اکبر الہ آبادی ہر دور کا شاعر —- عطا محمد تبسم

0

اکبر الہ آبادی کو اس دنیا فانی سے گذرے سو برس گذر گئے۔ لیکن اب بھی ان کے چرچے ہیں، کیا بڑے اور کیا چھوٹے، کیا پیر اور کیا جواں، سب ان کی شاعری سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اکبر کو یہ غیر معمولی اور لافانی شہرت ان کی شاعری کی بدولت حاصل ہوئی۔ اکبر نے اپنی بات کہنے کے لیے مزاحیہ شاعری کو اپنایا۔ لیکن وہ غزل اور دیگر اصناف میں بھی بہت معتبر ہیں۔ شاعری نے انھیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا کر لافانی بنا دیا۔ اور آج سو برس بعد بھی وہ ایک زندہ شاعر کی طرح ہم سے مخاطب ہیں۔

اکبر کا ایک اور وصف، یہ ہے کہ وہ پرانی قدروں سے محبت رکھتے ہیں۔ وہ قوم کو تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی اپنانے کا درس دیتے ہیں۔ اور ااپنے کلچر، ا قدار، تہذیب، سے جڑے رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اکبر اردو کے وہ بڑے شاعر ہیں، جنہوں نے اپنی شاعری میں عام الفاظ اور اس دور کے انگریزی الفاظ کو بھی علامتی اور استعارے کے طور پر استعمال کیا۔ بقول شمس الرحمان فاروقی، ، اکبر نے میر تقی میر کے بعد اردو کے سب سے زیادہ الفاظ اپنی شاعری میں استعمال کیے ہیں۔ انھوں نے اردو کے عام الفاظ، اونٹ۔ گائے، شیخ، مرزا کے ساتھ ساتھ، انجن، اسکول، کوٹ، پتلون، ریل، موٹر، مسٹر، مس، ایروپلین، ڈنر، پائپ، نے ٹیو، اسپیچ، ہسٹری، لٹریچر، ڈبل روٹی، جیسے سینکڑوں الفاظ سے اردو کے دامن کو وسیع سے وسیع تر کردیا۔ اب یہ اردو زبان کا حصہ ہیں۔ ہمیں ان الفاظ کو مزید اردو میں ڈھالنے کا سلسلہ ختم کردینا چاہیئے۔

پانی پینا پڑا ہے پائپ کا۔ حرف پڑھنا پڑا ہے ٹائپ کا

اکبر نے غزل گوئی میں بھی اپنا نام بلند رکھا، اقبال کی طرح روایت کی پیروی میں اکبر کو بھی اپنی شاعری کی شروعات غزل گوئی سے کی۔ لیکن ان کا اصل میدان طنز و مزاح تھا۔ بہت سادہ اور آسان اور زبان زد عام ہونے والے اشعار میں انھوں نے طنز و مزاح کے وہ شگوفے کھلائے کہ آج بھی یہ اشعار عوام میں مقبول ہیں۔ اس شاعر ی میں وہ نہ انگریز سے ڈرے اور نہ مولوی سے، ہاں ی الگ بات ہے کہ وہ بیگم کی نوج سے شہید ہوگئے۔

اکبر ڈرے نہیں کبھی دشمن کی فوج سے۔ لیکن شہید ہوگئے بیگم کی نوج سے

انھیں اپنے قوم کے بچوں سے بہت محبت تھی، اور اس کا برملا اظہار بھی کرتے تھے۔

طفل میں بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی۔ دودھ تو ڈبے کا ہے تعلیم ہے سرکار کی

راہ مغرب میں یہ لڑکے لٹ گئے۔ واں نہ پہنچے اور ہم سے چھٹ گئے

اکبر ایسی تعلیم کے سخت مخالف تھے جو نوجوان نسل کو مشرقی تہذیب سے بیگانہ کردے۔ اس حوالے سے وہ دو ٹوک کہتے ہیں:

ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں۔ کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

اکبر نے ہمیشہ زندگی کےہر غلط پہلو کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مذہب، تعلیم، اخلاقیات، تہذیب و تمدن اور سیاست و معاشرت سمیت ہر شعبے میں تنقید کے تیز نشتر چبھوئے ہیں۔ وہ ایک جانب شیخ و واعظ پر طنز کرتے ہیں تو دوسری جانب ہماری نئی نسل کی غلط روش پر زبردست چوٹ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ نہ مسٹر کو بخشتے ہیں اور نہ ہی مولانا کو۔ وہ مذہب کے نام پر ریاکاری کے سخت مخالف ہیں۔

چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا۔ شیخو مسجد سے تعلق ترک کر اسکول جا
چار دن کی زندگی ہے کوفت سے کیا فائدہ۔ کھا ڈبل روٹی‘ کلرکی کر‘ خوشی سے پھول جا
کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا۔ جب کوئی تقریر کی جلسہ میں لیڈر بن گیا
قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ۔ رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ

اکبر کو ایسی تعلیم و طرز معاشرت سے سخت چڑ تھی جو عورت کی ذہنیت کو تبدیل کردے۔ وہ تعلیم نسواں کے نہیں ایسی تعلیم کےخلاف تھے جہاں عورت کی پردہ پوشی برقرار اور محفوظ نہ رہ سکے۔ انھوں نے عورت کی بے پردگی کے خلاف کھلم کھلا جہاد کیا۔

بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں۔ اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا۔ کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا

اکبر کی شاعری میں اخلاقیات کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ انھوں نے اپنے مزاحیہ کلام میں مسلمانوں کی اخلاقی پستی پر، انھیں ان کے زوال کے اسباب کا احساس دلا کر حالی و اقبال کی طرح خواب غفلت سے بیدار کرنے کی دردمندانہ کوشش کی۔ وہ اپنی قوم کے نونہالوں کو محنت، صنعت و حرفت، سائنس کی تعلیم کے حامی تھے۔ وہ مسلمانوں کے اختلاف پر کڑھتے تھے۔ اور علماء پر بھی تنقید کرتے تھے کہ وہ قوم کی رہنمائی کے باب میں خاموش ہیں۔

نئے مولوی برسر جوش ہیں
جو پیر طریقت ہیں خاموش ہیں
اختلافوں کے مہیا ہیں جب امکاں اتنے
متفق ہو نہیں سکتے ہیں مسلماں اتنے

وہ دین و مذہب کے حوالے سے بحث و مباحث میں الجھنے کو سعی لاحاصل سمجھتے تھے۔ وہ اپنے مشاہدے سے اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ

فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سِرا ملتا نہیں

ان کی طویل نظم بعنوان ’’شریعت و طریقت‘‘ایک الہامی نظم ہے۔ خواجہ حسن نظامی جیسے عالم و فاضل اہل قلم اور دانشور نے اس نظم کو الہامی قرار دیا ہے۔

سنو دو ہی لفظوں میں مجھ سے یہ راز
شریعت وضو ہے طریقت نماز
طریقت شریعت کی تکمیل ہے
شریعت عبادت کی تکمیل ہے

اکبر الہ آبادی کو اقبال سے محبت تھی۔ اور علامہ اقبال بھی انھیں اپنا مرشد مانتے تھے۔ لسان العصر اکبر الہ آبادی اور علامہ اقبالؒ دونوں مسلمانوں کی سیاسی محکومی سے نجات چاہتے تھے۔ وہ اس بارے میں بھی متفق تھے کہ مسلمانوں کو اپنی آزادی اور اپنا وجود منوانے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنا چاہیئے۔ اکبر اور اقبالؒ کے اسلوب و انداز الگ ہیں لیکن دونوں کی شاعری کا مرکزی خیال اپنی قوم کی اصلاح ہے۔ مسئلہ توحید، عشق الٰہی و عشق رسولؐ میں دونوں یکجا ہیں۔ دونوں مغرب کی اندھی تقلید کے مخالف اور مسلمانوں کی تعلیمی و سائنسی ترقی کے حامی تھے۔

اکبر الٰہ آبادی اردو زبان کے پہلے شاعر ہیں جنھوں نے انگریزی الفاظ کو اردو کے سانچے میں ڈھال کر ایک نئی طرز کی بنیاد رکھی۔ وہ بامقصد اور مزاحیہ شاعری کے اولین میں ہیں۔ وہ مسلمانوں کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کی شاعری میں روئے سخن زیادہ تر مسلمانوں ہی کی طرف رہا۔ جس کا اندازہ ان کی خدا پرستی اور حبیب خدا حضرت محمدؐ کے ساتھ والہانہ عقیدت و محبت سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

خوف حق الفت احمدؐ کو نہ چھوڑ اے اکبر
منحصر ہے انھیں دو لفظوں پہ سارا سلام

ان کے چند اشعار سے ان کے افکار اور خیالات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

اک دن تھا وہ کہ دب گئے تھے لوگ دین سے
اک دن یہ ہے کہ دین دبا ہے مشین سے
وہ باتیں جن سے قومیں ہو رہی ہیں نامور سیکھو
اٹھو تہذیب سیکھو‘ صنعتیں سیکھو‘ ہنر سیکھو

(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply