الوداع ! طارق اسماعیل ساگر—– ڈاکٹر خاور چودھری

0

طارق اسماعیل ساگر کی سناؤنی ایک ادبی گروپ میں ہوئی۔ دکھ ہوا، بہت زیادہ دکھ۔ میں اُس وقت کسی کام کے لیے نکل رہا تھا لیکن دل بیٹھ گیا اور یوں پورا دن گھر میں گزار دیا۔ البتہ شام کو کچھ دوست آکر لے گئے۔ ساگرصاحب ساٹھ سے زاید کتب اور سیکڑوں کالموں کے مصنف تھے۔ ڈراما رائیٹر تھے۔ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں یکساں مقبول تھے اور اس مقبولیت کی وجہ اُن کی فکر تھی۔ وہ اوّل و آخر سچے پاکستانی اور راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔ اسلام سے وابستگی تو ان کے گھر کی تربیت کاحصہ تھی۔ ان کے والد مذہبی شخصیت تھے اور اپنے گاوں کی مسجد کے پیش امام بھی۔ پاکستانیت اُن کے مزاج میںنوائے وقت میں طویل عرصہ کام کرنے کی وجہ سے رچی ہوگی۔ وہ جس ڈھب کے لکھنے والے تھے اور جس مزاج کے تحت اُن کی ذہنی پرورش ہوئی تھی، بلاشبہ اُس پر مجید نظامی مرحوم کے اثرات موجود ہیں۔ اُردو اَدب میں اُنھوں نے جو فکر اختیار کی، اُن سے قبل عبدالحلیم شرر اور نسیم حجازی بہت تیزی سے اُس پر کام کرچکے تھے۔ طارق اسماعیل ساگر کا امتیاز یہ تھا کہ انھوں نے نسبتاً ایک نیا راستہ نکالا اور اس میں جاسوسی اور ڈرامائی انداز شامل کر دیا۔ اُن کی تحریروں کا محور اگرچہ پاکستان اور اسلام ہے لیکن وہ اقوامِ عالم تک پھیلا ہوا ہے۔ عالمی خفیہ ایجنسیوں کا کردار، سازشوں، سیاسی و سفارتی ہتھکنڈوں کے ماتحت پلنے والے اذہان تک رسائی اور اُن کی نقاب کشائی کرنا یقینا ایک نہایت مشکل کام ہے اور فردِ تنہا کے لیے یہ سب کرنا تو ناممکن دکھائی دیتا ہے لیکن مرحوم نے ایک تسلسل کے ساتھ اس موضوع کو یوں نبھایا۔ ہمارے یہاں تو ان کے پڑھنے اور ماننے والے لاکھوں میں تھے ہی، عالمی سطح پر بھی ان کے نام کی گونج سنائی دیتی ہے۔ان کے ڈراموں میں بھی وطنیت اور اسلام ایک ساتھ چلتے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر سماج کے مصلح و مبلغ تھے جو اپنی ادبی و صحافتی تحریروں کے وسیلے سے تبدیلی کے خواہاں تھے۔ اُن کی شخصیت میں فکرِ اقبال غیر محسوس طریقے سے رَچ چکی تھی اوراسی کا اظہار وہ مختلف طریقوں سے کررہے تھے۔

طارق اسماعیل ساگرکا آبائی تعلق میرے شہرحضرو سے متصل گاؤں کامل پورموسیٰ سے تھا۔ غریب خاندان کے یہ چشم وچراغ اپنے مولوی والد کے تربیت یافتہ تھے۔ ان کا خاندان لاہور منتقل ہوگیاتھا اوریُوں اُن کی تعلیم وتربیت کے مراحل تہذیب وتمدن کے گہوارہ شہر لاہور میں طے ہوئے۔اُنھوں نے صحافت کا شعبہ اختیار کیا اوراس میں طویل عرصہ گزارا۔ نوائے وقت کے ساتھ کم و بیش پینتیس سال کام کیا۔ میں اُن کے بارے میں شناسائی رکھتا تھا اور یہ بھی جانتاتھا کہ اُن کا تعلق ہمارے شہر سے ہے لیکن کبھی اُن سے رابطے کا خیال نہیں آیا۔ ویسے بھی اس معاملے میں کچھ سست یا بے نیا ز واقع ہوا ہوں۔ مشاہیر سے کنارہ بھرفاصلہ ضرور رکھتا ہوں۔کئی لوگ آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں لیکن اُن سے تعلق بنانے کا خیال نہیں آتا۔ شاید یہی وجہ ہو۔پھراُن کے بارے میں یہ بھی ایک شہرت تھی کہ ” وہ گملے میں اُگے ہوئے پھول ہیں۔“یہ بات بھی فاصلے کا سبب رہی۔ غالباً 2008 کی بات ہے۔ اُن دنوں میں ایک تسلسل کے ساتھ روزنامہ ’اسلام ‘ میں لکھ رہاتھا اور گاہے گاہے اپنے شہرحضرو کی مناسبت سے کوئی تحریر لکھ دیاکرتا۔ایک روز طارق اسماعیل ساگرصاحب کی ای میل آئی، جس میں اُنھوں نے میرے کالموں کی تحسین کی اور پھرفخر سے کہا کہ ’میری مٹی میں بھی ایسا شاندار لکھنے والے موجود ہیں۔‘ میرے لیے اُن کا یہ جملہ اکسیر کاکا م کرگیا۔ جواباً میں نے بھی محبت اور احترام کے ساتھ اُن کا شکریہ ادا کیا۔اس ای میل سے کچھ عرصہ قبل میں نے پاکستانی اخبارات کی نمایندہ تنظیم اے پی این ایس کی پالیسیوں اور اقدامات کے حوالے سے تحفظات پر مشتمل ایک کالم بھی لکھ رکھا تھا؛ جسے کئی دوسرے اخبارات اور جریدوں نے ’اسلام‘ سے نقل کیاتھا۔اُس کالم کا انداز جارحانہ تھا مگرحقائق کے ساتھ۔ جب ساگر مرحوم سے رابطہ استوار ہوا تو اُنھوں نے بتایا کہ وہ میرے بعض کالموں کو اپنے جریدوں میں شامل کرتے رہتے ہیں۔ اس کالم کاخصوصی ذکر کیا اور پھر چند روز بعداپنی ادارت میں چھپنے والے جریدہ بھیج دیا۔

اب گاہے گاہے اُن کا فون بھی آنے لگا۔اُن کا یہ تقاضا بھی بڑھ رہاتھا کہ میں اُن کے جریدوں کے لیے الگ سے لکھوں لیکن میرے پاس وقت کی تنگی تھی۔ اسلام کے لیے ہی لکھ پاتا تھا۔ ان رابطوں میں اُنھوں نے بارہا یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ وہ’ حضرو‘ آناچاہتے ہیں۔ میں ہر باراُنھیں خوش آمدید کہتا۔یوں ایک دو سال گزر گئے۔ اتفاق سے اُن دنوں میرے ذاتی اخبار ’تیسرارُخ ‘ کودس سال مکمل ہورہے تھے۔ اس اخبار کے تحت ہم ہرسال علاقہ کی نمایاں شخصیات کو ایوارڈ دیاکرتے تھے۔ اُس سال یہ فیصلہ ہوا کہ ضلع اٹک کی پچاس شخصیات کو ایوارڈ دیے جائیں گے۔ ہم نے جسٹس صداقت علی خان، قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی یاسرعلی، انٹرنیشنل ہاکی پلیئراور اولمپین محمد زاہدسمیت ادب کی نا مور شخصیات نذر صابری، ڈاکٹر عبدالعزیزساحر، ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد اور معروف صحافی انوار فیروز سمیت کئی نامورشخصیات کے لیے ایوارڈ کا اعلان کررکھا تھا۔اسی سلسلے میں طارق اسماعیل ساگر صاحب کو بھی شامل کرلیا۔ یُوں وہ پچیس تیس سال بعد حضروآئے۔

وہ بہت مصروف دن تھا۔ ایک مقامی ہوٹل میں تقریب کا اہتمام تھا لیکن سارے امورکی نگرانی براہِ راست میں کررہاتھا۔پچاس شخصیات کے علاوہ دوسرے مہمانوں سے بار بار رابطہ کرنا؛ تقریب کے انتظامات دیکھنا اور پھر کئی نادیدہ مسائل کا سامنا کرنا ایک کڑا امتحان تھا۔ ساگرمرحوم لاہور سے آرہے تھے اور راستے سے بے خبرتھے۔ فون پر اُنھیں بھی راستہ بتاتا رہا۔ خیر! وہ تقریب سے دو اڑھائی گھنٹے پہلے پہنچ آئے۔ پانچ چھے گھنٹے کا سفر، ناشتہ نہیں کیا تھا اور بتایا بھی نہیں تھا۔ ایسے میں اُن کا ایک ہی اصرار تھا کہ وہ پہلے گاوں دیکھنے جائیں گے۔ روایتی انداز سے اُنھیں ناشتہ پیش کیا گیا۔ اُس کے بعد دفتر کے ایک ساتھی کواُن کے ساتھ بھیج دیا۔ پانچ سات کلومیٹر فاصلے پر تقریب کا انتظام تھا۔ ہم وہاں چلے گئے۔ مہمانوں نے آنا شروع کیا۔ اسلام آباد سے معروف ادیب ڈاکٹر رشید امجد مرحوم اور کراچی سے تحریک استقلال کے مرکزی صدر رحمت خاں وردگ بھی مدعو تھے۔ وہ بھی پہنچ چکے تھے۔ ادھر تقریب کا دیا گیا وقت شروع ہوچکاتھا ؛ ادھرساگرصاحب دو گھنٹے مزید گزرجانے کے بعد بھی نہیں پلٹے تھے۔ اسٹیج پرا نھیں بھی بیٹھنا تھا۔ وہ جب ہال میں داخل ہوئے تب کم وبیش آدھے ایوارڈ دیے جاچکے تھے۔پھر بھی انھیں اسٹیج پر بٹھایا گیا۔ اُن کے ہاتھ سے ایوارڈ دلوائے بھی گئے اور انھیں ایوارڈ دیا بھی گیا۔اُن کی گفتگو بھی ہوئی لیکن اُس میں شکوہ آمیزرنگ نمایاں تھا۔ غالباً انھیں یہ مغالطہ ہوا تھاکہ تقریب کا اہتمام صرف اُن کے لیے کیا گیا۔ چوں کہ وہ ایک خاص مقصد لے کرآئے تھے، اس لیے وہ اسٹیج سے اُتر کرتقریب کے شرکاءمیں گھل مل گئے۔ وہ چاہتے تھے کہ اُنھیں اپنے علاقے میں بھی شناخت ملے۔ بارہا اُنھوں نے یہ شکوہ بھی کیاتھا کہ دنیا بھر میں اُن کا نام ہے لیکن اپنے لوگ تحسین نہیں کرتے۔وہ چاہتے تھے یہاں اُن کی کتب اور رسائل کے مستقل قاری اور خریدار پیدا کیے جائیں۔ سامنے کی بات ہے، جب آپ دہائیوں تک اپنی مٹی سے منھ موڑ کے بیٹھ جائیں گے تو کوئی کریدنے اور جاننے والا نہیں رہتا۔ اُس وقت وہ نوائے وقت سے ریٹائر ہوچکے تھے اور اُن کے پاس اپنی مٹی کے لیے وقت تھا لیکن بہت دیر ہوچکی تھی۔ میں اُن کی اس توقع پر پورا نہ اُتر سکا۔ یوں ہمارے بڑھتے ہوئے رابطے بتدریج ختم ہو گئے اور وہ میرے مخالف لوگوں سے شیروشکر ہوئے۔ حالاں کہ برسوں بعد میں اُنھیں یہاںلانے کا وسیلہ بناتھا۔

پرسوں اُن کی موت کی خبرنے بہت رنجیدہ کیا۔ بہت دکھ ہوا۔ موت بر حق ہے۔ہم سب نے چلے جانا ہے۔نسیم حجازی کا خلاطارق اسماعیل ساگر نے بھر دیا تھا لیکن ان کی جگہ خالی ہی رہے گا۔ سوشل میڈیا کی یلغار نے اسلام اور پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ہماری نظریاتی سرحدیں بُری طرح کچلی گئی ہیں۔ ایسے میں ساگرمرحوم جیسی شخصیات کا دم غنیمت ہوتا ہے۔ اَب اُن کا مشن ادھورا رہ جائے گا۔ اُن کے قلم میں بلاکی تاثیر تھی۔ وہ واقعات کو ایسے اسلوب میں گوندھ کر لکھتے تھے، جس میں مٹی سے محبت کاعطرشامل ہوتا۔نوجوان نسل اُن سے بہت کچھ سیکھتی تھی۔ دو دوہائی قبل کے طالب علم تو پوری طرح اُن کے زیراثر ہوا کرتے تھے۔ کالج اور اسکول کی لائبریریوں میں اُن کی کتب آسانی سے مل جاتی تھیں۔

آج وہ دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں لیکن اُن کی قومی اور ادبی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ہمارے دوست ڈاکٹر ارشدمحمودناشاد نے اپنی نگرانی میں حضرو کے ایک نوجوان ناصر محمود سے ساگرصاحب کی ادبی خدمات پر ایم فل سطح کا مقالہ بھی لکھوایاتھا۔وہ ہمارے علاقے کا قابلِ فخراور معتبرحوالہ تھے۔اللہ ان کے درجات بلند کرے۔ آمین

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply