سراج منیر: مسلم تہذیب کا رمز شناس —- ابرار حسین

0

سراج منیر (1951-1990) بلاشک و شبہ اسم بامسمی تھے۔ جیسا ان کا نام تھا انہوں نے ویسا روشن کام کیا۔ وہ مفتی محمد متین ہاشمی صاحب رحمہ اللہ کے گھر کے چشم و چراغ تھے۔ سراج منیر بے پناہ خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے اور مفتی صاحب کی تربیت اس پر مستزاد تھی۔ اللہ کریم نے سراج منیر کو کارخانہ ازل سے جن ظاہری اور معنوی خوبیوں سے حظ وافر عطا فرمایا تھا وہ ان میں فرد تھے۔ انہوں نے بہت تھوڑی عمر پائی مگر مختصر عرصہ حیات میں لوح جہاں پر نقش دوام ثبت کرگئے۔ سراج منیر بنیادی طور پر ادب، ادبی تنقید اور تہذیب کے میدان کے شہسوار تھے۔ ان کی ادبی تربیت محمد حسن عسکری کے علاوہ خاص طور پر سید سلیم احمد کے رہین منت ہے۔ تہذیبی مباحث میں شاید وہ علامہ محمد اقبال سے سب سے بڑھ کر متاثر تھے۔ سراج منیر نے مسلم تہذیب پر جتنے زاویوں سے کلام کیا ہے اور اس کے جن امتیازات کو دریافت کیا ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔ ان کے معاصرین میں اس کی دوسری کوئی مثال نہیں ملتی۔ وہ تخلیق مقاصد کی بے مثل قابلیت اپنے اندررکھتے تھے۔ مسلم تہذیب کی منفرد ترکیب، زمانہ حال میں اس کو درپیش مسائل اور مستقبل کے امکانات کا جیسا فہم انہیں حاصل تھا اس کی مثالیں ہماری جدید تاریخ میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہیں۔ میری رائےمیں وہ علامہ محمد اقبال کے بعد برصغیر میں مسلم تہذیب کے غیر معمولی اور سب سے بڑے شارح ہیں۔

سراج منیر کے کارنامے کو سمجھنے کے لیئے ضروری ہے کہ پہلے ان کے کام کا اصولی تناظر واضح کیا جائے۔ سراج منیر مابعد استعمار دور کے ایسے فرد ہیں جو ساری عمر استعماری جدیدیت سے لڑتے رہے۔ انہوں نے تمام عمر تہذیبی اعتبار سے ہمارے چاک گریباں کی دھجیاں رفو کرتے گزاری۔ گزارش ہے کہ جدیدیت نے یورپ کی عیسوی تہذیب کی وحدت اور اکائی کو توڑ کر منتشر کردیا۔ یورپ میں جدیدیت کے پیدا کردہ اس انتشار کے نتائج وہاں کی تہذیبی زندگی میں ہر سطح پر نمایاں ہیں۔ یورپ کی اجتماعی زندگی جن تضادات میں گھری ہوئی ہے ان کی جڑیں اسی انتشار میں پیوست ہیں۔ سافل کبھی بھی عالی کا مقوم نہیں بن سکتا۔ یہ اصول ہے۔ مادہ خود سے برتر مدارج حقیقت اور مراتب وجود کا معرف بننے کا کوئی امکان نہیں رکھتا۔ جدیدیت حقیقت اور وجود کے مراتب کا انکار ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ادنی اعلی پر حاکم ہے اور مادہ روح پر مقدم ہوگیا ہے۔ ایسی صورت حال میں انسانی سرگرمی بھی ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے اور ہر ایک جز کل سے بے نیاز مستقل حیثیت اختیار کرلیتا ہے۔ وجود کی حقیقت غارت ہوجاتی ہے اور شعور بے ربط ہوکر لایعنیت کے تیزاب میں غوطے کھانے لگتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لایعنیت ہی تاحال مغرب کی فکر و تہذیب کا آخری پڑاؤ ہے۔

اس فکری اور تہذیبی پس منظر کے ساتھ جدید مغرب نوآبادیاتی دور میں مسلم دنیا پر حملہ آور ہوا۔ مغرب کا یہ حملہ مسلم تہذیبی تصورات و مقاصد پر ایسی کاری ضرب ثابت ہوا جس نے مسلمانوں کے سیاسی اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیب پر بھی ان کا اعتماد توڑ کر رکھ دیا۔ مغرب کے غلبے کے نتیجے میں مسلم دنیا جس جبری تاریخی صورت حال سے دوچار ہوئی اس میں ہماری ملی بقا اور تہذیبی آدرشوں کے مابین باہم تضاد کی نسبت پیدا ہوگئی۔ ہر تہذیب کا داخلی ربط اور اس کی خارجی نمو اس تہذیب کے مرکز میں موجود تصور کائنات سے مشروط ہوتی ہے۔ تہذیب اگر اپنے مرکز سے محروم یا منقطع ہوجائے تو اس کے تمام مظاہر انتشار کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دور استعمار میں مسلم تہذیب کے ساتھ یہی حادثہ ہوا۔ مسلم ذہن تہذیبی خلفشار کا شکار ہوگیا۔ مسلم تہذیب کے بنیادی تشکیلی تصورات اور اس کے متنوع مظاہر کے مابین تعلق کے باب میں کوتاہ نظری، قدیم و جدید کا تنازعہ، جدید مسلم تہذیبی مظاہر کے تشکیلی عناصر اور مسلم تہذیب کے مستقبل جیسے کئی اہم اور سنگین سوالات نے مسلم مفکرین کے ذہن کو شل کرکے رکھ دیا۔ جدید مغرب کے ساتھ مسلم تہذیبی تعامل، مسلم شعور کے لیئےجدید مغرب کی معنویت کا تعین اور لمحہ بہ لمحہ متغیر ہوتی ہوئی جدید انسانی صورت حال میں معانی اور اقدار کا استقلال وہ غیر معمولی مسائل تھے مسلم ذہن جن سے نبرد آزما ہونے میں ناکامی سے دوچار تھا۔

دور جدید برصغیر بلکہ پوری مسلم دنیا میں علامہ محمد اقبال وہ پہلے آدمی ہیں جنہوں اعتماد اور کامیابی کے ساتھ ان سوالوں کا سامنا کیا۔ علامہ محمد اقبال ان حوالوں سے جو کچھ کہا ہے وہ نہ صرف مسلم ذہن کے تہذیبی اعتماد کو بحال کردیتا ہے بلکہ تاریخ میں ملت اسلامیہ کی بقاء کے لیئے درکار لازمی فکری، اخلاقی، جمالیاتی اور نفسیاتی اسباب بھی فراہم کردیتا ہے۔ جدیدیت کے جواب میں علامہ محمد اقبال کی پوزیشن کو مابعد جدید سلبی رد عمل کے تقابل میں رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ علامہ محمد اقبال کی پوزیشن سے نہ تو عقل کی نظریاتی قوت کا انکار لازم آتا ہے اور نہ ہی ایمان کی سلامتی خطرے میں پڑتی ہے۔ جدیدیت ایمان کا انکار ہے جبکہ مابعد جدیدیت عقل کی موت کا اعلان ہے۔ خیر سردست یہ مبحث ہمارے موضوع سے خارج ہے اس لیئے اس سے متعلقہ تفصیلات کو کسی اور وقت کے لیئے اٹھا رکھتے ہیں۔ سراج منیرعلامہ محمد اقبال کی فکر کے تسلسل میں برصغیر کے تہذیبی منظرنامے پر ابھرتے ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے میں یہاں ضمنا یہ بھی عرض کروں سراج منیر عسکری سکول کے تربیت یافتہ تھےاور اسی وجہ سے(زندگی کے آخری برسوں کے علاوہ) مکتب روایت کے زیر اثر رہے۔ لیکن حیران کن طور پر سراج منیر ہمیں تہذیب کے مسئلے پر محمد حسن عسکری اور مکتب روایت کے نمائندگان کی طرح بند گلی کی طرف نہیں دھکیلتے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی پس و پیش نہیں ہے کہ سراج منیر صاحب کی اصل قوت علامہ محمد اقبال ہی ہیں۔ سراج منیر یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ علامہ محمد اقبال دور جدید میں مسلم تہذیب کا نفس ناطقہ ہیں۔ انہیں علامہ محمد اقبال سے والہانہ عقیدت ہے۔ یہی وجہ ہےکہ مکتب روایت سے اثرپذیری کے باوجود اس کے دیگر متاثرین کے برعکس وہ کسی بڑے دینی ضرر اور فکری خرابی سے محفوظ رہے۔

جس طرح انسان کی شناخت عقیدے/نظریئے سے ہوتی ہے بالکل ایسے ہی ایک تہذیب کا امتیاز اس تصور کائنات سے قائم ہوتا ہے جو اس کے مرکز میں فعال ہوتا ہے۔ سراج منیر نے اس روایتی اصول کو تہذیب کے مباحث میں جگہ جگہ برتا ہے کہ ہر ادنی درجہ وجود خود سے برتر درجہ وجود سے معنی اخذ کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے شے اپنا معرف خود نہیں بن سکتی وگرنہ اخذوالمحدود فی الحد اور توقف الشی علی الشی جیسی خرابیاں لازم آتی ہیں جوکہ عقلا باطل اور محال ہیں۔ اسی طرح ہر مرتبہ وجود اپنے لیئے خود ہی معیار قرار نہیں پاسکتا۔ جدید مغرب مراتب حقیقت کا انکار کرکے مطلق اضافیت پرستی کا شکار ہوگیا ہے جس کا منطقی نتیجہ لایعنیت اور افادیت پرستی ہے۔ ہمارا شعور حقیقت استعماری جدیدیت کے زیر اثر مجروح ہواہے۔ چنانچہ اس کے زیر اثر اصول و قواعد غیر متعلق ہوگئے اور تیزی سے ان کی جگہ موضوعیت محضہ نے لینا شروع کردی۔ سراج منیر نے تہذیب کو اس کے اصول حقیقت سے متعلق رکھ کر اس کی تفہیم کی ہے۔ سراج منیر نے جو کچھ بھی لکھا ہے اس میں نہ تو کسی طرح کا خلفشار ہے اور نہ انتشار۔ ان کے تمام فکری اور تخلیقی کاموں میں اول تا آخر ایک نامیاتی وحدت کارفرما ہے۔

سراج منیر نے جتنے ہمہ گیر انداز سے مسلم تہذیب پر کلام کیا ہے اس کی تفصیلات کا اس مختصر مضمون میں احصاء کرنا تو ممکن نہیں ہے۔ می اس مضمون میں سراج منیر کے ہاں مسلم تہذیبی مباحث کے چند ایک بنیادی پہلووں تک بحث کو محدود رکھوں گا۔ دوررسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور زمانہ خلافت راشدہ کا مابعد ادوار کے ساتھ تاریخ اور تہذیبی سطح پر ربط کا مسئلہ بہت ہی اہم ہے۔ سراج منیر نے اس مسئلہ کو قابل فخر بصیرت کے ساتھ حل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہیں یہ ادوار گویا ورائے تاریخ و تہذیب ہیں۔ ان ادوار میں مسلم تاریخ و تہذیب کے اصول طے ہوئے ہیں۔ جنگ و امن، اتحاد و اختلاف اور صلح و جدال کے ممکنہ تمام نظائر ان ادوار میں متعین ہوگئے ہیں۔ یہ ادوار مابعد کے زمانوں کے لیئے حکم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ بیان ہمارے بعض روایتی ماخذوں میں موجود ہے لیکن سراج منیر اس کی اطلاقی جہات کو جس قدر وضاحت کے ساتھ سامنے لائے ہیں وہ ان سے پہلے شاید کہیں نہ دکھایا جاسکے۔

مسلم تہذیب اصول کی سطح پر متحدالاصل جبکہ مظاہر کے مرتبے میں تنوع کی حامل ہے۔ عرب اسلامی تہذیب، ایرانی اسلامی تہذیب، افریقی اسلامی تہذیب، ہند اسلامی تہذیب، ہسپانوی اسلامی تہذیب اور مشرق بعید کے مسلم تہذیبی مظاہر سب کے سب اسلامی تہذیب ہی کے متنوع دائرے ہیں۔ یہ بحث تفصیل کے ساتھ دیکھنی ہو تو ڈاکٹر تحسین فراقی کے ساتھ سراج منیر صاحب کا انٹرویو دیکھنا چاہیئے جو ان کی کتاب ‘ملت اسلامیہ تہذیب و تقدیر’ کے آخر میں چھپ چکا ہے۔ دور جدید میں مغربی استعمار کے ہاتھوں شکست کھانے کی وجہ سے برصغیر میں تہذیبی عمل تطہیر کی بحث پیدا ہوئی۔ برصغیر کی مسلم تہذیب پر عجمی اثرات کی دھائی دی گئی اور کہا گیا کہ ان اثرات کا خاتمہ کیئے مسلم تہذیبی احیاء کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہاں دراصل دوچیزوں کے درمیان خلط مبحث پیدا کردیا گیا ہے یعنی تہذیب کی حقیقت اور صورت کے درمیان۔ سراج منیر نے اس مسئلے کو اس طرح حل کیا کہ مسلم تہذیب ازروئے حقیقت متحد اور صورت کی سطح پر متنوع ہے۔ یہ تنوع اس کے مختلف مسلم تہذیبی مظاہر میں ظاہر ہوا ہے۔ یہ وحدت فی الکثرت کی کارفرمائی ہے۔ تہذیب کی صورت میں تنوع بالکل جائز ہے اور انسانوں کے فطری امتیازات مثلا نسل، زبان اور نفسیات وغیرہ کے اختلافات کو اصولی تناظر میں جذب کرنے کا واحد اسلوب ہے۔

سراج منیر کے سامنےایک بہت بنیادی سوال مسلم تہذیب کے مستقبل کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر تہذیب ایک ارضی و تاریخی مظہر ہوتا ہے۔ ان عوارضات کی بناء پر اس کا زوال یافتہ ہوجانا لازمی ہے۔ لہذا مسلم تہذیبی مظاہر کا زوال پذیر ہونا بھی اسی اصول کے تحت ہے۔ لیکن مسلم تہذیب کا خاصہ یہ ہے کہ اس کے مرکز میں قائم اصول متغیر صورت حال میں صورتیں بدل کر ظہور کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم تہذیب مراکز بدلتی رہی ہے۔ ایک مسلم تہذیبی مظہر کے زوال پذیر ہوجانے کا مطلب مسلم تہذیب کی روح کا فنا ہوجانا نہیں ہے۔ دور جدید میں جو تغیرات واقع ہوئے ہیں اور مسلم تہذیبی مظاہر پر ان کے منفی اثرات پڑے ہیں ان کے مقابل نئے مسلم تہذیبی مظاہر ظہور کریں گے۔ سراج منیر کی رائے ہے کہ تاریخی قوتیں آہستہ آہستہ ارض اسلام کی طرف سفر کررہی ہیں۔ اسلام نے جس طرح قرون وسطی میں یورپ کی عیسوی تہذیب کے اصول حرکت کو بدل کر اس کی قلب ماہیت کردی تھی مستقبل میں بھی یہ عمل دھرایا جائے گا۔ سراج منیر کا خیال ہے کہ قرون وسطی میں ہسپانوی مسلم تہذیب نے یہ کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ ہسپانیہ میں مسلم تہذیب عیسوی تہذیب کے کنارے پر متمکن ہوئی اور عیسوی تہذیب کے قلب پر حملہ کرکے اس کی سمت سفر اوراصول حرکت کو تبدیل کردیا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دیگر تمام مسلم تہذیبی مظاہر کے مقابلے میں ہسپانوی مسلم تہذیب میں ارضیت (materiality) سب سے زیادہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جونہی اس کے مقاصد پورے ہوئے تو یہ ہمیشہ کے لیئے مٹ گئی۔ مستقبل میں بھی قدرت الہیہ کے تحت اس کا پورا امکان موجود ہے کہ جدید مغربی تہذیب بھی ایسے ہی عمل تقلیب سے گزرے۔ سراج منیر صاحب نے تو ویسے یہاں تک لکھا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب یورپ پکے ہوئے پھل کی طرح اسلام کی گود میں آگرےگا۔

ہمارے آج کے مسلم دانشوروں کو سراج منیر کے اس بیان کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ معلوم ہے کہ ہمارے ہاں بہت ہی پیچیدہ تہذیبی مسائل پر مدرسانہ قسم کے تجزیوں کا چلن عام ہوتا جارہا ہے۔ یہ تجزیئے کرنے والے حضرات عام طور پر محض کسی ایک عرصہ تاریخ میں مقید ہوکر اس کے تجزیئے کے نتائج کو عموم پر وارد کرتے ہیں۔ ایسے تجزیوں سے قنوطیت پرستی پروان چڑھتی ہے اور بے بسی کا احساس بڑھتا ہے۔ یہ تجزیئے کرنے والے حضرات اجتماعی مسلم شعور اور ارادے کو کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں ہوتے۔ انہیں ہر خیال اور ہر عمل کے خلاف مزاحم ہوکر لگتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی کوئی خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ اس پر غور کرنا چاہیئے کہ خیال کے مرتبے میں صورتوں کا مرتب ہونا اور عمل کے میدان میں افکار کا متشکل ہونا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ میرا ایک تاثر یہ بھی ہے کہ ان حضرات کے ہاں نامطلوب حساسیت پائی جاتی ہے جو محض صورت پرستی پر بے جا اصرار سے پیدا ہوئی ہے۔ اس حساسیت نے انہیں ایک کمال پرستی کاشکار کردیا جو دینی اعتبار سے بھی مضر ہے۔ جیسے جیسے ہم تاریخ کے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں انسانوں کے روحانی قوی مضمحل ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بات کو مد نظر رکھے بغیر کوئی بھی تجزیہ یا نظریہ سازی حاصل کے ضیاع کا یقینی بندوبست ہے۔ ان کا ایک اور مسئلہ یہ ہے استعمار زدہ تہذیبوں پر ان کے تصورات و احساسات کا ماخذ مابعد نوآبادیات تھیوری ہے۔ مابعد نوآبادیات تھیوری بجائے خود ایک طرفہ تماشا ہے۔ مابعد نوآبادیات تھیوری استعمارزدوں سے یہ منوانے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے کہ استعماری احوال تمھارے شعور کی تقدیر ہیں۔ میں سمجھتا ہوں مابعد نوآبادیات تھیوری دوہرے طریقے سے استعمار زدہ ہے۔ ذاتی طور پر مجھے سب سے مابعد نوآبادیات تھیورسٹوں کی انسان فہمی پر شبہ ہے۔ علاوہ ازیں ان کا ایک سنگین مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کے ہاں تاریخ کو دیکھنے اور تجزیہ کرنے کااسلوب بنیادی طور پر مغربی ہے۔ ہمارے معاصر دانشوروں کو یہ شکوہ بھی رہتا ہے کہ دور جدید میں ہم علوم کی تشکیل کرنے میں ناکام ہیں۔ گزارش ہے کہ علوم خلا میں پیدا نہیں ہوتے۔ علوم دراصل فتوحات کا تکملہ ہیں اور ملی ضرورتوں کے تحت پیدا ہوتے ہیں جن کا تعین مقاصد سے ہوتا ہے۔ یہ وقت تخلیق مقاصد کا ہے نہ کہ موہوم اور غیر حقیقی کمالات کے عدم حصول کی دہائی دینے کا۔ خیر بات کچھ لمبی ہوگئی ہے تاہم اتنی وضاحت ضروری تھی۔ سراج منیر صاحب اس اعتبار سے بہت کارآمد ہیں کہ ان سے مسلم تہذیب کے رجحانات اور رویے کو سمجھنے میں بہت مدد لی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں" سراج منیر ایک یاد: زخمِ دل مبادا بِہ شود ------ عزیز ابن الحسن

 

مجھے جس حد تک سراج منیر کو پڑھنے کا موقع ملا ہے اس کی بنیاد پر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان کےاکثر بڑے بڑے تہذیبی تصورات علامہ محمد اقبال سے ماخوذ ہیں جن کے اجمال کو انہوں نے تفصیل دی ہے۔ مثلا سراج منیر کا یہ کہنا کہ مسلم تہذیب مراکز بدلتی ہے اور نئے توازن کے ساتھ ظہور کرنے کی قوت رکھتی ہے واضح طور پر علامہ محمد اقبال سے ماخوذ ہے۔ علامہ محمد اقبال کا ایک شعر ہے،

کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد
مری نظر نہیں سوئے کوفہ و بغداد

سراج منیر نے غالبا مسلم تہذیبی مراکز کی تبدیلی کا نکتہ یہیں سے اخذ کیا ہے۔ سراج منیر اس کے قائل ہیں کہ مسلم تہذیب مظاہر کی سطح پر کثرت کی حامل ہے اور متغیر ہے جبکہ اس کا باطن وحدت اساس اور تغیر سے بے نیاز ہے۔ علامہ محمد اقبال نے جاوید نامہ میں جمال الدین افغانی سے جہان قرآن کی حقیقت بیان کرواتے ہوئے کہا ہے،

باطن اواز تغیر بےغمے
ظاہراو انقلابے ہر دمے

علاوہ ازیں سراج منیر مسلم تہذیب کے مستقبل کی طرف جو رویہ رکھتے ہیں وہ بھی علامہ محمد اقبال ہی کے زیر اثر ہے۔ زیادہ نہیں تو کم ازکم جواب شکوہ کے آخری آٹھ دس بند، طلوع اسلام، مسجد قرطبہ اور ابلیس کی مجلس شوری جیسی نظمیں دیکھ لی تو ہماری بات کا کافی ثبوت فراہم ہوسکتا ہے۔ میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ سراج منیر صاحب کی اصل قوت علامہ محمد اقبال ہی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سراج منیرغیر معمولی علمی وسعت کے حامل آدمی تھے۔ اسلام کے علاوہ مشرق و مغرب کے تہذیبی تصورات پر ان کی بے پناہ گہری نظر تھی۔ انہوں نے تمام دستیاب ماخذوں سے استفادہ بھی کیا ہے۔ وہ بہت سہولت کے ساتھ ان تصورات کو اپنے ذہنی تناظر کے مطابق برتنے پر قدرت رکھتے تھے۔ کسی بھی تصور کی تہہ تک اترنا سراج منیر جیسے رسا ذہن کے آدمی کے لیئے بے حد آسان تھا۔ سپنگلر، ٹوائن بی اور پروفیسر ہٹی وغیرہ پر سراج منیر نے بعض جگہوں پر جیسی گرفت کی ہے وہ ان کے عبقری ہونے کی کافی شہادت ہے۔ تاہم سراج منیر کے تہذیبی تصورات کی تشکیل میں علامہ محمد اقبال کے افکار و تخیلات کا کردار سب سے زیادہ ہے۔

سراج منیر صاحب نے جو ادبی تنقیدیں لکھی ہیں وہ کیفیت کے اعتبار سے کم ازکم اردو کی حد تک بے مثل ہیں۔ مجھ سے اگر سوال کیا جائے کہ اردو تنقید میں سب سے بہترین تنقیدی مضمون کونسا ہے۔ میں اس سوال کے جواب میں کہوں گا کہ قرہ العین حیدر پر سراج منیر صاحب کا لکھا ہوا مضمون اردو تنقید کا سب سے بہترین مضمون ہے۔ اس کے بعد اردو تنقید کبھی بھی اس سطح کو نہیں چھو سکی۔ یہ مضمون پڑھ کر پتا چلتا ہے کہ ایک عبقری کا ذہن کیسے کام کرتا ہے۔ وسعت مطالعہ، گہرائی فکر، ندرت خیال، قدرت بیان، تخلیقی وفور، تنقیدی بصیرت، مختلف النوع علوم کو برتنے کی حیران کن صلاحیت اور جانے کیا کیا اوصاف ہیں جو اس نابغہ روزگار شخص نے اس مضمون میں پیدا کردیئے ہیں۔ سراج منیر ادب کو تہذیبی کلیت میں دیکھنے کے قائل ہیں اور اسے انسانی صورت حال پر سب سے بڑا گواہ مانتے ہیں۔ معلوم ہے کہ دور استعمار میں ہم نے مغرب کے تنقیدی معیارات کااناڑی پن کے ساتھ اپنی ادبی روایت پر اطلاق کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف ہماری تخلیقی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی بلکہ ہمیں اپنا دفتر شعر ناپاک لگنے لگا۔ اس کے بعدپیروی مغرب میں جیسی ‘پاکیزہ’ شاعری تخلیق کرنے کا ہم نے آغاز کیا وہ فرد اور تہذیب کے تخلیقی اور جمالیاتی مطالبات کلی انکار ہے۔ سراج منیر ادب و فن کو حق کے تناظر میں اوضاع جمال کی تخلیق سمجھتے ہیں۔ شعور جمال اگر حق سے وابستہ نہ رہے تو ایسی ہوس پرستی جنم لیتی ہے جو بدصورتی کی پست ترین قسم ہے۔

سراج منیر نے مسلم تہذیب کے اصول و مظاہر پر جس بالغ النظری سے کلام کیا ہے معاصر صورت حال میں اس کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تب جو حادثے پردہ افلاک میں تھے وہ سراج منیر کے آئینہ ادراک میں منعکس تھے۔ مسلم تہذیب و تاریخ اس وقت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ امریکی استعمار کے پاوں اکھڑ رہے ہیں۔ ملت اسلامیہ کے احیاء کی آرزو زندہ ہورہی ہے۔ پچھلے سات آٹھ دہائیوں میں ہم نے آسمان کے کئی رنگ دیکھے ہیں اور ملت اسلامیہ کا قافلہ بے یقینی کی ہلاکت میں مبتلا رہا ہے۔ ہمارے اہل علم دانش کو ضرورت ہے کہ علامہ محمد اقبال اور سراج منیر کے چراغ بصیرت کی روشنی دلوں میں جذب کریں اور ملت اسلامیہ کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیں تاکہ ملت اسلامیہ کا قافلہ اعتماد کے ساتھ منزل مراد کی جانب گامزن ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں: سراج منیر: ایک یادگار انٹرویو ۔۔ـــــــ۔۔ ڈاکٹر طاہر مسعود (حصہ اول)
(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply