کہانیاں بے وقوف عقلمندوں کی — خبیب کیانی

0

عبداللہ المحمد اپنی تین سالہ بیٹی سلوی کے ساتھ شام کے ایک ایسے علاقے میں رہائش پذیر ہیںجہاں آئے روز فضائی حملے معمول کی بات ہیں۔ تین سالہ سلوی کو اونچی آواز کے ان دھماکوں سے ڈرتا دیکھنا عبداللہ کے لیے بہت تکلیف دہ ہے اور اس سے بھی بڑھ کر تکلیف دہ یہ بات ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ کسی محفوظ علاقے میں نہیں جا سکتے۔ ایسی مشکل صورتحال میںگبھرا اٹھنا یا لڑکھڑا جانا بالکل سمجھ آتا ہے لیکن عبداللہ نے گبھرانے کے بجائے اس صورتحال کا ایک حل ڈھونڈ نکالا۔ انہوں نے سلوی کو کسی طرح سے یہ یقین دلا دیا کہ جب بھی جہاز کی آواز آئے اور اس کے بعد دھماکہ سنائی دے تو اس کی آواز سے ڈرنے کے بجائے اس پر قہقہہ لگا کر اس سے محظوط ہونا چاہیے۔ بچی کے لیے اس بات کو ماننا آسان نہ تھا مگر جب اس نے کئی مرتبہ اپنے باپ کو دھماکے کی آواز پر قہقہے لگا کر ہنستا دیکھا تو آہستہ آہستہ اس کے ننھے ذہن نے باپ کے اس آئیڈیا کو تسلیم کر لیا۔ عبداللہ نے اپنے او ر اپنی بیٹی کے ان قہقہوں کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ تک پہنچا دی۔ ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی اور جہاں اس نے دنیا بھر کے لوگوں کوشدید افسردہ کیا وہیں اس ویڈیو نے یہ پیغام بھی دیا کہ بعض اوقات بد ترین حالات میں بھی اگر حواس پر قابو رکھ کر کوئی بظاہر احمقانہ نظر آنے والا حل ڈھونڈ کر دل کو سمجھا لیا جائے تو حالات کے ہاتھوں نہ صرف دل چھوڑنے سے بچا سکتا ہے بلکہ ایک دنیا کو انسپیریشن یا مثبت تحریک بھی دی جا سکتی ہے۔ یہ اس طرف بھی اشارہ تھا کہ کسی اور حل کی عدم موجودگی میں مشکل سیچوئشن کی کامیڈی بنانا بھی ایک فن ہے جس کے لیے ہمیں ہمیشہ اپنے اندر کے احمق عقلمند سے رابطے میں رہنا ہوتا ہے۔ اس فن کے حامل افراد عبداللہ کی طرح نہ صرف برے وقتوں سے اچھے طریقے سے ڈیل کرپاتے ہیں بلکہ اچھے وقتوں کو بھی اپنے لیے اور دوسروں کے لیے یادگار بنا دیتے ہیں۔

منظر بدلتے ہیں، اکہترویں آسکر ایوارڈز کا میلہ امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں جاری ہے۔ حاضرین کے لباس، جسمانی حرکات اور چہرے کے تاثرات سب کچھ آسکر ایوارڈز کی مناسبت سے بہت رسمی اور نپے تلے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح دنیا بھر کے فلم شائقین کی نظریں اپنی ٹی وی سکرینوں پر جمی ہوئی ہیں۔ باری ہے بیسٹ فارن لینگوئج فلم ایوارڈ کو انائونس کرنے کی جس کے لیے سٹیج پر خوبرو انسان اور منجھی ہوئی اطالوی اداکارہ صوفیہ لورن نمودار ہوتی ہے۔ جیتنے والی فلم کا نام صوفیہ کے ہاتھ میں موجود ایک لفافے میں محفوظ ہے جسے اس نے انتہائی نفاست سے نکالا اور نام دیکھتے ہی یہ بھول گئی کہ اسے فلم کا نام انائونس کرنا ہے۔ اس کے منہ سے بے اختیا ر ایک لفظ نکلا۔ ۔ روبرتوووو۔ ۔ یہ نام جیتنے والی فلم کا نہیں بلکہ جیتنے والی فلم کے ڈائیریکٹر کا ہے۔ یہ کہانی ہے 1997کے آسکرز ایوارڈ کی، اطالوی فلم ـلائف از بیوٹی فل یہ ایوارڈ لے اڑی تھی اور اس فلم کے ڈائریکٹر کا نام تھا روبرٹو بینینی۔ روبرٹو بینینی اس ایوارڈ کی تقریب میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ موجود تھا اور اپنا نام فاتح کے طور پر سنتے ہی وہ آسکر ایوارڈ کے سب اصول ضابطے بھول گیا۔ نام سنتے ہی پہلا کام جو روبرٹو نے کیا وہ تھا اپنی دونوں ٹانگوں کو فضا میں اپنے سر سے بھی اوپراٹھا لینا، اس کے بعد وہ اپنے سے آگے والی نشست پر بیٹھے شخص کے عین کندھوں کے اوپر چڑھ کر کھڑا ہوکر ہوا میں مکے لہرانے کے بعد اس شخص کے اوپر سے پھلانگتے ہوئے اس سے اگلی نشست پر جا پہنچا۔ اس نشست پر مشہور ہدایتکار سٹیون سپیلبرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ سپیلبرگ پہلے ہی بہت خوشی سے روبرٹو کو دیکھ کر تالیاں بجا رہے تھے مگر جب اچانک روبرٹو ان کے کندھے کے عین اوپر ان کی نشست پر آکر کھڑا ہو گیا تو اس خدشے سے کہ کہیں خوشی مناتے ہوئے روبرٹو گر نہ جائے سپیلبرگ نے اسے تھا م لیا۔ کچھ ہی دیر میں روبرٹو اپنا ایوارڈ وصول کرنے کے لیے سٹیج کی طرف لپکا، یہ چھوٹا سا سفر بھی دیکھنے میں ویسے ہی بے وقوفانہ سا لگ رہا تھا جیسے کہ روبرٹو کا ابتدائی رد عمل تھا۔ سیڑھیوں کے پاس پہنچ کر روبرٹو نے بچوں کی طرح دونوں پائوں کو ملا کر جمپ کرتے ہوئے ایک ایک سیڑھی کو پھلانگا اور سٹییج پر جا پہنچا۔ اس کی مختصر سی تقریر میںفرط مسرت سے اطالوی اور انگریزی زبانیں مکس ہوتی رہیں، تقریر میں بھی روبرٹو نے ایسی کئی باتیں کیں جو بظا ہر بہت بے وقوفانہ یا مزاحیہ لگ رہی تھیں مثال کے طور پر جب اس نے ماں باپ کا شکریہ ادا کیا تو اس نے کہا کہ میںاس ایوارڈ کے لیے اپنے ماں باپ کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں مجھے میرٰ ی زندگی کا سب سے بڑا تحفہ دیا، غربت کا تحفہ، میں ساری زندگی اس کے لیے ان کا شکر گزار رہوں گا۔ آسکرز جیسی رسمی تقریب جہا ں تقریبا سبھی لوگ خود کو بہت پروقار دکھائی دینے اورسنائی دینے کے لیے تیا ر کر کے لاتے ہیںروبرٹو کا یہ انداز بہت مختلف تھا۔ جیتنے کے جشن کے دوران کچھ لوگ اسے روکنے کی کوشش بھی کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جہاں اس دنیا کے چھوٹے سے چھوٹے سٹیج پر ہم میں سے ہر کوئی خو د کو پھنے خان اور پروقار ثابت کرنے کی ہر جائز و ناجائز کوشش کر رہا ہے وہا ں روبرٹو کو کیا ضرورت پیش آگئی کہ دنیا کے اتنے بڑے سٹیج پر خود کو ایک جوکر بنا لیا۔ کیا روبرٹو اور عبداللہ کی کہانیاں ایک ہی پیغام لیے ہوئے ہیں۔ میرا خیا ل ہے کہ اس سوال کے جواب کے لیے روبرٹو کی جیتنے والی فلم پربھی تھوڑی سی بات کی جانی چاہیے۔

روبرٹو کا کہنا ہے کہ ایک دن بیٹھے بیٹھے میرے ذہن میں خیال آیا کہ اگر اس بات کو سچ مان لیا جائے کہ ایک منجھا ہوا کامیڈین ہر طرح کی سیچوئشنز میں سے کامک اینگل یا کامیڈی ڈھونڈ نکالتا ہے تو وہ سخت سے سخت سیچوئشن کیا ہو سکتی ہے جو مجھے بطور کامیڈین چیلنج کرے۔ اس پر غور کرتے کرتے روبرٹو اس نتیجے پر پہنچا کہ جرمن فوجیوں کے concentration camp میںایک کیریکٹر کو کامیڈی کے لیے چیلنج کیا جانا چاہیے۔ ایک ایسی جگہ جہاں ہر روز لوگ مارے جا رہے ہوں جہاں اس کیریکٹر کی اپنی جان کو مستقل خطرہ ہولیکن وہ پھر بھی وہاں کوئی پر مزاح اینگل ڈھونڈ نکالے۔ اسی لائن پر سوچتے ہوئے فلم لائف از بیوتی فل لکھی گئی جس کی کہا نی کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک ہنسی خوشی رہنے والے جوکر طبیعت لڑکے گوئڈو کو ایک لڑکی سے محبت ہوجا تی ہے۔ فلم میں گوئڈو کا کیریکٹر روبرٹو نے خود نبھایا ہے۔ دونوں لڑکا لڑکی بہت سی مشکلات کے بعد شادی کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ زندگی ہنسی خوشی آگے بڑھتی رہتی ہے اور ان کا ایک بیٹا پیدا ہوتا ہے۔ جب بیٹا پانچ چھ سال کا ہوتا ہے تو جرمن فوج حملہ کر کے پورے خاندان کو قیدی بنا کر concentration camp لے جاتی ہے جہاں گوئڈو اور اس کا بیٹا اکٹھے رہتے ہیں اور گوئڈو کی بیوی کو عورتوں کے ساتھ الگ رکھا جاتا ہے۔ اس انتہائی مشقت بھری قید میں ہر روز کئی لوگوں کو قتل کر دیا جاتا ہے یا بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ گوئڈو اس چیز کو بھانپتے ہوئے کہ اس کا بیٹا اس ظلم اور بھوک بھرے ماحول سے خوفزدہ ہو جائے گا اپنے بیٹے کے لیے ایک کہانی گھڑتا ہے، بد ترینsituationمیں کامیڈی پیدا کرتا ہے اور اس کو یہ یقین دلاتا ہے کہ یہ تمام معمول دراصل بچوں کے لیے ڈیزائنڈایک گیم ہے جس میں جو بچہ روئے گا نہیں، کھانا کم کھائے گا، اپنی ماں سے ملنے کی ضد نہیں کرے گا اور جب جب ممکن ہوجرمن فوجیوں سے چھپ کر رہے گا اس کے پوائنٹس زیادہ ہوتے جائیں گے اور جس بچے کے پاس سب سے پہلے ایک ہزار پوائنٹس ہو جائیں گے اسے آخر میں بطور انعام ایک اصلی ٹینک ملے گا۔ فلم کئی شاند المحات اور پیچیدہ انسانی جذبات کو لے کر آگے بڑھتی رہتی ہے اور بچہ گیم سمجھ کر بھوک پیاس، ظلم اور ماں سے دوری برداشت کرتا رہتا ہے جبکہ گوئڈو جرمن فوجیوں کے بد ترین ظلم کے باوجود اپنے بیٹے کو ہنسانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ فلم بیک وقت اپنے ناظر کو قہقہے لگا کر ہنسانے کے ساتھ ساتھ سسکیاں لے کر رلانے کا کام بھی خوب کرتی ہے۔ فلم کے آخر میں عین اس دن سے ایک دن پہلے جب اتحادی افواج آکر جرمن فوج پر فتح پا لیتی ہیں اور اس کے ٹینک کیمپ میں داخل ہوتے ہیںگوئڈو جرمن فوج کے ہاتھوں مارا جاتا ہے۔ اس ساری کہانی میں گوئڈوعبد اللہ الحمد کی طرح اپنے بیٹے کو ہنسانے کی بھرپور کوشش کرتا رہتا ہے۔

بطور ماہر نفسیات میرا ماننا ہے کہ بے وقوف یا احمق لیبل کیے گئے تمام انسانوں کا ایک اچھا خاصا حصہ در حقیقت سیانے لوگو ں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ لوگ اس بات کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں کہ اپنے اندر کے مورکھ یا جوکر کو کبھی بھی نہیں بھولنا چاہیے کیو نکہ جو لوگ خود کو یا زندگی کو غیر ضروری طور پر سنجیدہ لے لیتے ہیں وہ نہ تو زندگی کے اچھے لمحات کو بھر پور طور پر جی پاتے ہیں اور نہ برے دنوں میں اپنے ہوش و حواس پر قابو رکھ پاتے ہیں۔ پاکستانی سٹیج آرٹسٹ امانت چن صاحب اس مائنڈ سیٹ کی بہترین مثال ہیں، جہاں ہمارے معاشرے میں کالی رنگت کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد پریشان پھرتی رہتی ہے وہیں اسی کالی رنگت کو لے کر اپنی فنکارانہ صلاحیتوں سے اپنا ہی مذاق اڑا کر امانت چن صاحب نے نہ صرف خود کو احساس کمتری سے بچایا بلکہ ایک شاندار کیرئیر کے ساتھ ساتھ لوگوں کی محبت سمیٹنے میں بھی کامیاب ہوئے۔
تو آئیں ہم بھی اپنی اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں اور خود پر ہنسنا سیکھیں، ہر اس مسئلے میں جہاں اپنی ساری عقل لگا کرہم کوئی حل نہ ڈھونڈ پائیں وہاں اپنے اندر کے بے وقوف عقلمند سے مدد مانگیں کیونکہ جہاں عقل جواب دے جائے وہاں سے آگے کی منزلیں وہی فیصلے ڈھونڈتے ہیں جنہیںہم اکثر بے وقوفی کے خانے میں ڈال دیتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply