طالبان کے نام ایک خط —- پروفیسر ڈاکٹر اعجاز اکرم

0

ڈاکٹر اعجاز اکرم، عالمی سیاست اور ریلیجئس اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں۔ افغانستان میں جنگی و سیاسی امور کے معروف تجزیہ کار Pepe Escobar کے بقول ڈاکٹر اعجاز اکرم نہ صرف اس خطے میں بچھائی گئی مغربی بساط کے اصل نقشے کو جانتے ہیں بلکہ افغانستان پر چاردہائیوں سے مسلط کردہ جنگ کے بعد ہونے والی تعمیر نو کے سلسلے میں طالبان کو تجاویز دینے پر بھی اتھارٹی ہیں۔ Pepe Escobar کی فرمائش پر ڈاکٹر اعجاز اکرم کا تحریر کردہ یہ تفصیلی تجزیہ ایک انگریزی ‘A Letter to the Taliban’ کے عنوان سے حال ہی میں ویب گاہ پر شائع ہوا۔ دانش کے صفحات پر اس مضمون کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ مترجم: وحید مراد )


طالبان سے ‘وسیع البنیاد حکومت’ کے مطالبات

ذرا تصور کریں کہ اگر فرانسیسی انقلابیوں سے کہا جاتا کہ وہ نئی جمہوریہ کی تشکیل کے دوران سب عناصر کو شامل کرنے کی غرض سے Louis XVI کی باقیات کو برقرار رکھیں تو کیا وہ ایسا کرتے؟ کیا انقلاب امریکہ کے بعد وہاں کی انقلابی قیادت سےکہاجا سکتا تھا کہ وہ برطانوی وفاداروں کو نئی امریکی جمہوریہ میں ایک حصے کے طورپر شامل کریں ؟ کیابالشویک انقلاب کے بعد لینن سے کہا گیا تھا کہ وہ وسیع البنیاد حکومت کا تاثر دینے کیلئے بادشاہ زار کے وفاداروں کو حکومت میں شامل کریں ؟ کیا چئیرمین مائو سے کہا گیا تھا کہ وہ کوومینٹانگ (Kuomintang) کونئے سیٹ اپ میں شامل کریں؟ کیا امام خمینی سے کہا گیا تھا کہ وہ نئی انقلابی حکومت میں رضا شاہ پہلوی کی باقیات کو شامل کریں؟ کیا ترکی میں بغاوت کے فوراً بعد طیب اردگان سے کہا گیا تھا کہ وہ ترک حکومت میں گولن تحریک کے لوگوں کو شامل کریں؟ کیا سعودی عرب سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی مملکت کی ایک چوتھائی شیعہ آبادی کو حکومت میں متناسب نمائندگی دیں؟ کیا نریندرا مودی سے کہا جاتا ہے کہ وہ انڈیا میں مسلمان، سکھوں اور دیگر اقلیتوں کو مساوی شہری حقوق دیں؟

اگر مذکورہ بالا طاقتوں سے یہ سوال نہیں کیا گیا یا آج بھی نہیں کیا جاتا تو نام نہاد بین الاقوامی برادری آخر کس منطق کے تحت طالبان سے وسیع البنیاد حکومت کا مطالبہ کرتی ہے اور ان پر زور دیتی ہے کہ وہ ان لوگوں کو حکومت میں شامل کریں جنہوں نے بلاجواز غیر ملکی قبضے کی حمایت کی اوربیس سال تک انکے قبضے کو برقرار رکھنے کیلئے کٹھ پتلی کے طور پر کام کیا۔

افغانستان میں جو کچھ ہوا، اسے محض ایک حکومت کی تبدیلی نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ اس کٹھ پتلی ریاست کی تبدیلی ہے جو اپنے ہی لوگوں کو قتل کرنے اور علاقے میں تخریب کاری پھیلانے کی ذمہ دار ہے۔ حکومت کی تشکیل سے متعلق ہر بات ریاست کے مکمل ہونے کے بعد شروع ہوتی ہے۔ پرانے نظام کی باقیات کو برقرار رکھنا ‘ففتھ کالم’ کے لوگوں کو زندہ رکھنے کے مترادف ہے۔ ان سے خطرہ ہے کہ وہ نصف صدی پر محیط غیر ملکی حکمرانی کے خلاف ہونے والی طویل جدوجہد کو کالعدم قرار دے سکتےہیں۔ انہیں حکومت میں شامل کرنے کی مثال تو ایسے ہی ہوگی کہ ایک سرجن سے کہا جائے کہ وہ کینسر کے مریض کے جسم سے تمام کینسر زدہ ٹشوز کو کاٹ کر نہ پھینکے، کچھ کو رہنے دے کہ شاید وہ بعد میں کسی کام آئیں۔

ریاست کوتشدد کے جائز استعمال پر اجارہ داری حاصل ہوتی ہے اور باقی تمام گروہوں کو غیر مسلح کرنا اسکی ذمہ داری ہے۔ جب ریاست تشکیل پاتی ہے تو اسکے اندر کے تمام گروہ اپنے مشترکہ عقیدے اور آدرش کا اظہار کرتے ہیں۔ تمام گروہوں کی طرف سے ایسی وسیع البنیاد حکومت اس وقت تشکیل دی جا سکتی ہے جب وہ لوگوں کی حساسیت، عقائد اوراقدار کی عکاسی کرے۔ اگر وہ حکومت ایسا نہیں کرتی تو عوام کی نظر وہ جائز حکومت نہیں ہوتی اور ریاست اسے گھر بھیج دیتی ہے۔

ریاست کی قانونی حیثیت جس اصول سے اخذ ہوتی ہے اسکی بنیاد اس سماجی اور مذہبی نظام اقدار پر ہےجسے اس ملک کی آبادی نے اپنا رکھا ہوتا ہے۔ افغانستان میں اس سے مراد صرف اسلامی عقائد اور روایات ہیں۔ اگرچہ طالبان کی غالب قوتیں پشتون ہیں لیکن وہ جن شرعی اصولوں پر عمل پیرا ہیں وہ پورے افغانستان کا مشترکہ اثاثہ ہے کیونکہ غیرپشتون افغان بھی مسلمان ہی ہیں۔ لہذا طالبان کا اس بات پر اصرارکرنا کہ انکا طرز حکمرانی اسلامی اصولوں پر استوار ہوگا درست منطق پر مبنی ہے۔ یہ توقع دیوانے کا خواب لگتی ہے کہ افغانی قوم مغربی لبرل ازم کو اپنائے گی۔ اشرف غنی جیسےلوگ تو اس احمقانہ راستے پر چل سکتے ہیں لیکن طالبان جیسے زیرک مزاحمت کاروں سےاس طرح کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔

سب لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ طالبان نے بغیر کسی لڑائی کے پورے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا۔ نام نہاد افغان نیشنل آرمی اس طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی کہ اسکے اہلکاروں نے ہتھیار ڈال کر طالبان جنگجوئوں کو گلے لگا یا اور بہت سے مستقل طوپر ان میں شامل بھی ہوگئے۔ اگر کسی مزاحمتی تحریک کےپیچھے رائے عامہ نہ ہو تو وہ کامیاب نہیں ہو سکتی۔ بالشویک، فرانسیسی، امریکی، سعودی اورایرانی انقلابیوں اور دیگر نے انقلاب کے وقت اپنے مخالفین کو قتل کیا اور پھانسیاں دیں لیکن انکے برعکس طالبان نے سب کیلئے عام معافی کا اعلان کیا۔ جدید جمہوریہ کے پیشوائوں کے دل میں زیادہ رحم ہے یا طالبان کے دلوں میں؟ جس کھلے دل کا مظاہرہ طالبان نے کیا ہے ہم نے حالیہ تاریخ میں تو کہیں نہیں دیکھا۔ اگر یہ سب کو ساتھ لیکر چلنے کی بات اوروسعت قلبی کا مظاہرہ نہیں تو اور کیا ہے؟

بین الاقوامی برادری میں پائے جانے والے مغربی اقوام کے بدمعاش گروہ کی طرف سے افغانستان میں اسلامی نظام پر شورشرابا اور چیخنا چلانا انکی اسلام دشمنی اور مسلمانوں کے خلاف تاریخی تعصب کا ثبوت ہے۔ صلیبی جنگوں سے لیکر استعماری دور تک مغرب میں حتمی دشمن صرف اسلام کو تصور کیا جاتا ہے۔ ایڈورڈ سعید نے اپنی مشہور کلاسیکل کتاب’ Orientalism’ میں اسکی مثالیں پیش کی ہیں۔ عصری اسلاموفوبیا انڈسٹری مغرب کی اسلام سے بے بنیاد نفرت کا ایک کھلا ثبوت ہے۔ چینی اور روسی سیاسی نظام سےیہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے حکمران طبقے کو مغرب کے راستے پر نہیں جانے دیں گے ورنہ ان دونوں سپر پاورزکے حوالے سے بھی طویل مدتی نتائج خوشگوار نہیں ہونگے۔ اب تک انکا ریاستی میڈیا تو مغرب کی ‘وسیع البنیاد شمولیتی حکومت’ کی منطق کا ہی اسیر رہا ہے۔ یہ بالکل ویسی ہی پوزیشن ہے جو انہوں نے نائن الیون کے بعد امریکی حمایت میں لی تھی۔ اس وقت اس بات پر غورکرنا بھی مناسب نہیں سمجھا گیا تھا کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔ ہمیں امید ہے کہ چین اور روس اس مرتبہ اس غلطی کو دہرانے کے بجائے بہتر فیصلے کریں گے۔

افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد بین الاقوامی برادری کی طرف سے ایک اور مضحکہ خیز تجویز سامنے آئی کہ طالبان راتوں رات اپنے وعدوں کو پورا کریں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی نوزائیدہ بچے سے پیدائش کے فوراً بعد دوڑنے کی فرمائش شروع کر دے۔ اگر کوئی شخص ریاستی امورکی صرف ابجد سے بھی واقف ہو تواسکے علم میں ہوتا ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ ریاست کو مضبوط ہونے میں چند ماہ لگیں گے اسکے بعد ہی یہ کچھ کرنے کے قابل ہوگی۔

سابقہ حکومتی عناصر جوبیس سال تک افغانستان سے لڑنے والے دشمنوں کے پے رول پر تھے انہیں عبوری سیٹ اپ میں شامل ہونے کا کوئی حق نہیں۔ ہاں ریاست جن عقائد اور اقدار کی علمبردار ہے انہیں ماننے والے مختلف نسلی و لسانی عناصر کو ضرور شامل کیاجانا چاہیے۔ ان لوگوں کی شمولیت سے ریاست کے استحکام اور قانونی حیثیت میں اضافہ ہوگا۔ ایک بار جب ریاست مستحکم ہوجائے تو اسلامی اصولوں کے مطابق حکومت بنائی جائے۔ اسلام حکومت کی شکل میں غیر جانبدار ہوتا ہے۔ حکومت کی شکل کوئی سی بھی ہوبادشاہت، شہری ریاست، جمہوریت یا کوئی اور، اس سے قطع نظر اسلام صرف اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ اسکا نتیجہ عدل و انصاف ہونا چاہیے۔ قرآن کتاب انصاف ہے نہ کہ کتاب مساوات۔ یہ عدل و انصاف کی بات کرتا ہے جس کے تحت ہرحقدار کواسکا حق ملتا ہے، مساوات تو صرف یکسانیت کا نام ہے۔

ریاستی استحکام کی ابتدائی مدت گزرنے کے بعد حکومت سازی میرٹ کے اصول پر کی جانی چاہیے نہ کہ کثیر جماعتی جمہوریت کے اصول پر جس میں عالمی سرمایہ دار جمہوریت کے نام پر عوام کا استحصال کرتے ہیں۔ ہرنسلی پس منظر سے دیانتدار اور قابل لوگوں کا انتخاب کیا جائے، انکی تربیت کی جائے اور پھر انکے ذریعے حکومت چلائی جائے۔ ریاست اور حکومت کی تشکیل کے تمام مراحل میں یقیناً ان طبقات کی اہمیت زیادہ ہوگی جنہوں نے غیر ملکیوں کو نکالنے کیلئے زیادہ جدوجہد کی اورقربانیاں دیں اور ان لوگوں کی کم اہمیت ہوگی جنہوں نے اپنے لوگوں اور پڑوسیوں کو قتل کروانے میں ظالموں کا ساتھ دیا۔ یہ مقامی کامن سینس کی بات ہے جوبین الاقوامی برادری کی سمجھ سے بالاتر ہے۔

طالبان کیلئے اہم پیغام

ہم ان مجاہدین کی تعزیت کیلئے دعا گو ہیں جنہوں نے امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے ظالمانہ جنگی اقدامات کے خلاف اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اورامارات افغانستان کے غازیوں کو اس عظیم فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ پچھلی دو صدیوں سے مسلم دنیا پر مسلط کی جانے والی ذلت آمیز زندگی کے خلاف آپ نے انگریزوں، کمیونسٹوں اور امریکیوں کوسنگلاخ پہاڑوں میں انکے تمام جاہ و جلال کے ساتھ دفن کر دیا۔ آپ نے جتنی مشکلات برداشت کیں اور جو قربانیاں دیں وہ ملت کے استحکام کیلئے ہیں۔ ان سے آپ میں ایک ایسا کردار پیدا ہوا ہے جو سب کیلئے قابل فخر ہے۔ غیر ملکی قبضے کو کامیابی سے شکست دینے کے بعد اب بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا آپ کو جوسمت اختیار کرنے کی تجویز دے رہی ہے وہ مستقبل میں آپ کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ ہم آپ کو اسلامی تہذیب اورتعلیمات کی روشنی میں کچھ عاجزانہ تجاویز پیش کررہے ہیں جو آپ کے مستقبل کیلئے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

سب سے پہلی تجویز یہ ہے کہ وہ تلوار جو آپ نے دائیں ہاتھ میں پکڑ رکھی تھی اب اسے بائیں ہاتھ میں منتقل کیجئے اور دائیں ہاتھ میں قلم تھام لیجئے۔ فوجی مزاحمت کا دور اب آپ کے لئے ختم ہوچکا، اب ملک کے دفاع اور قوم کی تعمیر کی ضرورت ہے۔ آپ کے دشمن اب بھی آپ پر بمباری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ وہ اپنی کوششوں کو ایک ہائبرڈ جنگ کی شرارت کے ذریعے پوراکرنے کی کوشش میں ہیں جسکا مقابلہ کرنے کیلئے آپ کو مکمل طورپر تیار رہنا ہوگا۔ علم کی طاقت کے بغیر یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔

کئی دہائیوں پر محیط آپکی استقامت کا اصول’ پشتون ولی’ کے نو اصولوں میں سے ایک ہے۔ بیس سالوں تک آپ کو اذیتیں دی گئیں، جیلوں میں ڈالا گیا، تشدد کیا گیا، قتل کیا گیا لیکن دشمن آپ کو نہ پیسوں سے خرید سکا اور نہ سر تسلیم خم کرواسکا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ میں دشمن کے ظاہری اور جھوٹے وعدوں سے آگے دیکھنے کی بصیرت پائی جاتی ہے۔ بلندی کردار کے یہ وہ اخلاقی اور روحانی پہلو ہیں جو کسی ریاست اور حکومت کی قیادت کیلئے ضروری ہوتے ہیں۔ بصیرت جن صفات سے پیدا ہوتی ہے ان میں تزکیہ نفس، باطنی صفائی، کفایت شعاری، اپنے اوپرسختی، دوسروں کے ساتھ نرمی اور سخاوت شامل ہیں۔ آپ نے اپنے خلاف لڑنے والوں کو عام معافی دے کر یہ بھی ثابت کر دیا کہ آپ ان صفات کے حامل ہیں۔ اگر آپ ظالموں سے بدلہ لیتے تو وہ بھی انصاف کے اصول کے مطابق ہوتا جس طرح دوسری جنگ عظیم کے فاتحین کی طرف سے نوریمبرگ ٹرائلز (Nuremberg trials) کے ذریعے کیا گیا لیکن آپ نے معاف کرنے کے اسلامی اصول کو ترجیح دی۔

یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ تحریکیں بڑے جذبے کے ساتھ شروع ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتا جاتا ہے کیونکہ بڑا مقصد حاصل ہوجانے کے بعد کارکنان گوشہ عافیت میں چلے جاتے ہیں۔ برائی کی طاقتیں جو ہمیشہ گھات لگا کر بیٹھی ہوتی ہیں وہ کارکنان کے اطمینان اور آرام طلبی کو دیکھتے ہوئے پلٹ کر وار کرتی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ آپ لوگوں کی قیادت میں افغانستان جلد ہی ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے ایک مضبوط ملک بن کر ابھرے گا۔ اس بات پر خصوصی نظر رکھی جائے کہ لوگوں کی بنیادی ضروریات زندگی پوری ہوں اور صرف ایک درمیانے درجے کی خوشحالی کا ہدف حاصل کیا جائے۔ ضرورت سے زیادہ دولت اور عیش و عشرت آپ کی محنت کش آبادی کو بھی خلیجی ریاستوں کے عربوں کی طرح موٹا، سست اور بزدل بنا سکتی ہے۔

افغانستان میں مغربی جبر کی آخری بڑی لہر نائن الیون کے بعد آئی۔ اس لہر کو بالآخر مستقل طورپر ختم ہونے میں مزید دو، چار سال لگ سکتے ہیں۔ جب یہ لہر سونامی کی طرح اترے گی تو آپ کے پڑوس سے بھی بہت سےآلودگیوں کو واپس بہالے جائے گی۔ اگرچہ آپ اپنے ہاں آنے والی تبدیلی سے پڑوس کو متاثر نہیں کرنا چاہتے لیکن آپ کی فتح سےقبل ہی پڑوسی علاقوں میں تبدیلی آنے لگی ہے۔ آپ کی فتح سے متاثر ہوکر کشمیر کی تحریک، خالصتان کی تحریک، فلسطین کی تحریک اور پاکستان میں کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف تحریک پہلے سے ہی جبر کی عالمی طاقتوں کے خلاف زور پکڑ چکی ہے۔

اسلام، اس سیکولر، لبرل سیاسی فلسفے کوقبول نہیں کرتا جس کے بطن سے جدید جمہوری فراڈ جنم لیتے ہیں۔ آپ بھی یقیناً اس سے دور رہیں گے۔ جدیدیت سے متاثر مسلمان آپ کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ شوریٰ کا تصور جمہوریت ہی ہے حالانکہ اس بیان میں کوئی صداقت نہیں۔ مغربی طرز کی جمہوریت کا اسلامی شوریٰ سے کوئی تعلق نہیں۔ شوریٰ تو خاندان سے لیکر ریاست تک، معاشرے کے تمام درجات پر مشاورت کا ایک نظام ہے۔ آپ نے جس طرح اپنی مزاحمت کے دوران شوریٰ کے عمل کا آغاز کیا اسی طرح اب اسے ریاست اور حکومت کے ہر معاملے میں جاری رکھئیے۔

بڑی طاقتوں سے کیسے نمٹا جائے؟

پچھلے بیس سالوں میں مغربی ممالک کی حکومتیں آپ کی دشمن تھیں۔ انہوں نے آپ کے ملک پر قبضہ کیا، آپ کا خون بہایا اور علاقائی امن کو تباہ کیا۔ آپ انہیں معاف کر سکتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں چھپی ہوئی خباثت کو بھولنا دانشمندی نہیں۔ اس وقت صرف جارحانہ سفارتکاری ہی آپ کے حق میں بہتر حکمت عملی ہوسکتی ہے۔ یادرکھیں ! وہ کسی بھی قسم کی نرمی کے نہ مستحق ہیں اور نہ اس سے آپ کو کوئی فائدہ پہنچے گا۔ اگر آپ کو مزید کئی سال بھوکا رہنا پڑے تو پیٹ پر پتھر باندھیں لیکن ان قوتوں کے سامنے جھکیں مت۔ ان سے نمٹنے کیلئے شریعت کا قانون اور پختون ولی کے اصول ہی آپ کی رہنمائی کریں گے۔

آپ کہتے ہیں کہ پاکستان آپ کا دوسرا گھر ہے لیکن اگر آپ اسلامی اصولوں کے مطابق اپنی حکومت تشکیل دیتےہیں تو پھر یہ آپ کے پہلے گھر کا حصہ بن جائے گا۔ مغربی اقوام کی طرح افغانستان کوئی قوم نہیں بلکہ یہ ایک ایسا علاقہ ہے جو بہت سی قوموں پر مشتمل ہے۔ اسی طرح پاکستان بھی کوئی قوم نہیں بلکہ چار، پانچ قومیتوں اور قوموںکا اتحاد ہے۔ پاکستان بھی اسلامی اقدار کےنام پر وجود میں آیا لیکن اسکی کرپٹ اور مغرب نواز اشرافیہ اصل مشن کو بھول گئی۔ بہت سے پشتون، ہزارہ اور تاجک مختلف جنگوں کے دوران یکے بعد دیگرے پاکستانی خطے میں آئے اور اسے اپنا گھر بنایا۔ آپ کے لوگ بھی یہاں نہ صرف پناہ گزین کے طورپر بلکہ باقاعدہ شہریوں کی طرح رہ رہے ہیں۔

مشکل حالات سے ہم نے یہی سیکھا ہے کہ افغانستان اور پاکستان دونوں کو دفاعی اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں ایک پیج پر رہنے کی ضرورت ہے ورنہ بے شمار پریشانیوں کا سامنا ہوگا۔ اگر ہم دفاع اور خارجہ پالیسی کو مربوط کرتے ہیں تو آپ کے وسائل کا معاشی کنٹرول افغانی ہاتھوں میں اسی طرح رہ سکتا ہے جس طرح پاکستانی وسائل کا معاشی کنٹرول پاکستانیوں کے ہاتھوں میں رہ سکتا ہے۔ آپ لینڈ لاک ملک ہیں اور آپ کو پاکستانی علاقوں تک رسائی حاصل کرنے کی زیادہ ضرورت ہے اور شاید پاکستان کو آپ کے علاقوں تک رسائی کی قدرے کم ضرورت ہے۔ تاہم تجارت کی غرض سے پاکستان کو وسط ایشیاء تک رسائی کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں آپکی مدد اور تعاون یک طرفہ انحصار سے باہمی انحصار میں بدل جائے گا جو دونوں ممالک کیلئے مفید ہوگا۔

ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ افغانستان کا کل رقبہ تقریباً 653000 مربع کلومیٹر ہے جس میں قابل کاشت رقبہ صرف 12 فیصد یعنی 78360 مربع کلومیٹر ہے۔ ایک مربع کلومیٹر میں 247 ایکڑ ہوتے ہیں اور امریکہ میں ایک ایکڑ رقبہ تقریباً ایک سے دو افراد کی سالانہ خوراک کیلئے کافی ہے۔ افغانستان میں اگر ایک ایکڑ دس سے پندرہ افراد کی خوراک کیلئے بھی مختص ہو تو آپ کی 38 ملین آبادی میں سے صرف 20 لاکھ افراد کو خوراک مہیا ہو سکتی ہے۔ آپ کے بقیہ 36 ملین افراد کو پاکستان سے خوراک امپورٹ کرنا پڑتی ہے کیونکہ پاکستان کی زائد گندم انکی خوراک کا سب سے سستا ذریعہ ہے۔ پاکستان کے 882000 مربع کلومیٹر رقبہ میں سے 40 فیصد قابل کاشت علاقہ اضافی گندم اور چاول پیدا کرتا ہے۔

آپ کو سمندر تک رسائی، خوراک، سیکورٹی اور جدید دفاعی صلاحیت کی تعمیر کیلئے پاکستان کی ضرورت ہے۔ اگر آپ افغان قوم پرستی پر عمل پیرا ہوں اور پاکستان یورپی روشن خیالی اور انکل سام کے نظریات پر عمل پیرا رہے تو دونوں ایک دوسرے کے مخالف رہیں گے۔ اگر پاکستان پسماندہ رہے گا تو آپ بھی بھوکے مریں گے۔ جب آپ اپنے وسائل دریافت کریں گے اور انہیں خوراک اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کیلئے دیگر اقوام کو فروخت کریں گے تو آپ کی عوام ہمیشہ دیگر اقوام کی مقروض ہی رہے گی۔ آپ اپنی سیاست کو پاکستان سے بالکل الگ رکھیں لیکن دیگر تمام معاملات میں پاکستان کے ساتھ شراکت داری کریں۔ آپ کی سیاست کو پاکستان سے الگ رکھنا اس لئے ضروری ہے کہ پاکستانی سیاسی اشرافیہ بھروسے کے قابل نہیں اور یہ اپنی طرح آپ کو بھی کرپٹ اور بدعنوانی کے دلدل میں دکھیل دے گی۔ جب تک پاکستان میں مکمل طورپر سیاسی بیداری پیدا نہیں ہوتی آپ یہاں کی سیاسی اشرافیہ سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔ جب تک وہ وقت نہیں آتا آپ سیاست کے علاوہ دیگر ہر میدان میں پاکستان میں ضم ہونے کی کوشش کریں۔

آپ آغاز میں ایرانی طرز کی معاشرت اپنانے کے امکانات رکھتے ہیں لیکن اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ نے سعودی ماڈل کی پیروی ہر گز نہیں کرنی کیونکہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ مسلم خواتین کے کردار کے حوالے سے اس بات کو یاد رکھیں کہ ہماری تاریخ میں خواتین نے مردوں کی فوجی قیادت بھی کی ہے۔ دیگر تہذیبوں میں تو آج خواتین اسکالرز سامنے آئیں لیکن ہماری تہذیب نے صدیوں پہلے خواتین اسکالرز پیدا کیں۔ صرف اسکالرز ہی نہیں ہمارے ہاں کی خواتین سلاطین کے عہدوں پر بھی فائز رہیں۔ پچھلے پچاس سال سے افغانستان میں امن نہیں تھا اور خواتین کی حالت بھی مردوں کی طرح صرف بقاپر مرکوز رہی۔ افغانستان میں خواتین کے حوالے سے آپ کی پالیسی ایک روایتی پشتون معاشرے کیلئے کافی حقیقت پسندانہ ہے۔ دوسروں کو آپ کے نقطہ نظر سے اتفاق نہیں، نہ ہو، لیکن آپ اسلامی احکامات پر قائم رہیں اور اپنی خواتین کی حفاظت کریں۔ خاندانی اکائی کی حفاظت کے لئے انسان سے نفرت کرنے والے فیمنسٹ نظریات کو پھلنے پھولنے کی بالکل اجازت نہ دیں۔ ہماری مائوں، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کی فلاح و بہبود کا ہر کام ہونا چاہیے اور اسکے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھانے چاہیں لیکن صنفی نظریات کی ترویج کیلئے باہر سے آنے والی مالی مراعات اور دبائو کا مقابلہ کریں۔ اگر آپ اس میں کامیاب ہوگئے تو ہماری خواتین پاکدامن رہتے ہوئے قومی زندگی کے ہر شعبے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گی۔

فوڈ سیکورٹی کے حوالے سے بہبود آبادی کے نقطہ نظر پر آپ کو اپنی پوزیشن پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ جنگ کے دنوں کے مقابلے میں اب خاندانی سائز ذرا چھوٹا ہونا چاہیے۔ دو نسلوں کے درمیان افغانستان میں قابل انتظام آبادی کا سائز 20 ملین سے کم ہونا چاہیے اور پاکستان کے معاملے میں بھی بہتر یہ ہے کہ یہ 220 ملین سے کم ہو کر 150 ملین رہ جائے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply