لِو ان ریلیشن شپ Live-inـRelation یا ہم باشی فارینہ الماس — فارینہ الماس

0

لِوان ریلیشن شپ یا ہم باشی، انسانی تعلق داری کا ایک ایسا سلسلہ ہے جس میں دو بالغ مرد و عورت یا دو ہم جنس پارٹنر باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ دونوں ہی معاشی طور پر آزاد ہوتے ہیں اور اپنے اخراجات پر اک دوسرے پر انحصار نہیں کرتے لیکن وہ گھر کے اخراجات باہم مل کر اٹھاتے ہیں۔ ان میں جنسی تعلق بھی میاں بیوی کی طرح ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ میاں بیوی نہیں صرف اک دوسرے کے جزوقتی ساتھی ہیں۔ ایسے تعلق کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوتی۔ اس میں دو خاندانوں کی باہمی رضامندی یا سماجی و معاشرتی تائید بھی درکار نہیں۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں قانونی طور پر ایسا تعلق استوار کرنے کی کوئی ممانعت ہے نہ ہی اسے جرم تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ ایسے معاشروں میں جنسی و ازدواجی تعلق فرد کا ذاتی معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ رشتہ فی الوقتی بھی ہوسکتا ہے اور اسے کچھ عرصے کے لئے آپس کی رضامندی سے طوالت بھی دی جاسکتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تعلق تاحیات جاری رہے۔ اس طرح کے تعلق میں اولاد پیدا کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ بھی دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے طے پاتا ہے۔ اس تعلق کو توڑنا بہت آسان ہے۔ یعنی ایک ہی دن میں الگ ہونے کا فیصلہ کر کے بڑی خاموشی سے اپنے اپنے راستے جدا کئے جاسکتے ہیں۔ اسے ختم کرنے کے لئے قانون کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا جاتا۔ نہ ہی عدالتوں میں خواری یا وقت کی بربادی کی زحمت اٹھائی جاتی ہے۔ اس تعلق کے ٹوٹ جانے کے بعد دونوں فریقین پھر سے کسی نئے تعلق سے جڑ جانے کا مکمل اختیار رکھتے ہیں۔ ان سے کوئی زور زبردستی نہیں برتی جاتی۔ نا ہی معاشرتی، مذہبی و قانونی قدغنیں ان کے راستے کی رکاوٹ بنتی ہیں۔ ایسے تعلق میں رہتے ہوئے بعض فریقین بعد ازاں شادی بھی کر لیتے ہیں۔ لیکن ایسی مثالیں بہت کم ہی دیکھنے میں آتی ہیں۔

مغرب میں لوگ اس تعلق میں ہوتے ہوئے بھی ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ افراد سے جنسی تعلق رکھ سکتے ہیں۔ اس میں صنف کی کوئی قید نہیں۔ 2011 کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں تقریباً 7.6 ملین مخالف جنس کے جوڑے اس تعلق میں جڑے ہوئے تھے جب کہ ہم جنس جوڑوں کی تعداد الگ ریکارڈ کی گئی۔ جب کہ برطانیہ میں اسی سال 47.3فیصد پیدا ہونے والے بچوں کا تعلق غیر شادی شدہ والدین سے تھا۔

ایسے رشتے کو استوار کرنے کا ایک سبب شادی جیسے ادارے کی وہ کمزوریاں ہیں جو میاں بیوی کو محبت کے رشتے سے باندھنے کی بجائے اک دوسرے کے راستے کی رکاوٹ یا اک دوسرے پر بوجھ بنا دیتی ہیں۔ یہی کمزوری مغرب میں طلاق کی شرح کے بڑھنے کا باعث بنی۔ اسی لئے طلاق جیسے مسئلے اور قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لئے لوگوں نے لیو ان ریلیشن شپ میں ان مسائل کا حل نکال لیا۔

آج مغرب میں روایتی خاندان کا ماڈل شکست و ریخت کا شکار ہے۔ آدھی سے زیادہ شادیوں کا نتیجہ طلاق پر منتج ہے۔ لیکن ہم باشی کا رواج تیزی سے جڑ پکڑ رہا ہے۔ لوگ شادی جیسے بندھن میں بندھنے کی بجائے لیو ان ریلیشن کو قدرے سہل اور قابل تقلید سمجھتے ہیں۔

یہ کوئی دیرپا تعلق نہیں بلکہ ایک کھوکھلا، کاروبار محبت ہے۔ جس میں تمام تر نفع صرف جسم کے بدلتے ذائقوں تک ہی منتج ہے۔ مذہب کو اگر بیچ میں نہ بھی لا کر سوچاجائے تو بھی یہ رشتہ ہمیں انسان کی زندگی کا ایک انتہائی بے معنی مصرف محسوس ہو گا۔ جہاں آپ کسی بھی روحانی یا جذباتی وابستگی کو فراموش کرکے محض اپنے پارٹنر کو اپنے جسم کی ضروریات پوری کرنے کے لئے استعمال کریں۔ اور فرض کریں کہ آپ کی اس سے جذباتی وابستگی قائم ہو بھی جائے تو بھی یہ طے ہے کہ اس تعلق کی کوئی وقعت نہیں اور اسے اک دن ٹوٹ ہی جانا ہے۔ ایسے افراد کی نفسیات رشتے کی بے یقینی اور عدم پائیداری کے احساس سے بہت حد تک پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ جس رشتے میں کمٹ منٹ، وعدہ و ذمہ داری مفقود ہو، وہاں اک دوسرے کے لئے احترام، احساس اور وابستگی کا کوئی تعلق بھی نہیں بن پاتا۔ انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ کسی ایک کے ساتھ وقت گزارتا ہے تو اس تعلق کو توڑتے ہوئے وہ خود بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ اور ایسے جھوٹے اور مصنوعی رشتے کا بار بار ٹوٹنادر حقیقت انسان کا بار بار ٹوٹنا ہے۔ یہ تعلق آپ کی جوانی تک آپ کا ساتھ دے سکتا ہے بڑھاپے کا وقت جو بہت کٹھن وقت ہوتا ہے جب ایک ساتھی کی اشد ضرورت ہوتی ہے، عموماً ایسے افراد یہ کڑا وقت، جاں گسل تنہائی میں گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ وقتی تعلق داری جیسے کھوکھلے رشتے انہیں اندر سے ادھورہ اور خالی کر دیتے ہیں۔ اس رشتے سے پیدا ہونے والی اولاد کا مستقبل کیا ہے اسے کوئی عدالت طے نہیں کرتی۔ گو کہ اس تعلق ہی کی طرح ان معاشروں میں ایسے بچوں کو بھی جائز قرار دیا گیا ہے لیکن تعلق چھوٹ جانے کے بعد، جو کہ کبھی نا کبھی چھوٹنا ہی ہے، ان بچوں کا نان نفقہ دونوں میں سے کون ذمہ داری سے پورا کرے گا یہ طے نہیں۔ ہوتا تو یوں بھی ہے کہ اس رشتے کے نتیجے میں ممکنہ طور پر پیدا ہونے والے بچے کو پیدائش سے پہلے ہی ختم کردیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کا دنیا میں آنا دونوں ہی کے لئے اہم نہیں ہوتا۔

یہ رواج مغرب ہی میں نہیں اب مشرقی ممالک میں بھی سر اٹھانے لگا ہے۔ بھارت میں عدالتوں نے اسے تسلیم تو کر لیا ہے لیکن اس سے وابستہ خدشات وہاں وقتاً فوقتاً سر اٹھاتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے تعلق کو قانونی یا سماجی طور پر قبولیت حاصل نہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں محبت کی شادی کو بھی لوگ دل سے قبول نہیں کر پاتے وہاں لوگ ایسے غیر قانونی و غیر مذہبی تعلق کی کسی طور بھی تائید نہیں کریں گے۔ اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں ڈھکے چھپے انداز سے طقبہءامراءمیں اس رواج کی تقلید کی جارہی ہے۔ خصوصاً وہ نوجوان جو مغربی سماج کا حصہ رہ چکے ہیں یا وہاں کے اداروں کے فارغ التحصیل ہیں وہ اس تعلق میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ شوبزنس سے وابستہ لوگوں میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔ چھوٹے علاقوں سے بڑے شہروں میں پڑھنے یا ملازمت کرنے کی نیت سے آنے والے لڑکے لڑکیوں کی بھی ایک قلیل تعداد اس تعلق کواپنا لیتی ہے۔ یہاں ایسے تعلقات کی خبر اس وقت ملتی ہے جب اس سے کوئی جرم جنم لیتا ہے۔

شادی ذات کی تکمیل کا نام ہے۔ اس سے فرد کی زندگی میں محبت اور ضرورت دونوں ہی کی فراہمی کا بندوبست ہوتا ہے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں خاندان کے عناصر ترکیبی بکھر چکے ہیں۔ یہ تعلق جذبات، محبت اور سکون قلب سے عاری ہوگیا ہے۔ وہاں عورت معاش میں آزاد اور باشعور ہوئی تو اپنے حقوق سے بھی با خبر ہوگئی۔ وہ باہمی تعلقات کو بنا کسی ذہنی ہم آہنگی یا مطابقت کے دور تک گھسیٹنے پر رضامند نہیں۔ وہ مرد کو خود پر تشدد کا اختیار دینے پر بھی راضی نہیں۔ اس میں عزت نفس کا احساس بھی مضبوطی پکڑ رہا ہے۔ وہ بری شادی کے برے تجربے سے باہر نکلنے پر جلد آمادہ ہونے لگی ہے۔ لیکن اس رشتے کے ٹوٹنے کی ایک وجہ مرد و عورت دونوں کا مستقل ایک فرد سے اپنی خواہشات پوری کرتے کرتے تھک جانا بھی ہے۔ آزادی کا تصور اس قدر اس معاشرے میں سرایت کر چکا ہے کہ کچھ مدت کے بعد رشتوں سے دل اوبھ جاتا ہے اور فرد آزادی کی تلاش میں ان رشتوں سے فرار حاصل کرنے لگتا ہے۔ اسی لئے وہاں طلاق کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔

ایسی ہی ایک تبدیلی ہمارے معاشرے میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ یہاں مغرب ہی کی طرح طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے۔ گذشتہ دو دہائیوں میں اس شرح میں ساٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جو لمحہءفکریہ ہے۔ کیونکہ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں خواتین کی کثیر تعداد محض اس لئے طلاق نہیں لیتی کہ وہ معاشی طور پر خودمختار نہیں اور اپنے شوہر پر انحصار کرتی ہیں۔

اس اضافے کی بڑی وجہ دونوں افراد کی ذہنی ہم آہنگی کو دیکھے بغیر زبردستی اس رشتے میں جوڑ دینا بھی ہے اور تیزی سے معاشرے میں عدم برداشت کا پنپنا بھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اب پاکستان میں خلع لینے والی خواتین کی بڑی تعداد وہ ہے جو تعلیم یافتہ اور باشعور ہے۔ وہ معاشی طور پر اپنی حیثیت مضبوط بنانے چکی ہے اور اب اتنا اعتماد اپنی ذات میں رکھتی ہے کہ صدیوں سے جاری استحصالی نظریے کی منکر ہوسکے۔ گو کہ طلاق کی بڑھتی شرح میں مرد کے کردار پر ابھی کوئی خاص بات نہیں کی جاتی۔

اگر یہاں بھی شادی کا ادارہ اس طرح نا کام ہو گیا جیسا کہ مغربی ممالک میں تو پھر وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں بھی لیو ان ریلیشن شپ کو لوگ کھل کر اپنانے لگیں گے۔ یہاں اس رواج سے اک خونی تصادم بھی برپا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ایسے رواج جو اک ٹیبو کی طرح ہوں انہیں روایتی معاشروں سے جلد اور آسانی سے تائید حاصل نہیں ہوتی۔ ہمارے یہاں اس تعلق کی مثالیں ابھی بہت کم ہیں، ہمارے پاس ابھی وقت بھی ہے کہ ہم اس طریقہءکار کو قابل تقلید نہ بننے دیں۔ اس کے لئے شادی جیسے ادارے کو کمزور پڑنے سے بچانا ہوگا۔

وقت آگیا ہے کہ شادی سے جڑے مسائل پر بات کی جائے اور انہیں حل کرنے کی راہ تلاش کی جائے۔ سوچا جائے کہ اس رشتے میں اکتاہٹ اور کڑواہٹ کا عنصر کیوں غالب آنے لگا ہے۔ اس رشتے کو اک دوسرے کے لئے بوجھ بننے سے بچایا جائے۔ عالمی معیشت و سماجیت کی تیزی سے بدلتی صورتحال سے کوئی بھی ملک الگ نہیں رہ سکتا۔ پاکستان میں بھی خواتین کا ایک خاص سماجی کردار ابھر کر سامنے آرہا ہے۔ اب خواتین معاشی طور پر خودمختاری کی طرف آرہی ہیں۔ معاشی طور پر خودمختاری عورت کو یہاں بھی یہ شعور دے رہی ہے کہ وہ مرد پر انحصار کی بجائے زندگی کا بوجھ اٹھانے کے لئے اس کا برابری کی سطح پر ساتھ دے۔ تاکہ کوئی ایک معاشی بار اٹھاتے اٹھاتے تھک نہ جائے۔ لیکن اس کے بدلے میں مرد کو بھی اسے کچھ اختیار دینا ہو گا۔ اپنے فیصلے خود لینے کی آزادی دینی ہوگی تاکہ یہ رشتہ تنازعات و تضادات کا شکار ہو کر نہ رہ جائے۔ اسی طرح اعتبار و احساس کا وہ رشتہ استوار ہو گا جو دونوں فریقین میں انانیت، ضد اور خودپرستی کے احساس کو ختم کر سکے گا۔ عورت پر اجارہ داری اور اسے اپنی نجی ملکیت سمجھنے کا روایتی طریقہ اب بدل جانا چاہئے۔ اسے کھل کر اپنی زندگی جینے کے بھی مواقع فراہم کئے جائیں۔ یہی وہ اصول ہے جو مرد اورعورت دونوں کو اک دوسرے سے محبت کے تعلق میں بھی باندھتا ہے اور انہیں اک دوسرے کا وفادار بھی بناتا ہے۔ اگر آپ عورت کی ترقی کے ہر امکان کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے۔ اس کے جذبات، احساسات اور خیالات کو جبراًدبا دیں گے تو وہ کبھی نہ کبھی تو بغاوت کرے گی اور یہ بغاوت معاشرے کے روایتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دے گی۔ ہمارے یہاں مشترکہ خاندانی نظام میں خود خاندان کے لوگ بھی میاں بیوی کے درمیاں کی معمولی رنجشوں کو ہوا دے کر ان کی علیحدگی کا جواز پیدا کر دیتے ہیں۔ ایسی ہی ناکام شادیوں کی مثالیں دیکھ کر بہت سے نوجوان شادی سے ہی کترانے لگتے ہیں۔

ہمیں چاہئے کہ اس رشتے کو ہم اپنے سماج میں روایت اور جدیدیت کے خوبصورت ملاپ کا حسن عطا کریں۔ اسے نبھاتے ہوئے جدید حالات و ضروریات کے مطابق اپنی سوچ اور رویوں میں تبدیلی بھی پیدا کریں لیکن قدامت کا وہ حسن بھی ہاتھ سے جانے نہ دیں جو مثبت اور قابل ستائش ہے۔ تاکہ ایک ایسا متوازن اور پر خلوص رشتہ استوار ہوسکے۔ جو دنیا کے لئے قابل تقلید ہو۔ مغرب کے کھوکھلے اور بے روح تعلق کی تقلید محض اپنے ہاتھوں اپنے رشتوں کی خوبصورتی گنوانے کے سوا کچھ نہیں۔

(Visited 1 times, 9 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply