کہانی سناو پیارے – (۲) ——— خبیب کیانی

0

اس مضمون کو لکھنے بیٹھا تو مجھے کافی عرصہ پہلے پڑھی ہوئی ایک بات یاد آگئی۔ کہاں پڑھی تھی اب بالکل یاد نہیں لیکن بات کچھ یوں تھی کہ کسی زمانے میں ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا جس کو لگتا تھا کہ وہ بہت انٹرسٹنگ بندہ ہے اور اس کی جب بھی کسی دوسرے ملک کے بادشاہ سے ملاقات ہوتی تو وہ اپنی دلچسپ و دلنشیں باتیں لے کر بیٹھ جاتا۔ اصل واقعہ کچھ یوں تھا کہ بادشاہ کے پاس کچھ بھی نیا اور اچھا بولنے کے لیے نہیں ہوتا تھا اور وہ دوسرے ملکوں کے بادشاہوں کے ساتھ ملاقات میں ہر وہ فضول بات جو کہ ایک بادشاہ کو نہیں کرنی چاہیے کرتا تھا۔ظا ہرہے یہ باتیں دوسرے بادشاہوں کو عجیب لگتی تھیں لیکن وہ مروت میں کچھ کہہ نہیں پاتے تھے۔ آہستہ آہستہ ارد گرد کی سلطنتوں میں بادشاہ کی شہرت ایک بے وقوف اور فضول گو کے طور پر بڑھنے لگی اور دوسرے ملکوں کے بادشاہوں نے بادشاہ کو اگنور کرنا شروع کر دیا۔ بادشاہ کے وزیر وں کو اندازہ ہو گیاکہ بھائی بولنا پڑے گا کہ سرکار آپ کو اپنی گفتگو کو دلچسپ اور engaging بنانے کی ضرورت ہے ورنہ آپ کے ساتھ ساتھ ہماری عزت کی بھی رس ملائی بن جائے گی۔ بادشاہ کو اپنی تعریفوں میں ہمہ وقت رطب اللسان وزراء سے ایسی بات سن کر سخت دکھ ہوا لیکن کیوں کہ وہ سب اس نکتے پر متفق تھے اس لیے اسے اس بات کو مانتے نہ بنی۔ طے یہ ہوا کہ آئندہ جب بھی بادشاہ کی کسی دوسرے ملک کے بادشاہ کے ساتھ ملاقات ہو گی ایک وزیر بادشاہ کی کرسی کے بالکل پیچھے بیٹھا کرے گا اور اس کے ہاتھ میں ایک رسی ہو گی جس کا دوسرا سرا بادشاہ کی ایک ٹانگ کے ساتھ بندھا ہوا ہو گا، گفتگو کے دوران جب بھی بادشاہ فضول باتوں کی طرف آئے گا پیچھے بیٹھا وزیر رسی کھینچ دے گا جو اس بات کا اشارہ ہو گا کہ موضوع درست نہیں ہے فورا اسے تبدیل کیا جائے۔ سارے بندو بست کے ساتھ بادشاہ اپنی اگلی ملاقات میں جا بیٹھتا ہے اور آغاز تو ظاہر ہے تھوڑی ہوشمندی سے کرتا ہے مگر وہ زبان ہی کیا جو لگام میں آ جائے کے مصداق کچھ ہی دیر میں بادشاہ دوسرے بادشاہ سے پوچھتا ہے کہ حضور یہ بتائیں آپ کی سلطنت میں ایک بھینس دن میں کتنی مرتبہ گوبر کرتی ہے؟ وزیر ایک لمحہ ضائع کیے بغیر رسی کھینچتا ہے مگر بادشاہ تب تک groove میں آچکا ہوتا ہے وہ وزیر کی رسی کو اگنور کرتا ہوا اگلا سوال داغتا ہے جنا ب یہ بتائیںاگر آپ کے پاس ایک گائے ہو تو آپ اس سے بھینس کا کتنا دودھ حاصل کر سکتے ہیں۔۔رسی کھینچی جاتی رہی مگر بادشاہ ایک سے بڑھ کر ایک بے تکا سوال کرتا چلا گیا۔ آخر تنگ پڑکر دوسرے ملک کے بادشاہ نے جان چھڑانے کے لیے کہہ دیاکہ واہ بادشاہ سلامت آپ تو بہت دلچسپ باتیں کرتے ہیں، یہ سننے کی دیر تھی کہ فضول گو بادشاہ نے ٹانگ سے کپڑااٹھا کر جواب دیا کہ سرررر۔۔ بھائی اس سے بھی بڑھ کر دلچسپ ہو سکتا ہے اگر آپ یہ اس رسی سے جان چھڑوا دیں۔

مجھے لگتا ہے کہ اس بادشاہ کی طرح تو نہیں لیکن سچ میں دلچسپ اور انٹرسٹنگ بننا ہر کسی پر فرض ہونا چاہیے کیونکہ زندگی جیسی شاندار نعمت کو کم از کم اتنا خراج تو ضرور دیا جانا چاہیے۔ اب ایک بندہ جسے سوچنے،سمجھنے، دیکھنے، سننے، چکھنے، چھونے، سونگھنے اورمحسوس کرنے کی صلاحیتیں ملی ہوں وہ جب بھی آپ سے ملے وہی اپنے گھسے پٹے چند موضوعات پر بات کرنا شروع کر دے تو تکلیف تو ہوتی ہے نا۔ اب ایک کروڑ کا سوال یہ ہے کہ بھئی انٹرسٹنگ کیسے بنا جائے ؟ وہ گیدڑ سنگھی کہاں سے ڈھونڈی جائے جس کے ہاتھ آتے ہی انسان دلچسپ و دلنشیں کہلانا شروع ہو جائے؟کیونکہ اس گیدڑ سنگھی کے بغیر تو دلچسپ بننے کے چکر میںہم بادشاہ کی طرح احمق مشہور ہو سکتے ہیں۔ اس سوال کا سادہ سا جواب یہی ہے کہ کہانی سننے سنانے کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ آپ ذرا کچھ دیر کو آنکھیں بند کریں اور سوچیں کہ آپ کی زندگی میں سب سے interestingفرد کون ہے اور اس کی کیا خوبیاں اسے interestingبناتی ہیں؟ خوبیوں کی جو بھی لسٹ بنے گی اس میں اس بندے کا کہانی باز، داستان گو، رام گپوڑی یا بہت وڈے لیول کی فلم وغیرہ ہونا ضرور شامل ہو گا۔ آج ہم اسی پر بات کریں گے کہ یہ جوان کیسے کہانیوں کو استعمال کرتے ہوئے جان محفل بن جاتے ہیں،یہ چمتکار ہوتا کیسے ہے۔

سین کچھ یوں ہے کہ جیسے ایک کمپیوٹر یا جہاز کو hackکیا جاتا ہے بالکل ویسے ہی ایک اچھی کہانی کے ساتھ ایک انسان کے ذہن کو بھی کسی حد تکhackکیا جا سکتا ہے۔ ارے نہیں نہیں۔۔۔میں چولیں نہیں مار رہا۔۔جو کہا ہے ایسا بالکل ہوتا ہے اور ممکن ہے۔ اس mind hackکی بھی ایک recipieہے۔ کوشش کرتاہوںکہ اس بات کو سادہ سے انداز میں لکھ پائوں۔ بات کچھ یوں ہے کہ انسانی دماغ کے ایک حصے میں oxytocin نام کا ایک ہارمون ہوتا ہے جو بہت سارے اور فنکشنز کے ساتھ ساتھ اس فیصلے میں بھی انسان کو مدد دیتا ہے کہ کس پر trust کرنا ہے کس پر نہیںاو رکس سے تعاون کرنا ہے اور کس کس کو دکھانی ہے لال جھنڈی۔ جب ایک اچھا کہانی سنانے والاکسی آڈینس کے سامنے اپنی کہانی رکھتاہے تو وہ ایک خاص سٹیج پر جا کر ارادی یا غیر ارادی طور پر ایک چمتکار یہ کرتا ہے کہ وہ حاضرین کو جذباتی طور پر اس قدر انگیج کر لیتا ہے کہ ان کے دماغ میں موجود oxytocinکی کچھ مقدارریلیز ہوتی ہے جو حاضرین اور سپیکر کے باہمی trustکو بہترین لیول پر پہنچا دیتی ہے۔ یہاں حاضرین کا سپیکر پر trustاس قدر بڑھ جاتا ہے کہ وہ اس کی ہر بات کو سچ مانتے ہیں اور ہر ہر جملے پر واہ واہ والی کیفیت میں چلے جاتے ہیں، اسی لمحے کے لیے mind hackکی ٹرم استعمال کی جاتی ہے۔ اب آپ میں سے جو بہت سیانے ہیں وہ تو جھٹ سے اس نتیجے پر پہنچ چکے ہوں گے کہ بھائی اگر ساری گیم ہارمون کی ہی ہے تو پھر تو یہ بہت سادہ سا ڈیزائن ہوا نا۔ ایسا بالکل نہیں ہے، اس ہارمون پر ریسرچ ابھی بہت ابتدائی مرحلوں میں ہے۔بولنے والے کی مہارت، شہرت،قابلیت،پریزنٹیشن، باڈی لینگوئج اور دیگراہم معاشرتی عوامل کاسیاق و سباق اس ہارمون کو بہترین انداز میں کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگر یہ سب کچھ موجود نہ ہو تو خالی ہارمون کے ریلیز ہونے سے وہ جادو نہیں ہوتا جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں ایک اور اہم بات جو دوران تحقیق سامنے آئی وہ ہے speaker-listener neural coupling ۔ ہوا یوں ہے کہ کچھ سائنسدانوں نے کہانی سنانے اور سننے کے عمل دوران کہانی سنانے اور سننے والے ا فراد کے دماغ کا سکین کیا اور وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس عمل کے دوران دونوں گروپس کے دماغوں کے سکین میں واضح طور پر ایک ہی جگہ پر actvityدکھائی دی، مطلب اگرآپ ایک اچھے کہانی سنانے والے ہیں تو آپ اس قابل ہوتے ہیںکہ اپنے سننے والے کے دماغ کے ایک خاص حصے کو activate کر کے اسے وہی محسوس کرواسکیں جو کہ آپ خود محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ شرط لیکن اس میں یہ ہے کہ جس کو آپ کہانی سنا رہے ہوں وہ آپ کی کہانی کو توجہ سے سنے۔ اب آپ کہیں گے کہ لالے یہ توجہ سے پہلے تک تو بہت مزہ آرہا تھا مگر توجہ کا ذکر کر کے تم نے اچانک ہی رائتہ خطرناک حد تک پھیلا دیا ہے، توجہ ہی تو مسئلہ ہے،لوگ متاثر تو تب ہوں گے نا جب وہ توجہ سے سنیں، ادھر ہم کہانی سنارہے ہوں اور ادھر لوگ ہماری کہانی سننے کی بجائے ذہنی طور پر جانو کے ساتھ پتریاٹہ کی چئیر لفٹ میںپہنچے ہوئے ہوں تو ہو پھر neural coupling ہو نہ ہو کسی اور طرح کی coupling ضرور ہو جائے گی۔ بات آپ کی درست ہے، توجہ حاصل کرنا بہت مشکل تو ہے مگر اہم بھی ہے کیونکہ اگر سننے والے کی توجہ حاصل کرنے کا فن نہ آتا ہو تو بڑی بڑی کہانیاں بھی اگنور ہو جاتی ہیں۔اپنے سننے والوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے چند بنیادی نکات پیش خدمت ہیں۔

سب سے پہلی چیز جو میرے خیال میں کسی توجہ حاصل کرنے کے اہل داستان گو کے پاس ہوتی ہے وہ ہے حیران ہونے کی صلاحیت،۔ یہ بچپن میں ہم سب میں ہوتی ہے مگر آہستہ آٓہستہ ہم اسے بھلا دیتے ہیں،،اس سے کٹ جاتے ہیں کیونکہ عمومی طور پر ہمارے ارد گرد کے ماحول میں عمر کے ساتھ ساتھ ہم سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ہم ہروقت ایسے behaveکریںجیسے کہ ہمیں سب کچھ پہلے سے پتہ ہے،حیران ہونا ایک ایسا کام بن جاتا ہے جو بچپن کے ساتھ ہی رخصت ہو جاتا ہے۔ اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہم بہت سی ایسی چیزوں کو جو ہمیں حیران کر کے انسپیریشن یا موٹیویشن دینے کا باعث بن سکتی ہیں معمولی سمجھ کر اگنور کرنا شروع کر دیتے ہیں اور آہستہ آہستہ اپنے آپ کو ذہنی طور پر پروگرام کر لیتے ہیں کہ حیران تو ہونا ہی نہیں ہے ہر جگہ cool پلے کرنا ہے۔ مطلب کتنی ہی حیران کن صورتحال کیوں نہ آجائے ہم نے ٹھنڈ پروگرام دکھانا ہے۔ایسا کرنا وقتی طور پر تو ہمیں شاید کچھ ٹھیک لگتا ہو لیکن لانگ ٹرم میں انتہائی گھاٹے کا سودا ہے۔ حیرانی جائے تو اس کے ساتھ ساتھ مشاہدہ بھی سامان باندھے کھڑا ہو جاتا ہے اور اگر مشاہدے کو بھی رخصت کر دیں تو آپ خود بتائیں کہ ارد گرد کی کہانیوں اور خود اپنی کہانی کو آپ کیسے capture کر پائیں گے؟ تو اچھا کہانی سنانے والا بننے کے لیے اور اپنی آڈینس کو حیران کرے کے لیے اور ان کی توجہ حاصل کرنے کے لیے پہلی چیز تو یہ ہے کہ آپ خود حیر ان ہوتے رہیں، اپنے اندر کے کاکے یا کاکی کو سنبھال کر رکھیںجو چھوٹی چھوٹی چیزیں دیکھ کر حیران ہوتے ہیں۔

دوسری اہم چیز یہ ہے کہ۔۔لیکن یاد رکھیے گا پہلی بیان کی گئی چیز کا خیال رکھیں گے تو دوسری ہو پائے گی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ آپ کو آپ کی اپنی زندگی کی کہانی سنانے میں بھر پورمہارت ہونی چاہیے،کہانی سناتے ہوئے جتنی تفصیل اور جذبا تی رنگا رنگی موجود ہو اپنی آڈینس کو انگیج کرنا اتنا ہی آسان ہو جاتا ہے۔ آپ کی زندگی کے بارے میں آپ سے زیادہ معلومات کس کے پاس ہو سکتی ہیں؟ کیا آپ نے کبھی اپنی کہانی کسی سٹیج پر سنائی ؟ زیادہ تر لوگ عمر بھر ایسا نہیں کر پاتے۔ آپ کی اپنی کہانی آپ کے لیے ایک کہانی سنانے والے فرد کے طور پر نہ صرف ایک اچھا سٹارٹنگ پوائنٹ بنتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ آپ کے لیے اپنی مہارت کو پختہ کرنے کا ایک بہترین موقعہ بھی ہوتی ہے۔ یہ بات جب بھی لوگوں کے سامنے رکھی جائے وہ ترنت جواب دیتے ہیں کہ سر ہماری کہانی میں کچھ سپیشل ہے ہی نہیں تو ہم کیا سنائیں لوگوں کو؟ اب آپ لوگ خود بتائیں کہ ایک بندہ ہے جس نے اس دنیا میں پچیس تیس چالیس سال گزارے ہوں وہ یہ کہتے ہوئے اچھا لگتا ہے کہ میرے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں سنانے کو،!! نہیں نا؟؟ ایسا ہی ہے، سب کی زندگی بے شمار دلچسپ اور سیکھنے والی باتوں سے بھر پور ہوتی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں ہوتا کہ ہم کیسے شاندار انداز میں اپنے حصے کے مکے کھا کے آئے ہیں اپنی خوشیاں، غم، پیار، محبت، خواب وغیرہ ہمیں معمولی لگتے ہیں۔ حیران ہونے والے دل کے لیے دنیا میں ہر لمحہ کہانیاں رو پذیر ہو رہی ہیں۔ کمیونیکیشن پڑھانے والے ایک پروفیسر نے ایک مرتبہ اپنی کلاس میں نوجوانوں سے کہا کہ سب لوگ اپنی اپنی زندگی کی کہانی سنائیں، یہ بات سنتے ہی ایک لڑکی نے ہاتھ کھڑا کیا اوریہی بولی کہ سر میری کہانی میں کچھ ہے ہی نہیں سنانے کو تو میں کیا سنائوں گی؟ پروفیسر ایک اچھا استاد تھا اس نے اس لڑکی سے ایک سادہ سا سوال کیا کہ یہ بتائو کہ تم آج وہی ہو جو آج سے دس سال پہلے تھی؟ لڑکی نے جھٹ سے جواب دیا بالکل نہیں، میں کافی تبدیل ہوئی ہوں گزشتہ دس سالوں میں۔ پروفیسر نے کہاتمھاری کہانی اسی تبدیلی کے اندر موجود ہے، تم ہم سب کو اپنی تبدیلی کی کہانی سنائو،۔۔ تو آپ میںسے جس جس کے ذہن میں یہ بات آئے کہ اس کی کہانی میں کچھ ہے ہی نہیں اسے پروفیسر کے مشورے پر غور کرنا چاہیے بہت کچھ نظر آجائے گا۔ اپنی کہانی کے ساتھ تھوڑا وقت گزاریں گے تو آپ دیکھیں گے کہ کیسے کیسے شاندار واقعات اور احساسات ہیں جن میں سے گزرنے کے لیے اس کائنات میں خدا نے صرف آپ کا انتخاب کیا تھا۔

اپنے آپ کو پڑھنے کے بعد ارد گرد موجود لوگوں کی زندگیوں پر غور کریں، کتابیں پڑھیں، انسان کتنا کمزور ہوتے ہوئے بھی کس قدر طاقتور بن کے ابھرتا ہے اس پر غور کریں، ماں بچے کا رشتہ، ٹوٹے جوتے پہنے ہوئے اپنے بچوں کے سکول شوز کے لیے پالش خریدتے باپوں کو دیکھیں، اپنے اندر کے لالچی، صوفی، مذہبی، باغی کا مشاہدہ کریں، زندگی کے بیس سال شب و روز محنت کر کے اولمپک گولڈ جیتنے والوں کی نم آنکھوں اور کپکپاہٹ کو محسوس کریں، آپ جیسا نہ کوئی تھا نہ ہے اور نہ آئے گا، اس بات کا بیٹھ کر باقاعدہ مزہ لیں۔ کتنا کچھ ہے نہ جذب کرنے کو، دیکھنے کو، سننے کو اور سنانے کو؟؟ یہ زندگی کی دوڑ تو چلتی رہے گی، کبھی خود ہی بریک لے لیا کریں، کہانی بریک، تا کہ آپ جب بھی کسی محفل میں بیٹھیں تو لوگ بڑے شوق سے آپ سے کہیں کہ حال بعد میں سنانا۔۔پہلے کہانی سنائو پیارے۔۔

اس سلسلہ کی پہلی تحریر اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply