۔
۲۔ دیوان دوم اپنی ابتدائی صورت میں ۱۷۷۵ء تک مرتب ہوچکا تھا۔ یہ دیوان بھی دہلی میں مرتب ہوا تھا۔
۳۔ قیاس کیا گیا ہے کہ میر صاحب کا تیسرا دیوان۸۶۔ ۱۷۸۵ء تک مرتب ہو چکا تھا۔ تیسرادیوان لکھنؤ میں مرتب ہوا تھا۔
۴۔ میر صاحب کا چوتھا دیوان بھی لکھنؤ میں مرتب ہوا تھااور اس کے دیوان کی صورت مرتب ہونے کا زمانہ ۱۷۹۴ء تک کا بیان کیا جاتا ہے۔
۵۔ دیوان پنجم کے بارے میں تحقیق یہ ہے کہ یہ ۱۲۱۳ ھ یا اس سے پہلے مرتب ہو چکا تھا۔ یوں اس کی تکمیل کاسال ۱۷۹۸ ء یا اس سے پہلے بنتا ہے۔
۶۔ میر صاحب کے دیوان ششم کی بابت بتایا گیا ہے کہ یہ اُس نسخے کی نقل ہے جو ۱۲۲۳ھ سے پہلے مرتب ہو چکا تھا۔ یوں اس دیوان کے مرتب ہونے کا سال ۱۸۰۸ء یا اس سے قبل کوئی سال بنتا ہے۔ یہ دیوان بھی لکھنؤ میں مرتب ہواتھا۔
میر صاحب کی وفات کے سال بھر بعد یعنی ۱۸۱۱ء میں’’کلیات میر‘‘پہلی بار فورٹ ولیم کالج کلکتہ سے اُردو ٹائپ میں شائع ہواتھا۔ اس میںچھ دواوین شامل تھے۔ قاضی عبدالودود کے مطابق ان دواوین میں شامل اشعار کی تعداد یہ تھی:
دیوان اوّل = ۴۲۹۶
دیوان دوم = ۳۴۲۱
دیوان سوم = ۱۸۳۶
دیوان چہارم = ۱۵۱۲
دیوان پنجم = ۲۰۳۷
دیوان ششم = ۱۲۳۹

یوں ان اشعار کا مجموعہ ۱۴۳۴۱ بنتا ہے۔ ان اشعار کے علاوہ فردیات، مربع، رباعیات، ترجیع بند، ترکیب بند، مسدس، مخمس، مثلث، مثنویاں، ہجویات، ساقی نامہ، قطعات وغیرہ الگ ہیں۔ مثنویوں کے کل ابیات ۳۷۱۰ ہیں۔ اس کلیات میر میں کل مصرعوں کی تعداد ۴۰۲۸۷ ہے۔ آج تک یہی نسخہ، کسی نہ کسی صورت میں ہر مطبوعہ کلیات میر کی بنیاد ہے۔

میر صاحب کے فارسی دیوان کے مخطوطے بھی دریافت ہوئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان میں سے ایک قلمی نسخہ مسعود حسین رضوی ادیب کے کتب خانے میں موجود ہے جب کہ ایک رضا لائبریری رامپور اور ایک گوالیار میں شاہ غمگین کے کتب خانے میں۔ میر صاحب نے نثر میں ’’ نکات الشعرا‘‘، ’’فیض میر‘‘، ’’دریائے عشق‘‘ اور ’’ذکر میر‘‘ جیسی اہم تصانیف دیں۔ ان تصانیف کی مدد سے میر صاحب کی شخصیت کے تضادات اور ان کی ذہنی تشکیل میں کام آنے والے عناصر کے علاوہ اس زمانے کے حالات اور شاعروں کے تذکروں سے ان کے معاصرین کے احوال اور معاصر شاعری کا مزاج بھی سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ یوں ہم ایسے میر صاحب سے ملاقات کرتے ہیں جو زمانے کے ہنگاموں سے الگ تھلگ اور صرف اپنی ذات میں گم نہ تھے، سیاسی سماجی حالات سے جڑے ہوئے تھے، بہ چشم سرزمانے کے سرد وگرم کا سب تماشہ دیکھتے تھے بلکہ اس تماشے کے شریک بھی تھے جو ان کی انفرادی زندگی میں ایک طلاطم پیدا کیے ہوئے تھا۔ اسی سے ان کی شاعری پھوٹی تھی اورزندگی کے اسی تجربے سے متشکل ہونے والی شخصیت میر صاحب کے وجود میں خدائے سخن ہو گئی تھی۔

خدائے سخن میر اور بے مہر و بے لحاظ زمانے
افتخار عارف کی شاعری کے مجموعے’’باغِ گُلِ سرخ‘‘ کی ایک غزل کا شعر ہے:
میر و انیس و غالب و اقبال سب کے سب
بے مہر و بے لحاظ زمانوں میں آئے ہیں

ناصر کاظمی کا خیال تھا کہ اِن بے مہر و بے لحاظ زمانوں کا سلسلہ آج تک چلا آتا ہے۔ یہ بات مجھے یوں درست لگتی ہے کہ ناصر کاظمی نے میر صاحب سے لے کر اپنے زمانے تک ہر قابل ذکر شاعر کو پڑھ رکھا تھا اور کروٹیں لیتے ہوئے وقت کو بھی۔ باصر سلطان کاظمی نے ناصر کاظمی کا’’ انتخابِ میر‘‘ مرتب کیا تو اس کے تعارف میں یہ بھی بتایا تھا کہ ناصر کاظمی کے پاس مختلف شعرا کے دواوین تھے جو مسلسل اُن کے مطالعے میںرہتے تھے۔ وہ اپنے پسندیدہ اشعار پر نشان لگا دیتے تھے۔ چارضخیم جلدوں پر مشتمل کلامِ انیس ہو یا’’کلیات ولی‘‘، ’’دیوان درد‘‘، ’’کلیات انشا‘‘، ’’کلیات مصحفی‘‘، ’’دیوان گویا‘‘، ’’مظہر عشق‘‘ (دیوان قلق)، داغ کی کتب، ’’دیوان غالب‘‘، ’’دیوان ظفر‘‘، ’’دیوان حالی‘‘، ’’خمکدہ آزاد‘‘، ’’زبور عرفان‘‘ وغیرہ، ان سب پران کی پسندیدگی کو ظاہر کرنے والے نشانات موجود تھے۔ جب وہ فوت ہوئے تو ولی دکنی کا انتخاب کر رہے تھے۔ ان کی وفات کے بعد جو کاغذات باصرسلطان کاظمی کے ہاتھ لگے ان میں وہ کاپیاں بھی تھیں جن میں انھوں نے نظیر اور میر کے منتخب کلام کو الگ الگ خوش خط لکھ رکھا تھا۔ باصرسلطان کاظمی کے مطابق کلیات میر کا وہ نسخہ(آسی ایڈیشن)جو ناصر کاظمی کے زیر مطالعہ رہا ’عجائب دید کی جا‘ہے۔ اس میں سرخ، نیلی، کالی پنسلوں سے اتنے بہت سے اور مختلف نشانات لگے ہوئے تھے کہ مظفر علی سید کایہ بیان درست معلوم ہوتا ہے کہ ’’میر کو اُردو ادب کی تاریخ میں ناصر کاظمی سے زیادہ شاید ہی کسی نے پڑھا ہو اور اُس کا بہترین انتخاب ناصر کے سوا کوئی نہ کر سکتا تھا۔ ‘‘ ’’شعر شور انگیز ‘‘کے مطالعے کے بعد میں بلا خوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ شمس الرحمٰن فاروقی وہ شخص ہیں جنہوں نے شاید اب تک میرصاحب کو نہ صرف سب سے زیادہ پڑھا ہے اس پر غورو فکر کرکے میر فہمی کا ایک نیا باب بھی رقم کر دیا ہے۔ خیر، بات ناصر کاظمی کی ہو رہی تھی۔ اپنے انتخاب میں شامل ایک مضمون میں وہ لکھتے ہیں :

’’اُردو شاعری پر میر کی شاعری کے اثرات بڑے گہرے اور دوررس ہیں۔ اُن کے بعد آنے والے سبھی کاملانِ فن نے اُن سے تھوڑا بہت فیض ضرور اٹھایا ہے مگر اُن کی تقلید کسی کو راس نہیں آئی۔ غالب ہی ایک ایسا شاعر ہے جس نے میر سے بڑی کاری گری اور کامیابی سے رنگ لیا اور ایک الگ عمارت بنائی۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گاکہ میر صاحب کا پہلا تخلیقی طالب علم غالب ہی ہے۔ یہ بات میں نے غالب کو گھٹانے یا میر کو بڑھانے کی نیت سے نہیں کی بلکہ اس کی بعض وجوہات ہیں۔ غالب نے جب آنکھ کھولی تو میر ہی اقلیم سخن کے فرمانروا تھے۔ مشہور ہے کہ کسی نے غالب کی ایک غزل میر صاحب کو دکھائی تھی تو میر صاحب نے کہا تھاکہ اگر یہ جوان صحیح راستے پر چل نکلا تو کبھی بڑا شاعر ہو جائے گا۔ یوں دیکھیے تو میر صاحب ایک طرح سے غالب اور اقبال کے آنے کی خبر دے گئے تھے:
آکے سجادہ نشیں قیس ہوا میرے بعد
نہ رہی دشت میں خالی کوئی جا میرے بعد
تیز رکھیو سرہرخار کواے دشت جنوں
شاید آجا ئے کوئی آبلہ پا میرے بعد
ناصر کاظمی نے یہ بھی لکھا ہے :

’’یہ اتفاق ہے کہ میر صاحب کی شاعری کے بعض اہم عناصر اور ہمارے عہد کے ذہنی اور اجتماعی محرکات میں چند باتیں مشترک نظر آتی ہیں۔ اس عہد کی پشت پر بھی دنیا کی سب سے بڑی ہجرت اور ایک بڑے تاریخی انقلاب کے محرکات ہیں۔ ہجرت کی واردات جو انسان کا مقدر ہے، ایک دفعہ پھر ہماری قوم کی تاریخ میں نمودار ہوئی اور اب وہ ہمارے دور کی مرکزی روحانی واردات بن گئی ہے۔ ہماری قوم کے ایک خاصے بڑے حصے نے جسمانی طور پر ہجرت کی ہے مگر ذہنی اور روحانی سطح پر تو پوری قوم نے یہ تجربہ کیا ہے۔ اب ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اس جانگداز روحانی تجربے کو تخلیقی طور پراپنے خون میں کس طرح حل کیا جائے۔ ایک بار پھر ہماری بنی بنائی قدریں چکنا چور ہو گئیں۔ آج ہم نئی قدروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ ہمیں از سر نو ایک ذہنی اور اخلاقی تصور، زبان اور فلسفہ حیات کی ضرورت ہے۔ گو میر صاحب کے زمانے اور ہمارے زمانے میں بڑا بُعد ہے۔ دُنیا اتنی بدل گئی ہے کہ آج کے شاعر کے سامنے پہلے سے بھی کہیں وسیع منظرِحیات کھل گیا ہے مگر واقعات کی مماثلت کی وجہ سے میر صاحب کا زمانہ ہمارے زمانے سے مل گیا ہے۔ ‘‘

میر صاحب کے کلام کا جو انتخاب محمدحسن عسکری نے ’’ساقی‘‘ کراچی، شمارہ ستمبر ۱۹۸۵ء کے میر نمبر کے لیے کیا تھا، اس کے آخر میں اُن کا ایک اہم مضمون’’میرجی‘‘ کے عنوان سے بھی شامل تھا۔ اس مضمون میں عسکری صاحب لکھتے ہیںکہ زندگی کے متعلق جس قسم اور جس کیفیت کا شعور انھیں میر کے یہاں ملا، ویسا شعور انھوں نے انگریزی شاعری کے اپنے مطالعے میں کہیں اور نہیں پایا۔ وہ اسی مضمون میں آگے چل کر لکھتے ہیں:

’’میر قدم قدم پر اپنا دوسرے انسانوں سے مقابلہ کرتے ہیں، ان کے معیار سے اپنے آپ کو جانچنے میں اور اس معیار کے مطابق ان کی انفرادیت میں جو خامیاں نکلتی ہیں انھیں بڑی جرأت سے تسلیم کر لیتے ہیں اور تمام چیزوں کے باوجود اپنی اصلیت اور جس حقیقت کی وہ نمائندگی کر رہے ہیں، اس کی اہمیت اور برتری سے ذرا بھی بدظن یا غافل نہیں ہوتے۔ غالب اور اقبال کی طرح وہ اپنا جلوہ صرف اپنی نظروں سے نہیں دیکھتے بلکہ بار بار اپنے آپ سے باہرنکل کر اپنی خودی کو دور سے اور دوسروں کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ انھیں احساس ہے کہ وہ دنیا میں اکیلے نہیں رہتے اور نہ کوئی ایسی دنیا بنا سکتے ہیں جو دوسرے انسانوں سے بالکل غیر متعلق اور ان کے حملوں سے بالکل محفوظ ہو۔ جب انسانوں کے درمیان رہنا ہے تو ان کی رائے اور ان کے نقطہ نظر سے بھی تجاہل نہیں برتا جا سکتا۔ چنانچہ وہ باربار اپنے طرز زندگی اور طرز احساس کو سماج کے طرز احساس کے مقابل رکھتے ہیں اور دونوں کا موازنہ کرتے ہیں اور فیصلہ بھی وہ ہمیشہ اپنے حق میں نہیں کرتے، حالانکہ اپنے آپ سے اور اپنے طرز زندگی سے ان کی محبت اسی طرح بر قرار رہتی ہے۔ وہ برابر دونوں حقیقتوں کو پہلو بہ پہلو رکھ کر ان کا مقابلہ کرتے ہیں اور یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ ان کے احساسات و جذبات اور اعمال و افعال کا اثر دوسرے لوگوں پر کیا ہوگا اور ان کا رد عمل کس قسم کا ہوگا۔ ‘‘

دوسرے لوگوں کا ردعمل یہ رہا کہ میر صاحب، تب سے اب تک ریلے ونٹ چلے آ رہے ہیں۔ وہی ناصر کاظمی والی بات میر صاحب کا زمانہ ہمارے زمانے سے مل گیا ہے۔
شہر کا شہر ہی اب معتقد میر لگے

میر صاحب کیسے ہر زمانے کے شاعر رہے ہیں اس کا اندازہ لگانا ہو تو شاعروں کے اِس شاعر کے بارے میں ہر زمانے کے شعرا کیا کہتے آئے ہیں ایک نظر اس پر بھی ڈالتے چلیں۔ میں نے ہر شاعر کا زمانہ بھی ساتھ لکھ دیا ہے تاکہ اندازہ ہو کہ ہرعہد کا شاعر خدائے سخن کی طرف کس رُخ سے دیکھتا رہا ہے۔ آغاز مرزا رفیع سودا (۱۷۱۳-۱۷۸۱ء)سے کرتے ہیں۔ اُن کا ایک شعر ہے:
سوداؔ تو اس غزل کو غزل در غزل ہی لکھ
ہونا ہے تجھ کو میرؔ سے استاد کی طرح

لالہ سری رام نے سودا کاتذکرہ کرتے ہوئے ’’خم خانہ جاوید‘‘ میں لکھا تھا کہ میر سوز، میر درد کی میر تقی سے معرکہ آرائیاں ہوتی رہتی تھیں اور یہ شعرسودا اور میر صاحب کے درمیان معاصرانہ چشمک کا نتیجہ تھا تاہم دیکھ لیجیے کہ سودا نے میرصاحب کے حوالے سے اس میں بھی احتیاط سے کام لیا ہے۔ میرصاحب ایسا نہ کر پائے۔ اُن کا جواب بہ صورت شعر آیا مگر اس میں تلخی بھری ہوئی تھی:
طرف ہونا مرا مشکل ہے میرؔ اس شعر کے فن میں
یونہی سوداؔ کبھو ہوتا ہے سو جاہل ہے کیا جانے

تاہم واقعہ یہ ہے کہ ایک سودا ہی تھے جنہیں میرصاحب اپنے معاصر شعرا میں پورا شاعر گردانتے تھے۔ ’’نکات الشعرا‘‘ میںانھوں نے سودا کا تعارف کراتے ہوئے انھیں ’’ہندی شاعروں کا سرتاج‘‘ اور خوش فکر شاعر‘‘ کہا تھا۔ مصطفیٰ خاں شیفتہؔ نے اپنے تذکرہ’’گلشنِ بے خار‘‘ میںشیخ غلام ہمدانی مصحفی (۱۷۵۰-۱۸۲۴ء) کے بارے میں لکھا ہے کہ اُن کی ابتد ا عہد سوداؔ کی انتہا تھی اور اُن کے چُنیدہ اشعار مرتبے میں اعلیٰ اور ارفع ہیں۔ یہی مصحفی میرصاحب کے حوالے سے یوں معترف رہے ہیں:
اے مصحفیؔ تو اور کہاں شعر کا دعویٰ
پھبتا ہے یہ اندازِ سخن میرؔ کے منہ پر

امدادامام اثر نے اپنی مشہور تصنیف’’کاشف الحقائق ‘‘ میںامام بخش ناسخ(۱۷۷۶-۱۸۳۸ء) کے بارے میں کہہ رکھا ہے کہ ’’شاعری کے اعتبار سے لاریب شیخ بڑے طباع اور خلاق سخن تھے ان کی نازک خیالی اور بلند پروازی نادر انداز رکھتی ہے۔ ‘‘ وہ آگے چل کر یہ اضافہ بھی کرتے ہیں:’’پس شیخ سے بلند فکر عالی دماغ شاعر نے جو ایسے میدان میں قدم رکھا تو غزل سرائی کا دائرہ تنگ بہت وسیع ہوگیا۔ ‘‘ غزل کا تنگ دائرہ وسیع کرنے والے ناسخ میر صاحب کے حوالے سے کہتے ہیں:
شبہ ناسخؔ نہیں کچھ میرؔ کی استادی میں
آپ بے بہرہ ہے جو معتقدِ میرؔ نہیں

محمد ابراہیم ذوق(۱۷۸۹-۱۸۵۴ء) کے بارے میں ناقدین فن کا کہنا ہے کہ وہ اُردو زبان اور محاورے پر زبردست قدرت رکھتے تھے۔ فراق کورکھپوری ذوق کے اعلانیہ منکر تھے مگر یہ اعتراف کیے بنا نہ رہ سکے تھے کہ: ’’آرٹ کے معنی ہیں کسی چیز کو بنانا اور فن کے لحاظ سے ذوق کا کارنامہ بھلایا ہی نہیں جا سکتا۔ اس کارنامہ کی اپنی ایک حیثیت ہے ذوق کے یہاں، چیزیں جو ہمیں محبوب و مرغوب ہیں، نہ پاکر ہمیں بے صبری سے ذوق کا دیوان الگ نہیں پھینک دینا چاہیے۔ اگر ہم نے ذرا تامل اور رواداری سے کام لیا تو اپنا الگ مذاق رکھتے ہوئے بھی ذوق کے مذاق سخن سے ہم لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ‘‘ محمد ابراہیم ذوق میر صاحب کے حوالے سے معترف ہیں کہ:
نہ ہوا، پر نہ ہوا، میرؔ کا انداز نصیب
ذوقؔ یاروں نے بہت زور غزل میں مارا

گوپی چند نارنگ نے اپنے مضمون’’قصہ اُردو زبان کا‘‘ میں لکھا ہے کہ جب اُردو زبان، نظم اور نثر دونوں میںاپنے نقطہ عروج کو پہنچ کر اس امر کی منتظر تھی کہ کوئی ایسا باکمال آئے کہ اس کے دونوں ساعد سیمیں تھام لے اور زبان اس کی محبت کے بدلے اس کے سر پر لسانی زرو جواہر سے جگمگاتا ہوا ایسا تاج رکھ دے جس کی چمک رہتی دنیا تک آنکھوں کو خیرہ کرتی رہے۔ ایسے باکمال عظیم فن کارمرزا اسداللہ خان غالب(۱۷۹۷-۱۸۶۹ء) تھے۔ مرزاغالب، ’’اگلے زمانے‘‘ کے میر صاحب کی دیوان کو دیکھتے ہیں تو اسے ’’گلشن کشمیر‘‘ سے کم نہیں پاتے:
غالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخؔ
آپ بے بہرہ ہے جو معتقدِ میرؔ نہیں
________
میرؔ کے شعر کا احوال کہوں کیا غالبؔ
جس کا دیوان کم از گلشن کشمیر نہیں
________
ریختے کے تم ہی استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

سرسید احمد خان، ’’آثار الصنادید‘‘کے باب چہارم میں نواب مصطفیٰ خان شیفتہ(۱۸۰۹-۱۸۶۹ء) کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’’بلبل کی سجع خوانی اور قمری کی فصیح بیانی انھیں کی نستعلیق گوئی سے مستفاد ہے۔ الحق پایہ فصاحت کا اور سرمایہ بلاغت کا خداداد ہے‘‘۔ سب سے نرالی روش والے یہ شیفتہ صاحب بھی میر صاحب کی طرف محبت سے دیکھ رہے ہیں:
نرالی سب سے ہے اپنی روش اے شیفتہؔ لیکن
کبھی دل میں ہوائے شیوہ ہائے میرؔ پھرتی ہے

مرزا داغؔ دہلوی(۱۸۳۱-۱۹۰۵ء) کو بھی شمس الرحمٰن فاروقی نے اپنے ایک مضمون میں شاعروں کا شاعر کہا ہے اور لکھا ہے کہ وہ ہرطرح کی شاعری پر قادر تھے یعنی’’وہ فارسی آمیز شاعری جو غالب سے منسوب ہے، وہ جس میں خیالات کی بڑی پیچیدگی ہے، محاورے کی شاعری، عشق کے تجربات کی شاعری، گہری شاعری زمانے کے حالات پر، انسانی تصورات کی شاعری۔ ‘‘ مگر لطف کی بات یہ ہے کہ یہی داغ میرؔ کے رنگ کی بابت کہہ رہے ہیں:
میرؔ کا رنگ برتنا نہیں آساں اے داغؔ
اپنے دیواں سے ملا دیکھیے دیواں ان کا

میر مہدی مجروحؔ(۱۸۳۳-۱۹۰۳ء) غالب کے شاگرد تھے اور شاگرد بھی ایسے کہ بہ قول شیخ محمد اسماعیل، ’’شاگردی کے تھوڑے ہی عرصہ بعد شاگرد نے استاد کے مزاج میں اس قدر دخل پالیا کہ ’’من تو شدم تومن شدی، من تن شدم تو جاں شدی ‘‘والا معاملہ ہوگیا۔ ‘‘غالب نے مجروح کے نام وقتاً فوقتاً جو خطوط لکھے اب وہ اُردو تاریخ کا حصہ ہیں۔ میر مہدی مجروع میرؔ صاحب کے بارے میں کہتے ہیں:
یوں تو ہیں مجروحؔ شاعر سب فصیح
میرؔ کی پر خوش بیانی اور ہے

مولانا الطاف حسین حالی(۱۸۳۷-۱۹۱۴ء) کا نام آتے ہی اُن کے’’ مقدمہ شعرو شاعری ‘‘ کی طرف دھیان جاتا ہے کہ اس نے اُردو شاعری کے مزاج کی بابت کئی اہم سوال اٹھائے تھے اور بہت سے نئے مباحث قائم کیے۔ یہ مباحث ایسے ہیں کہ ان پر غور وفکرآج تک ہو رہا ہے۔ وارث علوی نے اس مقدمہ کے حوالے سے لکھاتھا کہ’’لے دِے کے ہماری تنقید میں حالی کا ’’مقدمہ‘‘ہی ایسی چیز ہے جس سے ہمارے قد کو ناپا جائے۔ ‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ حالی کے سامنے ہم سب بونے نظر آتے ہیں، لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ حالی کے آئینے میں ہم جب اپنا عکس دیکھتے ہیں تو کافی ٹوٹے پھوٹے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ ‘‘صاحب مقدمہ، جو شیفتہ سے مستفید تھے اور غالب کے معتقد، وہ اپنے آپ کو میر صاحب کا مقلد مانتے تھے:
حالیؔ سخن میں شیفتہؔ سے مستفید ہے
غالبؔ کا معتقد ہے، مقلد ہے میرؔ کا

ڈاکٹر ابواللیث صدیقی نے ’’لکھنؤ کا دبستان شاعری‘‘ میں لکھا ہے کہ امیرؔمینائی(۱۸۲۹-۱۹۰۰ء) وہ پہلے شاعر تھے جنہوں نے لکھنوی شاعری کو اس کی قدیم روایات کی بندش سے آزاد کروایااور اس رنگ کی بنیاد ڈالی جس پر ان کے تلامذہ ریاض، مضطر اور جلیل قائم نظر آئے۔ ایک نئی روایت کے بنیاد گزار امیر مینائی سودا و میر کی بابت دیکھیے کیا کہہ رہے ہیں:
سوداؔ و میرؔ دونوں ہی استاد ہیں امیرؔ
لیکن ہے فرق آہ میں اور واہ واہ میں

جلال لکھنوی(۱۸۳۴-۱۹۰۹ء) اُن شعرا میں سے ہیں جو نواب کلب علی خاں کے دربار سے وابستہ رہے تھے۔ ساری عمر شعر و شاعری کی۔ ان کی شاعری کے چار دیوان ہیں۔ فن عروض، قواعد اور تذکیر و تانیث پر ان کی یاد گار کتب ہیں۔ جلال، میر صاحب کے رنگ کے عاشق تھے اور کہتے تھے:
کہنے کو جلال آپ بھی کہتے ہیں وہی طرز
لیکن سخنِ میر تقی میرؔ کی کیا بات ہے

اکبرؔ الٰہ آبادی(۱۸۴۶-۱۹۲۱ء) کے فن اور قدوقامت کو سمجھنا ہو تو اس باب کی بہترین کتاب خواجہ محمد زکریا کی ’’ اکبر الہ آبادی: تحقیقی و تنقیدی مطالعہ ‘‘ ہے۔ اسی کتاب کے ابتدائیے میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’اکبر جس قدر اہم اپنے دور میں تھا، اتنا ہی آج بھی ہے۔ ‘‘ شمس الرحمٰن فاروقی نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ۲۰۰۲ میں ۱۴ ویں ذاکر حسین یادگاری خطبے میں کہا تھا کہ اکبر الٰہ آبادی ترقی اور روشن فکری کے اندھے مخالف نہ تھے۔ اُن میں عزت نفس اور قومی افتخار کا پاس اُن کے نکتہ چینوں سے کہیں زیادہ تھا اور شاعر کی حیثیت سے انھیں جزئیات بیںآنکھ اور انتہائی کاٹ رکھنے والی طباعی ودیت ہوئی تھی، یہی اکبر میر صاحب کے فن کے حددرجہ معترف تھے:
میں ہوں کیا چیز جو اس طرز پہ جاؤں اکبرؔ
ناسخؔ و ذوقؔ بھی جب چل نہ سکے میرؔ کے ساتھ

حسرت موہانی(۱۸۷۵-۱۹۵۱ء) کا نام آتے ہی ان کے کئی اشعار دھیان میں آ جاتے ہیں؛ ’’ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی /اک طرفہ تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی‘‘ یا پھر ’’تیری محفل سے اُٹھاتا غیر مجھ کو کیا مجال/دیکھتا تھا میں کہ تو نے بھی اشارہ کر دیا‘‘، ایک اور غزل جو گائی گئی اورآج تک بہت مقبول ہے؛’’چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے/ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے‘‘۔ وہ کہا کرتے تھے ’’غالب و مصحفی و میر ونسیم و مومن/طبع حسرت نے اٹھایا ہے ہر استاد سے فیض‘‘۔ خیر، اُن کا اپنا رنگ تھا مگر دوسروں کے فن کا اعتراف کرنے میں کسی بخل سے کام نہ لیتے تھے۔ میر صاحب کے لیے تو یہاں تک کہہ گئے:
گذرے ہیں بہت استاد، مگر رنگ اثر میں
بے مثل ہے حسرتؔ سخن میرؔ ابھی تک
________
شعر میرے بھی ہیں پردرد و لیکن حسرتؔ
میرؔ کا سا شیوۂ گفتار کہاں سے لاؤں
ابن انشا(۱۹۲۷-۱۹۷۸ء) جو اپنی نثر اور نظم، دونوں سے شہرت کمانے والے بھی میر صاحب کے معتقدین میں سے تھے۔ ’’انشا جی اٹھو اب کوچ کرو‘‘اور ’’کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا‘‘ جیسا کلام ان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ کرتا گیا۔ ابن انشا بھی میرصاحب سے بیعت تھے۔ وہ کہتے ہیں :
میرؔ سے بیعت کی ہے تو انشاؔ میر کی بیعت بھی ہے ضرور
شام کو رو رو صبح کرو اب صبح کو رو رو شام کرو
________
اب اپنا بھی میر سا عالم ہے
ٹُک دیکھ لیا جی شاد کیا
اک بات کہیں گے انشاء جی
تمھیں ریختہ کہتے عمر ہوئی
تم ایک جہان کا علم پڑھے
کوئی میر سا شعر کہا تم نے

فیض احمد فیض کے بعد عوامی سطح پر سب سے زیادہ مقبول ہونے والے شاعراحمد فراز (۱۹۳۱-۲۰۰۸ء) تھے اور اُن کی شہرت ان کے چل بسنے کے بعد بھی برقرار ہے۔ خود فراز کو بھی اپنی اس مقبولت کا خوب خوب احساس تھا۔ ان کا کہنا تھا:’’اور فراز چاہئیں کتنی محبتیں تجھے/مائوں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا ‘‘۔ فراز جب میر اور غالب کی طرف دیکھتے اور پھر شہر غزل میں قدم رکھنا چاہتے تو اپنے آپ سے یوں مخاطب ہوتے تھے:
فرازؔ شہرِ غزل میں قدم سلوک سے رکھنا
کہ اِس میں میرؔ سا، غالبؔ سا خوش نوا بھی ہے

’’میرے موسم میرے خواب‘‘ اور ’’جست‘‘ کے نام سے دوشعری مجموعے دینے والے شاعررضی اختر شوقؔ (۱۹۳۳-۱۹۹۹ء) کا ایک شعر میر صاحب کے حوالے سے ایسی حقیقت حال بیان کرتا ہے کہ اسے مقتبس کیے بغیر آگے بڑھنے کو جی نہیں چاہتا۔
جانے کیا ہے جسے دیکھو وہی دلگیر لگے
شہر کا شہر ہی اب معتقد میر لگے

افتخار عارفؔ (۱۹۴۰ء) گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی میں شاعری کے افق پر طلوع ہوئے اور اپنی تخلیقی توانائی کے سبب آج تک ادبی منظرنامے کے نمایاں ترین ناموں میں سے ایک ہیں۔ اپنے تہذیبی، فکری اور جمالیاتی ورثے سے دست کش نہ ہونے والے افتخار عارف ’’مہر دونیم‘‘ سے ’’حرف باریاب‘‘، ’’جہان معلوم ‘‘ اور ’’باغ گل سرخ‘‘ تک میں جس وضع کی فضا میں اپنے تخلیقی وجودکو رکھتے رہے ہیںاُس نے اُردو شاعری میں مذہبی استعاروں کے حرکی تصور کے لیے فضا باندھ کر رکھ دی ہے۔ ان کا ایک شعر آپ نے اوپر ملاحظہ کیا ایک اور مقام پر اُن کا میر صاحب کی طرف دیکھنا اور اس خواہش کا اظہار کرنا کہ میر صاحب کہ طرح اُنھیں بھی مہتاب میں چاند سی صورت نظر آتی اور حسرت سے یہ کہنا کہ ’نسبت کا شرف سلسلہ میر میں ہوتا‘ بھی بہت معنی رکھتا ہے۔
مہتاب میں اک چاند سی صورت نظر آتی
نسبت کا شرف سلسلہ میر میں ہوتا

نئی نسل کے نمایان ترین شاعروں میںعباس تابش (۱۹۶۱ء) کا شمار ہوتا ہے۔ ’’ تمھید‘‘، ’’آسمان‘‘، ’’مجھے دعائوں میں یاد رکھنا‘‘، ’’پروں میں شام ڈھلتی ہے‘‘ اور ’’جب تیرا ذکر غزل میں آئے‘‘ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ عباس تابش، شاعروں کے شاعر میرصاحب کے بارے میں کہہ رہے ہیں:
ختم ہوتی ہی نہیں گریہ و زاری اُن کی
میر نے ہاتھ تو ہر لفظ کے سر پر رکھا

تو یوں ہے کہ جب تلک افتخار عارف والے’’ بے مہر و بے لحاظ زمانوں ‘‘ والی زندگی ہمارا مقدر رہے گی میر صاحب ہمارے محبوب شاعر رہیں گے کہ بہ قول ابن انشا:
اللہ کرے میر کا جنت میں مکاں ہو
مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی
میرصاحب کا مقدمہ اور فاروقی صاحب

’’اکثر لوگوں کو اس بات کی فکر تورہی کہ غالب کو میر سے بڑا شاعر یا میر کو غالب سے بڑا شاعر ثابت کیا جائے لیکن اس کارگزاری کا طریق کیا ہو، دلائل کیا ہوں، وہ نظریات کیا ہوں جن کی روشنی میں یہ کشتی فیصل ہو سکے، ان معاملات میں ہم میں سے اکثر کے ذہن صاف نہیں تھے۔ ‘‘
فاروقی صاحب کے سامنے یہ قضیہ آیا تو اُنھوں نے میرصاحب کو پڑھا اور میر فہمی کے باب میں ہو چکے کام کو بھی اور پھر میرصاحب کا مقدمہ خود لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ’’ شعر شور انگیز‘‘ کی چاروں جلدوں کی ابتدا میں موجود مفصل دیباچے میر کا مقدمہ ہی تو ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے ایک نظر ان دیباچوں کی فہرست پرڈالتے چلیں:
۱۔ خدائے سخن، میر کہ غالب؟ (باب اول، جلد۱)
۲۔ غالب کی میری (باب دوم، جلد۱)
۳۔ میر کی زبان روزمرہ یا استعارہ:۱ (باب سوم، جلد۱)
۴۔ میر کی زبان روزمرہ یا استعارہ:۲ (باب چہارم، جلد۱)
۵۔ انسانی تعلقات کی شاعری (باب پنجم، جلد۱)
۶۔ چوں خمیر آمد بدست نانبا (باب ششم، جلد۱)
۷۔ دریاے اعظم (باب ہفتم، جلد۱)
۸۔ بحر میر (باب ہشتم، جلد۱)
۹۔ شعر شور انگیز (باب نہم، جلد۱)
۱۰۔ دیباچہ (جلد دوم)
۱۱۔ کلاسیکی غزل کی شعریات:حصہ اوّل (باب اول، دوم، سوم۔ جلد سوم )
۱۲۔ کلاسیکی غزل کی شعریات:حصہ دوم (باب اول، دوم، سوم۔ جلد چہارم)

ہر ایک دیباچہ، ایک الگ کتاب کا مواد رکھتا ہے اور فاروقی صاحب نے میر فہمی کی جو طرفیں کھولی ہیںیہ اپنی جگہ اُردو ادب میں ایک اہم اور منفرد واقعہ ہو گیا ہے۔

اس باب کے پہلے دیباچے میں فاروقی صاحب کا کہنا ہے کہ ’’غالب اور میر کا موازنہ کرنا، یا ان کا بیک وقت مطالعہ اس غرض سے کرنا کہ ایک کے ذریعے دوسرے پر روشنی پڑے، غلط کارگزاری نہیں ہے، بلکہ دراصل دونوں کی تعئین قدر کی پہلی منزل ہے۔ ‘‘فاروقی صاحب اس پہلی منزل پر رک نہیں جاتے اور یہیں ایک ایسی دلچسپ بات ایزاد کرتے ہیں جو شاید ہی کسی اور نے کہی ہو۔ ناقدین میر اور غالب کو الگ الگ طرح کے شاعر کہتے آئے ہیں جب کہ فاروقی صاحب کا کہنا ہے کہ ’’دونوں کے اسلوب مختلف ضرور ہیں لیکن دونوں ایک ہی طرح کے شاعر ہیں۔ ‘‘ انھوں نے اپنی اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شاعری کے بارے میں دونوں کے مفروضات ایک طرح کے تھے اور دونوں نے روایت کو تخلیقی اور اجتہادی سطح پر ایک ہی طرح برتا تھا۔ اب رہا یہ سوال کہ دونوں ایک جیسے ہو کر بھی الگ الگ شناخت کیسے بناتے ہیں؟ فاروقی صاحب کے پاس اس کا جواب یہ ہے کہ میر اور غالب کے تخیل کا مزاج اور زبان مختلف تھی۔ بہ قول اُن کے، غالب کا تخیل آسمانی اور باریک تھا، میر کا تخیل زمینی اور بے لگام۔ غالب نے اپنی شاعری کے لیے ادبی زبان کا اہتمام کیا میر نے روزمرہ کی زبان کو شاعری بنا دیا۔ وہ اس تحریر میں اس نتیجے پر بھی پہنچتے ہیں کہ زبان کے تنوع، تجربہ حیات کی کثرت اور شخصیت کی ہمہ گیری میں میر کا مرتبہ غالب سے اعلیٰ ہے جبکہ خالص تعقل، تجرید اور نازک خیالی میں غالب کا درجہ میر سے بلند ہے۔ دونوں کے تخیل میں فرق ہے غالب کا تخیل آسمانی اور تجریدی اور میر کا زمینی، ٹھوس اور مرئی ہے لیکن تخیل کی شدت دونوں کے یہاں برابر ہے اور معنی آفرینی میں بھی دونوں برابر ہیںتاہم یہیں وہ میر کے ہاں معنی آفرینی کی ایسی اضافی خوبی بھی نشان زد کرتے ہیں جو غالب کے ہاں بہ قول ان کے بہت کم ہے۔

’’غالب کی میری‘‘ کے عنوان والے دیباچے میں انھوں نے یہ دلچسپ اور اہم نکتہ سجھایا ہے کہ غالب کا زمانہ آتے آتے زبان کے استعمال کے بہت سے قرینے بن چکے تھے۔ غالب نے ان پر غور و خوض کیا اور شاعری کے لیے ایسی زبان خلق کی جو آج تک اُردو شاعری کی زبان ہے۔ میر کے سامنے ایک ہی نمونہ تھا یعنی اُس وقت کی شعری زبان، جس کی مثالیں سودا اور حاتم وغیرہ کے یہاں ملتی تھیں۔ میر نے اپنا راستہ خود بنایالہٰذا میر کا کارنامہ غالب کے کارنامے سے کم نہیں ہے بلکہ کچھ برتر ہی معلوم ہوتا ہے۔

میر کی زبان کیسی تھی؟ اسے دوحصوں پر مشتمل اپنی تحریر’’میر کی زبان، روزمرہ یا استعارہ‘‘ میں فاروقی صاحب مفصل زیر بحث لائے ہیں۔ ان کے نزدیک میر صاحب کے بارے میں یہ غلط فہمی ہے کہ وہ روز مرہ کے شاعر تھے اور اس کا سبب شاید میر صاحب کا اپنا یہ بیان رہا ہو کہ وہ وہی زبان لکھتے تھے جس کی سند جامع مسجد کی سیڑھیوں پر ملتی تھی۔ فاروقی صاحب کے مطابق محاورے اور تلفظ کی حد تک تو اس بیان پر اعتماد کرنا چاہیے لیکن شعری زبان کے جوہر پر اس کا اطلاق میر صاحب کی شاعری کی رُوح سے بے خبری ہے۔ میرصاحب عام معنی میں روز مرہ کے شاعر نہیں ہیں؛ کیسے؟ اس باب میں، فاروقی صاحب نے ان لسانی اور شاعرانہ وسائل کو نشان زد کیا جو میرصاحب کے ہاں تھے اور انھیں ڈھنگ سے دیکھے بغیر اس شاعر کی تحسین ممکن تھی نہ تعیین قدر۔ مثلاً میرصاحب کے ہاں استعارہ اور کنایہ بہ کثرت استعمال ہوتا ہے۔ ان کے استعاروں میں طنز اور قول محال کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ وہ یہ جانتے تھے کہ استعارہ معنوی امکانات سے پُر ہوتا ہے مگر کثرت استعمال کے سبب محاورہ یا عام زبان کا حصہ ہو جاتا ہے اور معنوی امکانات بے کار ہو جاتے ہیں۔ فاروقی صاحب کے مطابق میرصاحب نے نئے پرانے استعاروں میں قوت پیدا کرنے کے لیے مناسبت الفاظ سے کام لیا اور رعایت چوں کہ تلازمہ خیال سے پیدا ہوتی ہے اس لیے وہ خالص استعارے، تشبیہ، محاورے یا ضرب المثل کے ساتھ آتی ہے تو دوہرا استعارہ قائم ہوتا ہے۔ میرصاحب نے زبان کے استعمال کے باب میں ایسے قرینے رکھے ہیں کہ ان کے کلام میں روانی کا وصف پیدا ہوا۔ روانی کا ایسا وصف کہ کوئی لفظ یا فقرہ بے جگہ معلوم نہیں ہوتا اور ایسا اس کے باوجود ہوا ہے کہ میر صاحب روزمرہ کے الفاظ اور فقرے بہ کثرت استعمال میں لاتے ہیں۔ فاروقی صاحب کے مطابق میر صاحب کے ہاں یہ وصف اس لیے ممکن ہو گیا ہے کہ وہ ایسے الفاظ اور فقروں کو خوش طبعی کے ماحول میں صرف کرتے ہیں۔

میرصاحب کی زبان کی ایک صفت اس کا بے تکلف ہونا بھی ہے۔ وہ شعر کو گفتگو کے قریب لے آتے ہیں۔ انھوں نے مثالوں سے ثابت کیا ہے کہ میر صاحب کے ہاں کثیر المعنویت، تہ داری اور زبان کا نیا پن خوبی ہوا ہے اور یہ خوبی انھوں نے استعارے اور رعایت کے تخلیقی استعمال سے ممکن بنائی ہے۔ یہیں وہ اصرار کے ساتھ یہ کہتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں کہ میرصاحب کے اسلوب کو سادہ اور سریع الفہیم قرار دینا اور اُن کے ابہام، پیچیدگی، کثیر المعنویت اور غیر معمولی زور بیان کو نظر انداز کرنا نہ صرف میر صاحب بلکہ تمام اُردو شاعری کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہوگا۔

میر صاحب کی شاعری کو فاروقی صاحب نے ’’انسانی تعلقات کی شاعری‘‘ کہا ہے اور ایسی شاعری بھی جس میں انکشاف ذات یا کم سے کم براہ راست خود اکتشافی(Self-revelation) کا رنگ ملتا ہے۔ میرصاحب کا عاشق اُردو غزل کے عام عاشق سے کیسے مختلف ہوتا ہے؟ اور جنسی مضامین کے بیان میں وہ اوروں سے کیسے الگ جا کھڑے ہوتے ہیں؟ ان سوالوں کے مقابل ہو کر فاروقی صاحب نے خوب خوب زورِقلم صرف کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ؛ یہ کہنا تو آسان ہے کہ میرصاحب نے ہر نوع کے تجربے کو اپنا تخلیقی تجربہ بنایا لیکن اس سوال کا جواب آسان نہیں ہے کہ میرصاحب کے یہاں تجربے کی انتہائیں اس قدر شدید کیوں ہیں؟ میر صاحب کے یہاں ’علوی‘ اور ’زمینی‘ ہر طرح کے مضامین کی اتنی فراوانی کیسے ممکن ہوئی؟انھوں نے اس باب میں جو نقشہ بنایا اُس میں انسان اور زندگی کو سب سے اوپر رکھا اور دونوں کو دورُخے تیر کے ذریعے باہمی رابطے میں کر دیا۔ ’’ زندگی‘‘ کی دائیں طرف ذرا نیچے دو مونہی تیر کے کناروں پر ’’پست ‘‘ اور ’’بالا‘‘ کے الفاظ رکھ دیے اور انسان کے بائیں طرف مگرذرا نیچے ’’ناقص ‘‘اور ’’کامل‘‘ کے۔ ان دو لفظوں کے درمیان بھی دورُخا تیر باہمی تعلق کو ظاہر کر رہاہوتا ہے۔ ’’لاتناہی ‘‘ نیچے ہے اور’’ عشق ‘‘، اس طرح بننے والی تصویر کے مرکز میں۔ ’’عشق ‘‘کو ’لاتناہی‘ سے ایک لکیر کے ذریعے جوڑ لیا گیا ہے۔ دو، دومونہی تیر ’لاتناہی‘ کے دائیں بائیں سے ہو کر ’’بالا‘‘ ا ور’’ پست ‘ ‘ اور ’’ناقص‘‘ اور’’کامل‘‘ کے درمیان سے نکل کر ’’زندگی‘‘ اور’’ انسان‘‘ کو چھوتے ہوئے ’’عشق ‘‘تک پہنچتے ہیں۔ تعلق کی اس پیچیدگی کو ایک نقشے میں ظاہر کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ ’’عشق ہے تو زندگی ہے اور زندگی ہے تو عشق ہے۔ ‘‘اور یہ بھی کہ’’ عشق چوں کہ انسان اور زندگی دونوں کا مرکز و محور ہے اس لیے عشق میں انسان اور اس کا وجود ایک ہو جاتے ہیں۔ ‘‘ اُن کے بہ قول ’’ وجود کے دو مراتب ہیں؛ایک تجریدی حقیقت، جسے زندگی، یا دنیا، یا بنی نوع انسان کا زیر فلک ہونااور اس کی تگ و دو کہا گیا ہے اور دوسرا مرتبہ انفرادی شخصیت جو تجریدی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ دونوں کو متحد رکھنے یا پارہ پارہ کرنے میں عشق کا کردار مرکزی ہے۔ یہ دونوں مراتب مجرد لاتناہی کے درجے پر ہیں۔ میر کے یہاں کائنات اور عشق ہم معنی ہیں اور ہم مرتبہ بھی۔ ‘‘ اس بیان کے بعد وہ میر صاحب کے کلام سے متعدد ایسی مثالیں لاتے ہیں جہاں معشوق سے اتحاد کے باوجود افتراق ہے اور افتراق کے باوجود اتحاد۔ یا پھر دونوں کے بیچ محض دوئیت(Binarism) نہیں ہے۔ جو ہے اُسے قطبینی(Bipolar) کہنا چاہیے۔ میر صاحب کے یہاں یا تو وحدت قطبین کو دیکھا جا سکتا ہے یا پھر لا متناہی کثرت یا لا متناہی قلت۔ ان کے نزدیک کثرت اور قلت دونوں ایک ہی ہیں:’’عشق کہیں ہے دل میں پنہاں اور کہیں پیدا ہے عشق‘‘۔

’’بحر میر‘‘ کے عنوان والی تحریر کے عین آغاز میں فاروقی صاحب نےمیر صاحب کی مشہور ترین دو غزلوں کے مطلعے مقتبس کیے ہیں:
اُلٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماریٔ دِل نے آخر کام تمام کیا
اور
پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

وہ لکھتے ہیں کہ یہ غزلیں جس بحر میں ہیں، میر صاحب نے اس بحر کو قوت، کثرت اور تنوع کے ساتھ برتا ہے۔ اس باب میں جو حساب کتاب کیا گیا اس کے مطابق مختلف دواوین کی ۱۸۳۸ غزلوں میں سے ۱۸۳ غزلیں اسی بحر میں ہیں۔ چونتیس میں سے ایک مرثیہ بھی اسی بحر میں ہے۔ فاروقی صاحب کے مطابق اس بحر کی تقطیع عام طور پر بحر متقارب میں کی جاتی ہے کہ فارسی میں ایک مشہور وزن متقارب کا ایسا موجود ہے جو میر صاحب کی بحر سے مشابہ ہے (فعل فعولن فعل فعولن فعل فعولن فعل فعولن: فعل بسکون عین)۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ہندی بحر ہے تاہم یہاں مشکل یہ ہے کہ ابھی تک طے نہیں ہو سکا کہ یہ ہندی کی کون سی بحر ہے جسے فاروقی صاحب نے ’’بحر میر‘‘ کہا ہے اس باب میں بہ قول ان کے مشکل یہ ہے کہ میر صاحب نے جس طرح اس بحر کو برتا ہے اس میں اور مندرجہ بالا وزن میں بہت فرق ہے۔ یہ بحث بہت دلچسپ انداز میں آگے چلتی ہے اور کلام میر کی متعدد مثالوں سے وہ اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہیں اور یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ میر صاحب کی یہ بحر کلیات میر میں جس تنوع اور رنگا رنگی کے ساتھ آئی ہے اس کی مثال نہ ہندی میں ہے نہ فارسی میں۔ اگر چہ اس بحر سے تھوڑی بہت مشابہت رکھنے والی بحریں ہندی اور فارسی میں ہیں لیکن کوئی بحر ایسی نہیں ہے جسے اس کی واحد شکل کہا جاسکے اور یہ بھی کہ، چونکہ اس بحر کو میر صاحب نے عام کیا اور تنوع کے ساتھ کامیابی سے برتا اس لیے اسے ’’بحرمیر ‘‘کا نام دِیا جانا چاہیے۔

پہلی جلد کا آخری دیباچہ ’’شعر شور انگیز‘‘ کا عنوان لیے ہوئے ہے۔ یہاں وہ میرصاحب کے بارے میں عام طور پر مستحکم ہو چکے اس خیال کو رد کرنے چلے ہیں کہ ان کے یہاں لہجے کا دھیماپن، نرمی اور آواز کی پستی اور ٹھہرائو ہے۔ اس باب میں انھوں نے مولوی عبدالحق کا حوالہ دیا جنہوں نے اپنے ’’انتخابِ میر‘‘ کے دیباچے میں لکھا تھا کہ میر صاحب کے اشعار سوز و گداز اور درد کی تصویریں ہیں۔ اور یہ بھی کہ شگفتگی اور زندہ دلی میر صاحب کی تقدیر میں نہیں تھی۔ وہ سراپا یاس و حرماں تھے اور یہی حال ان کے کلام کا ہے۔ فاروقی صاحب نے اس باب میں آل احمد سرور کا حوالہ بھی دیا جنہوں نے میر صاحب کی خوش آہنگی اور شیرینی پر زور دیا تھا۔ فراق صاحب کو میر صاحب کے یہاں ’’لہجے کی نرمی‘‘ ملی اور قاضی افضال حسین تک دیکھتے آئے تو ان کی کتاب’’میر کی شعری لسانیات‘‘ میں بھی ’’لہجے کی نرمی، تاکید کا فقدان، دھیما لہجہ، ٹھہرائو اور دھیما پن ‘‘جیسے بیانات نے انھیں اُلجھایا توانھوں نے اس باب میں پہلے تو لفظ اور معنی کے باہمی رشتوں پر بحث کی اور پھر میر صاحب کے کلام کے آہنگ کی بابت کہا کہ یہ کلام کے معنیٰ سے الگ نہیں ہے۔ وہ بہ اصرار کہتے ہیں کہ جب میر صاحب کا آہنگ دھیما، انفعالی اور نرم رو نہیں ہے(اور ہرگز نہیں ہے) تو ان کے کلام میں جو معنی ہیں ان کو بھی ہم دھیما، انفعالی اور نرم رو نہیں کہہ سکتے۔ فاروقی صاحب کے مطابق خود شاعر نے جو بیانات دیے ہیں ان پر تکیہ کرنا عقلمندی نہیں ہے تاہم وہ آگے چل کر شاعر ہی کے بیانات سے’’ شور‘‘ اور’’ شور انگیزی‘‘ کو دریافت کردیتے ہیں تو یہ معاملہ بھی دلچسپ لگتا ہے۔
’’ہے اپنے خانوادے میں اپنا ہی شور میر‘‘ دیوان چہارم
’’شور آج بلبلوں کا جاتا ہے آسماں تک‘‘ دیوان سوم
’’پہ میرے شور نے روے زمیں تمام لیا‘‘ دیوان اول
’’قیامت کا سا ہنگامہ ہے ہر جا میرے دیواں میں‘‘ دیوان سوم
اور’’جہاں سے دیکھیے اک شعر شور انگیز نکلے ہے‘‘ دیوان سوم

میرصاحب کے اپنے بیانات ہوں یا شعر کا آہنگ اور کلام کا معنیاتی جوہر وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ میر صاحب کا کلام نہ صرف ’’روانی کی تقریباً معراج ‘‘کو پہنچا ہوا ہے، ان کے اشعار تہ دار ہیں اوران کے ہر دیوان میں ہر جگہ شعر شور انگیز کے باعث قیامت کا سا ہنگامہ ہے۔

’’شعر شور انگیز‘‘ کی دوسری جلد کے دیباچے میں شعر کے متن اور معنی کے حوالے سے بہت اہم اور دلچسپ مباحث کو چھیڑا گیاہے اور اس باب میں کلاسیکی شعریات کے نقوش روشن کرتے ہوئے وہ میر صاحب کی طرف آئے ہیں۔ یہ موضوع اپنی جگہ بحث طلب ہے۔ ’’معنی کس کا مال ہے؟‘‘، ’’معنی چہ معنی دارد؟‘‘، ’’المعنی فی بطن الشعر‘‘، ’’مشرق و مغرب کی شعریات میں منشائے مصنف‘‘اور’’منشائے مصنف کے نظریے کی اصل‘‘ جیسے عنوان قائم کرکے جو نتائج اخذ کیے گئے ہیں ان پر یہاں کچھ اور کہنا ایک نئی بحث کا سبب ہو سکتا ہے جس سے احتراز کرتے ہوئے اس نتیجہ فکر کا ذکر کر نا چاہوں گا جس پر فاروقی صاحب پہنچے ہیں۔ انہی کے الفاظ میں :

’’جو لوگ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ میر کے کلام کے وہی معنی بیان کیے جائیں جو میر نے مراد لیے ہوں (یا جن کے بارے میں یہ قرینہ ہو کہ وہ میر نے مراد لیے ہوں گے)وہ میر کے متن میں کثرت معنی کو نظر انداز کرکے ذاتی ملکیت کا اصول تو مستحکم کر دیتے ہیں لیکن خود میر کے متن کو مفلس کر دیتے ہیں۔ ‘‘

’’کلاسیکی غزل کی شعریات‘‘ کو موضوع بناکرفاروقی صاحب نے تیسری اور چوتھی جلد کے دیباچوں میں تفہیم میر کا مقدمہ پیش کیا ہے۔ تیسری جلد کے دیباچے کے تین باب ہیں اور چوتھی جلدکے دیباچے کو تین الگ ابواب ’’مضمون آفرینی‘‘، ’’معنی آفرینی‘‘ اور’’ تصور کائنات‘‘ کے تحت زیر بحث لایا گیا ہے۔ ان دیباچوں میں غزل کی صنف کا اپنا مزاج زیر بحث آیا ہے اور غزل کی برائی میں کی جانے والی اُن باتوں کا ذِکر بھی یہاں موجود ہے جو حالی اور کلیم الدین احمد نے بہت پہلے کی تھیں یا پھر آج تک دہرائی جا رہی ہیں۔ غزل کے دفاع میں اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے فاروقی صاحب یہ بنیادی اصول بیان کرتے ہیں کہ کسی ادب کو سمجھنے کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ اسے ان ہی تصوراتِ شعر و تصوراتِ کائنات کی روشنی میں پڑھا جائے جن کی روشنی میں وہ ادب لکھا گیا ہے۔ ربط، روانی، مناسبت، بندش کی چستی، مضمون( استعارہ)، مضمون کی وسعت، مضمون کے لیے معنی کا استعمال، مضمون اور معنی کی دوئی، تازہ خیالی/مضمون آفرینی، نازک خیالی، خیال بندی، معاملہ بندی، کیفیت، شور انگیزی، معنی اور معنی آفرینی، پیچ داری و تہ داری، رعایت(ایہام) اور انشائیہ اسلوب وغیرہ جیسے عنوانات قائم کرکے وہ میر فہمی کی صورتیں سجھاتے ہیں کہ انہی سے کلاسیکی شعریات مرتب ہوتی ہے۔ لطف یہ ہے کہ وہ اس کلاسیکی شعریات کو سامنے رکھ کر میر صاحب کا ایسا معیاری انتخاب کرنے میں بھی کامیاب رہتے ہیں جو بہ قول خود اُن کے دُنیا کی بہترین شاعری کے سامنے بلاجھجک رکھا جا سکتا ہے۔

میر صاحب کی غزلیات کا یہ انتخاب
محمد حسن عسکری اپنے ایک مضمون’’مزے دار شاعر‘‘ میں لکھتے ہیں کہ میر کے یہاں جو مشکلیں پیدا ہوتی ہیں اُن کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ ان کی شخصیت اوروں سے زیادہ پیچیدہ اور پہلو دار تھی، بلکہ وہ اپنی شخصیت پر مسلسل خلاقانہ عمل کے ذریعے متضاد عناصر گھلا ملا کر ایک نئی چیز پیدا کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے میرصاحب کے باطن میں جاری جدلیاتی عمل کی وضاحت کے لیے جس شعر کا حوالہ دیا پہلے وہ دیکھ لیجیے کہ اسی سے انھوں نے ایک دلچسپ نکتہ پیدا کیا ہے۔ میرصاحب کا شعر ہے:
نہیں میر مستانہ صحبت کا باب
مصاحب کرو کوئی ہشیار سا
حسن عسکری کا تجزیہ یہ ہے کہ

’’مستانہ پن اور ہشیاری کے ان متضاد تقاضوں کو سہارنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ اس لیے اپنی سہولت کے لیے عام پڑھنے والوں نے یہ مشہور کر دیا کہ میر کی شاعری واہ نہیں آہ ہے۔ لیکن جن شاعروں نے واقعی میر سے الجھنے کی کوشش کی وہ عمر بھر بریز بریز پکارا کیے۔ ‘‘
اور یوں وہ فیصلہ سنا دیتے ہیں:
’’غرض میر کو پڑھنا عمر بھر کا جھگڑا مول لینا ہے۔ ‘‘

’’شعر شور انگیز‘‘ کو پڑھنے کا موقع ملا تو لگا جیسے یہ عمر بھر کاجھگڑافاروقی صاحب نے بھی مول لے رکھا تھا۔ وہ عمر بھر میرصاحب کو پڑھتے رہے اور وہ جو کام میرصاحب کے باب میں ہوا تھا اُسے بھی پرکھتے رہے اور اِس نتیجے پر پہنچے کہ ابھی میر تقی میر جیسے بڑے شاعرکے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ انھوں نے’’ شعر شور انگیز‘‘ میں لکھا ہے:

’’آل احمد سرور، مجنوں گورکھپوری، گوپی چند نارنگ اور محمد حسن عسکری کی اِکا دُکا تحریروں اور اثر لکھنوی کی پرزور مدافعت و وکالت کے سوا میر شناسی کا دامن خالی ہے۔ ‘‘

وہ اِنتخاب کلام میر کے نام سے یونیورسٹیوں میں پڑھائی جانے والی کتابوں سے مطمئن نہ تھے کہ ان کے خیال میں وہ اس قدر ناقص تھیں کہ میر کی تحسین اور تعیین قدر میں معاون ہونے کے بجائے حارج تھیں۔ میر کے انتخاب کلام کے باب میں وہ کام جسے وہ اہم سمجھتے تھے اس کے بارے میں بھی ان کے تحفظات تھے۔ ان کی نظر میں:
۱۔ اثر لکھنوی کا مرتبہ انتخاب’’مزامیر‘‘ نسبتاً بہتر تھا لیکن اس میں تنقیدی بصیرت کے بجائے عقیدت سے کام لیا گیا تھا۔
۲۔ حسن عسکری نے’’ ساقی ‘‘کے خاص نمبر میں شائع ہونے والے اپنے انتخاب میں ایک مخصوص اور ذرا محدود نقطہ نظر سے کام لیتے ہوئے میر کے بہترین اشعار کی جگہ میر کی مکمل، یا اگر مکمل نہیں تو نمائندہ تصویر پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح میر کے بہت عمدہ اشعار کے ساتھ کم عمدہ اشعار بھی انتخاب میں آگئے۔ لہٰذا اس انتخاب کی روشنی میں میر کے شاعرانہ مرتبے کے باب میں صحیح رائے نہیں قائم ہو سکتی۔
۳۔ علی سردار جعفری نے میر کا سب سے اچھا انتخاب کیا۔ بعض حدود اور نقطہ نظر کی تنگیوں کے باوجودان کا دیباچہ بھی خوب ہے۔ تاہم انھوں نے میر کے کئی رنگوں کو نظر انداز کر دیا اور بہت سے کمزور اشعار بھی شامل کر دیے ہیں، خاص کر ایسے اشعار جن کی’’ سیاسی‘‘ یا’’ انقلابی ‘‘تعبیر کسی نہ کسی طرح ممکن تھی۔

خیر، فاروقی صاحب اس عدم اطمینان کے ساتھ ساتھ اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ انھوں نے ہر انتخاب سے کچھ نہ کچھ اخذ کیا۔ اثر لکھنوی، حسن عسکری، علی سردار جعفری کے کام کے علاوہ حسرت موہانی، مولوی عبدالحق، مولوی نورالرحمٰن، حامدی کا شمیری، قاضی افضال حسین، ڈاکٹر محمد حسن اور ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کے انتخابات میر اُن کے مطالعہ میں رہے ہیں۔ انھوں نے متن کے انتخاب کے لیے جن نسخوں کو سامنے رکھا اُس کی تفصیل بھی’’ شعر شعور انگیز‘‘ کی تمہید میں کچھ یوں ملتی ہے:
۱۔ نسخہ فورٹ ولیم: کلکتہ ۱۸۱۱ء
۲۔ نسخہ نولکشور : لکھنؤ ۱۸۶۷ء
۳۔ نسخہ آسی : نولکشور، لکھنؤ ۱۹۴۱ء
۴۔ کلیات غزلیات مرتبہ ظل عباس عباسی:علمی مجلس دہلی ۱۹۶۷ء
۵۔ کلیات جلد اوّل مرتبہ پروفیسر احتشام حسین: رام نرائن لعل الہ آباد ۱۹۷۰ء
۶۔ کلیات جلد جلد دوم مرتبہ ڈاکٹر مسیح الزماں: رام نرائن لعل الہ آباد ۱۹۷۰ء
۷۔ کلیات جلداول تاسوم(چار دیوان)مرتبہ کلب علی خاں فائق:مجلس ترقی ادب لاہور ۱۹۶۵ء
۸۔ دیوان اول مخطوطہ محمود آباد، مرتبہ اکبر حیدری: سری نگر ۱۹۷۱ء
۹۔ مخطوطہ دیوان اول، مملوکہ نیر مسعود (تاریخ درج نہیں)

فاروقی صاحب نے وہ طریقہ کار جو انتخاب میر اور تفہیم میر کے باب میں اپنے لیے طے کیا اس کے خال و خد یہ ہیں:
۱۔ مکمل غزل کے انتخاب کے بجائے ہر منتخب غزل سے کچھ اشعار تفہیم کے لیے نشان زد کیے جائیں۔
۲۔ غزل کی صورت برقرار رکھنے کے لیے مطلع ملا کر کم سے کم تین شعروں کا التزام رکھا جائے۔
۳۔ جہاں صرف دو شعر انتخاب کے نکلیں وہاں مطلع یا کوئی اور شعر بھرتی کے لیے شامل کر لیا جائے اور اس کی وضاحت کر دی جائے کہ کون سا شعر بھرتی کا ہے۔ جہاں ایک شعر ہی نکلے وہاں ایک پر اکتفا کیا جائے۔
۴۔ مثنویوں، شکار ناموں وغیرہ سے جو غزل کے اشعار منتخب ہوں انھیں مناسب ردیف کے تحت انتخاب کا حصہ بنایا جائے۔
۵۔ کسی ایک دیوان یا مختلف دواوین میں جہاں ہم طرح غزلیں ملیں یا کہیں دوغزلے ہوں تو ان کے اشعار چھانٹ کر ایک غزل بنا لی جائے۔
۶۔ انتخاب کے لیے ہر غزل کو دس بارہ بار پڑھ کر تمام اشعار کی کیفیتوں اورمعنویتوں کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کی جائے۔ لغات کا سہارا بے تکلف اور بکثرت لیا جائے اور انتخابی شعر کو الگ درج کر لیا جائے۔ وغیرہ وغیرہ

یہ وہ بنیادیں تھیں جن پر فاروقی صاحب نے’’ شعر شور انگیز‘‘ کی عالیشان عمارت کھڑی کی۔ تاہم صحیح یا غلط میں نے محسوس کیا ہے کہ:
۱۔ فاروقی صاحب کی تنقیدی بصیرت نے تفہیم میر کا باب تو روشن کر دیا ہے اور یہ ایسا کام ہے جس کی مثال اُردو ادب میں نہیں ملتی مگر’’غزلیات میر‘‘ کا انتخاب، اس سارے منصوبے میں ترجیح اوّل نہیں رہا اور وہ پس منظر میں چلا گیا۔ اگرچہ ’’شعر شور انگیز‘‘ کے سرورق پر یہ عبارت ملتی ہے کہ’’غزلیات میر کا محققانہ انتخاب‘‘ جب کہ یہ ہر منتخب غزل میں سے ایسے اشعار کا انتخاب ہے جن پر فاروقی صاحب اپنے مباحث قائم کرنے جا رہے تھے۔
۲۔ اثر لکھنوی کی ’’مزامیر‘‘ پر فاروقی صاحب کا اعتراض تھا کہ وہ تنقیدی بصیرت کے بجائے عقیدت سے کام لے رہے تھے جب کہ خود فاروقی صاحب کے ناقدانہ فیصلے نے ہمیں مکمل غزل پڑھنے اور ان کے انتخاب میں آنے والے اشعار کو غزل کے مزاج کے اندر رکھ کر لطف اندوز ہونے کے مواقع پیدا نہ ہونے دیے۔
۳۔ حسن عسکری پر ان کا اعتراض تھا انھوں نے میر کی مکمل تصویر پیش کرنے کی کوشش میں کم عمدہ اشعار کو منتخب کر لیا اورعلی سردار جعفری پر وہ معترض تھے کہ انھوں نے ایسے کمزور شعر منتخب کر لیے جن کی سیاسی یا انقلابی تعبیر کسی نہ کسی طرح ممکن تھی جب کہ وہ خود کسی غزل کو مجموعی طور پر دیکھنے اور انتخاب میں شامل کرنے کے بجائے ایسے اصول کی پیروی کر رہے تھے جس میں بھرتی کا مطلع یا بھرتی کے کسی سادہ شعر کو بھی شامل کرنا ممکن ہو گیا تھا۔

یہیں وضاحت کرتا چلوں کہ اوپر بیان کردہ نقاط سے یہ نتیجہ اخذ نہ کیا جائے کہ میں’’شعر شو رانگیز‘‘ میں ہونے والے کام کی عظمت، انفرادیت اور افادیت کا قائل نہیں ہوں۔ وہ تو میں ہوں اور جی جان سے ہوں۔ اس میں جس طرح فاروقی صاحب کا علم بول رہا ہے، جس طرح وہ اُردو فارسی کے کلاسیکی شعرا کے کام کے ساتھ میر کے کلام کا تقابلی مطالعہ کرتے ہوئے نکات سجھاتے ہیں، جس طرح وہ معنی آفرینی، شعر کے آہنگ، استفہامیہ یا انشائیہ اسلوب، میر کی لفظیات، غزل کی رسومیات، رعایت و مناسبت کے استعمال، مشرقی اور مغربی شعریات کے الگ پیمانوں اور میر کے مضامین کی ماہیت کو موضوع بحث بناتے ہیں اورمیر کے ہاں روزمرہ کی زبان کے تخلیقی استعمال، محزونی لہجے، طنطنے یا غرور کو نشان زد کرتے ہیں وہ کسی اور کے بس کی بات تھی ہی نہیں۔ جو کام انھوں نے کیا بس وہی کر سکتے تھے۔ کہنا یہ ہے کہ انتخاب کا معاملہ ہے ہی ایسا۔ کہہ لیجیے یہاں ہر مرتب کے ذوق اور ترجیحات کے اپنے اپنے فیصلے ہوتے ہیں اور ان فیصلوں تک پہنچنے کے لیے انھیں کچھ سمجھوتوں کی راہ نکالنا ہی پڑتی ہے۔ کچھ سمجھوتے اثر لکھنوی، علی سردار جعفری، محمد حسن عسکری نے کیے اور کچھ سمجھوتے فاروقی صاحب کو بھی کرنا پڑرہے تھے۔

میر تقی میر کو خدائے سخن کہا گیا۔ علی سردار جعفری کا کہنا تھا کہ ولی دکنی، سودا، نظیر اکبر آبادی، انیس، غالب، اقبال کے ہوتے ہوئے میراُردو شاعری میں عظمت کے تنہا مسند نشین نہیں ہو سکتے تھے۔ لگ بھگ فاروقی صاحب کا موقف بھی یہی رہا تھا۔ بہ قول ان کے غالب کے ہوتے ہوئے وہ میر کو خدائے سخن نہیں کہہ سکتے تھے۔ عین اسی لمحے وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ میر کے ہوتے ہوئے غالب کو بھی خدائے سخن کہنا ممکن نہیں تھا۔ علی سردار جعفری جو میر کو اُردو شاعری میں عظمت کا تنہا مسند نشین ماننے کو تیار نہیں تھے وہ اسی عظمت کے تخت پر انھیں ایک اور رُخ سے بٹھاتے نظر آتے ہیں۔ اُن کے مطابق’’میر کی استادی سے انکار کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ ‘‘ میرصاحب تھے ہی ایسے۔ شاعروں کے شاعر، ’’نفی میں اثبات ڈھونڈنے والے‘‘۔ نفی میں اثبات ڈھونڈنے والی بات حسن عسکری نے کہی تھی اوراُنھوں نے یہ بھی اضافہ کیا تھا’’میر کو پڑھنا تو ایک اچھی خاصی جنگ ہے۔ ‘‘ تو ایسا ہے کہ آپ چاہے جس طرف سے آئیں اس جنگ کے لیے میرصاحب کو تیار پائیں گے۔ میرصاحب کیسے اپنے پڑھنے والوں سے باقاعدہ جنگ کرتے ہیں اس کا اندازہ فاروقی صاحب کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے جو انھوں نے ’’شعر شور انگیز‘‘ کی غزل نمبر ۴۶۲ کی ذیل میں دے رکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’اس پوری غزل میں غیر معمولی روانی، شور انگیزی، اور عجب طنطنہ آمیز محزونی ہے۔ پہلی بار پڑھیں تو جی چاہتا ہے کہ ساری کی ساری غزل (سات شعر)انتخاب میں رکھ لی جائے۔ دیر تک غور کرنے کے بعد تین شعر کم کیے گئے، یعنی شروع کے تین شعر اور مقطع رکھا گیا۔ عرصے بعد مزید غور کے دوران یہ محسوس ہوا کہ نہیں ایک شعر اور لینا چاہیے۔ چنانچہ ۴۶۲/۳ کا انتخاب عمل میں آیا۔ اس کے کچھ دن بعد سوچ سمجھ کر مقطع اور اس کے اوپر کا شعر(۴۶۲/۴)نکال دیئے۔ آخر میں اس سے بھی اطمینان نہ ہواتو ۴۶۲/۴کو واپس رکھ لیا۔ اس طرح غزل کی موجودہ شکل بنی۔ ‘‘

’’شعر شور انگیز‘‘میں غزلوں کی جو صورت آپ نے ملاحظہ فرمائی یہ صورت یقیناً وہ نہیں ہے جو میرصاحب کی اپنی پیشکش تھی۔ خدائے سخن کی اپنی غزل کیا تھی؛ وہی جس نے پہلے پہل فاروقی صاحب پر اپنی تخلیقی اور جمالیاتی کمند پھینک کر اُن کی توجہ کھینچی تھی۔ یہ تو بعد میں ہوا تھا کہ انھوں نے غور و فکر کے نتیجے میں کچھ اشعار منتخب کیے کہ انھیں زیر بحث لائیں۔ بس یہیں سے میرے دھیان میں آئی کہ ایسا انتخاب مرتب کیا جائے جس میں میرصاحب کی منشا عین مین سامنے آئے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے مجھے میر صاحب کے دواوین کی طرف رجوع کرنا پڑا اور یوں یہ انتخاب آپ کے سامنے ہے۔

’’انتخاب غزلیات میر‘‘ فاروقی صاحب کے کام کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ وہ اس لیے کہ فاروقی صاحب نے خود قبل ازیں مرتب ہونے والے انتخابات کو سامنے رکھ کر غزلیاتِ میر سے اشعار منتخب کیے ہیں۔ اس باب میں جو طریقہ کار اپنایا گیا وہ بھی عرض کیے دیتا ہوں:
۱۔ ’’شعر شور انگیز‘‘ سے ہر غزل نمبر کے تحت دیے گئے اشعار کی مدد سے دیوان اوّل تا ششم میں اس مکمل غزل کی تلاش۔ اسی طرح مثنویوں، شکار ناموں وغیرہ سے منتخب کیے گئے اشعار کی مدد سے مکمل غزل کا حصول اور مناسب ردیف کے تحت انتخاب کا حصہ بنانا۔
۲۔ جہاں’’ شعر شور انگیز‘‘ میں کسی ایک دیوان یا مختلف دواوین سے ہم طرح غزلیں یا دوغزلے لے کر اُن میں سے تین یا زیادہ اشعار چھانٹ کر ایک غزل بنا لی گئی، وہاں ہرغزل کے اصل متن تک رسائی اور’’ شعر شور انگیز‘‘ میں دیے گئے غزل نمبر کے تحت غزلوں کے مکمل متن کی فراہمی۔
۳۔ جہاں جہاں فاروقی صاحب نے کسی شعر کے اندر کچھ الفاظ کے مطالب تجویز کیے ہیں، ان کو وہاں سے اخذ کرکے انتخاب کے آخری صفحات میں موجود فرہنگ میر کا حصہ بنانا اور جہاں بھی املا کا اختلاف نظر آئے، اس کی وضاحت۔
۴۔ اس مقصد کی تظہیر کے لیے کہ کون سی غزل / غزلیں ’’شعر شور انگیز‘‘کی کس جلد کی مدد سے انتخاب کا حصہ بنائی گئی ہیں (ت) ستارے کے نشان سے مدد لی گئی ہے۔ ستارے کا یہ نشان ہر غزل کے آخر میں موجود ہے اور ان اشعار کے آغاز میں بھی جن کی مدد سے غزل/غزلیں متعلقہ دواوین سے اخذ کی گئیں۔ ہرغزل کے آخر میں ستارے کے نشان کے بعد وہ غزل نمبر دے دیا گیا ہے جو ’’شعر شور انگیز‘‘ کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اگر کوئی ان غزلوں کے وہ اشعار جو فاروقی صاحب کے زیر بحث رہے ’’شعر شور انگیز‘‘میں تلاش کرنا چاہے گا تو یہ مندرجات اس باب میں مدد کے لیے کافی ہوں گے۔
۵۔ ہر غزل کے مطالعہ کے دوران قارئین کی توجہ بکھرنے سے بچانے کے لیے وہ شعر نمبر نہیں دیے گئے جو فاروقی صاحب نے ’’شعر شور انگیز ‘‘ میںان اشعار کی تعبیر والی عبارت کے آغاز میں لگائے تھے تاہم (*)ستارے کے نشان کی گنتی سے مطلوبہ شعر نمبر بہ سہولت اخذ کیا جاسکتا ہے۔ جیسے اگر کسی کو اس انتخاب کی غزل نمبر ۵ کا ایسا شعر پڑھ کر ’’شعر شور انگیز ‘‘ میں اس کی تعبیر دیکھنی ہو جس کے آغاز میں ایک ستارہ ہے اور گنتی کرنے پر اس غزل کا پانچواں ستارہ بنتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا ’’شعر شعور انگیز‘‘ کی پانچویں غزل کا شعر نمبر۵/۵۔
۶۔ کچھ مقامات ایسے آئیں گے جہاں کوشش کے باوجود بھی مندرجہ بالا نمبر ۵ کے تحت دیے گئے اصول کی پیروی ممکن نہ رہی۔ ایسا بہ طور خاص وہاں وہاں ہوا جہاں فاروقی صاحب نے کسی دوغزلے یا ایک سے زیادہ ہم طرح غزلوں سے مختلف اشعار منتخب کرکے ایک غزل نمبر کے تحت رکھ دیے ہیں اور غزلوں کے اشعار کی ترتیب بھی اپنی سہولت کے مطابق مختلف کر لی ہے۔ ایسا ’’شعر شور انگیز‘‘ کی پہلی جلد میں نہیں ہوا تاہم دوسری جلد میں یہ مقامات نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس باب میں درج ذیل وضاحتوں کو دھیان میں رکھنا ہوگا۔
۶(۱ )…. غزل نمبر۲۰۴ کے تحت فاروقی صاحب نے جلد دوم میں چار اشعار کو منتخب کیا ہے۔ یہ چاروں اشعار ایک غزل کے نہیں ہیں۔ مطلع سمیت تین اشعار ایک غزل سے ہیں جو دیوان اول سے لی گئی ہے۔ ’’شعر شور انگیز‘‘ میں زیر بحث آنے والا چوتھا شعر دیوان پنجم سے لی گئی ایک غزل کا ہے۔ زیر نظر انتخاب میں یہ دونوں مکمل غزلیں حوالہ جات کے ساتھ موجود ہیں۔
۶(۲)….’’شعر شور انگیز‘‘ جلد دوم میں غزل نمبر۲۱۷ کے تحت جن دوغزلوں سے اشعار لے کر ایک غزل ظاہر کی گئی ہے وہ دونوں دیوان پنجم کی ہیں۔ فاروقی صاحب نے پہلی غزل کے پانچ اشعار میں سے چار کو منتخب کیاہے جب کہ دوسری غزل کے پانچ اشعار سے بھی چار ہی کو منتخب کیا گیا ہے۔ انتخاب ہذا میں دونوں غزلیں مکمل صورت میں فاروقی صاحب کے قائم کردہ غزل نمبر کے تحت پڑھی جا سکتی ہے۔
۶(۳) …. ایسا ہی التزام غزل نمبر۲۱۹ کے تحت ملے گا کہ یہاں دو مختلف دواوین کی غزلوں سے محض تین اشعار ایک غزل نمبر کے تحت دیے گئے ہیں۔ اس انتخاب میں مذکورہ نمبر کے تحت دی گئی غزلوں سے آپ جان جائیں گے کہ دیوان اول سے لی گئی غزل میں میر صاحب نے بارہ اشعار کہے اور دیوان چہارم والی غزل میں سات اشعار جب کہ فاروقی صاحب نے پہلی غزل سے مطلع سمیت دو اور دوسری سے محض مقطع لیا ہے۔
۶(۴) …. ’’شعر شور انگیز‘‘کی اسی دوسری جلد میں غزل نمبر۲۱۷ کے تحت جن دوغزلوں سے اشعار لیے گئے ہیں، ان میں پہلی غزل دیوان سوم جب کہ دوسری غزل دیوان دوم کی ہے۔ پہلی غزل کے پانچ اشعار سے فاروقی صاحب نے تین جب کہ دوسری غزل کے دس اشعار سے دو پر ان کی نظر ٹھہری ہے۔ انتخا ب ہذا میں دونوں غزلیں مکمل صورت میں غزل نمبر۲۱۷ ہی کے تحت فراہم کر دی گئی ہیں۔
۶(۵) …. غزل نمبر۲۳۷ کے اشعار بھی فاروقی صاحب نے دو مختلف دواوین کی غزلوں سے لیے ہیں۔ تیرہ اشعار پر مشتمل دیوان ششم سے لی گئی پہلی غزل سے مطلع سمیت تین جب کہ دیوان سوم سے سات اشعار والی دوسری غزل سے محض ایک شعر لیا گیا ہے۔ دونوں غزلیں مکمل صورت میں انتخاب ہذا کا حصہ ہیں۔
۶(۶) …. ’’شعر شور انگیز‘‘ کی جلد دوم سے ایک اور مثال۔ غزل نمبر۲۴۶ کے تحت دیوان پنجم سے جن دوغزلوں سے اشعار لیے گئے ہیں ان میں سے ایک سات اور دوسری نو اشعار پر مشتمل ہے۔ جبکہ فاروقی صاحب پہلی سے دو اور دوسری سے تین اشعار زیر بحث لائے ہیں۔ ان اشعار کو دونوں غزلوں کی مجموعی فضا کے اندر پڑھنے کے لیے مکمل متن اسی ایک غزل نمبر کے تحت فراہم کر دیا گیا ہے۔
۶(۷) …. فاروقی صاحب نے’’شعر شور انگیز‘‘ کی جلد سوم میں بھی اس طریقہ کار کو جاری رکھا ہے۔ اس جلد میں اس سلسلے کی پہلی مثال غزل نمبر ۲۵۰ ہے جہاں دیوان اول اور دیوان ششم کی دو غزلوں سے مجموعی طور پر سات اشعار بہم کر دیے گئے ہیں۔ دیوان اول والی غزل میں چودہ اشعار ہیں اور دیوان ششم والی میں تیرہ جب کہ فاروقی صاحب نے پانچ اور دو اشعار کو منتخب کیا ہے۔
۶(۸) …. فاروقی صاحب نے’’شعر شور انگیز‘‘ جلد سوم میں غزل نمبر۲۸۳ کے تحت جن غزلوں سے اشعار منتخب کیے ہیں وہ دویوان دوم کی ہیں۔ پہلی غزل پندرہ اور دوسری نو اشعار پر مشتمل ہے جبکہ فاروقی صاحب بالترتیب چاراشعار اور ایک شعر زیر بحث لائے ہیں۔ دونوں غزلیں مکمل صورت میںفراہم کر دی گئی ہیں۔
۶(۹) …. اس انتخاب میں غزل نمبر ۳۲۰ کے تحت رکھی گئی دونوں غزلیں دیوان اول سے لی گئی ہیں۔ ایک کے ۲۴ اشعار ہیں اور دوسری کے دس۔ ’’شعر شور انگیز‘‘ جلد سوم میں ان دونوں غزلوں سے (۴جمع ۱) پانچ اشعار پر بات کی گئی ہے۔
۶(۱۰) …. ’’شعر شور انگیز‘‘ جلدسوم میں غزل نمبر۳۵۰ کے تحت دیوان سوم کے بیس (دس جمع دس) اشعارپر مشتمل دو غزلے سے تین تین اشعار لیے گئے ہیں۔ دوغزلہ مکمل صورت میں انتخاب ہذا کا حصہ ہے۔
۶(۱۱) …. دیوان اول اور دیوان سوم کی گیارہ اور سات اشعار پر مشتمل غزلوں سے فاروقی صاحب نے چھ اشعار ’’شعر شور انگیز‘‘ جلدسوم میں غزل نمبر۳۶۴ کے تحت دیے ہیں۔ پہلی غزل سے پانچ اور دوسری سے صرف ایک۔ یہاں غزلیں اسی ایک نمبر کی ذیل میں پڑھی جا سکتی ہیں۔
۶(۱۲) …. ’’شعر شور انگیز‘‘ جلدچہارم میں غزل نمبر۳۸۹ کے تحت فاروقی صاحب نے جو چار اشعار دیے ہیں ان میں سے پہلے تین دیوان اول کی غزل سے جب کہ آخری والا شعر دیوان سوم کی ایک غزل سے لیے گئے ہیں۔ دونوں غزلیں نو نو اشعار پر مشتمل ہیں۔ انتخا ب ہذا میں دونوں غزلیں مکمل صورت میں فاروقی صاحب کے قائم کردہ غزل نمبر کے تحت پڑھی جا سکتی ہے۔
۶(۱۳) …. ’’شعر شور انگیز‘‘ جلدچہارم کی غزل نمبر۳۹۶ کے تحت محض تین اشعار ملتے ہیں جو دیوان اول کی ایک غزل سے لیے گئے ہیںجس کے کل اشعار پانچ ہیں۔ فاروقی صاحب نے اس غزل کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’ بظاہر یہ اشعار دوغزلوں کے ہیں، کیوں کہ مطلع میں قافیہ تر/پر ہے اور ردیف سے۔ (ممکن ہے مطلع ذوقافین ہو، کیوں کہ مژگان/طوفان بھی ہم قافیہ ہیں حالاں کہ مژگان اور تر کے درمیان اضافت ہے، لہٰذا اس صورت میں مژگان اور طوفان ہم قافیہ نہیں ہو سکتے۔ )مطلع کے بعد والے شعروں میں قافیہ انسان/کان وغیرہ اور ردیف پر ہے لہٰذا یہ دو مختلف غزلوں کے اشعار ہیں۔ لیکن تمام نسخوں میں یہ ایک ہی غزل کی صورت میں ملتے ہیں۔ ‘‘
۶(۱۴) …. اس انتخاب میں غزل نمبر۳۹۷ میں دیا گیا دوغزلہ دیوان اول سے لیا گیا ہے۔ فاروقی صاحب نے اس دوغزلے سے جو کہ چھ اشعار منتخب کیے اور شعر شور اانگیز کی جلد چہارم میں ان پر بات کی ہے۔ یہ دوغزلہ مکمل صورت میں اس انتخاب میں فراہم کیا جا رہا ہے۔
۶(۱۵) …. ’’شعر شور انگیز‘‘ جلدچہارم میں غزل نمبر۴۶۴ کے تحت فاروقی صاحب نے چھ اشعار پر مشتمل جو غزل دی ہے دہ دیوان چہارم اور دیوان پنجم کی دو غزلوں کے منتخب اشعار سے بنالی گئی ہے۔ سات اشعار پر مشتمل پہلی غزل سے چار اور پندرہ اشعار پر مشتمل دوسری غزل سے دو اشعار لیے گئے ہیں۔ دونوں غزلیں مکمل صورت میں انتخاب کا حصہ ہیں۔
۶(۱۶) …. اس ضمن کی آخری وضاحت یہ ہے کہ غزل نمبر ۴۶۷کے تحت بھی فاروقی صاحب نے دو مختلف دواوین سے دو مختلف غزلوں کے چار اشعار منتخب کیے ہیں۔ دیوان چہارم سے لی گئی سات اشعار پر مشتمل غزل سے تین اورپانچ اشعار والی دیوان پنجم سے منتخب غزل سے محض ایک شعر ’’شعر شور انگیز ‘‘جلد چہارم کا حصہ ہوا ہے۔ یہاں بھی دونوں غزلیں مکمل صورت میں انتخاب کا حصہ ہیں۔

مثنویات، شکارنامے، فردیات
مولوی عبدالسلام ندوی نے لکھا ہے کہ میر صاحب مثنویات کے موجد اور نمونہ تھے۔ ان کی بدولت مثنوی کی صنف کو ترقی ہوئی اور میر حسن اور شوق کو ان کا مقلد سمجھنا چاہیے۔ اس باب میں خواجہ احمد فاروقی نے اپنی کتاب میں بہت اہم بحث کی ہے اوراس خیال کو رد کیا ہے کہ میر حسن اور شوق میر صاحب کے مقلد تھے۔ خیر اس سب کے باوجود وہ تسلیم کرتے ہیں کہ میر صاحب نے جو عشقیہ مثنویاں لکھیںان کی زبان قدیم ضرور ہے مگر اس وقت اس سے بہتر زبان میں مثنوی لکھنا امکان سے باہر تھا۔ آگے بڑھنے سے پہلے میر صاحب کو مثنوی لکھنے سے کتنی رغبت تھی، نسخہ آسی کے آخر میں موجود مثنویات کے مطالعے سے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ایک نظر اس فہرست پر ڈال لیجیے۔ نسخہ آسی میں ستائش ’’گوں نا گوں‘‘ اور ’’ہجویات‘‘ کی ذیل میں مثنویات موجود ہیں اور الگ سے مثنویات کے عنوانات قائم کر کے بھی انھیں دے دیا گیا ہے۔ بنیادی نمبر انہی عنوانات کا ہے جب کہ قوسین کے اندر وہ ضمنی عنوانات بھی دے دیے گئے ہیں جو ہر مثنوی میں قائم کیے گئے تھے:
۱۔ ستائش ہائے گوں نا گوں
۱(۱) مثنوی در بیان کد خدائی نواب آصف الدولہ بہادر( بشمول غزل)
۱(۲) مثنوی در جشن ہولی وکتخدائی ( بشمول غزل، قطعہ در تعریف اسپ وزیرزماںآصف دوراں نواب آصف الدولہ بہادر)
۱(۳) مثنوی در بیان ہولی ( بشمول غزل، مثنوی دیگر[۱، ۲]، مثنوی دیگر)
۱( ۴) مثنوی در تعریف سگ و گربہ کہ در خانہ فقیربودندو باہم ربط داشتند
۱(۵) مثنوی در تعریف مادہ سگ( بشمول مرثیہ خروس کہ درخانہ فقیر بود)
۱(۶) مثنوی در بیان بز
۲۔ ہجویات
۲(۱) مثنوی در بیان مرغ بازاں
۲(۲) مثنوی در ہجو خانہ خود
۲(۳) مثنوی درہجو خانہ خود کہ بہ سبب شدت باراں خراب شدہ بود
۲(۴) مثنوی در مذمت برشکال کہ باراں دراں سال بسیار شدہ بود
۲(۵) مثنوی در ہجو نااہل مسمی بہ زباں زد عام
۳۔ مثنویات شکار نامہ
۳(۱) شکار نامہ اول( بشمول غزل [۱]، باز قدم رنجہ فرمودن آصف الدولہ بہادرروز دیگر برائے شکار، غزل[۲تا ۶)
۳(۲) شکار نامہ دوم(بشمول غزل[۱ تا ۹]، رباعی )
۴۔ مثنوی ساقی نامہ ( بشمول غزل، مقولہ شاعر)
۵۔ مثنویات جذبات عشق
۵(۱) مثنوی شعلہ عشق(آغاز قصہ اور آخر میں مقولہ شاعر)
۵(۲) مثنوی دریائے عشق(آغاز قصہ جاں گداز اور آخر میں مقولہ شاعر)
۵(۳) مثنوی عشقیہ ( بشمول حکایت)
۵(۴) مثنوی معاملات عشق(معاملہ اول تا معاملہ ہفتم)
۵(۵) مثنوی جوش عشق (در صفتِ دلبرے کہ بااوعلاقۂ دل بود، رخصت شدہ رفتن یار و بیتاب شدن عاشق بیقرار)
۵(۶) مثنوی اعجاز عشق(در توحید انشا طراز حسینے کہ فقرئہ یکتائیاو بعالم دویدہ، در نعت سید المرسلینؐ، مناجات بطور عاشقانِ زاردر بلائے جدائی گرفتار، در تعریف عشق خانماں آبادآزاد گاں بر نانہاد، زبانی درویش جگر ریشکہ ایں بلادر سر آمد، رفتن درویش پیش آں جوان رفتہ از خویش و دلدہی کردن او بیش از بیش، مقولہ شاعر )
۶۔ بعض سوانحات میر
۶(۱) مثنوی نسنگ نامہ
۶(۲) مثنوی خواب و خیال میر
۶(۳) مثنوی در مذمت دنیا
۶(۴) مثنوی مسمّٰی بہ تنبیہ الجہال (بشمول حکایت)
۶(۵) مثنوی اژدر نامہ
۶(۶) مثنوی در مذمت آئینہ دار
۶(۷) مثنوی در ہجو اکول
۶(۸) مثنوی دیگر در بیان کذب

یوں دیکھیں تو مثنویات کی تعداد پچیس سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ خواجہ الطاف حسین حالی کا کہنا ہے کہ’’ باوجودیکہ میر کی عمر غزل گوئی میں گزری مثنوی میں بھی بیان کے انتظام اور تسلسل کو انھوں نے ہاتھ سے جانے نہ دیا اور مطالب کو خوبی سے ادا کیا جیسا کہ ایک مشاق استاد اور ماہر کر سکتا ہے۔ ‘‘ یہی سبب ہے کہ ہر انتخاب کرنے والے کی طرح فاروقی صاحب کی نظر بھی اس طرف اٹھتی رہی ہے اور انھوں نے میر صاحب کی غزلیات کے ساتھ ساتھ اُن کی مثنویات، شکار ناموں وغیرہ کو بھی دیکھا اور یہاں بھی غزل کے جو اشعار ان کے اندر موجود’’شئے لطیف‘‘ کو بھائے ’’شعر شور انگیز ‘‘کا حصہ ہو گئے۔ یہ سلسلہ فاروقی صاحب کے ہاں پہلی جلد سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ پہلی جلد کے آخر میں غزل نمبر ۱۵۳ کے تحت جو اکیلا شعر ملتا ہے وہ ’’شکار نامہ دوم‘‘ سے لیا گیا ہے۔ زیر نظر انتخاب میں آپ یہ اکیلا شعر نہیں دیکھیں گے، اس پوری فضا کو بھی پا سکیں گے جس کے اندر رہ کر میرصاحب تخلیقی عمل سے گزرے تھے تاہم’’ فردیات‘‘ سے لیے گئے اشعار چوں کہ میر صاحب کے ہاں بھی مفرد ہی تخلیقی تجربہ ہوئے ہیں تو یہاں بھی مفرد ہی ملیں گے۔ فردیات بھی نسخہ آسی کے دیوان ششم میں غزلیات کے بعد الگ عنوان کے تحت موجود ہیں۔

میرصاحب اور زبان سازی کا عمل
کہنے کو کہہ لیا جاتا ہے کہ میر صاحب نے روزمرہ کی زبان کو شاعری بنا دیا مگر یہ بات اتنی سادہ اور سامنے کی نہیں ہے۔ میں جوں جوں میر صاحب کو پڑھتا گیا یہ بات مجھ پر کھلتی گئی کہ جس زبان کو میر صاحب اپنی شاعری میں روزمرہ کی سطح پر لاکر برت رہے تھے وہ قبل ازیں یوں ہماری زبان کا حصہ ہی نہ تھی یا کم از کم ہماری شعری لغت کا حصہ نہ ہوئی تھی۔ میرصاحب اسے کہاں سے اخذ کر رہے تھے اس کا مطالعہ بھی بہت اہم ہے۔ مثلاً دیکھیے میر صاحب کو ایک ایسی اصطلاح درکار تھی جس میں سب سامان ہتھیار وغیرہ کی موجودگی کو بہ سہولت بیان کیا جانا ممکن ہو، اس مقصد کے لیے وہ فارسی زبان کی طرف گئے اور ’’حاضر یراق‘‘ کو وہاں سے اخذ کرکے اپنے کلام کا حصہ بنا لیا۔
حاضر یراق ہونا کاہے کو چاہیے تھا
مجھ بے نوا کو کیا کیا سامان کرکے مارا
(دیوان سوم)

اسی طرح ایک اور غزل سے شعر ملاحظہ ہو، یہاں فارسی اصطلاح’’چشم بند ‘کو برتا گیا ہے۔ جامع اللغات کے مطابق چشم بند وہ منتر یا تعویز ہے جس سے لوگوں کی نظر کو باندھ لیا جاتا ہے۔ نظر باندھنے سے مراد ہے کہ سامنے جو ہوتا دیکھا جارہا ہوتا ہے فی الاصل وہ محض نظر کا دھوکا ہوتا ہے۔
گو چشم بندی شیخ کی ہو آخرت کے واسطے
لیکن نظر اعمیٰ نمط پردے میں دنیا پر بھی ہے
(دیوان سوم )

آپ نے دیکھا کہ یہاں فارسی اصطلاح کو عین مین لے لیا گیا ہے مگرآپ کو ایسے مقامات بہ کثرت ملیں گے کہ فارسی لفظیات کو اُردو زبان کا مزاج عطا کرکے برتا گیا ہے۔ میر صاحب کے مختلف دواوین سے اس باب کی مثالیں ذیل میں درج کیے دیتا ہوں:
’’جنوں کردن‘‘ سے’’ جنوں کرنا‘‘
میر اب بہار آئی صحرا میں چل جنوں کر
کوئی بھی فصل گل میں ناداں گھر رہے ہے
(دیوان اوّل )

’’بگرد سر رفتن‘‘ سے ’’سر کے گرد پھرنا یعنی خود کو نچھاور کرتے رہنا۔ ‘‘
لگا میں گرد سر پھرنے تو بولا
تمھارا میر صاحب سر پھرا ہے
(دیوان دوم )
’’تاقتل ہمراہ بودن‘‘ سے ’’تاقتل ساتھ‘‘
ہم نہیں ملتے وگرنہ یار ہے تاقتل ساتھ
لوہو پی جاوے ہمارا ہم کو اب جو پائے وہ
(دیوان سوم)
’’جنوں کردن‘‘ سے ’’جنوں کرنا‘‘
ہنگامے سے جہاں میں ہم نے جنوں کیا ہے
ہم جس طرف سے نکلے ساتھ ازدحام نکلا
(دیوان چہارم )
’’سفید شدن‘‘ سے ظاہر اور نمودار ہونے کے معنی میں’’سفید ہونا‘‘
دامن دیدئہ تر کی وسعت دیکھے ہی بن آوے گی
ابر سیاہ سفید جو ہو سو پانی ان کا بھرتا ہے
(دیوان پنجم )
’’تاخون ہمراہ و تا کشتن ہمراہ و تاقتل ہمراہ بودن‘‘ سے ’’خون تک ہمراہ ہونا‘‘
تری دوستی سے جو دشمن ہیں سب
انھوں کے بھی خوں تک میں ہمراہ ہوں
(دیوان ششم)

یہ سب مثالیں فارسی کی آگئیں تاہم وہ اس باب میں عربی سے بھی بھرپور استفادہ کر رہے تھے۔ ایک آدھ مثال اس کی بھی یہاں دے دیتا ہوں:
’’قاب قوسین ‘‘مطلب دوکمانوں کا فاصلہ یعنی بہت زیادہ قریب۔ اسے سورہ النجم سے لیا گیا ہے۔ میرصاحب کہتے ہیں:
کروں اس کی قربت کا کیا میں بیاں
کہ تھا قاب قوسین ادنیٰ مکاں
(اعجاز عشق)

میر صاحب جہاں دوسری زبانوں کے الفاظ اپنے کلام میں برت رہے تھے وہیں وہ اپنے آلے دوالے بولے جانے والے الفاظ اور محاورے بھی لے رہے تھے۔ مثلاً
’’جونٹھ ‘‘:جھوٹ کا عوامی لہجہ
جو پہنچے مری جونٹھ اسے بدخبر
تو کر بیٹھے سچ اپنے جی کا ضرر
(شعلہ عشق)

’’ تن بدن میں آگ لگنا‘‘: یہ محاورہ شدید غصے یا نفرت سے بدن میں اضطراب اور تنائو کے پیدا ہونے کے عمل کے لیے ہے اور عام طور پر یوں ہی مستعمل ہے مگر میر صاحب اس کے معانی میں یوں اضافہ کرتے ہیں۔
تن بدن میں دل کی گرمی نے لگا رکھی ہے آگ
عشق کی تو ہے جوانی ہو گیا گو پیر میں
(دیوان سوم)

’’تھلکنا‘‘ عام بول چال کا لفظ جس کے معنی ہیں تھر تھرانا یا مرتعش ہونا، یوں جیسے گوشت میں تھرتھراہٹ پیدا ہوتی ہے۔ اسے بالعموم ’’تھل تھل‘‘ کرنا بھی کہہ لیا جاتا ہے۔ دیکھیے میر صاحب اسے کیسے شعر میں برت رہے ہیں۔
ترے اس خاک اڑانے کی دھمک سے اے مری وحشت
کلیجہ ریگ صحرا کا بھی دس دس گز تھلکتا ہے
(دیوان اوّل )

’’ ستیلا‘‘ چیچک کو کہتے ہیں۔ یہ ایک دیوی کا نام ہے اور ہندوستان میںیہ خیال کیا جاتا رہا کہ چیچک اسی دیوی کے سبب ہے۔ ہر سال ایک دن اس کی پوجا کی جاتی ہے۔ یہ پوجا پاٹ تہوار کی شکل میں راجستھان میں باسوڑا کہلاتا ہے۔ میر صاحب ستیلا کو یوں استعمال میں لاتے ہیں۔
جب نہ تب پنڈے پر لپے پائے
ستیلا کے سے دانے مرجھائے
(درہجو خانہ خود)

’’کل جبھی‘‘ عام بول چال میں اس عورت کی بابت بولا جاتا ہے جو کوسنے دے اور اس کے کوسنے اثر کریں، کہہ لیجیے ایک لحاظ سے منحوس اورکالی زبان والی۔ جیبھ سے جبھی بنا ہے جو ’’بھ‘‘ کی تشدید کے ساتھ بولا جاتا ہے یہاں میر صاحب نے اسے تشدید کے بغیر برتا ہے۔
ہوا ہے میر سے روشن کہ کل جبھی ہے شمع
زبان ہلانے میں پروانے کو جلاتی ہے
(دیوان دوم )

یوں دیکھیں تو میر صاحب ایک ہی وقت میں زبان اور شاعری، دونوں کے تخلیقی عمل سے گزر رہے تھے۔ ان کے ہاں زبان سازی کا یہ عمل جس برتر تخلیقی سطح پر ہو رہا تھا اس نے اُردو زبان کو بھی مالا مال کر دیا تھا۔

فرہنگ میر
میر صاحب کے اس انتخاب کی تدوین کی راہ میں کئی مشکلات آئیں تاہم غزلیاتِ میر کے مسلسل مطالعے نے یہ غلط فہمی کلی طور پر دور کر دِی کہ وہ روزمرہ کے شاعر ہیں۔ یہ بجا کہ وہ بہت سے مقامات پرعام آدمی کا محاورہ برت جاتے ہیں جس کی سند خود میر صاحب کے بہ قول، جامع مسجد کی سیڑھیوں پر ملتی ہے لیکن یہ بھی تو ہوتا ہے کہ وہ فارسی اور عربی کے نادر اور ناموس الفاظ بہ کثرت اُردوشاعری کا حصہ بنا رہے ہوتے ہیں، یوں جیسے یہ اسی زبان کا حصہ تھے۔ دوسری زبانوں کے نامانوس الفاظ اور محاوروں کو اُردو میں ڈھال کر مانوس بنالینے کا ہنر میر صاحب کے ہاں ایسا ہے کہ بہ قول فاروقی صاحب، میر صاحب کے کلام میں کوئی لفظ یا فقرہ بے جگہ معلوم نہیں ہوتا۔ وہ زبان کا لہجہ بے تکلف اور رواں کر لیتے اور اس مقصد کے لیے احسن مارہروی کے مطابق وہ تین کام کرتے تھے؛ محاورہ بندی، روز مرہ کی پابندی اور فصاحت و بلاغت کے ساتھ الفاظ کی ڈھلت۔ یہ محض تین کام نہ تھے بلکہ ایسا تخلیقی اعجاز تھا جو صرف میر صاحب کا بخت ہوا تھا۔ اس سب کے باوجود یہ بھی ماننا ہوگا کہ وقت بہت کچھ بدل دیا کرتا ہے۔ زبان اس ’بہت کچھ‘ سے باہرپڑی ہوئی نہیں ہے۔ زبان بدلتی ہے، لہجہ بدلتا ہے تو الفاظ اور محاورات کی صورت بھی بدلتی رہتی ہے۔ کوئی سات دہائیاں پہلے مولوی عبدالباری آسی نے کہا تھا:

’’میر کے کلام میں بہت سے ایسے الفاظ مستعمل ہوئے ہیں جو اَب نہیں بولے جاتے نہ موجودہ لغات میں ملتے ہیں۔ ‘‘
یہی سبب رہا ہوگا کہ آسی نے’’ کلیات میر ‘‘ کو مرتب کرکے اس میں فرہنگ کو بہ طور ضمیمہ شامل کر دیا تھا۔ وقت کئی اور کروٹیں لے چکا ہے اور میر صاحب کی زبان کے باب میں ہماری نارسائیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اس انتخاب کی ترتیب کے ہر مرحلے میں فرہنگ کی اہمیت اور ضرورت کو محسوس کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں فاروقی صاحب کے یہاں؛ جب وہ میر صاحب کے منتخب اشعار کی تعبیر ’’شعر شور انگیز ‘‘ کی صورت کر رہے تھے۔ تب وہ مختلف غیر مانوس یا مشکل الفاظ کے وہ مفاہیم جوکسی شعر کے متن کے اندر سے نکلتے تھے اُس کے سامنے تجویز کرتے گئے۔ لگ بھگ یہی کام وہ شعر کی تعبیر والے حصے میں بھی کر رہے تھے۔ یوں مخصوص الفاظ کی ایک فرہنگ تیار ہوگئی، جو الگ سے نہ سہی، شعر شور انگیز کے صفحات میں بکھری ہوئی موجود ہے۔ دوسرے مرحلے کا قصہ یہ ہے کہ جب میں فاروقی صاحب اور متقدمین کے کام کی روشنی میں میرصاحب کی غزلیات کو مرتب کرچکا تو مجھے محسوس ہوا کہ اس میں فرہنگ میر کو بھی شامل کیا جانا بہت ضروری ہے۔ فاروقی صاحب نے چوں کہ یہ کام منتخب اشعار کی حد تک کیا تھا لہٰذا محض وہی کافی نہیں تھا۔ مجھے ایسی فرہنگ مرتب کرنا تھی جو بہت زیادہ ضخیم نہ ہو لیکن ان الفاظ پر ضرور مشتمل ہو جو نامانوس ہیں یا جن کی تفہیم ان بدلے ہوئے حالات میں مشکل ہو رہی ہے۔ اس باب میں میری مددکو کئی اہم لغات موجود تھیں، جیسے اُردو لغت بورڈ کی تاریخی اصول والی ’’اُردو لغت‘‘، نورالحسن نیر کی ’’نوراللغات‘‘، مولوی سید احمد دہلوی کی ’’فرہنگ آصفیہ‘‘، مولوی فیروزالدین کی ’’فیروزاللغات‘‘ وغیرہ کہ یہ سب میرے زیر استعمال رہتی ہیں تاہم میں نے اس باب میں پہلے سے ہو چکے کام کو دیکھا اور اس سے بہت کچھ اخذ کیا۔ اس باب کی وہ کتب جو میرے پیش نظر رہیں ان میںبابائے اُردو مولوی عبدالحق کا ’’انتخاب کلیات میر‘‘ شامل ہے جس کے آخر میں ایک مختصر سی فرہنگ موجود ہے۔ ڈاکٹر فرید احمد برکاتی کاکام بہت اہم ہے انھوں نے ’’فرہنگ کلیات میر‘‘ کے نام سے ساڑھے آٹھ سو صفحات پر مشتمل فرہنگ تیارکی اور ابتدا میر صاحب کی زبان کے حوالے سے بہت سی کام کی باتوں سے کی۔ عبدالرشید نے سراج الدین علی خان آرزو(۱۶۸۹ء۔ ۱۷۵۶ء) کی ’’چراغ ہدایت‘‘ کی روشنی میں جو’’ فرہنگ میر‘‘ مرتب کی ہے وہ یوں اہم ہے کہ آرزو فارسی کے بہت اہم لغت نویس اور شاعر تھے اور میر کے ہاں فارسی لفظیات کے باب کی مشکلات کے ضمن میں یہ فرہنگ بہت مددگار ہوتی ہے۔ شاہینہ تبسم کی مرتبہ ’’فرہنگ کلام میر:دیوان اوّل‘‘ بھی اس دوران میرے پاس رہی اور میں گاہے ریختہ کی سہ لسانی لغت کی طرف بھی جاتا رہا۔ یوں میں ایک ایسی فرہنگ مرتب کرنے کے قابل ہوا کہ جو بہت زیادہ ضخیم نہ ہو کر بھی ایسے نامانوس اور مشکل الفاظ پر مشتمل ہے جو کلام میر میں آکر ایک خاص فضا بناتے ہیں۔ اس فرہنگ کے مطالعہ سے میر صاحب کے مجموعی لسانی مزاج کو سمجھتے ہوئے اس خدائے سخن کے کلام میں ایک خاص عصر سے کشید ہوکر گندھ جانے والی شعری دانش اور جمالیات سے بہت کچھ اخذ کیا جاسکتا ہے۔

’’اِنتخاب غزلیاتِ میر‘‘ تک کے مراحل
فاروقی صاحب نے ’’شعر شور انگیز‘‘ میں ہر غزل سے منتخبہ اشعار کے اوپر ایک نمبر دیا ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کر آیا ہوں یہ ضروری نہیں ہے کہ کسی غزل نمبر کے تحت دیے گئے اشعار میرصاحب کی کسی ایک غزل سے لیے گئے ہوں۔ منتخب اشعار کو محض ایک غزل کی صورت میں دکھانے اور انھیں الگ سے غزل کی شناخت دینے کے لیے یہ غزل نمبر قائم کیے گئے تھے۔ یوں ’’شعر شور انگیز‘‘ کی چوتھی اور آخری جلد میں جو آخری غزل نمبرقائم ہوا وہ ۴۸۷ ہے۔ تفہیم میر کے باب میں ان ۴۸۷ غزلوں کی ذیل میں ہی فاروقی صاحب نے ۱۲۸۴ اشعار منتخب کرکے ان پر گراں قدربحث کی ہے۔ ’’ شعر شور انگیز‘‘ کی ہر جلد میں ان غزلیات اور منتخب اشعار کی تفصیل درج ذیل ہے:
شعر شور انگیز
غزل نمبر
کل جزوی غزلیں
اشعار نمبر
کل اشعار جن کی تفہیم کی گئی
جلد اول
۱ تا ۱۵۳
۱۵۳
۱ تا ۴۰۹
۴۰۹
جلد دوم
۱۵۴ تا ۲۴۷
۹۴
۴۱۰ تا ۶۹۰
۲۸۱
جلد سوم
۲۴۸ تا ۳۷۴
۱۲۷
۶۹۱ تا ۱۰۳۰
۳۴۰
جلد چہارم
۳۷۵ تا ۴۸۷
۱۱۳
۱ ۱۰۳ تا ۱۲۸۴
۲۵۴
میزان
مشمولہ غزلیں:۴۸۷
مشمولہ اشعار: ۱۲۸۴

واقعہ یہ ہے کہ ’’شعر شور انگیز‘‘ میں جن غزلیات سے فاروقی صاحب نے اشعار منتخب کیے ان کی تعداد ۴۸۷ نہیں بلکہ ۵۰۲ ہے۔ کہیں تو ایک غزل میں مختلف دواوین سے اشعار لیے گئے ہیں، کہیں ایک دیوان کی دو مختلف غزلوں سے اور کہیں دوغزلے سے۔ یہاں ہرغزل کی ایک الگ اور مکمل فن پارے کے طور گنتی کی گئی ہے۔ ان غزلیات میں مجموعی اشعار کی تعداد ۴۲۱۲ بنتی ہے جس کی تفصیل ذیل میں دی جارہی ہے:
انتخاب غزلیات میر
غزل نمبر
کل مکمل غزلیں
اشعار نمبر
کل مشمولہ اشعار
کتاب:۱
۱ تا ۱۵۳
۱۵۳
۱ تا ۱۲۷۲
۱۲۷۲
کتاب :۲
۱۵۴ تا ۲۴۷
۱۰۰
۱۲۷۳ تا ۲۰۵۵
۷۸۳
کتاب :۳
۲۴۸ تا ۳۷۴
۱۳۲
۲۰۵۶ تا ۳۲۰۵
۱۱۵۰
کتاب:۴
۳۷۵ تا ۴۸۷
۱۱۷
۳۲۰۶ تا ۴۲۱۲
۱۰۰۷
میزان
مشمولہ غزلیں:۵۰۲
مشمولہ اشعار: ۴۲۱۲

یوں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فاروقی صاحب نے میر صاحب کو پڑھتے ہوئے جن غزلیات کو ابتدائی طور پر نشان زد کیا ہوگا وہ ۴۲۱۲ اشعار پر مشتمل ۵۰۲ غزلیں ہیں۔ یہ انتخاب بھی میر صاحب کی انہی ۵۰۲ غزلیات پر مشتمل ہے۔ اور اس انتخاب میں ہر غزل اسی طرح مکمل صورت میں پیش کر دی گئی ہے جیسا کہ میر صاحب نے اپنے تخلیقی عمل کے مکمل ہونے پر اپنے قارئین کے لیے مرتب کر دی تھی۔

عسکری، فاروقی اور میر صاحب
ایک وقت آیا تھا کہ میں نے ’’انتخاب غزلیاتِ میر‘‘ کے لیے ’’ساقی‘‘ کراچی، شمارہ ستمبر ۱۹۸۵ء کے میر نمبر کو بنیاد بنانا چاہا تھا اور ارادہ تھا کہ فاروقی صاحب جہاں جہاں ’’شعر شور انگیز‘‘ میں عسکری صاحب سے مختلف ہوتے رہے ہیں اُسے نشان زد کر دِیا جائے۔ اس طرح اپنے عہد کے دو بڑے دماغوں نے جس طرح سوچا اس کا موازنہ بھی ہوتاجائے گا۔ ایسا شاید میں نے اس لیے سوچا تھا کہ دونوں جید شخصیات نے میر صاحب کی غزلیات منتخب کرنے کے بجائے اشعار کے انتخاب کو ترجیح دِی تھی۔ جب میں نے یہ موازنہ شروع کیا تو مجھے یوں لگا جیسے عسکری صاحب اور فاروقی صاحب کا شعری ذوق بہت مختلف رہا ہو گا کہ جن غزلوں پر عسکری صاحب کی نظر ٹھہر رہی تھی، فاروقی صاحب اُن پر ٹھہرے بغیر آگے گزر رہے تھے۔ اس باب کی کئی مثالیں ہیں مگر یہاں وہ شعر درج کر رہا ہوں جس نے عسکری صاحب کو سب سے پہلے گرفتار کیا تھا:

ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہر
اس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا

یہ دیوان اوّل کی غزل ہے۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ فاروقی صاحب کی نظر میں یہ غزل نہ رہی ہوگی مگروہ اس پوری غزل سے گزر گئے اوراس غزل کا کوئی اور شعر بھی روک نہیں پایا تھا۔ آغاز میں ایسا جب کئی بار ہوا ہے تو میں نے نتیجہ اخذ کیا کہ دونوں کے انتخاب میں بہت اختلاف ہو گا مگر جوں جوں میں آگے بڑھتا گیا یہ نتیجہ نادرست نکلاکہ اختلاف کم ہوتا گیاتھا۔ اور ایسا تکرار سے ہونے لگاتھا کہ عسکری صاحب اور فاروقی صاحب دونوں میر صاحب کی ایک ہی غزل پر رُکے تھے اور بہت سے مقامات پر اشعار کی پسند بھی ایک سی تھی۔ تاہم ایسا بھی ہوا کہ عسکری صاحب نے کسی غزل کا ایک شعر اپنے انتخاب کا حصہ بنایا اور فاروقی صاحب نے دوسرا۔ گویا آپ کہہ سکتے ہیں کہ اپنے عہد کے دو بڑے اذہان بالعموم ایک طرح سے سوچ رہے تھے۔ لگ بھگ ایسا ہی معاملہ میر صاحب کے کلام کا ماقبل انتخاب کرنے والوں کارہا ہے۔ چوں کہ غزلیاتِ میر کا اِنتخاب کرنے جا رہا تھا اور ایسی غزلیات کے اشعار بڑی تعداد میں’’ شعر شور انگیز‘‘ کا حصہ ہوئے تھے، جن سے عسکری صاحب بھی اشعار منتخب کرچکے تھے اور میر صاحب کی غزل کا رنگ و آہنگ پوری طرح نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے، اس لیے مناسب یہی سمجھا گیا کہ دونوں میں سے ایک کو بنیادی مآخذ بنایا جائے۔ فاروقی صاحب کے پیش نظر چوں کہ عسکری صاحب کا انتخاب بھی رہا تھا اور عسکری صاحب کی پسند بھی اُن کے کام کا حصہ ہوتی گئی تھی اس لیے ’’انتخاب غزلیات میر‘‘ میں بنیادی حوالے ’’شعر شور انگیز‘‘ ہی کے ملیں گے۔

مجھے خوشی ہے کہ میری لگن اور جستجو نے میرا ساتھ دِیا اور یاسمین حمید کے علاوہ میرے بچوں نے گھر میں ایسی فضا بنا دِی کہ میں یہ انتہائی اہم اور بڑا کام کر پانے کے قابل ہوا۔ اس سارے عرصے میں کہ جب میں میر صاحب پر کام کر رہا تھا تویوں لگتا تھاجیسے گھر کا ہر فرد میر صاحب کی خدمت پر مامورتھا۔ میری مصورہ بہو سمیعہ میر کا پورٹریٹ اور دوسری تصاویر بنا رہی تھیں، بیٹی وشا گندھے کاغذ سے وصلی بنانے میں اُن کی مدد کر رہی تھیں، بیٹا سعد رنگ و برش کا اہتمام کر رہے تھے اور میری نصف بہتر یاسمین حسب ضرورت میرے کتب خانے سے کتابیں میرے پاس ڈھیر کر رہی تھیں لہٰذا اِن سب کا میں دِل کی گہرائیوں سے شکرگزار ہوں۔

اور ہاں یہ جو میں نے اپنے کام کو اہم اور بڑا کام کہہ دیا ہے، تو یہ اس لیے نہیں کہ اس کاہونا اس ناچیز کا مقدر ہوا بلکہ اس لیے کہ اس کام کی نسبت خدائے سخن میر تقی میر سے ہے۔ وہ میر جنھیں آج بھی پڑھتے ہوئے، فراق کے لفظوں میں یوں لگتا ہے جیسے میر نہیں بول رہے، ہماری انسانیت اور ہماری فطرت بول رہی ہے۔ اب یہ انتخاب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ میر صاحب کی غزلیات ہوں اوراپنے عہد کے عالی دماغوں کی رہنمائی؛ کہہ لیجیے سونے پر سہاگہ ہوا۔ مجھے یقین ہے کہ انیسویں صدی کے شروع میں رخصت ہونے والے میر صاحب پر آنے والے وقت میں تفہیم کا نیادروازہ کھلے گا اور اس کا ذریعہ اُن کی وہ منتخب غزلیات بنیں گی جنھیں اِس ایک جلد میں جمع کر دیا گیا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply