’’افسانہ درافسانہ‘‘ : شان الحق حقی کاافسانہ زیست — نعیم الرحمٰن

0

’’افسانہ درافسانہ‘‘ اردوکے نامورادیب، شاعر، دانشور، محقق اورلغت نویس شان الحق حقی کی خود نوشت ہے۔ جس کے کچھ حصے صہبا لکھنوی کے’ افکار‘ میں بھی شائع ہوئے۔ اس خودنوشت کومرحوم کے صاحب زادگان نے شائع کروایااورفیروز سنزنے اپنے روایتی حسن طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ دوہزارسترہ میں شان الحق حقی کے انتقال کے بعد اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے بھی ان کی دوکتابیں ’’نگارخانہ‘‘ جو ان  کے خاکوں اور شخصی مضامین پر مشتمل ہے اور جس کا خاص مضمون شان الحق حقی کا اپنے والد کے بارے میں ’’نادان دہلوی‘‘ کے عنوان سے خاکہ ہے۔ دوسری کتاب ان کے مزاحیہ مضامین کا مجموعہ ’’نوک جھوک‘‘ ہے۔

شان الحق حقی 15ستمبر1905ء کودہلی میں پیداہوئے اور2017ء میں اس جہانِ فانی سے عالم جاودانی کوچ کیا۔ ان کاتعلق دہلی کے مشہور علمی خاندان سے تھا۔ آپ کے والدمولوی احتشام الدین حقی کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں افسانہء پدمنی، مطالعہ حافظ، ترجمان الغیب اورلغات کی تالیف مشہور ہیں۔ بارہویں پشت سے حقی صاحب کاسلسلہ نسب حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ سے جاملتاہے۔ ان کی والدہ ماجدہ سعیدی بیگم ڈاکٹرمشرف الحق کی بیٹی تھیں اورجو ڈپٹی نذیراحمدکے نواسے تھے اوربرصغیرکی چنداولین شخصیات میں تھے جنہوں نے کسی یورپی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ اُن کا تھیسس فارسی عربی مخطوطات پرحواشی برلن سے شائع ہواتھا۔ شان الحق حقی کی بیگم سلمیٰ حقی دخترخان بہادرسلام الحق لیکچرار علی گڑھ وکراچی بھی علمی وادبی حلقوں میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔ شان الحق حقی اردو زبان کے اسرارورموزسے نہ صرف بخوبی واقف تھے، بلکہ سندکی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ ایک طویل عرصہ تک اردوڈکشنری بورڈ سے منسلک رہے۔ انہوں نے اوکسفرڈیونیورسٹی پریس پاکستان کے لیے مشہورزمانہ The Concise Oxfoerd Dictionary کا ذولسانی ایڈیشن اوکسفرڈانگلش اردوڈکشنری کے نام سے تیارکیا۔ اس کے علاوہ اردومیں انہوں نے فرہنگ تلفظ بھی مرتب کی۔ جسے مقتدرہ اردو نے شائع کیا۔ حکومتِ پاکستان نے علمی وادبی خدمات کااعتراف شان الحق حقی کو’’تمغہ قائداعظم‘‘ اور’’ستارہ امتیاز‘‘ عطا کیا۔

شان الحق حقی نے 1941ء میں مترجم کی حیثیت سے شملہ میں ملازمت کاآغازکیا۔ کچھ عرصہ آجکل دہلی کے نائب مدیررہے۔ پاکستان آنے کے بعدبرٹش کاؤنسل میں لائبریرین کے فرائض انجام دیے۔ پبلک سروس کمیشن میں افسراشتہارات مقررہوئے۔ محکمہ مطبوعات وفلم سازی میں اسسٹنٹ وڈپٹی ڈائریکٹر رہے۔ کولمبو پلان منصوبے کے تحت لندن سے ٹریننگ حاصل کی اورکئی یورپی ممالک کے سفرکیے۔ 1968ء میںپی ٹی وی کے پہلے منیجر سیلز مقرر ہوئے، جہاں سے سبکدوش ہونے کے بعد بحیثیت ڈائریکٹر ایڈورٹائزنگ ایجنسی سے وابستہ رہے۔ ملازمت کے دوران ترقیِ اردوبورڈکراچی میں رکن و معتمدِ اعزازی کی حیثیت سے گراں قدرخدمات انجام دیں۔ ان کی پہلی مطبوعہ تصنیف ’انتخابِ ظفرمع مقدمہ‘ انجمن ترقی اردودہلی نے شائع کی۔ دیگر تصانیف و تالیفات میں ’’نشیدِ حریت‘‘، ’’خیابان ِپاک‘‘، ’’انجان راہی‘‘، ’’تیسری دنیا‘‘، ’’نذرِخسرو‘‘ (پہیلیاں اورکہہ مکرنیاں) شاخسانے (افسانے) شیکسپیئر کے ڈرامے ’’انطنی وقلوپطرہ ‘‘ کا منظو م ترجمہ ’’نکتہ راز‘‘ (مضامین کاپہلامجموعہ)، ’’بھگودگیتا‘‘منظوم ترجمہ، ’’ارتھ شاستر‘‘ اردوترجمہ کے علاوہ شعری مجموعے ’’تارِ پیراہن‘‘، ’’حرفِ دل رس‘‘(غزلیات) اور’’سہانے ترانے‘‘ بچوں کی نظمیں شامل ہیں۔

شان الحق حقی کاخودنوشت ’’افسانہ درافسانہ‘‘کے بارے میں کہناہے۔ ’’ہرشخص کی زندگی میں کچھ ایسے واقعات ہوتے ہیں جوکسی عنوان سے دلچسپ یامعنی خیزہوں لیکن پوری داستان دوہرانے کے قابل نہیں ہوتی۔ اس لیے میں نے سوچاکہ اپنی زندگی کے جستہ جستہ واقعات ومشا ہدات جیسے جیسے یاد آئیں قلم بند کرتاجاؤں۔ ان میں کوئی ربطِ زمانی ہوناضروری نہیں۔ لیکن ایک خیال سے دوسرے خیال کوراہ ملتی ہے اور ایک یاد سے دوسری یاد تازہ ہوتی ہے۔ اس لیے شایدخیال کی ان کڑیوں میں خودبخود کوئی تسلسل پیدا ہوجائے۔ اسی بناپراس سلسلے کے لیے ’’ افسانہ درافسانہ‘‘ کاعنوان سوچاہے۔ جواپنے ہی ایک شعرسے مستعارہے۔
پھر وہی دنیا دل دیوانہ یاد آنے لگی
زندگی افسانہ درافسانہ یاد آنے لگی
ان تحریروں کوحتی الامکان کوری جذباتیت سے بچانے کی کوشش کروں گا۔ ‘‘

نامورمزاح وڈرامہ نگارانورمقصودلکھتے ہیں۔ ’’ شان صاحب میرے لیے فرہنگ کی طرح ہیں۔ میں تھے نہیں لکھاکیوں کہ بڑے انسان نظرو ں سے جُدا ہوجاتے ہیں، ذہن سے کبھی جُدانہیں ہوتے۔ حافظ کے شعرکامطلب، سعدی کے شعرکامطلب، غالب کے شعرکامطلب اگر پوچھناہوتومیں صرف شان صاحب کو فون کرتاتھا۔ وہ مطلب اتنی آسانی سے بتادیتے تھے جتنی آسانی سے ہماری حکومت کے وزیررشوت لے لیتے ہیں۔ مگرآپ بیتی لکھتے وقت شان صاحب کوروزوشب کے کئی اوراق اُلٹنے پڑے۔ شان صاحب اردوکی ایسی عمارت ہیں جس کے ہرکمرے سے ہمیں بہت کچھ مل جاتاہے۔ ایک کمرے سے شاعری دوسرے سے لغات، تیسرے سے پہیلیاں اورکہہ مکرنیاں، کسی کمرے سے ترجمے، کسی کمرے سے تنقید اورکسی کمرے سے خسروسے ملاقات ہوتی ہے۔ اردوادب پرجوشان صاحب کا احسان ہے وہ ہم کبھی اتارنہیں سکتے۔ میں شان صاحب کے بیٹے شایان کاممنون ہوں کہ انہوں نے اپنی محبت اورمحنت سے وہ حق ادا کیاجوہم پرفرض تھا۔ ‘‘

مایہ نازمحقق، نقاد، شاعراورپنجاب یونیورسٹی کے پروفیسرایمریٹس اردوخواجہ محمدذکریانے پیش لفظ’’افسانہ ازافسانہ می خیزد‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے۔ ’’ دنیامیں کوئی دولوگ ایک دوسرے کامثنے نہیں، اس لیے کسی ایک فرد کی زندگی کے واقعات دوسرے فرد کی زندگی کے واقعات کی تکرار نہیں ہوتے۔ قدرت نے ہرانسان کولکھنے کی صلاحیت نہیں دی۔ مگرجنہیں صلاحیت دی بھی ہے اوربھرپورزندگیاں بھی عطاکی ہیںاُن میں بھی بیشترمختلف وجوہ کی بناپراپنے تجربات اورمشاہدات کوقلم بندنہیں کرتے۔ ہمیں اُن لوگوں کااحسان مندہوناچاہیے جنہوں نے اپنی آپ بیتیاں تحریر کی ہیں۔ بے شک یہ کام مشکل بھی بہت ہے۔ خصوصاً اپنی ذات کوسمجھنابہت دشوارہے، جن افراد سے آپ کاواسطہ رہا ان کوسمجھنا بھی سہل نہیں۔ کہیں آپ کی ترجیہات ہوتی ہیں، تعصبات ہوتے ہیں، کچھ شعوری، کچھ تحت الشعوری، اس لیے جب بھی کوئی شخص خود نوشت تحریرکرتاہے توکوشش کے باوجود ان سے چھٹکارانہیں پاسکتا۔ ہمارے ہاں نصف صدی سے خودنوشت لکھنے کاجورحجان فروغ پذیرہے وہ چند درچندوجوہ کی بناپرلائقِ ستائش ہے۔ کتنی ہی اچھی آپ بیتیاں طبع ہوکراردوادب میں خوش گواراضافوں کاباعث بنی ہیں۔ انہی میں شان الحق کی خودنوشت بعنوان’افسانہ درافسانہ‘ بھی ہے۔ اردوکی بہت کم آپ بیتیاں ہیں جوافادیت میں ’افسانہ درافسانہ‘ کی برابری کرسکتی ہیں۔ یہ آپ بیتی ادبی، علمی، سماجی اورتہذیبی بے شمارسطحوں پرہمیں روشنی فراہم کرتی ہے۔ اس خودنوشت سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ بے تعصبی میں حقی صاحب کاجواب نہیں۔ وہ افراد اورواقعات کوایک فاصلے سے دیکھتے ہیںاوریوں ان کے بارے میں صحیح فوکس کرکے حقیقی تصویربنالیتے ہیں۔ اسی طرح وہ سیاسی، سماجی اورمعاشی نظریات کوبھی کسی ازم کی عینک لگاکردیکھنے کے بجائے اپنے ذہن کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ بعض سری یامخفی علوم میں دلچسپی رکھنے کے باوجودعقل پسندہیں اورآخری تجزیے میں عقل ہی کورہنمابناتے ہیں۔ یہ عقلی رویہ ہی انہیں بے تعصبی، اعتدال اورصحیح قوت ِ فیصلہ عطاکرتاہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس خودنوشت کے مطالعے سے حقی صاحب کی پوری شخصیت نمایاں ہوجاتی ہے۔ ان سے میری صرف دوملاقاتیں ہوئی ہیں اوروہ بھی کچھ فاصلے سے لیکن ’افسانہ درافسانہ‘ کے مطالعے سے میں اُن کی بیرونی اورداخلی شخصیت کے تاروپودسے واقف ہوگیاہوں۔ یہ خصوصیت بہت کم آپ بیتیوں میں ملتی ہے۔ اکثرآپ بیتی لکھنے والے بھاری نقاب پہن کربیٹھتے اورچلتے پھرتے ہیں۔ اکثراپنے مخالفین کونشانہ بناکراپنی تسکین کرتے ہیں اورجن باتوں کازندگی میں بدلہ نہ لے سکے ان کاحساب اپنی خودنوشتوں کے ذریعے برابرکرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے بھی قلم کارہیں جن کی زندگیاں افادیت کی حامل تھیں مگران کے قلم میں جان نہیں۔ غرض ’افسانہ درافسانہ‘ میں آپ ایک ایسے شان الحق حقی سے آگاہ ہوتے ہیں جس نے علمی اورادبی کارنا مے ہی انجام نہیں دیئے بلکہ تجربات کے تنوع، مشاہدے کی باریک بینی، درست تجزیے اورحق گوئی کے عناسرکوبروئے کارلاکرایک ایسی آپ بیتی لکھ دی ہے جوکبھی فراموش نہیں کی جاسکے گی۔ ‘‘

شان الحق حقی نے اردوادب کی خدمت مختلف جہتوں میں کی ہے۔ وہ اپنی شاعرانہ حیثیت کومقدم رکھتے ہیں لیکن بحیثیت ایک محقق، مترجم، افسانہ نگار، بچوں کے ادیب اورسب سے بڑھ کرایک لغت نویس کے طورپران کامقام مسلمہ ہے۔ اس خودنوشت میں یہ تمام جہتیں واضح نظر آتی ہیں لیکن چونکہ ان کے مزاج میں انکسارہے اس لیے وہ اپنی زبان قلم سے انہیں زیادہ نمایاں نہیں کرتے۔ صرف شاعری اورتراجم کاذکر ذرا تفصیل سے کرتے ہیں اورباقی جہتوں کوروا داری سے نپٹاکرآگے بڑھ جاتے ہیں۔ تاہم اس خودنوشت کے مطالعے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ ان کی تمام علمی اورادبی خدمات کابھرپورجائزہ لیاجاناضروری ہے اورکسی محقق کویہ فرض نبھاناچاہیے۔

’’افسانہ درافسانہ‘‘ زمانی ترتیب سے نہیں لکھی گئی۔ اس کااعتراف مصنف نے خود بھی کیاہے لیکن کیاکسی خودنوشت میں زمانی ترتیب کی سختی سے پابندی کی جاسکتی ہے؟ بہت سے خودنوشتوں میں بچپن سے شروع ہوکربڑھاپے کی طرف جاتی ہیں۔ بظاہریہ زمانی ترتیب ہے لیکن لکھنے والا جگہ جگہ پیچھے کی طرف جاکرواقعات کاسلسلہ جوڑتاہے اورپھرواپس آجاتاہے۔ بچپن اورجوانی کاذکرنسبتاً کم ہونے کے باوجودجو کچھ بھی انہوں نے ان ادوارکے بارے میں بتایاہے وہ حقی صاحب کی ابتدائی تعلیم وتربیت، ان کی بنتی ہوئی شخصیت اورفطری انسانی ہمدردی کی خصوصیات سے آگاہ کرتاہے۔ انہوں نے بہت سے اہم اداروں میں کام کیا۔ ان اداروں میں اپنے دورکی بہت اہم شخصیات سے ان کاواسطہ رہا۔ اداروں کے باہربہت سے اہم شعراء، ادباء، علمائے فن، سیاسی شخصیات، ماہرین تعلیم کونزدیک یادورسے دیکھا۔ ان کے عیب وہنرکودیکھنے اورپرکھنے کاموقع میسرآیا۔ دوچاردس نہیں سینکڑوں لوگوں کاتذکرہ وہ کسی نہ کسی حوالے سے کردیتے ہیں اوراس میں اتناتوازن برقرار رکھتے ہیںکہ بہت کم لکھنے والے ایساکرسکتے ہیں۔ پسندیدہ لوگوں کی قصیدہ خوانی سے گریزکرتے ہیں اورناپسندیدہ افراد کو ایسے معروضی انداز میں پیش کرتے ہیں کہ حقی صاحب کی شخصی عظمت اوربلندی کردارکاقائل ہوناپڑتاہے۔ جن لوگوں سے انہیں تکلیف پہنچی ان کے بارے میں بھی ایسامعتدل رویہ اختیارکیاہے کہ بہت کم لوگ ایساکرپاتے ہیں۔ بالخصوص مولوی عبدالحق اورعزیزاحمدکے بارے میں ان کے تاثرات ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔ اہم شخصیات کاذکرجابجاکیاگیاہے، ان میں سے بیشترسے ان کے ذاتی مراسم تھے لیکن مراسم بھی ان کی صحیح تصویرکشی میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ اس لیے ان لوگوں کے بارے’ریسرچ‘ کرنے والوں کے لیے یہ کتاب ایک اہم ماخذ ثابت ہوگی۔

شان الحق حقی کتاب ’’نگارخانہ‘‘ کے تعارف میں شاعر، ڈرامہ وکالم نگارامجداسلام امجدلکھتے ہیں۔ ’’ نگارخانہ شان الحق حقی کے مختلف شخصیا ت کے بارے میں تحریرکردہ مضامین اورخاکوں کامجموعہ ہے۔ اس کتاب میں رئیس امروہوی اورپیرحسام الدین راشدی کے انتقال پرلکھے گئے مضامین کے علاوہ ممتازحسن کی برسی پرپڑھاگیامضمون بھی شامل ہے۔ نادان دہلوی پرطویل مفصل مضمون اورجانثاراخترکے بارے میں بھی ایک دلچسپ مضمون اس مجموعے کی اہمیت کودوچندکرتے ہیں۔ اس مجموعے میں شامل تمام مضامین اس اعتبار سے بھی خصوصی توجہ کے مستحق ہیں کہ ان کے حوالے سے حقی صاحب نے اپنی علمی، ادبی اورذاتی زندگی پراثر انداز ہونے والی ان شخصیات کاباقاعدہ اوربعض صور تو ں میں تفصیلی تعارف اپنے قارئین سے کروایاہے۔ یہ کتاب کئی اہم ادبی اورعلمی شخصیات کے بارے میں چیدہ چیدہ معلومات فراہم کرتی ہے۔ ‘‘

نامورنقادڈاکٹر محمدعلی صدیقی نے شان الحق حقی کی کتاب’’نوک جھوک‘‘ کوطنزومزاح، حقی کے پرکاراورباغ وبہارقلم سے بے مثال زبان کا تحفہ قراردیاہے اورلکھتے ہیں۔ ’’ شان الحق حقی ہمارے ادب کی نابغہ ء روزگارہستی ہیں۔ میں ان کی زبان کی شگفتگی کاایک زمانہ سے قائل ہو ں۔ قائل ہوناکیابات ہے۔ میں ان کے علم وفضل کاقتیل ہوں۔ شان الحق حقی کی زبان خود معیار ہے۔ اُن کااسپ قلم شاعری، افسانہ نگاری، تنقید، وتحقیق اورعلم اشتقاق کی گرہیں کھولنے میں خوب خوب دوڑتاہے۔ حقی صاحب کودہلی وبرصغیرکے شیخ محدث دہلویؒ جیسے بزرگ سے نسبت ہے۔ اس خاندان کے علم وفضل کی روشنی پورے برصغیرمیں پھیلی ہے اوراس روشنی کافیضان ہے کہ شان الحق حقی نہ صرف روایتی بلکہ جدید علوم کے مستند شناور ہیں۔ میں حقی صاحب کے اندر ایک مزاح گوکی موجودگی سے عرصہ سے واقف ہون لیکن مجھے یہ علم نہ تھاکہ حقی صاحب کے یہاں مزاح نگاری کے لیے بھی ایک مجموعہ ء مضامین طباعت کا منتظرہے۔ کتاب کے مندرجات پرنگاہ دوڑائی تواندازہ ہواکہ میں اپنی بعض پسندیدہ تحریروں کوپڑھ رہاہوں۔ نوک جھوک۔ میں شامل نگارشات نہ صرف شان الحق صاحب کی بلکہ اردوکی بہترین نگارشا ت کی فہرست میں جگہ پائیں گی۔ ‘‘

ڈاکٹروزیرآغانے ’ نوک جھوک‘کے بارے میں لکھاہے۔ ’’ شان الحق حقی صاحب کے ان خوبصورت مضامین میں ابھرنے والی ظرافت خوش مذاقی کی ذیل میں آتی ہے۔ انیسویں صدی کے ربعِ آخر میں اودھ پنچ نے جس اکھڑپن، ابتذال، لطیفہ گوئی اورطنزواستہزاکورواج دیا تھا، بیسوی صدی کی بدلتی ہوئی صورتِ حال میں اس کی گنجائش زیادہ نہیں تھی۔ لہٰذامزاح، طنز، تحریف اوررمزیعنی Ironyکے بہت اچھے نمونے سامنے آئے۔ رشید احمدصدیقی، فرحت اللہ بیگ، فلک پیما، کنہیالال کپور، پطرس بخاری، امتیازعلی تاج اوربعض دیگرنثرنگاروں کے ہاں ایسی ظرافت پروان چڑھی ہے جسے مہذب اورمتوازن، سلجھی ہوئی اورپرلطف کہناچاہیے۔ شان الحق حقی کاسلسلہ ظرافت اسی سے جڑا ہوانظرآتاہے۔ بالخصوص فرحت اللہ بیگ، امتیازعلی تاج اورپطرس بخاری کے مضامین نیزاردوانشائیوں میں ابھرنے والی اُس ظرافت سے وہ منسلک نظرآتے ہیں۔ جس میں خوش مزاجی، خندہ پیشانی، شگفتگی اورپرلطف چبھن کوفروغ ملاہے۔ اردونثرمیں جس وضع کے پھکڑ پن اور لطیفہ بازی کوفروغ ملاہے، شان الحق حقی کے مضامین میں اس کاشائبہ تک موجود نہیں۔ اس کے بجائے انہوں نے ایک ایسا مہذب لہجہ اپنایا ہے جس سے نہ صرف ظرافت کولطافت بخش دی ہے بکہ ان کے مضامین کوانشاپردازی کے اعلیٰ مقام سے بھی قریب ترکردیا۔ ‘‘

ان دوکتب پرامجداسلام امجد، ڈاکٹروزیرآغا اورڈاکٹرمحمدعلی صدیقی کی آراء سے ادیب، شاعر، محقق، مزاح نگار، خاکہ نگار، لغت نویس، دانشور شان الحق حقی کے فکروفن کی مختلف جہات کاعلم ہوتاہے۔ ان کی خودنوشت ’’افسانہ درافسانہ‘‘ میں یہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ واقعات کی دلچسپی، اندازِبیان، اسلوب اورمختلف شخصیات کاذکرِخیرقاری کی توجہ ادھرادھرہونے نہیں دیتا۔ چندعنوانات ہی دلچسپی سے بھرپور ہیں۔ جیسے’’مصطفیٰ زیدی سے پہلی ملاقات‘‘، ’’جسے خدارکھے‘‘، ’’ گل افشانی ِ گفتار‘‘، ’’ آوارگانِ پیرس کے ساتھ‘‘، ’’ ڈاکٹراشرف اورکچھ دوسرے‘‘، ’’ ایک شاہدرعنا‘‘، ’’ کشاکش ِ روزگار‘‘، ’’خانہ بہ خانہ کوبہ کو‘‘، ’’ گاندھی جی کی اردو‘‘، ’’ دوسری عالمی جنگ‘‘، ’’ وادی چنبل کا افسانہ‘‘، ’’ تذکرہ تعلیم کا۔ کچھ ہنسنے رونے کی باتیں‘‘، ’’ہمارے اساتذہ‘‘، ’’صحافت، ادارت اورایک قبیح شرارت‘‘، ’’افسانہ درافسانہ‘‘، ’’عز یزاحمداورحیدرآباددکن کاکچھ تذکرہ‘‘، ’’کچھ بھول چوک کی باتیں‘‘اور’’ حجامت سے معیشت اورشامتِ اعمال تک‘‘ انتہائی دلچسپ اورمعلومات افزاہیں اورقاری کی پوری توجہ اپنی جانب مبذول کرالیتے ہیں۔

اخترحسین رائے پوری کی شادی کے حوالے سے شان الحق حقی نے حیرت انگیزانکشاف کیاہے۔ ’’اخترحسین پہلے آفتاب کے ہاں کسی ہاسٹل میں رہے۔ پھرایک مکان میں اُٹھ آئے تھے، جہاں اُن کے ساتھ کنورمحمداشرف اوران کی بیوی کلثوم، سبطِ حسن، ذکااللہ، اورایک اورکامریڈ شرف بھی تھے۔ ان دنوں حمیدہ بیگم اسکول کی طالبہ تھیں، ظفرعمرکی صاحبزادی جوانڈین پولیس کے سینئرافسرتھے اوراپنے زمانے کے نامی گرامی مصنف جن کے ناول نیلی چھتری، بہرام کی گرفتاری، چاندسورج کی جوڑی بڑے مقبول اورمعروف تھے۔ وہ سخت پردے کازمانہ تھا۔ علی گڑھ کی کوئی لڑکی بغیربرقع اورنقاب نکل نہیں سکتی تھی۔ گرلزکالج کی اونچی اونچی دیواریں ایک عالمِ اسرارکاسماں پیش کرتی تھیں۔ اس قدامت زدہ ماحول میں لڑکے لڑکیوں کاآپس میں ملناایک انہونی بات تھی۔ اس صورت میں اختراورحمیدہ کاباہمی تعارف کی راہ نکال لینااور پھرشادی کااقراربھی ہوجاناخود ایک ایڈونچرتھا۔ ملاقات دورکی بات تھی۔ پرچے پرزے جوبھی آتے جاتے تھے، وہ ایک اجلے کی معرفت جوانہیں اپنی لادی میں حمیدہ بیگم کے کپڑوں کی تہوں میں رکھ کے لے جاتاتھا۔ اخترکومولوی عبدالحق پہلے اورنگ آبادپھرحیدرآبا د لے گئے۔ وہاں سے مولوی صاحب نے باضابطہ اسم نویسی بھیجی۔ گردِ راہ میں اختربیان کرچکے ہیںوہ درخواست پہلے ہی گزارچکے تھے۔ ظفر عمرنے مولوی صاحب سے استصواب کیا۔ لڑکے کے چال چلن وغیرہ کی بابت ان کی رائے پوچھی اورتصدیق کے بعد رشتہ طے کردیا۔ ‘‘

یہ اورایسے بے شماردلچسپ واقعات ’’افسانہ درافسانہ‘‘ کے قاری کوتحیرمیں مبتلاکرتے ہیں اورکتاب کی ریڈایبلٹی میں اضافہ کرتے ہیں۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply