نام نہاد ڈیورنڈ لائن: جمعہ خان صوفی کی کتاب —– راجہ قاسم محمود

0

جمعہ خان صوفی پاکستانی پختون سیاست دان ہیں۔ جو سیاست سے تو شاید ریٹائر ہو چکے ہیں مگر پاکستان کی سیاست بالخصوص افغان امور کے بارے میں بہت سے رازوں سے انہوں نے “فریب ناتمام” نامی کتاب لکھ کر پردہ اٹھایا ہے۔ “نام نہاد ڈیورنڈ لائن” جمعہ خان صوفی کی دوسری کتاب ہے۔ جس میں ڈیورنڈ لائن کے بارے میں تاریخی اور بنیادی معلومات ملتی ہیں۔

یہ کتاب پہلے پشتو میں لکھی گئی تھی۔ کتاب کا مقصد پاکستان کے خلاف افغانستان کے یکطرفہ پروپیگنڈے کا جائزہ لینا ہے۔ اس منفی پروپیگنڈہ کی وجہ سے پشتو میڈیا خواہ وہ پاکستان کا کیوں نہ ہو متاثر ہوا ہے۔ صوفی نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک میں پائدار دوستی قائم ہو مگر یہ اس وقت ہی ممکن ہے جب دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری اور سرحدوں کا احترام کریں گے۔

صوفی نے اس کتاب میں بھی اپنے بارے میں بتایا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان دونوں جانب کے قوم پرست پشتون سیاست دانوں کے ڈسے ہوئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ حقیقتاً یہ مسئلہ افغان پشتونوں کا ہے جو افغانستان میں اپنی برتری قائم رکھنا چاہتا ہیں اور وہ اس کے لیے پاکستانی پشتونوں کو استعمال کرتے ہیں۔

صوفی نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ادغام اور مغربی سرحد پر لگائی جانے والی باڑ کو قابل تحسین اقدام کہا ہے۔ جس سے سرحدی مسائل کا مستقل حل ممکن نظر آ رہا ہے۔

سرحدوں کا تعین پہلے اتنی اہمیت نہیں رکھتا تھا مگر جدید ریاستوں کے تناظر میں یہ بنیادی نوعیت کی چیز ہے۔ اس لیے ماضی میں سرحدوں کی حد بندی کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا۔

اس تنازع پر بات کرنے سے پہلے ایک بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ افغانستان کو فتح کرنا انگریزوں کے منصوبے میں کبھی شامل نہیں رہا کیونکہ وہ اپنی سرحدیں روس کے ساتھ ملانے کے حق میں نہیں تھے۔ وہ ہمیشہ اپنے اور روس کے درمیان ایک بفر زون قائم رکھنا چاہتے تھے۔ برطانیہ کی خواہش اس معاملے میں اتنی ضرور تھی کہ افغان سربراہ ہمارے زیر اثر رہے تاکہ سویت روس کے خلاف ہمارے لیے ایک حصار کا کام کرتا رہے۔ بلکہ جمعہ خان صوفی نے لکھا ہے کہ ہنری لارنس جو استعمار کا نمائندہ تھا پنجاب کو بھی بفر زون بنانے کے حق میں تھا جس پر انگریزوں کا غیر رسمی تسلط ہو لیکن اس کی تجویز سے اس کا چھوٹے بھائی جان لارنس بھی متفق نہیں تھا۔

اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے بعد برصغیر کا اقتدار ایسٹ انڈیا کمپنی سے براہ راست تاج برطانیہ کو منتقل ہو گیا۔ برطانوی حکومت نے محسوس کیا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف ہندوستان کے باشندوں میں برطانیہ کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے۔ اس کو کم کرنے کے لیے برطانیہ نے برصغیر میں مختلف اصلاحات کا آغاز کیا، جن میں قانون کی بالادستی، تعلیم و صحت کے منصوبے، مواصلات کا نظام، سڑکوں، نہروں اور پلوں کی تعمیر شامل ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے برصغیر کی عوام کے دل جیتنے کی کوشش کی گئی۔ دوسری طرف پشتون بھی سکھوں کے مظالم سے تنگ تھے تو انہوں نے بھی انگریزوں کو قبول کیا۔ استعمار کے نمائندے سنڈیمن نے ڈیرہ غازی خان کے پولیٹیکل نمائندے کی حیثیت سے سبی، ژوب، پیش اور کوئٹہ کے ساتھ ساتھ پورے بلوچستان کے علاقے رفتہ رفتہ برطانوی ہند کا حصہ بنا دئیے۔ جب بعد میں امیر عبدالرحمان سے برطانوی حکومت کی دوستانہ تعلقات قائم ہوئے تو یہ علاقے افغانستان کو واپس دینے پر برطانوی حکام نے سوچا مگر سنڈیمن اور دیگر افسران نے لندن میں موجود سرکار کو یقین دلایا کہ یہ علاقے افغانستان کو نہ لوٹانا ہی برطانیہ کے مفاد میں ہے۔ اس ساری غیر رسمی کوششوں کے بعد ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ ہوا۔

ایسٹ انڈیا کمپنی اور افغانستان کے مابین پہلا معاہدہ پشاور میں 1809 میں ہوا۔ جس میں ایسٹ انڈیا کمپنی چاہتی تھی کہ اگر فرانس اور اس کا حمایتی ایران ہندوستان پر حملہ کریں تو افغانستان برطانیہ کا ساتھ دے۔ اس کے بدلے شاہ شجاع تخت کی لڑائی میں برطانیہ کی مدد چاہتا تھا مگر برطانیہ غیر جانبدار رہا جس کے بدلے میں وہ اسی سال تخت سے محروم ہوا اور شاہ محمود حکمران ہوا۔

اس کے بعد پہلی برطانیہ افغان جنگ کے بعد 1855 میں فریقین کے درمیان پشاور میں معاہدہ ہوا جس کے تحت فریقین نے کسی ایک کے دوست کو دوسرے کا دوست اور ایک کے دشمن کو دوسرے کا دشمن تسلیم کیا۔ اس معاہدے کا اثر یہ ہوا کہ 1857 کی جنگ آزادی میں افغان حاکم امیر دوست محمد خان نے غیر جانبدار رہ کر برطانیہ کو فائدہ پہنچایا۔ امیر دوست محمد خان کے انتقال کے بعد تخت نشینی کی لڑائی چھڑ گئی جس میں امیر شیر علی فاتح ہوا۔ دوسری برطانیہ افغان جنگ میں وہ اقتدار اپنے بیٹے یعقوب خان کے حوالے کر کے روس بھاگ گیا تاکہ روسیوں سے برطانیہ کے خلاف مدد لی جا سکے مگر 1873 میں برطانیہ اور روس نے آپس میں معاہدہ کیا ہوا تھا جس میں روس نے افغانستان کو سیاسی نفوذ کا علاقہ تسلیم کیا ہوا تھا۔ جس کا علم امیر شیر علی خان کو نہیں تھا۔ بالآخر 1879 میں امیر یعقوب خان کو گندمک معاہدہ کرنا پڑا جس سے افغانستان خارجی امور میں اپنی خود مختاری سے محروم ہو گیا۔ اس کے بعد 1880 میں امیر عبدالرحمان کے ساتھ انگریزوں نے نئی مفاہمت کی جس کے نتیجے میں داخلی امور میں افغانستان کو آزادی حاصل ہوئی اور انگریزوں نے افغانستان کو چھوڑ دیا۔

صوفی نے لفظ “افغانستان” پر بھی روشنی ڈالی ہے، امیر عبدالرحمان سے قبل یہ انتہائی محدود علاقے کے لیے استعمال ہوتا تھا اس لفظ کو انگریزوں نے شہرت دی اس سے پہلے وہ اپنی دستاویزات میں اس کو درانی سلطنت یا کابل سلطنت لکھا کرتے تھے۔ اس لحاظ سے جدید افغانستان کے بانی امیر عبدالرحمان ہیں اور امیر عبدالرحمان نے ہی اس ملک کو پہلی بار مرکزیت، طے شدہ سرحدات اور سرکاری نام عطاء کیے۔

امیر عبدالرحمان کی سوانح حیات ان کی خواہش پر افغان سیکرٹری آف سٹیٹ بیرسٹر سلطان محمد خان نے املا کے ذریعے مرتب کی۔ یہ بیرسٹر سلطان محمد مشہور و معروف اردو شاعر فیض احمد فیض کے والد تھے۔ اس سوانح حیات میں ڈیورنڈ معاہدے کے متعلق بھی موجود ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ امیر عبدالرحمان سرحد کے تعین کے لئے کس قدر بے تاب تھے۔ وہ سرحدوں کی اہمیت سے غافل نہ تھے نیز انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ ان کی کوشش ہے وہ علاقے جو پہلے افغانستان کا حصہ تھے اب خود مختار قبائلی حاکموں کے پاس ہیں سے زیادہ سے زیادہ واپس لیکر افغانستان کا حصہ ناؤں۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدوں کے تعین کو انہوں نے اپنا کارنامہ بتایا ہے اور ان کو افغانستان کے لیے مستحکم حفاظتی حصار قرار دیا ہے۔

سر مارٹیمر ڈیورنڈ جو برطانوی حکومت کا نمائندہ تھا 1850 میں بھوپال میں پیدا ہوا اور 1924 میں کوئٹہ میں وفات پائی۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈیورنڈ کے والد مارئین مارٹیمر کی قبر ہے۔

سر مارٹیمر ڈیورنڈ کے ساتھ امیر عبدالرحمان نے 12 نومبر 1893 کو دو معاہدے کیے۔

پہلا معاہدہ اس سرحد کے متعلق تھا جو (73-1872 ) کے روس برطانیہ معاہدہ کے مطابق تھا جس میں دریائے آمو کے بہاؤ کے دونوں حلقات نفوذ کو سرحد تسلیم کیا تھا۔ ڈیورنڈ درحقیقت اس ہی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے گیا ہوا تھا۔

اسی دن دوسرا معاہدہ افغانستان کی جنوب مشرقی سرحد کے بارے میں بھی ہوا جسے ڈیورنڈ لائن کے نام سے شہرت ملی اور یہ معاہدہ ہی اس کتاب کا موضوع ہے۔

یہاں صوفی نے ایک نکتہ اٹھایا ہے کہ یہ سرحدی معاہدات برطانیہ اور افغانستان کے ملحق علاقوں کے درمیان کیے گئے۔ ملحق علاقوں سے مراد تاجک، ازبک، ترکمان اور دیگر غیر پشتون علاقے بھی شامل ہیں۔ لہذا اس میں فقط پشتون فریق نہیں ہیں ان علاقوں میں رہنے والے غیر پشتون بھی برابر کے فریق ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ معاہدے کیے بھی پشتونوں نے ان معاہدوں پر اعتراض بھی پشتونوں کو ہے۔

کابلی دانشور یہ دعوی کرتے ہیں کہ امیر عبدالرحمان نقشوں کی اہمیت سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے اس وجہ سے ڈیورنڈ لائن معاہدے میں ان سے غفلت ہوئی۔ صوفی کہتے ہیں کہ یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے اپنی سوانح میں امیر عبدالرحمان نے ماہرین اور نقشہ نویسوں کے نام درج کیے جو ان معاہدات میں ان کے مددگار تھے اور امیر عبدالرحمان خود بھی ان معاہدوں سے مکمل مطمئن نظر آتے ہیں اور برطانیہ کے ساتھ دوستی کو وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بلکہ اس کی دوستی کو احسان گردانتے ہیں جس کی بدولت دریائے آمو کے اِس پار کے میدانی علاقے ان کو مل گئے تھے۔ بلکہ امیر عبدالرحمان انگریزوں سے ایران اور چین کے مابین سرحدوں کے تعین پر مدد مانگتے بھی نظر آتے ہیں۔

ڈیورنڈ معاہدے کے بعد امیر عبدالرحمان نے لویہ جرگہ بلانے کا بھی ذکر کیا ہے جس میں سرحدوں کے تعین کے امیر کی اقدام کی لویہ جرگہ کے مشران نے ناصرف تائید کی ہے بلکہ اس فیصلے کو شریعت کے مطابق قرار دیا ہے اور تنازع کے پر امن حل پر امیر عبدالرحمان کی تعریف کی ہے۔ اس دن کو امیر عبدالرحمان نے اتحاد کا دن قرار دیا افغان عوام نے امیر موصوف کو اس معاہدے پر “ضیائے ملت ودین” کا لقب پیش کیا گیا۔

امیر عبدالرحمان کی سوانح کے بعد جمعہ خان صوفی نے ڈیورنڈ کی یاداشتوں کے حوالے سے برطانوی نکتہ نظر سے اس معاہدے کو سمجھنے کی بھی کوشش کی ہے۔

ان یاداشتوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امیر عبدالرحمان نے یہ فیصلہ کسی دباؤ میں نہیں کیا۔ اور ڈیورنڈ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بہت سے معاملات پر امیر موصوف نے ہماری بات نہیں مانی بالخصوص تجارتی امور پر اور پھر ڈیورنڈ نے یہ بھی لکھا ہے کہ امیر عبدالرحمان اپنے مفادات کے سوا کسی اور چیز کو دیکھنے کو تیار نہیں۔ یہ اس بات کی غمازی کرنے کے لیے کافی ہے کہ امیر عبدالرحمان اپنے فیصلے میں مکمل آزاد تھے۔

ڈریونڈ نے ایک اور جگہ لکھا ہے کہ امیر عبدالرحمان اپنے لوگوں کے حوالے سے شکی مزاج طبعیت کے مالک ہیں مگر برطانیہ سے اتحاد پر وہ دل سے ہی ہمارے ساتھ ہیں۔

ڈیورنڈ نے یہ بھی لکھا ہے کہ امیر انگریز اور انگریز حکومت کے ہندوستانی افسران میں فرق کرتے تھے۔ انگریزوں کے سلام کا جواب گرم جوشی سے دیتے تھے جبکہ ہندوستانیوں کو بمشکل سلام کرتے تھے۔ ایک دفعہ ہندوستانی افسران کو عوامی دربار (لویہ جرگہ) میں شامل کرنے سے انکار کر دیا جس پر انگریز افسران نے احتجاج کیا اور اس وقت تک جرگے میں شمولیت سے انکار کر دیا جب تک ان کے ہندوستانی نمائندوں کو شامل نہیں کیا جاتا کیونکہ ہم انگریزوں اور ہندوستانیوں میں فرق نہیں رکھتے۔ امیر عبدالرحمان کے سپہ سالار غلام حیدر خان نے کہا کہ ہم افغانستان میں ہندوستانی باشندوں کو جگہ نہیں دیتے۔ انگریز وفد نے ان کا عذر قبول نہ کیا بالآخر انہیں بادل ناخواستہ ہندوستانی افسران کو شامل کرنے کی اجازت دینی پڑی۔ ڈیورنڈ نے لکھا ہے کہ ہندوستانی افسران اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

ڈیورنڈ نے امیر عبدالرحمان کے بیٹوں نصر اللہ خان اور حبیب اللہ خان کا ذکر کیا ہے کہ یہ دونوں اچھے کردار کے مالک نہیں اور یہ امیر کی ایک داشتہ سے ہیں۔ امیر کی اپنی بیوی حسب و نسب رکھنے والی باوقار خاتون ہیں جن سے ایک بیٹا ہے جو کم عمر ہے۔ امیر کی بیوی کی خواہش ہے کہ اس کو ہی ولی عہد بنایا جائے۔

اس وقت حبیب اللہ خان اور نصر اللہ خان دونوں اہم حکومتی امور دیکھ رہے تھے۔ حبیب اللہ خان عدالتی جبکہ نصر اللہ خان سرکاری محکموں کو دیکھتے تھے۔ اس کے ساتھ غلام حیدر خان سپہ سالار تھا۔ یہ سب امیر عبدالرحمان سے بہت ڈرتے تھے کیونکہ امیر ان کو محفل میں بے عزت کر دیا کرتا تھا۔ ڈیورنڈ نے امیر عبدالرحمان کی شخصیت کو کافی دلچسپ کہا ہے جو ایک طرف ظالم و جابر آمر ہے تو انگریزوں کی جانب منکسر المزاج اور ملنسار۔

ڈیورنڈ کی یہ یاداشتیں اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیے بہت معاون و مددگار ہیں جن سے اس وقت کے حالات کا بھی اندازہ ہوتا ہے نیز امیر عبدالرحمان کی اپنی شخصیت اور ان کے اختیارات کی نوعیت کو بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ ڈیورنڈ نے لکھا ہے کہ امیر عبدالرحمان کسی سے مشاورت کرنا پسند نہیں کرتے ان کی مخبری کا نظام بھی بہت سخت ہیں انہوں نے دو سابقہ گورنرز کا ذکر کیا ہے جن کو ہٹا کر ایک کوخانساماں اور دوسرے کو چپڑاسی لگا دیا تھا۔ خود پسند ہونے کے ساتھ ساتھ امیر عبدالرحمان اپنے آپ کو ہر امور کا ماہر بھی جانتے ہیں۔ غلام حیدر خان کے بعد ایک انگریز انجینیر تھامس سالٹر پائین کو بھی امیر کا قرب حاصل ہے۔

ڈیورنڈ نے اپنی یاداشتوں میں نقل کیا ہے کہ ایک دفعہ فرانسیسی وفد افغانستان آیا اور امیر کو دوربین دکھائی کہ اس سے چاند کی سطح کو دیکھا جا سکتا ہے تو امیر نے جواب دیا چاند جائے بھاڑ میں مجھے وہ چیز دکھاؤ جس سے بندوق تیار ہو سکے۔
ڈیورنڈ کی یاداشتیں اس حوالے سے اہم دستاویز ہیں جو دوسری جانب کے نکتہ نظر کو جاننے کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہیں۔

اس کے بعد اس معاہدے پر حکومت برطانیہ کو وائسرائے ہند کی طرف سے جو رپورٹ جمع کرائی گئی اس کو کتاب میں شامل کیا ہے۔
اس رپورٹ میں وائسرائے ہند کی طرف سے لکھا گیا کہ روسی حکومت 73-1872 کے معاہدے پر لفظ بہ لفظ عمل چاہتی تھی مگر برطانوی حکومت امیر افغانستان پر سختی کرنے کے حق میں نہیں تھی نہ اس بات پر راضی تھی کہ دریائے آمو کے اُس پار کے علاقوں پر افغانستان کا قبضہ برقرار رہے۔
اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ امیر عبدالرحمان کو یقین دلایا گیا کہ ان کے علاقوں اور خود مختاری کے حوالے سے ہم کوئی بری نیت نہیں رکھتے۔ ہم (وائسرائے ہند) بھی سمجھتے ہیں کہ ان کی جانب سے قبائلی علاقوں میں عدم مداخلت اور چترال سے آگے پیش قدمی کرنے کے وعدوں پر اعتبار نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ مطلب برطانوی حکام کو بھی امیر عبدالرحمان پر اعتماد تھا کہ وہ معاہدے کی پاسداری کریں گے۔

آخر میں جمعہ خان صوفی نے تبصرہ کرتے ہوئے بہت اہم بات کی ہے کہ برطانوی حکام کے نزدیک یہ معاہدہ کوئی حتمی معاہدہ نہیں تھا بلکہ ایک عارضی معاہدہ تھا اس لیے برطانوی حکام کے نزدیک اس کی کوئی بین الاقوامی اہمیت نہیں تھی۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر وہ اس معاہدے کو حتمی تصور کرتے تو امیر عبدالرحمان کے انتقال کے بعد امیر حبیب اللہ خان سے 1905 میں نیا معاہدہ کیوں کرتے؟

1905 میں برطانوی حکام کی جانب سے دوبارہ معاہدہ کرنے سے کابلی دانشوروں کا یہ مفروضہ بھی دم توڑ جاتا ہے کہ ڈیورنڈ لائن معاہدہ سو سال کے لیے تھا کیونکہ اگر وہ معاہدہ سو سال کے لیے تھا تو بارہ سال بعد نئے معاہدے پر برطانوی حکومت نے کیوں اصرار کیا۔ اس معاہدے کے حتمی ہونے کی غلط فہمی امیر حبیب اللہ خان کو بھی تھی مگر لارڈ کرزن نے انہیں پیغام بھیجا کہ وہ راولپنڈی آئیں اور از سر نو معاہدہ کریں۔ امیر حبیب اللہ خان نے یقین دلایا کہ وہ اپنے والد کے کیے گئے معاہدے کے پابند ہیں تو لارڈ کرزن نے کہا وہ شخصی معاہدہ تھا موروثی نہیں اس لیے ہر نئے افغان حکمران کے ساتھ برطانوی ہندوستان دوبارہ معاہدہ کرے گا۔ جب امیر حبیب اللہ خان نے معاہدے کرنے پر تحفظات دکھائے تو تاج برطانیہ نے اٹھارہ لاکھ کی سالانہ سبسڈی جو وہ امیر عبدالرحمان کو دے رہے تھے روک لی جس پر امیر حبیب اللہ خان معاہدے کرنے پر راضی ہوئے یوں مارچ 1905 میں راولپنڈی میں امیر حبیب اللہ خان نے سر لوئی ڈین کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر دئیے جس کا منشا یہی تھا کہ وہ اپنے والد کے برطانیہ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی پاسداری کرتے ہیں۔ اس معاہدے کے ہوتے ہی برطانیہ نے افغانستان سے پابندیاں اٹھا لی، امیر حبیب اللہ خان کو His Highness کی بجائے His Majesty کا خطاب ملا۔ جواباً امیر حبیب اللہ خان نے بھی برطانیہ سے اپنی وفاداری کا ثبوت دیا۔ پہلی جنگ عظیم میں ترک اور جرمن وفد براستہ ایران خفیہ طور پر افغانستان آیا اس نے امیر حبیب اللہ خان سے قبائلی علاقوں کے ذریعے برطانیہ پر حملے کی تجویز دی، امیر حبیب اللہ خان کا بھائی نصر اللہ خان اور بیٹا امان اللہ خان سمیت علماء اس بات کے حق میں تھے مگر امیر حبیب اللہ خان نے جرگہ بلا کر غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا۔ یہ برطانیہ کے لیے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے کم ہرگز نہیں تھا۔ اس وفد کے ساتھ مہمانوں سا سلوک ہوا مگر امیر حبیب اللہ خان نے برطانیہ کے ساتھ اپنے معاہدے کی پاسداری کی۔

امیر حبیب اللہ خان 1919 میں مشکوک حالت میں اپنے خیمے میں مردہ پائے گئے۔ ان کے بیٹے امیر امان اللہ خان کا فوج پر کنٹرول تھا، اس کی حمایت سے انہوں نے اپنے چچا امیر نصر اللہ خان جن کی بادشاہت کا اعلان بھی ہو چکا تھا کو امیر حبیب اللہ خان کے قتل کے الزام میں قید کروا دیا، ایام اسیری میں وہ مر گئے یا مار دئیے گئے۔ یوں امیر امان اللہ خان کے لیے اقتدار کا راستہ ہموار ہو گیا۔ وہ اور ان کے چچا نصر اللہ خان انگریزوں کے خلاف تھا اور اس چیز کو اپنی مقبولیت کے لیے استعمال بھی کیا۔ انہوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا، اس وقت جلیانوالہ باغ کا سانحہ ہو چکا تھا انہیں امید تھی کہ ہندوستانی عوام بالخصوص پشتون ان کا ساتھ دیں گے ایسے ہی جنگ عظیم اول کی وجہ سے انگریز فوج تھکن کا شکار ہو گی لہذا ان کو شکست دینا آسان ہو گا۔ مگر امیر امان اللہ خان کے اندازے غلط ثابت ہوئے، انگریزوں نے جلال آباد، قندھار کے طرف جانے والے راستوں پر قبضہ کر لیا، ایک کرم کے محاذ پر انگریزوں کو مزاحمت ہوئی۔ امیر امان اللہ خان نے وائسرائے ہند سے منت سماجت کرکے جنگ بندی کی درخواست کی۔ جنگ بندی کے بعد افغانستان اور برطانوی ہندوستان کے مابین راولپنڈی میں مذاکرات ہوئے۔ چونکہ لڑائی افغانستان نے شروع کی تھی، وہ ہار بھی گئے اور جنگ بندی بھی ان کی درخواست پر ہوئی تو تاوان کی ذمہ داری بھی ان کی تھی برطانوی ہندوستان کا پلڑا بھاری تھا۔ اس جنگ سے سابقہ معاہدے کالعدم ہو گئے تھے اور جو نیا معاہدہ ہوا تھا قانونی حیثیت اس کی ہی مانی جائے گی۔ اس معاہدے کے بعد ڈیورنڈ لائن باقاعدہ سرحد بن گئی، صوفی کہتے ہیں کہ اس کو ڈیورنڈ لائن کی بجائے امان لائن کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔

جب تک انگریز ہندوستان میں رہے افغانستان نے اس معاہدے کو بلا چوں چراں تسلیم کیا مگر قیام پاکستان کے بعد ہی افغانستان نے دشمنی کا راستہ اپنا لیا۔ افغانستان کا پاکستان کے خلاف زمینی دعویٰ لغو و بے بنیاد ہے جس کی کوئی قانونی و اخلاقی حیثیت نہیں۔ یہ بالکل ایسا رویہ ہے جیسا امیر عبدالرحمان کے سپہ سالار غلام حیدر خان نے برطانوی وفد کے ہندوستانی افسران کے ساتھ اپنایا تھا۔

صوفی نے ایک اور نکتہ اٹھایا ہے کہ تقسیم سے قبل کانگریس جو کہ باچا خان کے قریب تھی اس سرحد کو مانتی تھی اور پختونستان کے خلاف تھی تب ہی تو صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں ان کے اصرار پر صرف پاکستان اور ہندوستان میں شمولیت کا اپشن رکھا گیا مگر جب انہوں نے دیکھا کہ یہ علاقہ پاکستان کا حصہ بن گیا ہے تو انہوں نے پختونستان کے ایشو پر باچا خان کو بہکایا۔ اس کی وجہ سے دونوں مسلم ممالک کے مابین نفاق کا بیج بویا گیا۔

ہندوستان کا قانونی مؤقف ہے کہ وہ برطانوی ہند کے معاہدوں کے وارث و پاسدار ہیں اس لحاظ سے وہ ڈیورنڈ امان لائن پر بھی اعتراض نہیں کر سکتا مگر وہ ہمیشہ پختونستان کے معاملے پر افغانستان اور قوم پرستوں کی مالی امداد کرتا رہا ہے۔

کابلی دانشور کہتے ہیں کہ ڈیورنڈ لائن والی سرحد کا معاہدہ برطانیہ کے ساتھ تھا پاکستان کے ساتھ نہیں تو اس دلیل کو صوفی غیر منطقی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے الزامی جواب دیتے ہیں کہ افغانستان کی شمالی سرحد کا تعین برطانوی ہند اور سویت روس نے کیا تھا اب نہ برطانوی ہند نہ ہی سویت یونین تو کیا افغانستان کی ترکمانستان، تاجکستان اور ازبکستان کے ساتھ تمام سرحدیں غیر قانونی قرار پائیں گی۔

صوفی نے لکھا کہ پختونستان کے مسئلہ کو ظاہر شاہ کے دور میں بہت اچھالا گیا، ظاہر شاہ کے دور کا افغانستان سینسر شپ کے تابع تھا سرکاری موقف کے بغیر کسی اور بات کی اشاعت ممکن نہ تھی بلکہ نجیب دور تک یہ صورتحال رہی اس لیے اس کے نتیجے میں جو تحاریر وجود میں آئیں وہ اس ذہن کی عکاسی کرتی ہیں جس نے افغانستان کی نسلوں کو متاثر کیا اور پاکستان کے حوالے سے وہ ہمیشہ شاکی نظر آتے ہیں۔

یہاں صوفی نے ایک افغان دانشور علی احمد کہزاد کے کچھ اعتراضات کا جواب دیا ہے بالخصوص قبائلی علاقوں کے حوالے سے انہوں نے جو غلط بیانی کی ہے اس کو واضح کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ان کا الحاق قانونی طور پر بالکل درست تھا اور یہ علاقے ہندوستان کا حصہ تھے مگر برطانوی ہند کا حصہ نہیں تھے۔ افغانستان ان علاقوں کو پہلے جرگہ بلا کر ساتھ ملا سکتا تھا مگر پاکستان نے پہلے یہ کام کر لیا۔ افغانستان ان علاقوں کو شامل کرنے کے لیے اس وجہ سے بھی شش و پنج کا شکار تھا افغانستان قبائلی عمائدین پر خرچ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔

پھر ان قبائلی علاقوں کے لیے ترقی کے منصوبے یا تو انگریزوں نے دئیے یا پھر پاکستان نے۔ جبکہ پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں پر افغانستان کی جانب سے پروپیگنڈا کیا گیا کہ یہ قبائل کی آزادی چھین رہے ہیں۔ صوفی کہتے ہیں کہ وہ خود ایسے پمفلٹ شائع کرنے کا حصہ رہے ہیں جہاں پاکستان کی جانب سے ان علاقوں میں کیے جانے والے ترقیاتی کاموں کے خلاف لکھا جاتا اور تقسیم کیا جاتا۔

صوفی نے پاکستان کے پشتون اور افغان پشتونوں کے مابین فرق بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستانی پشتونوں کے زمینداری، تعمیراتی اوزار، مہینوں اور کیفیات کے نام ہندی میں ہیں جبکہ افغان پشتونوں کی ہاں یہ سب نام فارسی میں ہیں جو کہ ان کے صدیوں پرانے رشتے کی دلیل ہیں۔

جہاں تک بات ہے کہ اس سرحد سے قوم تقسیم ہو گئی تو یہ صرف پشتونوں کے ساتھ نہیں ہوا، کیا افغانستان کے اندر ہراتی، بلوچ، ازبک، تاجک اور ترکمان نے کبھی اپنے علاقوں سے الحاق کی بات کی۔ تقسیم ہند کے نتیجے میں کیا پنجابی تقسیم نہیں ہوئے۔ آسٹریا اور جرمن ایک ہی قوم کے باشندے ہیں، کوریائی قوم دو ممالک میں تقسیم ہوئی۔ ایسی اور متعدد مثالیں جمعہ خان صوفی نے دی ہیں اور لکھا ہے کہ ان میں سے کسی نے تقسیم کو ختم کر کے الحاق کی بات نہیں کی یہ نرالی منطق پشتون قوم پرستوں ہی کے ہاں پائی جاتی ہے۔

اگر افغانستان پشتونوں کے اتحاد کے لئے سنجیدہ ہے تو پھر جیسے اسرائیل نے پوری دنیا کے یہودیوں کو اپنی شہریت کی آپشن دے رکھی ہے ایسی سہولت پاکستان سمیت دیگر پشتونوں کی دی جانی چاہیے یا جیسا کہ پاکستان نے کشمیریوں کے لیے سہولت فراہم کی ہے کہ وہ پاکستان میں جہاں چاہیں جائیداد خرید سکتے ہیں مگر پاکستانیوں کو آزاد کشمیر میں زمین کی خرید وفروخت کی اجازت نہیں ہے۔ ایسی سہولت افغانستان غیر افغان پشتونوں کو دینے کو تیار نہیں بلکہ انہوں نے باچا خان جن کو پشتون قوم پرست پیغمبر کا درجہ دیتے ہیں نے جب افغانستان میں تعمیر شدہ مکان اپنے نام کرانے کی درخواست دی تو اس کو مسترد کر دیا گیا کیونکہ وہ افغانی نہیں تھے۔ پھر جمعہ خان صوفی نے لکھا ہے کہ پاکستان کے پشتون افغان پشتونوں کی نسبت زیادہ خوشحال و ترقی یافتہ ہیں اور افغان پشتونوں کی نسبت اکثریت میں ہیں تو اگر الحاق کرنا ہے تو افغان پشتونوں کو پاکستان کے ساتھ کرنا چاہیے کیونکہ اقلیت اکثریت سے ملتی ہے اور کم ترقی یافتہ زیادہ ترقی یافتہ سے ملتا ہے۔ اس لیے اگر رائے شماری کی ضرورت ہے تو وہ افغانستان کے پشتون علاقوں کے لیے ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں کہ نہیں۔

صوفی نے سابق افغان صدر داؤد خان کے ساتھ اپنی ایک ملاقات کا ذکر کیا ہے جو 1975 میں ہوئی جب پختون زلمے کی پاکستان میں متشدد کاروائیاں جاری تھیں تو جمعہ خان صوفی نے داؤد خان سے کہا کہ پاکستان کے ایک جانب سویت یونین اور دوسری طرف ہندوستان، یہ دونوں پاکستان کے دشمن اور افغانستان کے دوست ہیں یہ ملکر پاکستان کا وجود مٹا کیوں نہیں دیتے تو داؤد خان نے کہا کہ وہ کبھی بھی نہیں چاہتے کہ ان کے ملک کی سرحدیں ہندوستان سے ملیں کیونکہ ہندوستان ہمیشہ اپنے مفادات کو سامنے رکھتا ہے۔ صوفی کہتے ہیں کہ دؤاد خان کے اس جواب سے میرے اوپر پختونستان کے منصوبے کی حقیقت کھل گئی۔

داؤد خان کو بعد میں پختونستان کے حوالے سے اپنی غلطی کا احساس بھی ہو گیا تھا وہ بھٹو صاحب سے ڈیورنڈ لائن کے مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے پر راضی بھی ہو چکے تھے مگر بھٹو صاحب کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ داؤد خان نے یہ ہی پیشکش جنرل ضیاء الحق کو بھی کی مگر جنرل ضیاء الحق نے کہا کہ یہ اعلان ان کے کابل دورے تک موخر کیا جائے مگر جنرل ضیاء الحق کے کابل دورے سے پہلے ثور انقلاب آ گیا۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کمزوری کی جانب صوفی نے توجہ دلائی ہے اگر یہ معاملہ اس وقت نمٹ جاتا تو یہ بحث بہت پہلے ہی دم توڑ چکی ہوتی۔ پھر جنرل ضیاء الحق نے محض سیاسی فائدے کی خاطر اس اعلان کو مؤخر کرنے کی جو غلطی کی وہ بھی افسوسناک ہے۔

صوفی نے لکھا ہے کہ پختونستان کے پراجیکٹ کی مالی معاونت ہندوستان کرتا تھا۔ اس فنڈنگ میں خلل اندرا گاندھی کی 1977 میں شکست سے آیا اور مرار جی ڈیسائی نے اندرا گاندھی کی بہت سی پالیسیوں کو ریورس کیا۔

صوفی نے الزام لگایا ہے کہ اس کے بعد نجیب نے بھی پشتونوں کی نمائندگی کے دعویدار دو گھرانوں یعنی کہ ولی خان اور اچکزئی کو ڈھیروں ڈالرز اور اسلحہ دیا مگر یہ پیسے کھا گئے اور اس مقصد کے لیے کچھ خرچ نہ کیا جس کے لیے نجیب نے یہ پیسے دئیے تھے۔

کتاب کے آخر میں دونوں پڑوسی ممالک کے مابین اچھے تعلقات کی ضرورت پر زور دیا ہے اور یہ اچھے تعلقات پختون قوم کے لئے سب سے زیادہ فائدہ مند ہیں مگر افغانستان میں رہنے والے پشتون اور چند یہاں ان کے ہم خیال اس میں رکاوٹ ہیں۔

پختونستان کے مسئلہ نے خیبر پختونخوا کی ترقی پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں اس کی ایک مثال ایوب خان کے دور میں جب نئے دارالحکومت کا فیصلہ کیا گیا تو جوہر آباد، اسلام آباد اور کراچی کے شمال کے علاوہ چراٹ کے علاقے کا آپشن بھی سامنے آیا مگر اس کو اس وجہ سے درخور اعتناء نہیں سمجھا گیا کہ پختونستان کے مسئلہ کی وجہ سے یہ علاقہ غیر محفوظ ہے اور کسی بھی وقت کابل سے چلنے والے راکٹوں کی زد میں آ سکتا ہے۔

اسکندر مرزا کے دور میں ظاہر شاہ کے ساتھ پاکستان اور افغانستان کی کنفیڈریشن کی بات بھی چلی تھی جس کا سرسری سا ذکر صوفی نے اسلم خٹک کی کتاب کے حوالے سے کیا ہے۔

کتاب کے آخر میں صوفی نے 1873,1893, 1905 اور 1919 کے معاہدات کا انگریزی متن بمعہ اردو ترجمہ بھی لکھا ہے۔

ممکن ہے کہ کوئی جمعہ خان صوفی کو مطالعہ پاکستان کا اسیر کہہ دے تو عرض ہے کہ صوفی نے ایک جگہ کانگریس کے مقابلے میں انگریزوں اور قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ کو ایک کیمپ میں شامل کیا ہے۔ صوفی کی زندگی باچا خان اور ولی خان کی جماعت میں گزری ہے۔ پھر وہ ریاست پاکستان کے خلاف متشدد کاروائیوں کا حصہ بھی رہے ہیں اس لیے ان پر کم از کم مطالعہ پاکستان کی اسیری کا الزام درست نہیں۔

جمعہ خان صوفی نے موضوع سے بھرپور انصاف کیا ہے، اختصار و معروضیت کا مکمل لحاظ رکھتے ہوئے انہوں نے مسئلہ پر جامع گفتگو کی ہے۔ اس لیے میرے مطابق یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اور اس موضوع پر ایک عمدہ کتاب ہے۔

جمعہ خان صوفی کی ایک یادگار گفتگو:

 

(Visited 1 times, 5 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply